1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا احناف کی نماز عند اللہ مقبول نہیں؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 04، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 10، 2017 #31
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اوہ ہاں میں بھول گیا تھا کہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔
    ویسے بائی دا وے میں نے آپ سے آپ کی بات کی ہی وضاحت معلوم کی تھی، کوئی بحث کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ورنہ اگر دس بارہ اصول فقہ کی کتابوں سے قیاس کی تعریف نقل کروں تو آپ ایک کا بھی یہاں انطباق نہیں کر سکتے۔ میں اسی قیاس کو جانتا ہوں جسے علماء امت قیاس کہتے ہیں، آپ کے ذہن سے آنے والے قیاس کا معنی آپ ہی جانتے ہوں گے، اسی لیے عرض کیا تھا۔
     
  2. ‏اکتوبر 10، 2017 #32
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    امام مالک سے بلا عذر اس کا ثبوت مجھے اب تک نہیں ملا!
    اگر آپ کے پاس امام مالک سے اس کا کوئی ثبوت ہوتو مجھے دیجیئے گا!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 10، 2017 #33
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اشماریہ بھائی! اب @عمر اثری بھائی قیاس شرعی کی بات تو نہیں کر رہے!
    قیاس آرائی و رائے زنی و اٹکل پچو کی بات کر رہے ہیں!
    وگرنہ قیاس شرعی کے عمر اثری بھائی بھی قائل ہیں، اور اسے حجت شریعہ مانتے ہیں!
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 10، 2017 #34
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    ابن داؤد بھائی! امام مالکؒ سے تو ہاتھ باندھ کر پڑھنے کا بھی ثبوت نہیں ہے یعنی باقاعدہ بالسند ثبوت نہیں ہے۔ لیکن فقہ کی آراء میں وہی مسلک کہلاتا ہے جس کی تصریح اس مسلک کے علماء کریں۔ مثلاً امام ابوحنیفہؒ کا مسلک تمام علماء احناف ایک بیان کریں تو وہ ان کی رائے اور مسلک ہوتا ہے۔ اسی طرح امام مالکؒ کا مسلک وہ ہوتا ہے جسے مالکی علماء بیان کریں۔
    ویسے ان کی یہ رائے مدونہ میں بھی ہے جو کہ سحنون نے ابن القاسم سے بلاواسطہ نقل کی ہے:
    قال: وقال مالك: في وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة؟ قال: لا أعرف ذلك في الفريضة وكان يكرهه ولكن في النوافل إذا طال القيام فلا بأس بذلك يعين به نفسه
    یہاں پہلے قائل ابن القاسم ہیں۔ چنانچہ ترجمہ ہوگا: "(ابن القاسم نے) کہا: مالک نے نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کے بارے میں کہا: میں اسے فرض (نماز) میں نہیں پہچانتا اور وہ اسے ناپسند کرتے تھے لیکن نوافل میں جب قیام طویل ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس سے اپنی مدد کرے۔"
    سحنون عن ابن القاسم عن مالک مشہور سند ہے امام مالکؒ کے اقوال کی اور سب سے مضبوط سند بھی یہی ہے۔ مالکی علماء اس کے کتنے حوالے دیتے ہیں، یہ مالکی فقہ پڑھنے والے جانتے ہیں۔ ابن رشد (الجد) نے اس کے لیے مقدمہ لکھا ہے جس میں اس کی مدح کی ہے، ابن عبد البر نے اس سے روایات نقل کی ہیں، باجی مالکیؒ نے اس کے حوالے دیے ہیں وغیرہ۔ چنانچہ یہ امام مالکؒ کا مسلک ہے۔

    یہاں ابن القطانؒ وغیرہ کی مدونہ پر جرح نقل نہیں کیجیے تو بہتر ہے کہ وہ ایک تو مالکی نہیں ہیں اور مالکی فقہاء امام مالکؒ کی فقہ کو زیادہ جانتے ہیں دوسرا اس کتاب سے ان کا کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ یہ حدیث کی کتاب نہیں ہے، یہ امام مالکؒ کی آراء کی کتاب ہے۔
     
  5. ‏اکتوبر 10، 2017 #35
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,291
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    حاصل مراسلات (اب تک کے مراسلات) ایک سطر :

    "اللہ انسان کے دلوں کا حال جانتا ہے، کہ کون کسی معاملہ کے بین ہو جانے کے بعد مخالفت کرتا ہے، اور کس پر حقیقت حال مخفی ہے!"

    ابن داؤد

    تو جن پر مخفی ھے اتنے سو سالوں کے گذرنے کے بعد اللہ ان سے خوب واقف ھے اور جن پر واضح ھو چکا ھے(اتنے سو سالوں کے گذرنے کے بعد)، جو سب جانتے ہیں اللہ یقینا ان سے بھی خوب واقف ھے -
     
  6. ‏اکتوبر 10، 2017 #36
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    اب تک کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مالکیوں کے ہاں ہاتھ چھوڑنا اصل ہے اور باندھنے کی گنجائش ہے۔
    بقیہ فقہاء کے نزدیک ہاتھ باندھنا مسنون ہے کہ یہ بہت سے صحابہ کرام سے مروی ہے۔
    جو ہاتھ باندھنے کو مسنون کہتے ہیں ان کے دلائل کا وزن اس وقت زیادہ ہو گا جب وہ یہ ثابت کردیں کہ جن صحابہ سے ہاتھ باندھنے کا مشاہدہ مروی ہے کیا ان کا یہ مشاہدہ فرض نمازوں کے بارے ہے؟
    اس کی تصریح اس طرح ہوسکتی ہے کہ کسی ایسے صحابی سے ہاتھ باندھنے کی روایت ہو جس کو ثابت کیا جاسکے کہ یہ گھر کی نماز کا مشاہدہ نہیں ہوسکتا۔ کیا کوئی ایسی روایت ہے؟
    یہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماعت سے پڑھی جانے والی نمازوں کے علاوہ کوئی نماز مسجد میں ادا نہیں کرتے تھے یہ معمول تھا۔
    بھائی @ابن داود
    بھائی @اشماریہ
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 10، 2017 #37
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,291
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    امام شافعی رحمہ اللہ کے دلائل بصورت "قال شافعی" محفوظ ہیں ان کو پڑھ لیا جائے - یاد رھے اتفاق کرنا شرط نہیں صرف پڑھنے کو کہا ھے -
     
  8. ‏اکتوبر 11، 2017 #38
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یعنی کے ارسال کا ثبوت بھی نہیں ہے!
    تو بلا ثبوت امام مالک سے بد ظنی کیوں کی جائے! پھر یہی حسن ظن کیوں نہ رکھا جائے کہ امام مالک ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کے قائل تھے!
    زبردست!
    یعنی کہ پیروکاروں کے کاموں کو امام کے ذمہ ڈال دیا جائے!
    یہ ایک قرینہ تو ہو سکتا ہے، لیکن ثبوت نہیں!
    کل کو کوئی منچلا آکر کہہ دے گا کہ عیسی علیہ السلام کے عقائد و نظریات و مسلک بھی وہی ہوتا ہے جو عیسائی علماء بیان کریں!
    دوم کہ آپ نے بھی کہا کہ تمام علماء احناف اگر ایک بیان کریں، تو وہ امام ابو حنیفہ کا مسلک ہوتا ہے، لیکن یہاں ہاتھوں کو نماز میں باندھنے میں مالکی علماء کا اختلاف ہے!
    اور وہ امام مالک سے ہی مختلف روایت کرتے ہیں!
    لہٰذا یوں بھی ارسال کو امام مالک کا مسلک قرار دینا ثابت نہیں ہوتا!
    آپ نے ایک روایت بیان کرکے، اسے امام مالک کا مسلک قرار دیدیا!
    لیکن آپ نے یہ تحقیق نہیں کی کہ مالکیہ کے ہاں اس روایت کے علاوہ بھی روایات ہیں!
    اور مالکیہ اس مؤقف کو امام مالک سے زیادہ ''المدونہ '' کا مسلک قرار دیتے ہیں!
    اور مالکیہ خود اس کی توضیح پیش کرتے ہیں کہ یہاں کراہت استحباب کی نفی نہیں، بلکہ اعتقاد للوجوب کے لئے ہے!
    آگے اس کی تفصیل پیش کروں گا!
    کیوں بھای ! امام مالک پر مالکیہ کی اجارہ داری ہے کیا؟
    اشماریہ بھائی! ویسے ایک سوال ہے، یہ تحقیقی اصول آپ اپنے دماغ پر بوجھ ڈال کر خود تراشتے ہیں؟ یا کوئی اور ایسی پٹی پڑھاتا ہے؟
    خیر! ابھی آپ کے اس اصول کے بطلان کا بیان تو چھوڑتے ہیں!
    لیکن یہ بات آپ کو تو قبول ہوگی، کہ مالکی تو آپ بھی نہیں! تو آپ کی بات کہ امام مالک کا یہ مسلک ہے یا وہ مسلک ہے، کیوں مانا جائے!
    ہم مالکیہ سے ہی پوچھ لیتے ہیں؛

    (جاری ہے)
     
    Last edited: ‏اکتوبر 12، 2017
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 11، 2017 #39
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    أبو عبد الله محمد بن علي بن السنوسي الخطابي المالكي (المتوفي 1276 ه) اپنی کتاب شفاء الصدر بأري المسائل العشر میں فرماتے ہیں:
    المسألة الثانية في القبض
    وفيه أربعة مذاهب. قال ابن عرفة: وفي إرسال يديه ووضع اليمنی علی اليسری أربعة مذاهب.
    الأول: استحبابه في الفرض والنفل. قال في المواق: ﴿وفي رواية أشهب عن مالك، أنّ وضع اليد اليمنی علی اليسری مستحب في الفريضة والنافلة. قال ابن رشد: وهذا هو الأظهر لأنّ الناس كانوا يؤمرون به في الزمن الأول.
    قال البناني: وهو قول مالك في رواية مطرّف، وابن الماجشون عنه في الواضحة، وقول المدنيين من أصحابنا واختياره جماعة من المحقّقين، منهم اللّخمي، وابن عبد البرّ، وأبو بكر بن العربي وابن رشد وابن عبد السلام، وعدّه ابن رشد في مقدماته من فضائل الصلاة، تبعه القاضي في قواعده ونسبه في الإكلمال إلی الجمهور، وكذا نسبه لهم الحفيد ابن رشد، وهو قول الأئمة الثلاثة الشافعي وأبو حنيفة وأحمد وغيرهم من أئمة المذاهب كما ذکره في الاستذكار. انظر نصوص من ذكرنا في رسالة الشيخ المسناوي في القبض.
    قال الترمذي: ﴿والعمل علی هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ ومن بعدهم يرون أن يضع الرجل يمينه علی شماله في الصلاة﴾
    الثاني: إباحة القبض في الفرائض والنفل كما في العتبية. قال البناني: وهو قال مالك في سماع القرینين وقول أشهب في رسم شكّ في طوافه. قال الزرقاني: ﴿وروی أشهب عن مالك: لا بأس به النافلة والفرض، كذا قال أصحاب مالك المدنيون، وروي مطرّف وابن الماجشون أنّ مالكا استحسنه﴾.
    قال ابن عبد البرّ: ﴿لم يأت فيه عن النبي ﷺ خلاف وهو قول جمهور الصحابة والتابعين، وهو الذي ذكره مالك في الموطأ ولم يحك ابن المنذر وغيره عن مالك غيره، وروی ابن القاسم عن مالك الإرسال وصار اليه أكثر أصحابه﴾.
    الثالث: التفصيل: جوازه في النافلة وكراهته في الفرضية، قال في التوضيح: وهو مذهب المدونة، قال فيها: ولا يضع يمناه علی يسراه في فریضة وذلك جائز في النوافل لطول القيام. قال صاحب البيان(التبيان): ﴿ظاهرها الكراهة في الفرض والنفل إلاّ إن طال في النافلة﴾. وذهب إلی أنّ مذهبا الجواز في النافلة مطلقا لجواز الاعتماد فيها من غير ضرورة. فهذان تأويلان علی قول المدونة بالكراهة. الثالث، تأويل عبد الوهاب، الكراهة في الفرض لأجل الاعتماد. وقال بعضهم: إنما كرهه مخافة أن یعتاد وجوبه وإلاّ فهو مستحب. وقال عياض: ﴿مخافة أن يظهر من الخشوع ما لا يكون في الباطن﴾. قال في التوضيح: ﴿وتفرقته في المدونة بين الفريضة والنافلة تردّه وتردّ الذي قبله﴾. قال ابن العربي: كره مالك وضع اليد علی الأخری في الصلاة، وقال أنّه ما سمع فيه شيء في قوله تعالی ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾. قال ابن العربي: قد سمعنا وروينا فيه محاسن، والصحيح أنّه يفعل في الفريضة.
    الرابع: المنع في الفريضة والنافلة. قال في التوضيح: رواه العراقيون. وقال البناني: حكاه الباجي وتبعه ابن عرفة. قال الشيخ المسناوي: وهو من الشذوذ بمكان. ثم قال المسناوي أیضاً: إذا تقّرر الخلاف في أصل القبض كما تری وجب الرجوع إلی الكتاب والسنّة كما قال تعالی ﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَی اللهِ وَالرَّسُولِ﴾، وقد وجدت سنّة عن رسول الله ﷺ قد حكمت بمطلوبية القبض في الصلاة، بشهادة ما في الموطأ والصحيحين وغيرهما من الأحاديث السالمة من الطعن، فالواجب الانتهاء اليها والوقوف عندها والقول بمقتضاها﴾.
    وهذه الطريقة التي أشار إليها المسناوي هي طريقة المتقدّمين من أنهم يقلّدون أئمتهم ويتّبعونهم في الجليل والحقير ما لم يروا بينهم خلافاً وإلاّ رجعوا إلی الكتاب والسنّة فإنّه المأمور به كتاباً وسنّةٌ وإجماعاً، وقد حکی الغزالي في الإحياء عن الأئمة أنّهم حرّموا علی تابيهم اتباعهم فيما خالف نصّ الكتاب السنّة. وقال القرافي في الفرق الثامن والسبعين: أنّه لا يجوز العمل والفتوی بقول الإمام المخالف نص الكتاب والسنّة، وأنّ العامل والمفتي به عاص لله ورسوله وأن كان الإمام غير عاص لأنّه قائل باجتهاده فهو مأجور والمقلّد له عاص لأنّه مصادم لما جاء عليه النص فهو مأزور لعمله وإفتائه بغیر شرع، والعمل والفتوی بغیر شرع حرام، وقال:﴿فعلی أهل العصر تفقد مذابهم، فكلّما وجدوه من هذا النوع حرّم عليهم الفتوی به والعمل، ولا یعری مذهب من المذاهب عنه﴾. وليس للمقلّد أن يقول لعلّ إمامي اطّلع في ذلك علی ما لم أطّلع عليه كما يقول به أهل الطريقة الثانية، فإنّ غاية ما فيه احتمال أنّه بلغه ذلك الحديث أو لم يبلغه و علی احتمال بلوغه، هل ثبت عنده مرجح أو لم يثبت وعلی احتمال الثبوت هل المرجوح هو المعمول به في نفس الأمر أو ضدّه، والقاعدة الأصولية والعقلية أنّه لا يزاحم اليقين بالشك، فإنّه حين اطّلاعه علی النص ذو يقين في عين حكم النازلة فلا يتركه إلی غيره، والمسؤول عنه تركه العمل بعد اطلاعه علی النص لأنه حين الاطّلاع عالَمٌ يحرم عليه ترك علمه، لأنّنا أمرنا بالسؤال إلاّ حين الجهل بالحكم في ذلك. فالذي عليه الجمهور كما مرّ هو القبض. قال النووي: ﴿وهو مذهب الشافعي وأحمد وأبي حنيفة والأوزاعي وابن المبارك وسفيان الثوري وإسحاق بن راهويه وأبي إسحاق المروزي واب المنذر، وعن مالك روايتان، الأولی مثل الجمهور، والثانية الإرسال ولا يضع إحداهما علی الأخری وهي رواية جمهور أصحابه وهي الأشهر عندهم وهي مذهب اللّيث بن سعد﴾.
    وحجّة الجمهور ما تراه في أحاديث المسألة المسرود: في ذلك، فنها حديث وائل بن حجر الطويل المتقدم في مسألة الرفع، وحديث سهل بن سعد قال: كان الناس يؤمرون أن يضع الرجل اليد اليمنی علی ذراعه اليسری في الصلاة. قال أبو حازم: ولا ؤعله إلاّ يَنمي ذلك إلی رسول الله ﷺ وفي رواية إلاّ يُنمی ذلك ولم يقل ينمي. أخرجه البخاري والموطأ.
    هُلب الطائي قال: كان رسول الله ﷺ يؤمّنا فيأخذ شماله بيمينه. أخرجه الترمذي.
    ابن مسعود: كان يصلّی فيضع اليسری علی اليمنی فرآه رسول الله ﷺ فوضع يده اليمنی علی اليسری. أخرجه أبو داود. وفي رواية النسائي قال: راءاني رسول الله ﷺ قد وضعت شمالي يمينی في الصلاة فأخذ يميني فوضعها علی شمالي.
    وائل بن حجر قال: رأيت النبي ﷺ إذا كان قائما في الصلاة قبض يمينه علی شماله، أخرجه النسائي.
    ،وبو ضحيف أنّ عليّا قال: السنّة وضع الكف علی الكف في الصلاة.

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 23 - 29 شفاء الصدر بأري المسائل العشر - أبو عبد الله محمد بن علي بن السنوسي المالكي الخطابي (المتوفي 1276 ه) - دار الامام مالك للكتاب، الجزائر
    ----
    أبو عبد الله محمد بن علي بن السنوسي الخطابي المالكي (المتوفي 1276 ه)
    اپنی دوسری کتاب شفاء الصدر بأري المسائل العشر میں قدرے اسی طرح رقم کرتے ہیں:

    ﴿الفصل الثاني في حكم المسئلة الثانية في حكم القبض﴾ وحاصل ما للعلماء فيه أربعة أقوال أذكرها اجمالا م تفصيلا قال ابن عرفة: وفي إرسال يديه ووضع اليمنی علی اليسری أربعة مذاهب.
    الأول: استحبابه في الفرض والنفل. قال في المواق: ﴿وفي رواية أشهب عن مالك، أنّ وضع اليد اليمنی علی اليسری مستحب في الفريضة والنافلة. قال اب رشد: وهذا هو الأظهر لأنّ الناس كانوا يؤمرون به في الزمن الأول.
    قال البناني: وهو قول مالك في رواية مطرّف، وابن الماجشون عنه في الواضحة، وقول المدنيين من أصحابنا واختياره جماعة من المحقّقين، منهم اللّخمي، وابن عبد البرّ، وأبو بكر بن العربي وابن رشد وابن عبد السلام، وعدّه ابن رشد في مقدماته من فضائل الصلاة، تبعه القاضي في قواعده ونسبه في الإكلمال إلی الجمهور، وكذا نسبه لهم الحفيد ابن رشد، وهو قول الأئمة الثلاثة الشافعي وأبو حنيفة وأحمد وغيرهم من أئمة المذاهب كما ذکره في الاستذكار. انظر نصوص من ذكرنا في رسالة الشيخ المسناوي في القبض.
    قال الترمذي: ﴿والعمل علی هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ ومن بعدهم يرون أن يضع الرجل يمينه علی شماله في الصلاة﴾
    الثاني: إباحة القبض في الفرائض والنفل كما في العتبية. قال البناني: وهو قال مالك في سماع القرینين وقول أشهب في رسم شكّ في طوافه. قال الزرقاني: ﴿وروی أشهب عن مالك: لا بأس به النافلة والفرض، كذا قال أصحاب مالك المدنيون، وروي مطرّف وابن الماجشون أنّ مالكا استحسنه﴾.
    قال ابن عبد البرّ: ﴿لم يأت فيه عن النبي ﷺ خلاف وهو قول جمهور الصحابة والتابعين، وهو الذي ذكره مالك في الموطأ ولم يحك ابن المنذر وغيره عن مالك غيره، وروی ابن القاسم عن مالك الإرسال وصار اليه أكثر أصحابه﴾.
    الثالث: التفصيل: جوازه في النافلة وكراهته في الفرضية، قال في التوضيح: وهو مذهب المدونة، قال فيها: ولا يضع يمناه علی يسراه في فریضة وذلك جائز في النوافل لطول القيام. قال صاحب البيان(التبيان): ﴿ظاهرها الكراهة في الفرض والنفل إلاّ إن طال في النافلة﴾. وذهب إلی أنّ مذهبا الجواز في النافلة مطلقا لجواز الاعتماد فيها من غير ضرورة. فهذان تأويلان علی قول المدونة بالكراهة. الثالث، تأويل عبد الوهاب، الكراهة في الفرض لأجل الاعتماد. وقال بعضهم: إنما كرهه مخافة أن یعتاد وجوبه وإلاّ فهو مستحب. وقال عياض: ﴿مخافة أن يظهر من الخشوع ما لا يكون في الباطن﴾. قال في التوضيح: ﴿وتفرقته في المدونة بين الفريضة والنافلة تردّه وتردّ الذي قبله﴾. قال ابن العربي: كره مالك وضع اليد علی الأخری في الصلاة، وقال أنّه ما سمع فيه شيء في قوله تعالی ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾. قال ابن العربي: قد سمعنا وروينا فيه محاسن، والصحيح أنّه يفعل في الفريضة.

    وأراده بقوله روينا فيه محاسن والله أعلم. ما أخرجه البخاري في تاريخه وابن أبي شيبة في مصنفه وابن جرير وابن حاتم والدارقطني في الافراد وأبو الشيخ والحاكم وابن مردوديه به والبيهقي في سننه عن علی بن أبي طالب في قوله فصل لربك وانحر انه قال وضع يده اليمنی علی وسط ساعد يده اليسری ووضعها علی صدره في الصلاة وما أخرجه أبو الشيخ والبيهقي في سننه عن أنس عن أنس عن النبي صلی الله عليه وسلم مثله وما أخرجه ابن أبي حاتم وابن شاهين في سننه وابن مردوديه والبيهقي عن ابن عباس في قوله فصل لربك وانحر قال وضع اليمنی علی اليسری عند النحر في الصلاة فهذه ثلاثة أقوال فی حكم القبض والی حاصلها أشار ابو الحصن علی المدونة بقول ابن رشد يتحصل فی المسئلة ثلاثة أقوال أحدها أن ذالك جائز في المكتوبة والنافلة لا يكره فعله ولا يستحب والثاني أن ذلك مكروه يستحب تركه في الفريضة والنافلة الا اذا طال القيام في النافلة فيكون فعل ذلك جائزا غیر مکروه ولا مستحب وهو قول مالك في المدونة والثالث أن ذلك مستحب فعله في الفريضة والنافلة مكروه تركه فيها وهو قوله في رواية مطرف وابن الماجشون عنه فی الواضحة وقد قيل فی قوله فصل الربك وانحر أن ذلك وضع اليد اليمنی علی ذراعه اليسری في الصلاة تحت النحر وقد تأول قول مالك لم يختلف في أن ذلك من هئية الصلاة التي تستحسن فيها وانما كره ولم يأمر به استحسانا مخافة أ يعد ذلك من واجبات الصلاة والأظهر أنه اختلاف من القول صح من سماع أشهب وابن نافع من رسم الصلاة الاول من كتاب الصلاة الثاني ا
    ھ. وأما القول الرابع وهو المنع فی الفريضة والنافلة فقال فی التوضيح رواه العراقيون وقال البناني حكاه الباجي وتبعه ابن عرفة قال المسناوي وهو من الشذوذ وأشار اليها جميعا الشيخ زروق في شرح الرسالة بما نصه.

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 106 - 107 كتاب المسائل العشر المسمى بغية المقاصد وخلاصة المراصد - أبو عبد الله محمد بن علي بن السنوسي المالكي الخطابي (المتوفي 1276 ه) - مطبعة المعاهد بجوار قسم الجمالية بمصر
     
    Last edited: ‏اکتوبر 11، 2017
  10. ‏اکتوبر 11، 2017 #40
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محمد بن أحمد بن الحاج المسناوى المالكي الفاسي (المتوفي 1136 ه) نے اسی موضوع پر ایک کتاب تالیف فرمائیں؛ نصرة القبض والرد على من أنكر مشروعيته فى صلاة الفرض، اس میں فرماتے ہیں:

    المبحث الأول:
    في حكم القبض في صلاتي النفل والفرض
    اعلم أنّ قبض اليسری باليمنی، في قيام الصلاة وبدله، مُختلف فيه في مذهب مالك علی أربعة أقوال مذكورة في مشاهير كتب أئمة مذهبه، كمختصر ابن حاجب وابن عرفة وغيرهما.
    الاستحباب، والكراهة، والجواز، والمنع:
    فأما قول باستحبابه في الفرض والنفل وترجيحه فيها علی الإرسال والسّدل، فهو قول مالك في ﴿الواضحة﴾
    وسماع القرينين أیضاً، وختياره غير واحد م المحققين كالإمامين أبي الحسن اللخمي، والحافظ أبو عمر عبد البرّ، والقاضييں أبي بكر بن العربي، وأبي الوليد ابن رشد.
    وعدّه في ﴿مقدماته﴾ من فضائل الصلاة، وتبعه القاضي عياض في ﴿قواعده﴾.
    وكذا القرافي في كتاب ﴿الذخيرة﴾ صدر بأنه من الفضائل، ثم ذكر بعده ما فيه من الخلاف، ومن اصطلاحه فيه تقديم المشهور علی غيره نبّه عليه في خطبته، قال: وهو في الصّحاح عنهﷺ، ومثل ما للقرافي، لابن جزي في قوانيه، ونسبه عياض في ﴿الإكمال﴾ إلی الجمهور، وهو أيضاً في ﴿الذخيرة﴾ للقرافي و﴿الميزان﴾ للشعراني قول الأئمة الثلاثة الشافعء، وأبي حنيفة، وابن حنبل، وزاد ابن عبد البر في ﴿الاستذكار﴾ علی نسبته لمن ذكر نسبته لسفيان الثوري وإسحاق ب راهويه، وأبي ثور، وداود بن علي، وأبي جعفر الطبري، وغیرهم من أئمة المذاهب.
    قال القبّاب في ﴿شرح قواعد عياض﴾ قال اللخمي: ان القبض أحسن للحديث الثابت عن النبيّ ﷺ في البخاري ومسلم، ولأنها وقفة العبد الذليل لربه.
    وحديث البخاري المشار إليه هو ما رواه في باب وضع اليمنی علی اليسری في الصلاة؛ عن عبد الله بن مسلمة، عن مالك عن أبي حازم، عن سهل بن سعد قال: ﴿كَان النَّاسُ يُؤْمَرُونَ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدّ الُیُمْنَی عَلَ ذِرَاعِهِ اليُسْرُی فَي الصَّلَاةِ، قال أبو حازم: لا أعلَمه إلاَّ يَنْمي ذَلك للنبيّ ﷺ﴾. قال ح: قوله: ﴿كان الناس يؤمرون﴾ هذا حكمه الرفع، لأنه محمول علی أن الآمر بذلك هو النبيّ ﷺ كما سيأتي، وقوله: قال أبو حازم: لا أعلمه، أي سهل بن سعد إلأ يَنْمِي بفتح أوله وسكون النون وكسر الميم، وفي رواية إسماعيل بن أبي أويس، عن مالك ببناء يُنمي للمفعول، وعليها فالهاء في أعلمه ضمير شأن، والحديث علی هذا مرسَلّ، لأن أبا حازم لم يعين مَن نماه، قال أهل اللغة: نميت الحديث إلی غيري: رفعته وأسندته، قال ابن حجر: وفي اصطلاح أهل الحديث إذا قال الراوي: نميت فمراده يرفع ذلك إلی النبيّ ﷺ ولو لم يقيد.
    واعترض بعضهم هذا، وقال: إنه معلول، لأنه ظن أبي حازم، قال ابن حجر: ورُدَّ بأن أبا حازم لو لم يقل: لا أعلمه إلخ، لكان في حكم المرفوع، لأن قول الصحابي: كنا نؤمر كذا، يُصرف بظاهره إلی مَن له الأمر، وهو النبيﷺ، لأن الصحابي في مقام تعريف الشَّرع فيحمل علی مَن صدر عنه الشرع، ومثله قول عائشة: ﴿كُنَّا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ﴾، فإه محمول في ذلك بين أهل النقل والله أعلم، ثم قال ابن حجر: فإن قيل: لو كان مرفوعاً ما احتاج أبو حازم إلی قوله: لا أعلمه إلی آخر الحديث، فالجواب أنه أراد الانتقال إلی التصريح، فالأول لا يقال له: مرفوع، وإنما يقال له: حكم المرفوع. ا
    ھ.
    وحديث مسلم هو ما أخرجه في باب وضع اليد علی الأخری في الصلاة،عن وائل بن حجر أنه رأی النبيّ ﷺ يفعل ذلك، فاظر لفظه فيه. وقال الموَّاق: ابن عرفة وروی القرينان: لأن الناس كانو يُؤمرون به في الزمن الأول، وأن النبيّ ﷺ كان يفعله. ا
    ھ.
    ونقل الموَّاق أيضاً عن ابن العربي أنه قال: كره مالك وضع اليد علی الأخری في الصلاة، وقال: إنه ما سمع بشيء في قوله ﴿فَصَلِّ لِرَبِكَ وَاَنْحَرّ﴾ ابن العربي: قد سمعنا وروينا محاسن، والصحيح أن ذلك يُفعل في الفريضة. ا
    ھ.
    وذُكر في ﴿سنن المهتدين﴾، عن ابن عبد البر أنه قال في ﴿تمهيده﴾ لا وجه لكراهة وضع اليمنی علی اليسری في الصلاة، لأن الأشياء أصلها الإباحة، ولم ينه الله ولا رسوله عن ذلك، فلا معی لمن كره ذلك، هذا لم ترا إياحته عن رسول الله ﷺ فكيف وقد ﴿صحَّ عنه فعله ولحضّ عليه﴾. قال ابن حجر: قال ابن عبد البرّ: لم يأت عن النبيّ ﷺ فيه خلاف، وهو قول الجمهور من الصحابة والتابعين وهو الذي ذكره مالك في ﴿الموطأ﴾ ولم يهکِ ابن المنذت وغيره عن مالك غيره.
    وروي ابن القاسم عن مالك الإرسال، وعنه التفرقة الفريضة والنافلة. ا ه.
    ونص ما في ﴿موطأ﴾ مالك عن عبد الكريم بن أبي المخارق البصري أنه قال: من كلام النبوه: ﴿إذا لم تستح فاصنع ما شئت﴾، ووضع اليدين إحداهما علی الأخری في الصلاة، ﴿يضع اليمنی علی اليسری﴾ وتعجيل الفطر والإستيناء بالسحور. ا ه.
    وعبد الكريم هذا وإن كان ضعيفاً حتی قيل: إنه أضعف رجال ﴿الموطأ﴾ قد تُوبع علی هذا في ﴿الموطأ﴾ أيضاً، عن أبي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد الساعدي أنَّه قال: ﴿كان النّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ اليدَ اليُمنَی عَلَی ذِراعهِ اليُسرَی فِي الصَّلاَةِ﴾، قال أبو حاز: لا أعلمه إلا أنه ينمي ذلك. ا ه.
    وقد رواه البخاري كما تقدم بعض الكلام عليه، وقال ابن حجر أيضاً: ﴿قال العلماء: الحكمة في هذه الهيئة أنه يحصل بها اشتغال اليدين، وهو أمنع من العبث وأقرب إلی الخشوع، وكأن البخاري لا حظ ذلك، فعقبه بباب الخشوع، ومن اللطائف قول بعضهم: القلب موضع النية، والعاد أن مَن أحترز علی شيء جعل يديه عليه﴾ وقال عياض في ﴿الإكمال﴾: ﴿ذهب جمهور العلماء من أئمة الفتوی إلی أخذ الشمال باليمين في الصلاة، وأنه من سننها، وتمام خشوعها، وضبطها عن الحركة ولعبث، وهو أحد القولين لمالك في الفرض والنفل، ورأی طائفة إرسال اليدين في الصلاة، منهم الليث، وهو القول الآخر لمالك﴾، ثم قال: ﴿والآثار بفعل النبيّ ﷺ والحضّ عليه صحیحة، والاتفاق علی أنه ليس بواجب﴾، وعن علي رضی الله عنه في قوله تعالی: ﴿فَصَلِ لِرَبِكَ وَاَنْحَرْ﴾ أن معانه وضع اليمنی علی اليسری في الصلاة، یعني علی الصدر عند النحر، وقيل معنی ذلك غير هذا من نحر الأضحية وصلاة العيد، وقيل: نحر البُدن بمعنی، وصلاة الصبح بجَمع. ا
    ھ منه بلفظه.
    ويرجح القبض أيضاً نص الأئمة كما في الموَّاق علی أن ما اختُلف في مشروعيته هو أرفعُ درجه من المباح، قال عز الدين عبد السلام الشافعي في ﴿قواعده﴾: إن كان الخلاف في المشروعية، فالفعل أفضل، فما كره أحد الأئمة راه غير ففعله أفضل، كرفع اليدين في التكبيرات، قال: وإنما قلنا هذا لأن الشرع يحاط لفعل المندوبات كما يحاط لفعل الواجبات. ا
    ھ.
    وهذا مقتضی مذهب مالك أيضاً، فأنه نص في الموطأ علی أن النذر المباح لا يُوفی به، وذهب فيما كره واستحبه غيره إلی أنه يلزم الوفاء به ألا تراه قد كره هدی المعيب فيما المعييب ونذره، والإجارة علی الحج، مع قوله: يلزم نذره، وتنفيذ الوصية بالحج ترجيحاً لما اختلف في مشروعيته علی المباح، ومقتضی هذا كما قال الشيخ علي الأجهوري موافقة مذهب مالك لما ذكره عز الدين، كما أن مقتضاه أيضاً أن فعل القبض أفضل م تركه، لاندراجه في هذه القائده.
    وأما القول بكراهته فيهما، فقد ذهب إليه طائفة منهم: الليث بن سعد إمام أهل مصر، وهو القول الأخير لمالك، ومذهب ﴿المدونة﴾ في الفریضة، قال فيها: ولا يضع يمناه علی يسراه في فريضة، ذلك جائز فی النوافل لطول القيام، قال ﴿صاحب البيان﴾: ظاهره أن الكراهة في الفرض والنّفل، إلا أطال في النفل فيجوز (ح)، وذهب غيره إلی أن مذهبه الجواز في النافلة مطلقاً لجواز الاعتماد فيها من غیر ضرورة.
    وقال الليث: سدل اليدين في الصلاة أحبّ، إلا أن يطوَّل في القيام فلا بأس أن يضع اليمنی علی الیسری في الصلاة.
    واختُلف في توجيه الكراهة المروية عن مالك علی أقوال، والذي عليه المحققون كالقاضي عبد الوهاب، وغيره أنه إنما كره لمن بقصد الاعتماد، أي تخفيف القيام عن نفسه بذلك، إذا هو شبيه المستند، ولهذا قال مرَّة: ﴿لا بأس به في النوافل لطول الصلاة﴾، وذلك أنَّ النافلة يجوز فيها الجلوس من غير عذر، وكيف بالاعتماد، فأمَّا مَن فعله تَسنّناً وغیر اعتماد فلا يكرهه، فليس هو كما قال أبو الحسن علي الأجهوري تعليلاً بالمظنَّة، بل إذا انتقی الاعتماد عند القائل به لم يكره القبض بخالف التوجيهين الأخيرين الآتيين، فإنهما تعليل بالمظنَّة، وعلی هذا مشی عياض في ﴿قواعده﴾ حيث قيَّد استحباب القبض بما إذا لم يُرد الاعتماد، وقال بعضهم: إنما كره مخافة أن يُعتقد وجوبه، وإلا فهو مستحب، وقال آخرون: مخافة أن يُظهر من الخشوع ما لا يكون في الباطن، قال في ﴿التوضيح﴾: وتفرقته في ﴿المدونة﴾ بين الفريضة والنافلة يردّ الذي قبله، وزاد الأجهوري في تضعيف الثاني نقلاً عن بعضهم أنه يؤدي إلی كراهة كر المندوبات.
    وفي ﴿رحلة العیَّاشي﴾ أبي سالم بن عبد الله بن أبي بكر بن عياش ما نصه: ﴿وأما القبض، فقد عُلم ما فيه من الخلاف، وقد به أئمة محققون من أهل المذهب، کاللخمي وغيره، خصوصاً إن عُلل بخشية اعتقاده الوجوب فإن ما هذا سبيله من المكروهات لا يعتدّ به المحققون إذا صحَّت به الأحاديث، سيما مع انتفاء العلة كهذه المسألة، فلو طُرد ذلك أَدَّی إلی ترك السُّنن كلها أو غالبها المداوم عليها، لأن المداومة عليها ذريعة إلی ذلك، وإنما قال الإمام رضی الله عنه بذلك في مسائل قليلة لعارض في الوقت اقتضی ذلك، كقول بعض العوام في آخر ستّ من شوال العيد لاثاني، فرأی الإمام قطع هذه المفسدة، وأم من عودها، فلا معنی لترك ما جاءت به الأحاديث الصحيحة إلا محض التقليد الذي لا رُبدة له إذا مُخض، ويسمج في السمع إطلاق الكراهة والمنع فيما صحَّ عنه ﷺ أنه فعله أو أمر به ورغَّب فيه إلاَّ لضرورة أسمج من ذلك، قال: وقد رأيتُ كثيراً من المالكية یقبضون أيديهم في الصلاة، وذلك لخفَّة الأمر فيه، كما تقدم، ولكون السدم في البالد المشرقية كلها شعار الروافض ولا يفعله من الأئمة إلأ المالكية، والعوام يعتقدون أنَّه لا يفعله إلاَّ الرافضة، فمن رأوه سادلاً يديه في الصلاة قالوا: إنَّه رافضي. ا ه.
    ومن الشيوخ من حمل ما روي عن مالك فيه من قوله: ﴿لا أعرفه﴾، علی أنه لا يعرفه من لوازم الصلاة وواجبتها التی لا بدَّ منها، ونحو هذا تأويل ابن رزد قول مالك في ﴿المدونة﴾: لا أعرف قول الناس في الركوع: سبحان ربي العظيم، وفي السجود: سبحان ربي الأعلی، وأنكره، قال ابن رشد: أنكر وجوبه وتعيّنه، لا أن تركه أحسن من فعله، لأنه من السُّنة التي يستحب العمل بها عند الجميع، قال الشيخ سالم السنهوري: ونحو هذا التأويل لابن بشير، واب العربي في كل إنكار صدر عن مالك أو غیره من الأمة لما هو من جنس المشروع كأذان الفذّ، وقراءة يٓس عند رأس المیّت، وغسل اليد قبل الطعام، والتصدّق بزِنة شعر المولود، وقل المضحي: اللَّهم منك وإليك، والقنوت في وتر النصف الأخير رمضان، وما يتكلم به الناس عند محاذاة الركن من قولهم: اللَّهم أيماناً بك، ورفع اليدين عند الإحرام. ا ه.
    وانظر الموَّاق، فإن كلامه يقتضی عدم اختصاص ابن البشير وابن العربي بذلك التأويل، فقد تبیَّن أنه لا كراهة في القبض علی مذهب ﴿المدونة﴾ لمن فعله تسنّاً ولغير اعتماد بنا علی أصح التأويلات عند النَّقَّاد.
    وأما القول بإباحته في الفرخ والنَّفل التخيير بينه وبيين الإرسال والسدل، فهو قال مالك في سماع القرينیں من كتاب الصلاة الأول، وقل أشهب في رسم من شكّ في طوافه من سماع ابن القاسم من ﴿جامع العُتبّية﴾، وذهب إلیه طائفة منهم الأوزاوي إمام أهل الشام، وأما القول بمنعه فيها، فهو إحدی روايتي العراقيين من أصحبانا، وقد تقدمت روایتهم الأخری، وهذا القول وإن حكاه الباجی، ومَن تبعه كابن عرفة من الشذوذ بمکان، كما لا يخفي علی مَن وقف علی كلام أئمة هذا الشأن، هذا إن حُمل المنع فيه علی ما يتبادر منه من التحريم كما هو مقتضي حكايته مقابلاً للقول بالكراهة، وكلام الأبي في ﴿إكمال الإكمال﴾، والقاضي أبي العباس القلشاني في ﴿شرح مختصر ابن حاجب﴾ کالصريح في ذلك، أما إن حُمل علی الكراهة، وهو الظاهر من جهة المعني، فهو راجع ألی القول الثاني فلا إشكال (ح) والله أعلم، وإذا تقرر الخلاف في أصل المسألة كما تری، وليس أحد من الناس حجة علی صاحبه وجب الرجوع إلی كتاب وسنّة رسوله عليه السلام كما قال تعالی: ﴿فَإِن ﴾، والرد إلی الله هو كتابه ولم نجد فيه آية ترفع الإشكال، ووجدنا سنّة رسول الله ﷺ قد حكمت بمطلوبية القبض في الصلاة بشهادة ما في ﴿الموطأ﴾ و﴿الصحيحین﴾ من الأھاديث السالمة من الطعن فالوجب الانتهاء اليها والقول بمقتضاها، قال الله تعالی: =﴿وما كان لمومن﴾، جعلنا الله من الذین يستمعون القول أحسنة، وممن تمسك بهدي المصطفی عليه السلام وسننه، تتمة يذكر فيها بداية المجتهد.

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 31 - 44 نصرة القبض والرد على من أنكر مشروعيته فى صلاة الفرض - محمد بن أحمد بن الحاج المسناوى المالكي الفاسي (المتوفي 1136 ه) - دار ابن حزم، بیروت
    ---
    محمد المكي بن مصطفى بن محمد بن عزوز الحسني الإدريسي المالكي التونسي (المتوفي 1334 ه)
    نے ایک کتاب هيئة الناسك في أن القبض في الصلاة هو مذهب الإمام مالك؛ تالیف فرمائی، اور اس کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
    أعلم أن وضع (اليد) اليمين علی اليسری عند الصدر أو تحته في قيام الصلاة سنة قائمة محكمة باتفاق المذاهب الأربعة وغیرهم وإمامنا مالك من أولهم في ذلك نشراً وعملاً، وهو أسبق الأئمة إِليها؛ لأنه نشأ في روضة الآثار النبوية، وفيها تربی منذ عرف اليمين (من) الشمال. وهذا مختص بمالك لا مشارك له في ذلك؛ ولهذا ما شيء (في الشريعة) مؤسس علی الحديث النبوي والآثار الصحيحة إِلا ومالك السابق إِليه والمؤثر له علی غيره من السبل.
    ومن جملة السنن سنة وضع اليدين لم يفارقها مالك إِلی أن فارق الدنيا كما سيأتي بيانه.
    ثم نشأ الخلاف في المالكية بعد القرون الأولی علی ثلاثة أقوال: الاستحباب والكراهة والجواز كما حصله ابن رشد فی البیان نقله عن الثالبي في جامع الأمهات مفصلاً وسياتي بیان رجوع القول بالكراهة والجواز إِلی الاستحباب والسنية؛ ولو علی قول ابن القاسم.
    ففي الحقيقة ليس فيه إِلا السنية – ولا كراهة – كما ستقف علی إِیضاحه إِن شاء الله.
    وفي بَلاد الغرب قد يسمی القبض في الصلاة (تكفيتاً) وبه عبر بعض المؤلفين من علماء الأندل قديماً.

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 54 - 56 هيئة الناسك في أن القبض في الصلاة هو مذهب الإمام مالك - محمد المكي بن مصطفى بن محمد بن عزوز الحسني الإدريسي المالكي التونسي (المتوفي 1334 ه) - دار طيبة للنشر والتوزيع، الرياض
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں