1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا احناف کی نماز عند اللہ مقبول نہیں؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 04، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 11، 2017 #41
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس کا ترجمہ اگر الحجة للغت العربية والاردوية والفارسية @رحمانی صاحب کر دیں تو بہت اچھا رہے گا!
     
    Last edited: ‏اکتوبر 11، 2017
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 11، 2017 #42
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    نہیں نہ کوئی اور مجھے یہ اصول پڑھاتا ہے اور نہ میں تراشتا ہوں۔ یہ اصول اس وقت ساری دنیا کے علماء کرام جانتے ہیں اور ان کے مطابق مسلک بیان کرتے ہیں۔ دو مثالیں دیکھیں:

    http://www.alifta.net/Fatawa/Fatawa...me=ar&View=Page&PageID=2112&PageNo=1&BookID=3
    http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=55837

    ایک میں اسے مدونہ سے نقل کیا گیا ہے اور دوسرے میں مقدمات ابن رشد سے۔ جب ایک اصول ساری دنیا میں معروف ہے اور اسے علماء کرام سمجھتے اور مانتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں تو میرے پیارے بھائی! صرف اپنا مسلک بچانے کے لیے اسے توڑنے اور مروڑنے کا کیا فائدہ ہے؟
    http://www.awqaf.ae/Fatwa.aspx?SectionID=9&RefID=14329
    اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ابن القاسم کی روایت مقدم ہوتی ہے۔
     
  3. ‏اکتوبر 11، 2017 #43
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہ اصول کہاں ہے؟

    (الجزء رقم : 6، الصفحة رقم: 365)
    السؤال الثاني من الفتوى رقم ( 1257 )
    س2: بعض العلماء يسدل في الصلاة، وبعضهم يقبض، وبعض من يقبض لا يصلي وراء من يسدل، وبعض من يسدل لا يصلي وراء من يقبض فأفتونا بذلك؟
    ج2 : ثبت أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يضع يده اليمنى على يده اليسرى في الصلاة فريضة أو نافلة ، وبهذا قال جمهور الفقهاء وهو الصواب، وكره مالك ذلك في الفريضة للاعتماد، وأجازه في النافلة، وذكر أبو الوليد محمد بن أحمد بن رشد في كتابه (المقدمات): أن وضع اليدين إحداهما على الأخرى في الصلاة من مستحبات الصلاة، وقال: ومعنى كراهية مالك له أن يعد من واجبات الصلاة ا.هـ. ومع ذلك فاقتداء من يسدل بمن يقبض، واقتداء من يقبض بمن يسدل، كلاهما صحيح باتفاق العلماء.
    وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

    یہاں تو یہ لکھا ہوا ہے!
    رہی بات مسلک بچانے کے لئے تڑوڑنے مڑوڑنے کی، تو میرے بھائی! ہمارے مسلك کو کسی امتی کے قول سے کوئی حرف نہیں آنے والا! کیوں کہ ہمارا مسلک کی بنیاد کسی امتی کا قول نہیں، بلکہ وحی الہٰی ہے!
    بات یہ ہے کہ مالک سے المدونۃ کے علاوہ بھی روایت ہے، جسے مالکیہ نے خود بیان کیا ہے!​
    یہ بعض کا مؤقف ہے، میں نے اس کی تفصیل بیان کی ہے، کتابوں کے لنک بھی دیئے ہیں، ان کا مطالعہ کریں!
    ویسے بھی ابن القاسم کی روایت کی توضیح بھی بیان کی ہے، انہیں مالکی فقہاء نے!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 11، 2017 #44
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اس میں جہاں جہاں یہ لکھا ہو کہ یہ امام مالکؒ کی روایت نہیں ہے یا یہ روایت ضعیف ہے وہ جگہیں ہائیلائٹ کر دیں۔
    مالکیہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ امام مالکؒ سے اور روایات بھی ہیں لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب سے مضبوط روایت ہے۔ ہاں اس کا معنی بتانے میں بعض نے یہ کہا ہے کہ اس کا فلاں معنی ہونا چاہیے۔ لیکن امام مالکؒ کے شاگردوں نے جو معنی بیان کیا ہے وہ امام مالکؒ کی مراد سمجھی جائے گی الا یہ کہ کوئی صریح دلیل موجود ہو۔
    رہ گئی مالکیہ کے یہاں فتوے کی بات (جس کے لیے ان حضرات نے بحث کی ہے) وہ ممکن ہے کہ امام مالکؒ کے قول یا روایت مشہورہ پر نہ ہو۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ احناف میں بے شمار مسائل میں فتوی امام ابو حنیفہؒ کے قول پر نہیں ہے، شوافع میں کئی مسائل میں امام شافعیؒ کے قول پر نہیں ہے اور حنابلہ میں کئی مسائل میں فتوی امام احمد کی ضعیف روایات پر ہے۔
    لہذا مالکیہ کا موجودہ فتوی الگ بات ہے اور امام مالکؒ کا مسلک الگ چیز ہے۔
    یہ جو حوالے آپ نے دیے ہیں میں مدونہ سے لے کر دسوقی، صاوی اور منح الجلیل تک کئی حوالے اس کے خلاف دے سکتا ہوں اور یہ سب نہ صرف مالکی ہیں بلکہ مالکیہ کے بڑے بڑے فقہاء ہیں جن کے اقوال پر مالکیہ میں فتاوی دیے جاتے ہیں (خاص طور پر آپ کے مذکور حوالہ جات کے مصنفین کے مقابلے میں)۔
     
  5. ‏اکتوبر 11، 2017 #45
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    یہاں لکھی ہوئی بات امام مالکؒ کی بات میں تاویل ہے جسے خود مالکیہ نے تاویل کہا ہے (میں نے نہیں)۔ ضوء الشموع دیکھ لیجیے۔
     
  6. ‏اکتوبر 11، 2017 #46
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بات بنتی نہیں تو بناتے کیوں ہو!
    ہمارا مدعا یہ ہے!
    ہم نے یہ بات بیان کر دی ہے کہ امام مالک کا مؤقف موطا امام مالک میں از خود درج کردہ حدیث کے خلاف نہیں! فتدبر!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 11، 2017 #47
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ہاں تو!
    تاویل کا معنی شرح و تفسیر ہے، اور یہ امام مالک کی دیگر روایت کے پیش نظر کی گئی ہے! اور اس طرح امام مالک کا اپنی موطا میں درج کردہ حدیث اور اور اس پر باب قائم کرکے اپنے مؤقف کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے!
    چلیں ایک کام اور کریں!
    امام مالک کے کسی شاگرد سے امام مالک کی یہ روایت دکھلا دیں کہ امام مالک نے اسے یہ روایت پڑھائی ہے، اور کہا ہو کہ یہ منسوخ ہے، یا ضعیف ہے، یا اس پر عمل نہیں کیا جائے گا!
     
  8. ‏اکتوبر 11، 2017 #48
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    میں نے آپ کو اس کا ثبوت بالسند دیا تھا:
    اس سند کی تفصیل بھی سن لیجیے!
    سحنون مالكيؒ:
    عَبْد السلام بْن سَعِيد بْن حبيب، شيخ المغرب، أَبُو سَعِيد التّنوخيّ الحمصيّ، ثُمَّ القيروانيّ الفقيه المالكيّ سَحْنُون، [الوفاة: 231 - 240 ه]
    قاضي القيروان، ومصنف المدوَّنة.
    رحل إلى مصر وقرأ عَلَى ابن وَهْب، وابن القاسم، وأشهب. وبرعَ فِي مذهب مالك. وعلى قوله المعوَّل بالمغرب.
    انتهت إِلَيْهِ رئاسة العِلم بالمغرب، وتفقّه بِهِ خلق كثير. وقد تفقّه أولا على ابن غانم، غيره بإفريقية، ورحلَ فِي العِلم سنة ثمانٍ وثمانين ومائة. وسمع بِمكة من سُفْيَان بْن عُيَيْنَة، ووَكيِع، والوليد بْن مُسْلِم. وكان موصوفًا بالدّيانة والورع، مشهورًا بالسّخاء والكَرَم. فعن أشهب قَالَ: ما قَدِمَ علينا مثلُ سَحْنُون.
    وعن يُونس بْن عَبْد الأعلى قَالَ: سَحْنُون سيّد أهل المغرب.
    وَرَوَى عَنْهُ: جماعة، منهم يحيى بْن عَمْرو، وعيسى بْن مسكين، وحمديس، وابن المغيث، وابن الحداد.
    وعن ابن عجلان الأندلسي قال: ما بُورك لأحدٍ بعد النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي أصحابه ما بُورِكَ لسَحْنُونَ في أصحابه، فإنهم كانوا في كل بلد أئمة. [ص:868]
    وعن سحنون قال: من لم يعمل بعلمه لم ينفعه علمه بل يضره.
    وقال: إذا أتى الرجلُ مجلس القاضي ثلاثة أيّام متوالية بلا حاجة ينبغي أن لا تُقْبَلُ شهادته.
    وسُئِلَ سَحْنُون: أَيَسَعُ العالِم أن يَقُولُ: لا أدري فيما يدري؟ فقال: أمّا ما فِيهِ كتاب أو سنة بائنة فلا. وأمّا ما كَانَ من هذا الرأي فإنّه يَسَعُهُ ذَلِكَ؛ لأنه لا يدري أَمُصيبٌ هُوَ أَمْ مخطئ.
    قال أحمد بن خالد: كان محمد بن وضاح لا يفضل أحدا ممن لقي على سُحْنُون في الفقه، وتصنيف المسائل.
    وعن سحنون قال: أَكْلُ بالمسكنة خيرٌ من أكْلٍ بالعِلم.
    محبّ الدنيا أعمى لم ينوره العلم.
    ما أقبحَ بالعالِم أن يأتي الأمراء فيُقال هو عند الأمير. والله ما دخلت قط على السلطان إلا وإذا خرجت حاسبتُ نفسي، فوجدتُ عليها الدرك. وأنتم ترون مخالفتي لهواه، وما ألقاه به من الغلظة - والله ما أخذتُ لَهم دِرْهَمًا، ولا لبستُ لَهم ثوبا.
    وقيل إن الرواة عن سحنون بلغوا تسعمائة إنسان.
    وكان مولده سنة ستين ومائة.
    وكان يقول: قبح الله الفقر. أدركنا مالكا، وقرأنا عَلَى ابن القاسم. وأمّا المدوّنة فأصلها أسئلة، سألَها أَسَد بْن الفُرات لابن القاسم. فلمّا رَحَل بِها سَحْنُون عرضها عَلَى ابن القاسم، وأصلح فيها كثيرًا، ثُمَّ رتّبها سَحْنُون وبَوَّبَها، واحتجّ لكثير من مسائلها بالآثار.
    وتوفي في رجب سنة أربعين، وله ثمانون سنة.
    (تاریخ الاسلام للذہبی)

    ابن القاسمؒ:
    عَبْد الرحمن بْن القاسم بْن خَالِد بْن جُنادة، الإمام أبو عَبْد الله، العُتَقيُّ مولاهم، الْمَصْرِيّ الفقيه. [الوفاة: 191 - 200 ه]
    أحد الأعلام، وأكبر أصحاب مالك القائمين بمذهبه، سَمِعَ منه، ومن نافع بْن أَبِي نُعَيْم، وعبد الرحمن بْن شُرَيح، وبكر بْن مُضَر، وجماعة.
    وَعَنْهُ: أصْبَغ بْن الفَرَج، وأبو الطّاهر بْن السّرْح، والحارث بْن مِسْكين، ومحمد بْن عَبْد اللَّه بْن عَبْد الحَكَم، وعيسى بْن مَثْرُود، وآخرون.
    وقد أنفق أموالا جمَّه في طلب العِلْم.
    قَالَ النَّسَائيّ: ثقة مأمون، أحد الفقهاء.
    وعن مالك أنّه ذُكر عنده ابن القاسم فقال: عافاة الله، مثله كمثل جراب مملوءٍ مِسكًا.
    وقيل: إنّ مالكًا سُئل عَنِ ابن القاسم وابن وهب، فقال: ابن وهب رجل عالم، وابن القاسم فقيه.
    (تاریخ الاسلام للذہبی)
     
  9. ‏اکتوبر 11، 2017 #49
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اسے کہتے ہیں تاویل در تاویل۔۔۔۔۔!!
    مالکیہ کو آپ کو اپنا سربراہ بنا لینا چاہیے فتوے کا۔ سارے فتوے اسی اسٹائل پر دیجیے گا یہی دلائل دے کر۔ سب مالکی علماء حیران (اور پریشان بھی) رہ جائیں گے۔
    ویسے:
    مالکی فقہ کے حوالے سے یہ اصول کس نے بیان کیا ہے؟؟؟
     
  10. ‏اکتوبر 11، 2017 #50
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میں نے اس کی سند پر نہ کوئی کلام کیا ہے، اور نہ اس کی حاجت ہے!
    لہٰذا اس بحث میں میں نہیں جاتا، کہ سخنون کا روایت میں کیا مقام ہے!
    اس روایت کو درست تسلیم کرتے ہوئے امام مالک سے ہی دوسری روایت پر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا!
    پوری بحث کو دیکھ لیں!
    امام مالک سے اس روایت کے علاوہ بھی راویت بیان کی گئی ہے! جس کا شاید آپ کو علم نہ تھا، یا شاید دانستہ یا غیر دانستہ نظر انداز فرما رہے ہیں!
    میاں جی! یہ تاویل اہل الرائے کی تاویل نہیں ہے کہ متن کا انکار لازم آئے اور تاویل تحریف و انکار ٹھہرے!
    یہ تاویلات اہل السنۃ وا اہل الاثر ہے! جس میں متن کا انکار و تحریف نہیں ، بلکہ تفسیر و شرح ہوتی ہے!
    کون سا اصول؟
    میں نے تو کسی اصول و قاعدہ کا یہاں ذکر بھی نہیں کیا!
    بس ایک بات پوچھی ہے!
    آپ نے اس سے اصول کیا اخذ کیا ہے؟
    میرے کلام سے آپ کا ماخوذ اصول ہی بیان کر دیں! کہ آپ نے یہاں سے کون سا اصول اخذ کر لیا؟

    لیکن آپ نے بتایا نہیں!
    یہ اصول کہاں ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں