1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا احادیث قرآن مجید کی مثل ہیں؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از muhammad faizan akbar, ‏مارچ 21، 2017۔

?

کیا احادیث قرآن مجید لاریب کتاب کی مثل ہے ؟

  1. ہاں

    3 ووٹ
    75.0%
  2. یا نہیں

    1 ووٹ
    25.0%
ایک سے زائد ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 28، 2017 #11
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اللہ تمام کفار منکرین حدیث کو اسلام کی ہدایت دے، آمین
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 28، 2017 #12
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم!
    خضر صاحب میں کیوں غصہ کروں گا ۔۔۔۔لیکن آپ کے پاس کوئی جواب نہیں۔آپ جس کو جواب کہہ رہے وہ آپ کی تقلید اور صرف سوچ ہے ۔۔آپ نے جواب دیا ثابت کی گئی احادیث لاریب ہیں۔۔۔اب وہ کتاب کہاں ہے ؟ جس میں وہ لاریب احادیث ہے ؟ساری زندگی جواب تلاش کرتے رہو پھر بھی واپس اس قرآن کو ہی لاریب کہو گے ۔ ۔ ۔ان شائ اللہ۔۔۔۔شکری خضر صاحب۔۔
    آپ نے مجھ سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا یہ قرآن ہے ؟ آپ نے پوچھا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ لاریب ہے؟ آپ کے تمام جوابات سامنے موجود ہیں اور دلیل کے ساتھ۔۔۔۔لیکن آپ صرف اس طرح کی باتیں کر سکتے ہیں جو مجھے امید بھی یہی ہے ۔
    میں ضد بازی کرتا یہ ہر عالم ہر مولوی، ہر پیر کا یہی سوچنا ہے جب جواب نہ دے سکتا ہو تو اسی قسم کی گول مول باتیں کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ شاید کوئی ملامت ہو یا نہ ہو ۔۔۔۔
    اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا
    وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
    یہ آپ کی تعریف میں چند آیات آپ کو مبارک ہو۔۔۔شکریہ
     
  3. ‏مارچ 28، 2017 #13
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم !آپ کبھی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے جب تک تقلید کی پٹی نہ اتاریں یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ جواب دے چکے ۔۔۔۔۔احادیث کو وہ کتاب جو لاریب ہے جو نبی کریم سے ثابت ہیں وہ کتاب ثابت کریں کہاں ہے ؟جس کو آپ نے لاریب کہا۔
     
  4. ‏مارچ 29، 2017 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ بار بار لفظ تقلید کو ’ رسوا ‘ کر رہے ہیں ۔ پہلے تقلید کا معنی سمجھ لیں ، پھر اسے خوب استعمال کیجیے گا ۔ ، خیر جو لوگ قرآن کو بنا سوچے سمجھے ، اس کا نام استعمال کرتے ہیں ، وہ کسی اور لفظ کو سمجھنے کی ضرورت کہاں سمجھتے ہوں گے ۔
    جی بالکل ، ویسے آپ کے نزدیک جو بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو ، وہ لاریب ہوگی کہ نہیں ؟
    آپ کو لاریب ’ احادیث ‘ چاہییں کہ ’ کتاب ‘ ؟
    ویسے ’ کتاب ‘ کا معنی سمجھتے ہیں ؟ کس طرح کی کتاب میں احادیث لکھی ہوئی ہوں تو آپ اسے لاریب سمجھیں گے ۔
    میرا اور آپ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’ قرآن مجید ‘ لاریب کتاب ہے ، قرآن مجید کے متعلق جب ’ لا ریب فیہ ‘ کہا گیا تو اس وقت وہ کس ’ کتابی شکل ‘ میں تھا ؟
    مجھے نہیں یاد کہ یہ سوال میں نے آپ سے پوچھے ہوں ـ خیر یہ بھی سمجھیے اور ان کا جواب دے دیں ۔ اگر کہیں پہلا دیا ہوا ہے تو یہاں دو ٹوک انداز میں دوبارہ لکھدیں ، امید ہے ’ مولویوں کی طرح بات گول مول نہیں کریں گے ‘ ۔
    مجھے خوشی ہوتی اگر مجھے کوئی ’ عبد الرحمن ‘ ’ سلامتی ‘ والے الفاظ کہتا ۔ لیکن یہاں تو ایک غریب جاہل کے مقابلے میں اس سے بھی بڑا جاہل اس آیت کا غلط استعمال کر رہا ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 29، 2017 #15
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    727
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم خضر و ابن داؤد صاحبان
    السلام علیکم
    انتہائی معذرت کے ساتھ کچھ الفاظ لکھ رہا ہوں ۔ اس بحث میں حصہ لینے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔ لیکن ایک سیدھی سی بات فیضان اکبر صاحب سے پوچھ لیں کہ،
    ہمیں قران کس سورس(ذریعہ ) سے ملا۔
    اگر ہمیں یہ روایت ملتی ہے کہ قران کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پھر بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع کیا اور تدوین کی تو فیضان صاحب کے اصول کے مطابق اس روایت پر کیسے اعتبار کریں۔
    پھر تو لاریب کچھ نہیں رہ جاتا اور سارا معاملہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے منکرین حدیث دراصل منکرین اسلام ہیں۔ اب ایسے تو نہیں ہوسکتا کہ صرف ان کی من چاہی حدیثوں کو مانا جائے۔
     
    • متفق متفق x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 29، 2017 #16
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وربرکاتہ!
    @nasim بھائی! انہوں نے اس کے متعلق ایک تھریڈ میں یوں فرمایا ہے:
    زریعہ تو ان کا ''تاج کمپنی لمیٹڈ'' سے آگے نہیں جاتا!
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 29، 2017 #17
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیم ! میرے محترم بھائی!
    یہ سوال آپ خود بھی کر سکتے تھے میں جواب دے سکتا ۔۔۔ہوں ۔۔اللہ کا شکر ہے۔
    آپ کا سوال ہے ۔ ۔ ۔ روایت ملتی ہے کہ قرآن کو ابو بکر رضی اللہ عنہ پھر بعد میں عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع کیا اور تدوین کی۔۔۔۔۔۔۔۔فیضان کے اصول کے مطابق اس روایت پر کیسے اعتبار کریں اور میرا مطالبہ آپ کو شاید معلوم نہیں۔پھر تو لاریب کچھ نہیں۔۔؟

    میرا سوال یہ ہے ۔ آپ لوگ ایسے ظالم ہو معاف کریں کہنا پڑھ رہا اپنی ان زبانوں سے اقرار کرتے ہو کہ لاریب کتاب اور حاکم کتاب صرف قرآن ہے ۔ لیکن جب ترجمہ کرنا ہو یا مفہوم لینا ہو تو ایسی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہو جن کا تم خود انکار کرتے ہو کہ وہ لاریب نہیں اور حاکم بھی نہیں ۔آپ لوگوں کی آنکھیں ہیں پر دیکھتے نہیں۔۔۔کان ہیں لیکن سنتے نہیں۔۔۔۔دماغ ہے لیکن سوچتے نہیں ۔۔۔دل ہیں لیکن نرم نہیں ۔۔۔۔۔

    آپ اگر میرے جوابات با غور پڑھتے اور غور و فکر کرتے تو شاید یہ سوال کسی اور طرح ہوتا لیکن میں جواب دے چکا پھر دے رہا اور غور فرمائیں۔۔۔

    سورۃ النسائ 4۔کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔ (82)

    پہلے بھی عرض کیا اس کی ذمہ داری کس نے لی اس کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے ؟ اگر اس کی ذمہ داری اللہ نے نہ لی ہوتی تو یہ لاریب نہ ہوتا اس کی دلیل یہ کہ آج تک کوئی یہ نہیں کہہ سکا کہ فلاں آیت ضعیف ہے یا فلاں آیت دوسری آیت کے خلاف ہے ،

    جبکہ آپ کے سامنے ایک بہت بڑی تعداد ہے روایات اور احادیث کی جن کو نکال دیا گیا ۔۔۔۔شک کی بنیاد پر ، یا راویوں کی وجہ سے ، یا مکمل نہیں تھیں وغیرہ ۔۔۔جبکہ قرآن مجید کے ساتھ ایسا کچھ نہیں۔۔۔یہ دلیل ہے اس کی ۔۔۔میرے پاس نہ تو پیغمبر آئے نہ اللہ نہ فرشتے اس کو پڑھ کر ہی اس کی شان معلوم ہوجاتی ہے اللہ کا شکر ہے ۔

    سورۃ الزمر39۔اللہ نے بہترین کلام اُتارا ہے ، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دُہرائے گئے ہیں ۔ اُسے سُن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں ، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذِکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہِ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے ۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے۔ (23)


    سورۃ المرسلت77۔اب اِس (قرآن) کے بعد اور کون سا کلام ایسا ہو سکتا ہے جس پر ایمان لائیں گے ؟ (50)
    سورۃ الطور52۔اگر یہ اپنے اس قول میں سچّے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں۔(34)


    سورۃ المومنون23۔تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟ (68)
    سورۃ المائدہ 5۔جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول ﷺ پر اُترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوئوں سے تر ہو جاتی ہیں ۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ ’’پروردگار ! ہم ایمان لائے ، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے‘‘ ۔(83)
    سورۃ ق 50۔اے نبیؐ ، جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔، بس تم اس قرآن کے ذریعے سے ،ہر اُس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔(45)
    سورۃ القصص28۔اے نبیﷺ ! یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے ، و ہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے۔ ان لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ میرا رب خوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھلی گمراہی میں کون مبتلا ہے۔‘‘ (85)
    سورۃ النمل 27۔اور یہ قرآن پڑھ کر سنائوں ‘‘ اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ’’ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں۔‘‘ (92)
    سورۃ بنی اسرائیل17۔اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سنائو، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے۔ (نہایت اہتمام سے اتارا ہے)(106)
    سورۃ بنی اسرائیل 17۔اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے نبیﷺ ! تمہیں ہم نے اس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجاکہ (جو مان لے اسے ) بشارت دے دواور (جو نہ مانے اسے ) متنبہ کر دو ۔(105)
    سورۃ بنی اسرائیل 17۔ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار ہی پر جمے رہے ۔ (89)
    سورۃ بنی اسرائیل 17۔کہہ دو اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اُس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے ، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ ہوں۔(88)
    سورۃ بنی اسرائیل 17۔ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں ، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں۔(مگر یہ چیز ان کی بیزاری ہی میں اضافے کیے جارہی ہے)(41)
    سورۃ بنی اسرائیل 17۔حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے ۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بڑا اجر ہے ، (9)
    سورۃ یوسف 12۔اے نبیﷺ ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں ، ورنہ اس سے پہلے تو (اِن چیزوں سے ) تم بالکل ہی بے خبر تھے۔(3)
    سورۃ یوسف۔12۔ اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔(111)


    شکریہ۔۔

    وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ۔
     
  8. ‏مارچ 29، 2017 #18
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم! میرے محترم ابن داود صاحب۔

    کیا حال ہیں آپ کے اِدھر اودھر کی بات کا کوئی فائدہ نہیں ۔ بات سریس ہوتی ہے یہ دین کا معاملہ ہے کوئی مزاق ، یا ہنسی نہیں۔۔۔

    بات ذریعہ کہ ہے تو اللہ کا شکر ہے سب سے پہلے قرآن مجید جہاں تک کوشش پھر احادیث یہ ہے پھر عقلی قیاس وغیرہ ۔۔۔لیکن سب سے پہلے قرآن ۔۔۔شکریہ ۔۔
     
  9. ‏مارچ 29، 2017 #19
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم !
    تقلید۔۔۔۔بغیر دلیل ، یعنی قرآن و حدیث کے علم کے بات ماننے کو تقلید کہتے ہیں ۔۔۔
    میرے نزدیق لایب جب تھی اگر نبی کریم ﷺ خود موجود ہوتے ان کا ہر حکم اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور لاریب شک سے پاک۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کا نام لے کر بہت سی باتیں ان کی طرف منسوب کیں اور بہت سے راویوں کو غلط فہمی بھی ہوئی۔ جس کی وجہ سے آج کے دور میں ان کا نام لے کر بات ، احایث شک میں ہیں لاریب نہیں۔۔۔۔۔چاہے کسی محدیث نے کتنا ہی وقت لگایا ہو ہمارے لئے سب سے پہلا کام ہے کہ قرآن مجید پر غور کریں۔۔۔۔۔پھر حدیث کی طرف۔۔۔۔

