1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اب شاہ سلمان کو آنا پڑے گا

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از makki pakistani, ‏جنوری 11، 2016۔

  1. ‏جنوری 11، 2016 #1
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,323
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    ماشااللہ! ہماری اکڑفوں دیکھنے کے لائق ہے۔مگر ہم ٹالبوٹ کی ایک دھمکی برداشت نہیںکر سکے تھے، اس امریکی اہل کار نے آدھی رات کو سوتے سے مشرف کو جگا کر پوچھا تھا کہ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہیںمشرف نے ایک فیصلہ کیا، چشم زدن میں کیا، مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا مگر مشرف چلے گئے اور اس بلے کے خون کے پیاسے زرداری نے ا س کے کئے گئے فیصلے پر سو فی صد عمل کیا، اور اب نواز شریف بھی ہو بہواسی پالیسی پر گامزن ۔امریکی دھمکی پر صرف پاکستان نے ہی نہیں، ساری دنیا نے فرمانبرداری کا ثبوت دیا تھا۔
    نائن الیون کے بعد بھارت نے امریکہ کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کر ادی تھی،اسی طرح بھارت آج بھی سعودی عرب کے لئے جان حاضر کر دے تو مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ ہمارا رد عمل کیا ہو گا۔ کیا ہم یہ برداشت کر پائیں گے۔
    پیپلز پارٹی کے لیڈر باتیں بہت بناتے ہیں، بڑھ بڑھ کر بناتے ہیں۔وہ بھٹو کی روح سے پوچھیں کہ ا سے شاہ فیصل کی ضرورت پڑی تھی تو کیا وہ کشاں کشاں اسلامک سمٹ میں نہیں چلے آئے تھے اور کیا ہمارے سرکاری ٹی وی نے اس عظیم فرمانروا کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو نہیں دکھائے تھے جو اس نے کشمیر کی غلامی کے ذکر پر لاہور کی بادشاہی مسجد کے صحن میں بہائے تھے۔
    ہم کہتے ہیں کہ ہم غیر جانبدار ہیں مگر دہشت گردی کی جنگ میں ہم غیر جانبدار نہیں ہیں۔ہم امریکی احکامات کو بلا چون و چراں مانتے ہیں اور اب تو چین کے احکامات کی بھی پیروی کرتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس کے سنکیانگ میں کوئی دہشت گرد شمالی وزیرستان سے نہ جائے ، ہم نے ان غیر ملکی دہشت گردوں کی خوب دھلائی کی ہے۔چین تو پھر ایک سپر طاقت ہے ، ہم تو بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے بھی خائف ہو کر کہتے ہیں کہ پاکستان کی سر زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیںہونے دیں گے۔مگر ہم بھارت کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کی سرکاری سطح پر تربیت کر کے پاکستان میں داخل نہ کرے، ہم چین سے بھی نہیں کہہ سکتے کہ سنکیانگ کے لوگوں کو شمالی وزیرستان تک آنے سے روکتے کیوںنہیں۔ہم تو افغانستان کے سامنے گھگھیا رہے ہیں، اشرف غنی کی دھمکیوں پر ہم سو سو وضاحتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
    سعودی عرب سوچتا تو ہوگا کہ اس نے پاکستان پر جو احسانات کئے، اس کے لیڈروں کے چونچلے برداشت کئے اور اس کے مولویوں کو کھلا کھلا کر کپا بنا دیا تو اس نے کیا ثواب کمایا۔ وہ تو بالکل نہیں بولتے جو پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہیں اور جو پارلیمنٹ سے باہر ہیں ، ان طوطیوں کی نقار خانے میں سنتا کوئی نہیں۔
    اور یہ بھی سعودی عرب کا حوصلہ ہے کہ اسے اچھی طرح علم ہے کہ پاکستان سے خیر کی توقع نہیں مگر وہ پھر بھی بھاگم بھاگ اسلام آباد ہی آ رہا ہے۔ اور یہاں یہ سماں ہے کہ ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار، یا الہی یہ ماجرا کیا ہے۔
    اس وقت سعودی وزیر دفاع اور نائب ولی عہد پاکستان میں موجود ہیں۔ وہ اپنے ملک میں اپنے والد کے بعد طاقتور ترین شخصیت ہیں۔انہوں نے یمن کی جنگ لڑنے کے لئے چودہ رکنی اتحاد بنایا اور اب ایک وسیع تراتحاد کا اعلان کر دیا ہے، پہلا اتحاد بنا تو سعودی ترجمان کے عقب میںپاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ ہم نے اعتراض کیا کہ جب ہم اس اتحاد میں شامل ہی نہیں تو ہمارا جھنڈا کیوں استعمال کیا گیا، اب نئے اتحاد میں اعلان کے مطابق تو پاکستان شامل ہے اور پاکستان کی حالت یہ ہے کہ نہ یہ اتحاد نگلا جا رہا ہے، نہ اگلا جا رہا ہے۔پاکستان میں جو بولتا ہے وہ اتحاد میں شمولیت کی مخالفت کرتا ہے،اورثالثی کروانے کی پیش کرتا ہے جبکہ کسی نے اس چودھری ملک کو ثالث بننے کی دعوت دی نہیں ۔اور زمینی صورت حال یہ ہے کہ ہماری بات پر کوئی کان دھرنے کے لئے تیار ہی نہیں مگر ہم سعودی عرب و عجم کے حکمرانوں کو اپنے گھٹنوں میں بٹھانے کے خواب دیکھتے ہیں۔
    وہ جو اکڑتے پھرتے ہیں، میں ان سے نہیں کہتا کہ وہ اکڑ فوں نہ دکھائیں لیکن ان سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ امریکہ کے سامنے بھی اکڑفوں دکھا سکیں، چین کے سامنے بھی سینہ تان کر دکھائیں، چلیئے یہ بڑی بات ہے اور ان کی حیثیت سے باہر ہے اور نا قابل عمل ہے تو پھر بھارت یا افغانستان کے سامنے ہی اکڑ فوں دکھائیں تو میں انہیں سورما مانوں، ان کی غیر جانبدارانہ جانبداری کو سلام کروں۔کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ سعودی عرب کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگراس کی آزمائش میں پاکستان کی فطرت تو عیاں ہو گئی۔

    (اسداللہ غالب)کالم نگار


    نوائے وقت
     
  2. ‏جنوری 11، 2016 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اتنا تو حق بنتا ہے کالم نگار کا کہ کہیں نہ کہیں غصہ تو اس نے بھی نکالنا ہے
     
  3. ‏جنوری 11، 2016 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    ننگا ہی کر دیا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں