1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ابوسفیان رضی اللہ عنہ ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی پر نبیﷺ نے لعنت کی؟

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اکتوبر 08، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 08، 2016 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    کیا ابوسفیان رضی اللہ عنہ ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی پر نبیﷺ نے لعنت کی؟


    تحریر: کفایت اللہ سنابلی​

    امام أحمد بن يحيى، البلاذري (المتوفى 279)نے کہا:
    حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث بن سعيد عن سعيد بن جمهان عن سفينة مولى أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له ، أحدهما يقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسول الله صلى عليه وسلم: لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسائق
    سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اونٹ پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا گذرہوا ان کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ اوران کے ایک بھائی تھے۔ان میں سے ایک اونٹ کوچلارہاتھا اور دوسرا ہانک رہا تھا۔تواللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسم نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہوسواری اور سوار پر نیز چلانے والے اور ہانکنے والے پر [أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 5/ 136 رجالہ ثقات ومتنہ منکر و اخرجہ البزار فی مسندہ (9/ 286) من طریق سعیدبن جمھان بہ نحوہ ، وقال الھیثمی فی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (1/ 113) : رواه البزار، ورجاله ثقات ]



    اس روایت میں بنوامیہ میں سے تین بڑے صحابہ پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خصوصی لعنت کاذکر ہے۔یہ روایت اصول حدیث کی رو سے صحیح نہیں ہے اس میں دو علتیں ہیں:
     
  2. ‏اکتوبر 08، 2016 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    پہلی وجہ


    سعیدبن جمھان کی خاص سفینہ سے روایات پر محدثین نے خاص کلام کیا ہے ۔

    امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275)نے کہا:
    هو ثقة إن شاء الله، وقوم يقعون فيه(وقوم يضعفونه )، إنما يخاف ممن فوقه وسمى رجلا.يعني سفينة
    وہ (سعیدبن جمھان) ان شاء اللہ ثقہ ہے اور بعض لوگ اسے ضعیف قراردیتے ہیں انہیں اس سے اوپر کے طریق میں یعنی سفینہ والے طریق میں خوف ہے[سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود، ت الأزهري: ص: 218، تهذيب الكمال للمزي: 10/ 377 ومابین القوسین عندہ]
    امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے سفینہ والے طریق میں سعیدبن جمھان کی تضعیف کی تردید نہیں کی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بھی ان محدثین سے متفق ہیں جو سفینہ کے طریق میں سعیدبن جمھان کو ضعیف مانتے ہیں ۔
    امام ابوداؤد رحمہ اللہ خود ایک ناقد امام ہیں اور وہ سعیدبن جمھان کی تضعیف کرنے والوں کی مراد یہ بتلارہے ہیں کہ وہ سفینہ کے طریق میں سعیدبن جمھان کی تضعیف کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا کہ امام ابوداؤد کی نظر میں جن ائمہ نے سعید بن جمھان کی تضعیف کی ہے انہوں نے سفینہ ہی کے طریق میں ان کی تضعیف کی ہے۔


    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    وقد روي عنه عن سفينة أحاديث لا يرويها غيره وأرجو أنه لا بأس به فإن حديثه أقل من ذاك
    سفینہ کے طریق سے سعیدبن جمھان کی کئی ایسی احادیث مروی ہیں جنہیں سفینہ سے ان کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا لیکن مجھے امید ہے کہ سعیدبن جمھان کے اندر کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ اس کی حدیث بہت کم ہے [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 4/ 458]


    تنبیہ بلیغ:
    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    وقال ابن معين روى عن سفينة أحاديث لا يرويها غيره وأرجو أنه لا بأس به
    ابن معین نے کہا: سفینہ کے طریق سے سعیدبن جمھان کی کئی ایسی احادیث مروی ہیں جنہیں سفینہ سے ان کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا لیکن مجھے امید ہے کہ سعیدبن جمھان کے اندر کوئی حرج کی بات نہیں[تهذيب التهذيب لابن حجر، ت الهند: 4/ 14]
    لیکن تہذیب الکمال میں یہ قول صرف امام ابن عدی ہی کے حوالے سے منقول ہے اورحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اسے تہذیب میں ابن معین کے حوالے سے درج کردیاہے اور ابن عدی کے حوالےسےایسا کوئی قول ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ تہذیب التہذیب میں ابن حجر رحمہ اللہ سے وہم ہوا ہے انہوں نے ابن عدی کے قول کو ابن معین کے نام سے ذکر کردیاہے۔
    میرے ناقص علم کے مطابق اس وہم پر آج تک کسی نے تنبیہ نہیں کی ہے بلکہ بہت سارے اہل علم تہذیب ہی پر اعتماد کرتے ہوئے ابن معین کے حوالے سے یہ قول پیش کرتے رہتے ہیں ۔لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ ابن معین کا قول نہیں بلکہ ابن عدی ہی
    کا قول ہے۔

    بہرحال محدثین نے خاص سفینہ سے سعیدبن جمھان کی روایت پر کلام کیا ہے۔اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سفینہ سے سعید بن جمھان کی کئی روایات منکر ثابت ہوتی ہیں مثلا:

    پہلی مثال:
    امام بزار رحمه الله (المتوفى292)نے کہا:
    حدثنا رزق الله بن موسى ، قال : حدثنا مؤمل ، قال : حدثنا حماد بن سلمة ، عن سعيد بن جمهان ، عن سفينة ، رضي الله عنه ، أن رجلا قال : يا رسول الله ، رأيت كأن ميزانا دلي من السماء فوزنت بأبي بكر فرجحت بأبي بكر ، ثم وزن أبو بكر بعمر فرجح أبو بكر بعمر ، ثم وزن عمر بعثمان فرجح عمر بعثمان ، ثم رفع الميزان ، فاستهلها رسول الله صلى الله عليه وسلم خلافة نبوة ثم يؤتي الله الملك من يشاء.
    سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے (خواب)دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ترازو اتری ہے تو آپ کا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھاری ہو گئے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھاری ہو گئے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ بھاری ہو گئے، پھر ترازو اٹھا لی گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خواب کی تاویل یہ کی کہ یہ خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد اللہ جس کو چاہے گا ملوکیت دے دے گا۔[مسند البزار: 9/ 281]


    یہ روایت بھی سعید بن جمھان کی بیان کردہ ہے اور سعید تک اس کی سند صحیح ہے۔
    لیکن اس میں اول تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنے بعد ابوبکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کی پیشین گوئی کی ہے،جبکہ صحیح بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کے ساتھ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا ہے۔جیساکہ آگے وضاحت آرہی ہے۔
    دوسرے یہ کہ اس روایت میں خلافت علی منہاج النبوۃ صرف ابوبکر ، عمر اورعثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کو کہا گیا ہے اوراس کے بعد ملوکیت کا دور بتلایا گیا ہے۔جبکہ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی خلفاء راشدین میں شامل ہیں اوران کی خلافت بھی خلافت علی منہاج النبوۃ ہے۔
    دراصل یہ روایت بھی دیگر مردود ذرائع سے آئی ہے اور سعیدبن جمھان نے انہیں مردود ذرائع سے سن کر اسے سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کردیا ۔


    دوسری مثال:
    امام نعيم بن حمادالمروزي (المتوفى228)نے کہا:
    ’’حدثنا ابن المبارك، أخبرنا حشرج بن نباتة، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لما بنى رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجد المدينة جاء أبو بكر بحجر فوضعه، ثم جاء عمر بحجر فوضعه، ثم جاء عثمان بحجر فوضعه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هؤلاء يلون الخلافة بعدي»‘‘
    ’’سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدنبوی کی تعمیر کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک پتھررکھا ،پھرعمرفاروق رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک پتھررکھا ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے اورانہوں نے ایک پتھر رکھا،تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : یہ لوگ میرے بعد خلیفہ بنیں گے ‘‘[الفتن لنعيم بن حماد 1/ 107 رقم258]


    یہ روایت بھی سعید بن جمھان کی بیان کردہ ہے اور سعید تک اس کی سند صحیح ہے۔
    لیکن اس میں بیان کیا گیا ہےکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ابوبکر وعمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو خلیفہ نامزد کیا ہے۔اور یہ بات دیگر صحیح احادیث کے خلاف ہے۔کیونکہ صحیح احادیث یہ بتلاتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی خلیفہ نامزد نہیں کیا ہے۔
    امام بخاری رحمہ اللہ اس روایت پر نقد کرتے ہوئے اور اسے صحیح احادیث کے خلاف بتلاتے ہوئے فرماتے ہیں:

    لأن عمر بن الخطاب وعليا قالا لم يستخلف النبي صلى الله عليه وسلم
    کیونکہ عمربن الخطاب اور علی رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا ۔[الضعفاء للبخاري، ت ابن أبي العينين: ص: 54]
    امام بخاری کی ذکر کردہ حدیث عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دیکھئے :[صحيح البخاري 9/ 81 رقم 7218]اورحدیث علی رضی اللہ عنہ کے لئے دیکھئے: [صحيح البخاري 6/ 12 رقم 4447]

    امام بیہقی رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت پیش کرکے کہا:

    وفى هذا وفيما قبله دلالة على أن النبى -صلى الله عليه وسلم- لم يستخلف أحدا بالنص عليه
    اس حدیث اور ماقبل کی حدیث میں دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی صراحت کے ساتھ خلیفہ نامزد نہیں کیا[السنن الكبرى للبيهقي، ط الهند: 8/ 149]

    امام نووی رحمہ اللہ نے ایک حدیث کی تشریح میں لکھا:

    فيه دلالة لأهل السنة أن خلافة أبي بكر ليست بنص من النبي صلى الله عليه وسلم على خلافته صريحا بل أجمعت الصحابة على عقد الخلافة له وتقديمه لفضيلته ولوكان هناك نص عليه أو على غيره لم تقع المنازعة من الأنصار وغيرهم أولا ولذكر حافظ النص ما معه ولرجعوا إليه لكن تنازعوا أولا ولم يكن هناك نص ثم اتفقوا على أبي بكر واستقر الأمر
    اس میں اہل سنت کی اس بات کی دلیل ہے کہ ابوبکررضی اللہ عنہ کی خلافت اس لئے نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی خلافت پر صریح نص موجود ہے بلکہ صحابہ کا انہیں خلیفہ بنانے پر اور فضیلت کی بنیاد پر انہیں فوقیت دینے پر اجماع ہوا ہے۔ اگر اس بات پر کوئی نص ہوتی تو انصار وغیرہم کی طرف سے شروع شروع میں کوئی اختلاف ہوتا ہی نہیں بلکہ نص یاد کرنے والا اس نص کا تذکرہ کردیتا اور سب اس کی طرف رجوع ہوجاتے ۔لیکن شروع شروع میں اختلاف ہوا کیونکہ اس معاملہ پر کوئی نص نہ تھی ، پھر سب نے ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اتفاق کرلیا اوراسی پر فیصلہ ہوگیا[شرح النووي على مسلم 15/ 154]

    اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی صراحت کے ساتھ خلیفہ نامزد نہیں کیا اس لئے اس روایت میں خلیفہ نامزد کرنے کی جو بات ہے وہ غلط ہے۔
    دراصل یہ بات بھی دیگر مردود ذرایع سے منقول ہے بلکہ ایک کذاب نے بھی اس بات کو سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی بیان کررکھا ہے انہیں ذرائع سے سن کو سعیدبن جمھان نے بھی اس بات کو سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کردیا۔


    تیسری مثال:
    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    ’’حدثنا أبو النضر، حدثنا حشرج، حدثني سعيد بن جمهان عن سفينة مولى رسول الله، صلى الله عليه وسلم قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " ألا إنه لم يكن نبي قبلي إلا حذر الدجال أمته، وهو أعور عينه اليسرى، بعينه اليمنى ظفرة غليظة، مكتوب بين عينيه كافر، يخرج معه واديان: أحدهما جنة، والآخر نار، فناره جنة وجنته نار، معه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء، لو شئت سميتهما بأسمائهما وأسماء آبائهما، واحد منهما عن يمينه والآخر عن شماله، وذلك فتنة، فيقول الدجال: ألست بربكم؟ ألست أحيي وأميت؟ فيقول له أحد الملكين: كذبت. ما يسمعه أحد من الناس إلا صاحبه، فيقول له: صدقت. فيسمعه الناس فيظنون إنما يصدق الدجال، وذلك فتنة، ثم يسير حتى يأتي المدينة فلا يؤذن له فيها، فيقول: هذه قرية ذلك الرجل، ثم يسير حتى يأتي الشام فيهلكه الله عند عقبة أفيق‘‘
    ’’سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: سنو ! مجھ سے قبل جو بھی نبی آئے سب نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ، اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی ، اوراس کی دائیں آنکھ پر موٹی پھلی ہوگی ، اس کی پیشانی پر کافرلکھا ہوگا۔اس کے ساتھ جنت اور جہنم کی دو وادیاں ہوں گی ، جنت کی وادی حقیقت میں جہنم ہوگی اور جہنم کی وادی حقیقت میں جنت ہوگی ، اس کے پاس دو فرشتے بھی ہوں گے جو دو نبیوں کے مشابہ ہوں گے ، اگرمیں چاہوں تو ان دونوں کے نام مع ولدیت بتلادوں ، ان میں سے ایک اس کے دائیں جانب ہوگا اور دوسرا اس کے بائیں جانب ہوگا اوریہ ایک آزمائش ہوگی۔پھردجال کہے گا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندگی اور موت نہیں دیتا؟ تو دونوں فرشتوں میں سے ایک اس سے کہیں گے : تو جھوٹ بولتا ہے ، اس بات کو اس کے دوسرے ساتھی کے علاوہ لوگوں میں کوئی اور نہیں سن سکے گا۔تواس سے اس کا ساتھی (دوسرا فرشتہ ) کہے گا : تم نے سچ کہا۔تو لوگ اسے سنیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ اس نے دجال کی بات کو سچ کہا اوریہ ایک آزمائش ہوگی۔ پھروہ چلے گا یہاں تک مدینہ آئے گا لیکن مدینہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت اسے نہیں ملے گی ۔تو وہ کہے گا یہ اسی آدمی کا شہرہے۔پھروہ وہاں سے چل کر شام پہنچے گا تواللہ اسے عقبہ افیق کے پاس ہلاک کردے گا۔[مسند أحمد ط الرسالة 36/ 258]


    یہ روایت بھی سعید بن جمھان کی بیان کردہ ہے اور سعید تک اس کی سند صحیح ہے۔
    لیکن اس میں ایسی عجیب وغریب باتوں کا ذکر ہے جو اس مضمون کی دیگر صحیح احادیث میں نہیں ملتیں مثلا اس میں دجال کے ساتھ دو نبی جیسے فرشتوں کا ذکر ہے اوران کے عجیب وغریب کردار ذکر ہے۔اسی طرح عقبة أفيق کے پاس دجال کے ہلاک ہونے کی بات دیگر صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
    دراصل یہ باتیں بھی سعید بن جمھان تک غیرمعتبرذرائع سے پہنچی ہیں اور اس نے ان باتوں کو اس حدیث میں بھی شامل کردیا۔


    فائدہ:
    مسند احمد کے محققین سعید بن جمھان کی اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ضعيف بهذه السياقة، تفرد به حشرج بن نباتة، عن سعيد بن جمهان، وقد أشار بعض أهل العلم إلى أنه يقع لهما في أحاديثهما غرائب ومناكير، وقد وقع لهما شيء من هذا في هذا الحديث كما سنبينه
    ’’اس سیاق کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے، اسے سعیدبن جمھان سے بیان کرنے میں حشرج بن نباتہ منفرد ہے اوربعض اہل علم نے اشارہ کیا ہے کہ ان دونوں کی احادیث میں غریب اورمنکر باتیں ہوتی ہیں اور ان کی اس حدیث میں بھی ان دونوں کی طرف سے کچھ اسی طرح کی باتیں بیان ہوئی ہیں جیساکہ ہم آگے وضاحت کریں گے‘‘[حاشیہ نمبر (1) مسند أحمد ط الرسالة 36/ 258]


    عرض ہے کہ سعیدبن جمھا ن یہاں بھی سفینہ سے روایت کررہاہے اس لئے یہ ساری مصیبتیں صرف اسی کی طرف سے ہیں حشرج بن نباتہ کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔

    ان مثالوں سے یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ خاص سفینہ سے سعیدبن جمھان کی منفرد روایات میں منکر باتیں ہوتی ہیں اس لئے اس طریق سے مروی اس کی روایات کی جن باتوں میں وہ منفرد ہوگا وہ باتیں ضعیف شمار ہوں گی اور زیربحث حدیث بھی اسی طریق سے ہے

     
    Last edited: ‏اکتوبر 22، 2016
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 08، 2016 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    دوسری وجہ


    اگریہ فرض کرلیا جائے کہ سعید بن جمھان کی سفینہ سے روایات بھی ضعیف نہیں ہیں تو بھی اس کی خاص اس روایت کو ضعیف مانا جائے گا کیونکہ وہ اس کی روایت میں منفرد ہے اوروہ علی الاطلاق ثقہ نہیں بلکہ اس پر جرح بھی ہوئی ہے اس کی توثیق درج ذیل محدثین نے کی ہے:

    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    ثقة
    یہ ثقہ ہیں[علل أحمد رواية المروذي وغيره: ص: 107]


    امام يعقوب بن سفيان الفسوي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    ثقة
    یہ ثقہ ہیں[المعرفة والتاريخ 2/ 128]


    امام ابن حبان(المتوفى354) اور امام إبن خلْفُون رحمہمااللہ نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔[الثقات لابن حبان ط العثمانية: 4/ 278,إكمال تهذيب الكمال لمغلطاي 5/ 271]

    اس توثیق کے ساتھ دیگر محدثین نے ان پر جرح کی ہے یا ہلکی توثیق کی ہے ۔

    امام يحيى بن سعيد القطان رحمه الله (المتوفى 198)سے منقول ہے:
    لم يرضه
    آپ اس سے راضی نہیں ہوئے [علل أحمد رواية المروذي وغيره: ص: 108 واسنادہ صحیح]


    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
    ثقة
    یہ ثقہ ہیں[تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 4/ 114]

    لیکن ابن البادی کی روایت میں کہا:
    ليس به بأس
    ان میں کوئی حرج نہیں ہے[سؤالات البادي عن ابن معين: ص: 47]


    ابن معین رحمہ اللہ کے یہاں لیس بہ باس توثیق کے معنی میں ہے لیکن دونوں میں فرق بہرحال ہے۔

    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    في حديثه عجائب
    اس کی حدیث میں عجوبے ہیں [تاريخ البخاري الصغير بحوالہ ,إكمال تهذيب الكمال لمغلطاي 5/ 271 وانظر:تهذيب التهذيب 4/ 13]


    امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نے کہا:
    سألت أبا داود، عن سعيد بن جمهان؟ فقال: هو ثقة إن شاء الله، وقوم يقعون فيه، إنما يخاف ممن فوقه وسمى رجلا.يعني سفينة
    وہ (سعیدبن جمھان) ان شاء اللہ ثقہ ہے اور بعض لوگ اسے ضعیف قراردیتے ہیں انہیں اس سے اوپر کے طریق میں یعنی سفینہ والے طریق میں خوف ہے[سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود، ت الأزهري: ص: 218]


    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    شيخ يكتب حديثه، ولا يحتج به
    یہ شیخ ہے،اس کی حدیث لکھی جائے گی لیکن اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 4/ 10]


    نوٹ : لایحتج بہ کی جرح میں امام ابوحاتم منفرد نہیں ہیں بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے کماسیاتی ۔

    امام زكريا بن يحيى الساجى رحمه الله (المتوفى307)نے کہا:
    لا يتابع على حديثه
    اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی[تهذيب التهذيب لابن حجر، ط الهند: 4/ 14]


    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    أرجو أنه لا بأس به
    مجھے امید ہے کہ سعیدبن جمھان کے اندر کوئی حرج کی بات نہیں [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 4/ 458]


    امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) نے کہا:
    فسعيد بن جمهان غير مشهور بالعدالة بل مذكور انه لا يقوم حديثه
    سعیدبن جمھان عدالت میں غیرمشہورہے بلکہ اس کے بارے میں یہ مذکورہے کہ وہ اپنی حدیث ٹھیک طرح سے نہیں بیان کرپاتا[المحلى لابن حزم: 9/ 185]


    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    صالح الحديث، لا يحتج به
    یہ صالح الحدیث ہے ، اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا[ديوان الضعفاء ص: 156]


    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    صدوق له أفراد
    یہ صدوق ہے اس کے پاس کچھ منفرد روایات ہیں [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم2279]


    ان اقوال جرح کے پیش نظر یہ راوی راجح قول میں علی الاطلاق ثقہ کے درجہ پر نہیں ہے بلکہ یہ صدوق وحسن الحدیث کے درجے پر ہے جیساکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تمام اقوال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہاہے اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی کہا:
    صدوق وسط
    یہ اوسط درجے کا صدوق راوی ہے۔[الكاشف للذهبي ت عوامة: 1/ 433]


    اورجو راوی اس درجہ کا ہو اس کی ہر منفرد روایت قبول نہیں ہوتی ہے بلکہ ایسے راوی کی جس روایت کے بارے میں قرائن رد پر دلالت کریں اس کی وہ روایت رد کردی جائے گی ۔

    صدوق متکلم فیہ راوی کا تفرد

    اس طرح کا راوی اگر کسی حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہو اور قبولیت کے اضافی قرائن موجود نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس رد کے قرائن موجود ہیں ، تو ایسی صورت ایسے راوی کی بیان کردہ منفرد روایت مردود ہوتی ہے ، اس بارے میں چندائمہ فن کے اقوال ملاحظہ ہوں:

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    وإن تفرد الثقة المتقن يعد صحيحا غريبا. وإن تفرد الصدوق ومن دونه يعد منكراً. وإن إكثار الراوي من الأحاديث التي لا يوافق عليها لفظا أو إسنادا يصيره متروك الحديث
    اگر ثقہ و مضبوط حافظہ والا راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت صحیح غریب ہوگی ، اور اگر صدوق یا اس سے کمتر راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر شمار ہوگی اور جب کوئی راوی بکثرت ایسی روایات بیان کرنے لگے جس کی لفطی یا معنوی متابعت نہ ملے تو ایسا راوی متروک قرار پائے گا [ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 141]


    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    واحتج من قبل الزيادة من الثقة مطلقا بأن الراوي إذا كان ثقة وانفرد بالحديث من أصله كان مقبولا، فكذلك انفراده بالزيادة وهو احتجاج مردود، لأنه ليس كل حديث تفرد به أي ثقة كان يكون مقبولا
    جولوگ ثقہ کی زیادتی مطلق قبول کرتے ہیں وہ ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ ''جب ثقہ کوئی منفرد روایت بیان کرتے تو وہ مقبول ہوتی ہے تو اسی طرح جب ثقہ کسی زیادتی کو بیان کرنے میں منفر د ہو تو وہ بھی مقبول ہونی چاہئے''۔ (حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ ) لیکن یہ دلیل مردود ہے کیونکہ ہر ایسی حدیث مقبول نہیں ہوتی جسے بیان کرنے میں ثقہ منفرد ہو[النكت على ابن الصلاح لابن حجر: 2/ 690]۔


    امام ابن رجب رحمه الله (المتوفى795) اکثر متقدمین محدثین کے موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    وأما أكثر الحفاظ المتقدمين فإنهم يقولون في الحديث - إذا تفرد به واحد - وإن لم يرو الثقات خلافه -: ((إنه لا يتابع عليه، ويجعلون ذلك علة فيه، اللهم إلا أن يكون ممن كثر حفظه واشتهرت عدالته وحديثه كالزهري ونحوه، وربما يستنكرون بعض تفردات الثقات الكبار أيضاً، ولهم في كل حديث نقد خاص، وليس عندهم لذلك ضابط يضبطه
    متقدمین حفاظ حدیث و ائمہ کی اکثریت کا موقف یہ ہے کہ جب کوئی راوی ایک حدیث کو بیان کرنے میں منفردہوتاہے گرچہ وہ روایت ثقہ کی روایت کے خلاف نہ ہو تو ایسی حدیث کے بارے میں متقدمین حفاظ ''لایتابع علیہ '' (اس کی تائیدنہیں ملتی) کہتے ہیں، اوراس چیزکو متعلقہ حدیث میں علت شمار کرتے ہیں ، الایہ کہ اس طرح کا تفرد ایسے رواۃ سے ہو جو بہت بڑے حافظ ہوں ، جن کی عدالت و احادیث بہت زیادہ مشہور ہوں مثلا امام زہری وغیرہ ۔ اور بسااوقات متقدمین حفاظ حدیث وائمہ بڑے بڑے ثقہ راوۃ کے تفردات کو بھی منکر قرار دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے پاس کوئی خاص قاعدہ نہیں ہے جس کی وہ پابندی کرتے ہوں بلکہ ہر حدیث سے متعلق ان کا خاص نقد ہوتا ہے[شرح علل الترمذي لابن رجب ص: 216]۔


    علامہ البانی رحمہ اللہ نے ایک مجلس میں فرمایا:
    ومن هنا لا يجوز هدم أو إهدام حديث الصدوق مطلقا، لكن لا بد من الدقة في الاعتماد أو الثقة بحديث هذا النوع من الصدوق أو عدم الاعتماد عليه. فقال أبو عبد الله: دقة النظر؟فقال الشيخ: هو في متن الحديث أو رواة آخرين أو يدخل في الحديث الشاذ، والحديث المنكر، كل هذا يدخل في هذا المجال.فقال أبو الحسن: إلى القرائن؟ فأجاب الشيخ: نعم.
    اس بنیادپر صدوق کی حدیث کو علی الاطلاق رد کرنا درست نہیں لیکن اس طرح کے صدوق کی حدیث پر اعتماد اورعدم اعتماد کے وقت دقت نظر سے کام لینا بھی ضروری ہے۔ ابوعبداللہ (علامہ البانی کے شاگرد) نے پوچھا: دقت نظر سے آپ کی کیامرادہے ؟ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جواب دیا : متن حدیث کو دیکھاجائے یا دیگر رواۃ کو دیکھاجائے ، یا اسے شاذ و منکر حدیث کی قبیل سے سمجھا جائے یہ تمام باتیں دقت نظر میں شامل ہیں۔ابوالحسن (علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد) نے پوچھا : یعنی اس معاملہ میں قرائن کو دیکھاجائے گا ؟ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جواب دیا: جی ہاں[سؤالات ابن أبي العينين للشيخ الألباني ص: 88]۔



    اہل فن کے اقوال بالخصوص امام ابن رجب رحمہ اللہ کی تصریح سے معلوم ہوا کہ صدوق راوی کی منفرد روایت نہ تو علی الاطلاق قبول کی جائے گی اورنہ ہی علی الاطلاق رد کی جائے گی بلکہ قرائن کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کہاں اس کی روایت مقبول ہوگی اورکہاں مردود ۔


    مزید تفصیل کے لئے دیکھیں۔
    افراد الثقات بین القبول والرد ۔ متعب بن خلف السلمی۔
    التفرد في رواية الحديث ومنهج المحدثين في قبوله أو رده ۔ عبدالجواد حمام۔


    الغرض یہ راوی صدوق کے درجہ پر ہے اور متکلم فیہ ہے ایسے راوی کے بعض تفردات قرائن کی روشنی میں مردود ہوتے ہیں یہی حال اس راوی کا اس روایت میں ہے۔
    دراصل اسی مضمون کی بات بعض کمی وبیشی کے ساتھ باطل ومردود سندوں سے آئی ہے ۔باطل اور مردود سندوں پر اس روایت کا گردش کرنا یہ قرینہ بتلاتا ہے کہ سعید بن جمھان تک بھی یہ بات انہیں غیر معترذرائع سے پہونچی ہوگی لیکن سعید بن جمھان کے حافظہ نے کوتاہی کی اور انہوں نے اس مضمون کی روایت کو سفینہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے بیان کردیا ۔
    (کفایت اللہ سنابلی)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 22، 2016 #4
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیراً شیخ محترم
     
  5. ‏مارچ 29، 2019 #5
    اسامہ نذیر

    اسامہ نذیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 20، 2017
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    حب معاویہ رضی اللہ عنہ ایمان کی نشانی ہے
     
  6. ‏مارچ 29، 2019 #6
    اسامہ نذیر

    اسامہ نذیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 20، 2017
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابی کے الف سے لیکر آخر تک ہر صحابی جنتی ہے اور نبی صی اللہ علیہ وسلم نے ہر صحابی کا اپنا اپنا مقام دیا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد زاہد بن فیض
    جوابات:
    32
    مناظر:
    11,330
  2. عامر عدنان
    جوابات:
    2
    مناظر:
    81
  3. afrozsaddam350
    جوابات:
    2
    مناظر:
    109
  4. علی عمران
    جوابات:
    1
    مناظر:
    203
  5. اسحاق سلفی
    جوابات:
    6
    مناظر:
    207

اس صفحے کو مشتہر کریں