    قرآن مجید کی آیات ساتھ ساتھ لکھی جاتی تھیں جیسے جیسے نازل ہوتی تھیں۔۔۔۔اس کی دلیل قرآن مجید میں ہی ہے ۔

    اگر غور کریں تو ۔۔۔پہلے یہ جواب دے چکا ان کو دیکھیں اور سمجھے مولوی نہ بنے ۔۔۔تقلید کی پٹی اتاریں طوطا بننے سے پرہیز کریں ۔شکریہ
     
  10. ‏مارچ 29، 2017 #20
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    میرے نزدیک آپ سب کی بات جب تک حق نہیں جب تک آپ قرآن کو سب سے پہلے سب سے اول زبان سے اور عمل سے نہیں مانتے ۔۔۔جب تک آپ صرف تقلید کر رہے ہیں ۔۔۔۔جس دن آپ یہ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن مجید کی شان ہے کہ وہ تصدیق کرئے وہ مفہوم کو واضح کرے وہ معنی کرے ۔۔۔۔۔پھر احادیث کا درجہ آتا ہے ۔۔۔۔۔مجھے معلوم ہے قرآن مجید میں ہر ہر مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔۔لیکن جن جن مسئلہ کا حل قرآن واضح جواب دے ۔۔۔تو احادیث کی ضرورت نہیں۔۔۔۔

    ٭ظلم کی انتہا تو یہ ہے اپنی تقلید کی دوڑ میں قرآن مجید سے جادو ثابت کرتے ہو مفہوم اپنے مطلب کے ان شک والی کتابوں کو رکھ کر۔
    جبکہ جادو جیسا آج کے دور میں آپ سب نے بنا لیا وہ ہے ہی نہیں۔۔۔
    ٭عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ۔۔۔ان شک والی کتابوں کو سامنے رکھ کر مفہوم سمجھتے رہو ساری زندگی ۔
    ٭نظر بد نہیں۔۔۔لیکن نظر بد کو اکثریت اسی قرآن کی آیات سے غلط مفہوم لیتے ۔۔۔
    ٭اس دنیاوی قبر میں مٹی والی قبر میں عذاب نہیں۔
    ٭نبی بشر ہیں ۔ ۔ ۔ اکثریت نور کہتی ۔۔۔اور نور کے لئے غلط مفہوم ، معنی ،نتیجہ ان آیات سے نکالتے ہیں۔
    ٭شیطان جِن تھا جو حقیقت ہے قرآن سے ثابت ہے لیکن آیت سے غلط مفہوم لیا جاتا ہے شیطان کو فرشتوں میں سے تھا کہہ دیتے ہیں جس سے گمراہی ثابت ہو جاتی۔۔

    ایک آیت سے فیصلہ نہیں لیاجاتا۔دین مکمل ہوا جب قرآن مجید مکمل ہوا ۔۔ایک آیت کو دوسری آیت اور زیادہ وضاحت کرتی ہے ۔۔۔اور زیادہ مفہوم واضح ہو جاتا اگر نہیں ملتا تو بے شک ان احادیث کی طرف رجوع کرنا لازمی ہے ۔

    جو کہتا ہے صرف قرآن وہ بھی گمراہ ہے ۔۔۔اور جو کہتا ہے صرف احادیث وہ بھی گمراہ ہے ۔ جو کہتا ہے پہلے احادیث پھر قرآن وہ بھی گمراہ ہے ۔

    سورۃ البقرہ2۔
    اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے اُن کے پاس آئی ہے ،اس کے ساتھ ان کا کیا برتائو ہے ؟ باوجود یکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جوان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجود یہ کہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا ۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر ، (89)
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں