1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا احناف کی نماز عند اللہ مقبول نہیں؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 04، 2017۔

  1. ‏نومبر 08، 2017 #61
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    یہ "پورا" سیاق نہیں ہے بھائی جان!
    میں نے مکمل بات یہ کی تھی:
    اس اقتباس میں نوے فیصد بات امام مالکؒ کے مسلک کے بارے میں ہے اور صرف دس فیصد ابن القطان کے حوالے سے ہے۔
    آپ نے اس مکمل بات پر ٹکڑوں میں جواب دیا۔ اس میں آخری ٹکڑے میں آپ نے ابن القطانؒ والی اس بات کا اقتباس لیا اور کہا:
    پھر آپ نے آگے کہا:
    یہاں آپ نے اصول کے لیے "تراشتے ہیں" استعمال کیا جس سے یہ وہم پیدا ہوا کہ آپ کی مراد "اصول" سے "جمع" ہے ورنہ سوال یوں ہوتا: یہ اصول آپ نے خود تراشا ہے؟
    چنانچہ میں نے اوپر پوسٹ میں دیکھا تو مجھے اصولی بات ایک ہی نظر آئی جو کہ امام مالکؒ کے مسلک اور مالکیہ کے بیان سے متعلق تھی۔ مجھے یہ گمان بھی نہیں گزرا کہ یہ ابن القطان والی عام فہم بات جو ایک عام آدمی بھی جانتا ہے، کو آپ کوئی اصول سمجھیں گے اور اس پر اس قدر حیرت کا اظہار کریں گے۔ میں تو آپ کو عالم سمجھتا تھا۔
    لہذا میں نے آپ سے حسن ظن رکھتے ہوئے اسی اصولی بات سے متعلق آپ کو لنک دیے:
    ان لنکوں میں مالکیہ سے امام مالکؒ کے مسلک کو نقل کیا گیا ہے اور میں نے اس کی جانب اشارہ بھی کیا ہے جسے ہائیلائٹ کر دیا ہے۔
    اشارہ اس لیے کیا کہ "ان العصا قرعت لذی الحلم" اور میرا یہ حسن ظن تھا کہ آپ "ذو الحلم" ہیں۔
    مجھے کیا علم تھا کہ آپ سے یہ حسن ظن نہیں رکھے جا سکتے۔ آپ نے آگے سے سوال یہ داغا:
    اور یہ سوال آپ نے ابن القطان والی بات پر کیا۔ جس پر میں نے حیرت سے یہ پوچھا:
    تو میرے پیارے بھائی! جس طرح ایک انجینیر کو ڈاکٹروں پر ڈاکٹری میں فیصلہ دینے کے لیے اور ایک ڈاکٹر کو ٹیکنیشنوں پر ان کے میدان میں فیصلہ دینے کے لیے اختیار نہیں دیا جا سکتا اسی طرح ایک غير مالکی محدث کو مالکیہ پر مالکی فقہ میں حکم لگانے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک بدیہی بات ہے اور میں نے اسی لیے یہ بات کی تھی کہ شاید آپ بدیہیات سے تو ناواقف نہ ہوں گے۔ اصولوں کو نظر و فکر سے ثابت کرنا پڑتا ہے اور بدیہیات کو ہر خاص و عام جانتا ہے۔
    اس پر آپ فرماتے ہیں:
    اب آپ ایک بدیہی بات کو نظر و فکر اور حوالہ جات سے ثابت ہونے والا اصول سمجھ بیٹھے ہیں تو اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں۔

    اگلے مراسلوں میں تو میں نے اس کے سلسلے میں حیرت کا اظہار بھی کیا ہے کہ میں نے اسے اصول کب کہا ہے۔ میں نے تو جس چیز کو اصول کہا ہے اس کی وضاحت کر دی ہے۔ اب آپ میرے حسن ظن کے مطابق نہیں نکلے تو اس میں تو یقیناً میری غلطی ہے کہ میں نے آپ سے ایسا حسن ظن رکھا ہی کیوں؟

    جی اب چھوڑ دیتے ہیں۔ ذرا فریق مخالف کا بیان سن لینا چاہیے بحث کو "چھوڑنے" سے پہلے تاکہ دعوی و جواب دعوی دونوں واضح ہو جائیں۔

    ویسے کمال کی آسان ترکیب بتائی ہے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اس "آسان ترکیب" کو خود آپ حضرات کہاں کہاں جاری فرماتے ہیں اور کہاں کہاں "مشکل ترکیب" کی جانب جاتے ہیں؟

    اگر میں آپ کی یہ "آسان ترکیب" مان بھی لوں تب بھی آپ نے ذکر کیا ہے "علم الحدیث" کا، اور ہم بات کر رہے ہیں:
    لہذا انتہائی معذرت کے ساتھ، یہ ترکیب یہاں فیل ہے۔

    آگے چلتے ہیں:
    ایک بات تو یہ کہ یہ بات اس مقام پر (یعنی کتاب میں) حدیث کے بارے میں چل رہی ہے فقہ کے بارے میں نہیں۔اس حدیث میں بھی انہیں علامہ ذہبیؒ نے "لکنہ یغلط" کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔

    اگر آپ ابن حجرؒ کے اگلے تین صفحات بھی نقل فرما دیتے تو بہت اچھا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ شاملہ میں لسان المیزان کا جو نسخہ ہے اس میں اگلی تفصیل موجود نہیں ہے جبکہ جس نسخے کا آپ نے حوالہ دیا ہے اس میں آگے تین صفحات موجود ہیں۔ میں تو وہاں سے تین صفحات نقل نہیں کر سکتا۔ آپ خود ہی فرما دیں تو اچھا ہے۔
    ان تین صفحات سے کم از کم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ابن حجرؒ نے علامہ ذہبیؒ کے قول پر "مطلقاً علق" نہیں کیا بلکہ اور بھی کئی اقوال ذکر کیے ہیں۔ اگر حافظؒ کا صرف نقل کرنا "علق" کہلاتا ہے تو پھر یہ "علق" دوسرے اقوال میں بھی ہے۔ حافظؒ نے آگے قاضي عياض اور علامہ باجی مالکیؒ جیسے بڑے مالکیؒ علماء کے حوالے سے ان پر اصبغ اور دوسرے مالکیہ کی روایات میں جرح نقل کی ہے۔

    علامہ ذہبیؒ نے یہاں فقط ابن حزمؒ کی جرح کو رد کیا ہے دوسروں کی نہیں۔ جبکہ جرح میں دوسروں کا بھی ذکر "وغیرہ" سے کیا ہے۔

    یہاں حافظ ابن حجرؒ نے ان کے اسد بن موسی سے کتابیں لینے والے واقعے کو نقل کر کے اس میں ان کے دفاع میں اقوال نقل کیے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہاں ہے:
    یہ صراحتاً ان پر اور ان کی کتاب "الواضحہ" پر کذب کی جرح ہے۔
    رہ گئی بات ان حضرات کی جنہوں نے ان کا دفاع کیا ہے تو عرض یہ ہے کہ جرح والی روایت اس بارے میں واضح ہے:
    یہاں ابن حبیب نے صراحت سے کہا ہے کہ "مجھے انہوں نے (یعنی اسد بن موسی) نے اجازت دی ہے" جبکہ اسد بن موسی نے اس کا انکار کیا ہے کہ "میں تو قراءت نہیں کرنے دیتا، اجازت کیسے دے سکتا ہوں؟" پھر آگے مزید صراحت سے کہا ہے: "اس نے مجھ سے میری کتابیں لی ہیں اور ان سے لکھتا ہے۔ اس کی ذمے داری مجھ پر نہیں ہے۔"
    یہ اصل کذب ہے کہ اسد نے اجازت نہیں دی اور انہوں نے اسد کی جانب اجازت کی نسبت کی۔ باقی رہ گئی مذہب کی روایت کی بات تو وہ درست ہے۔
    یہاں آپ دیکھیں کہ حافظ کے پاس موجود عبارت نامکمل ہے:
    اس نامکمل عبارت کے آگے احمد بن خالد کا قول ہے۔ جبکہ ذہبیؒ نے یہ عبارت مکمل نقل کی ہے:
    یہ آخری جملہ "لیس ذا علي" احمد بن خالد کے اجازت والے قول کو رد کر رہا ہے کہ اسد بن موسی اس کو اجازت سمجھتے ہی نہیں تھے۔ جب دینے والا اجازت نہیں سمجھتا تو پھر غیر کے قول کا کیا اعتبار؟ ہاں اگر احمد بن خالد نے یہاں یہ مراد لیا ہو کہ فقہاء مالکیہ کے نزدیک کتاب دینا اجازت دینے کے برابر ہوتا ہے تو وہ الگ بات ہے۔
    یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ احمد بن خالد کا یہ قول اگر ثابت ہے تو بھی یہ فقط اس اجازت والے مسئلے کے بارے میں ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ انہوں نے ابن حبیب پر نقل مذہب کے بارے میں جرح کی ہے:
    احمد بن خالد نے ان پر جھوٹ کی جرح بھی کی ہے:
    ان میں ابن وضاح کے بارے میں تو حافظؒ نے وہب بن میسرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ ان کے بارے میں نہ خیر کی بات کرتے تھے اور نہ شر کی۔ یعنی ابن وضاح کے نزدیک ان پر توقف تھا۔ البتہ بقی بن مخلد کے سلسلے میں ممکن ہے حافظؒ کی بات درست ہو لیکن یہ صریح جرحوں کے خلاف ہے۔

    ٹھیک ہے۔ آگے دیکھتے ہیں۔۔۔

    جاری ہے۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں