1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

کیا اس پر زکواۃ دی جاسکتی ہے؟

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏اکتوبر 04، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 04، 2016 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,928
    موصول شکریہ جات:
    5,770
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    سوال کا پہلا حصہ:::شیوخ حضرات سے یہ سوال ہے کہ ایک شخص نے چند لاکھ روپے بینک میں رکھے ان پر سال گزرنے کے بعد ان کی زکواۃ کسی اور حلال ذرائع سے ادا کرتارہا۔لیکن اس دوران ایک مولانا صاحب نے کہا کہ اگر آپ بینک میں رکھے روپوں کی زکواۃ ہرسال رقم نکلوا کر ادا کرتے رہیں گے تو اس طرح تو آپ کی یہ اصل رقم ساری ختم ہوجائے گی۔اس نے ایک دو مثالیں دیں۔جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ایسی رقم جس سے آمدنی آتی ہو یعنی کرایہ پر دی گئی پراپرٹی۔یا دکان وغیرہ۔ا ن پر زکواۃ ہوگی کیونکہ اس سے حلال آ مدنی آرہی ہے۔
    2۔زیورات پر اس لیے کہ زیورات کی اصل رقم بڑھتی رہتی ہے اور یہ نقصان دہ چیز نہیں۔لہذا ان پر بھی زکواۃ ہوگی۔
    نوٹ۔اس کے علاوہ اس مولانا صاحب نے کوئی خاص دلیل نہیں دی جس سے یہ ثابت ہو کہ بینک میں رکھی جانے والی ر قم پر سال گزرنے کے بعد زکواۃ نہیں۔
    سوال کا دوسرا حصہ:::جس شخص نے بینک میں رقم رکھی ہوئی تھی وہ ہرسال گزرنے کے بعد ان رقوم کی زکواۃ ادا کر تا رہا ہے۔لیکن ابھی ایک سال کی زکواۃ اس کےذمے تھی کہ اچانک کسی مجبوری سے بینک والی رقم نکلوا کر استعمال کرلی اور اب اس کی حالت یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی رقم نہیں بچی بلکہ تھوڑا بہت رقم کا مقروض بھی ہے۔تو کیا اس صورت میں اسے وہ جو رقم ایک سال کی زکواۃ ادا کرنے والی رہ گئی تھی وہ ادا کرے گا۔یا اس کے مفلسی کے حالات کی وجہ سے اب اس پر یہ زکواۃ معاف ہوگی۔
    پلیز جلد جواب دیں۔جزاک اللہ خیرا
    @کفایت اللہ
    @اسحاق سلفی
    @انس
    @خضر حیات
     
  2. ‏اکتوبر 04، 2016 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,583
    موصول شکریہ جات:
    5,208
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    1۔ سوال کا پہلا حصہ:::شیوخ حضرات سے یہ سوال ہے کہ ایک شخص نے چند لاکھ روپے بینک میں رکھے ان پر سال گزرنے کے بعد ان کی زکواۃ کسی اور حلال ذرائع سے ادا کرتارہا۔
    ج: زکوٰۃ ادا ہوجائے گی خواہ کسی بھی پیسے سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ بنک سے پیسے نکال کر زکوٰۃ ادا کرنا لازمی نہیں

    2۔لیکن اس دوران ایک مولانا صاحب نے کہا کہ اگر آپ بینک میں رکھے روپوں کی زکواۃ ہرسال رقم نکلوا کر ادا کرتے رہیں گے تو اس طرح تو آپ کی یہ اصل رقم ساری ختم ہوجائے گی۔
    ج: ایسا نہیں ہے۔ اگر بنک والی رقم سے بھی زکوٰۃ ادا کی جاتی رہے تب بھی ساری رقم کبھی بھی ختم نہیں ہوگی۔ کیونکہ بنک کی رقم جونہی ”نصاب“ سے کم ہوجائے گی، زکوٰۃ نہیں دینی پڑے گی۔
    ۔
    3۔ایسی رقم جس سے آمدنی آتی ہو یعنی کرایہ پر دی گئی پراپرٹی۔یا دکان وغیرہ۔ا ن پر زکواۃ ہوگی کیونکہ اس سے حلال آ مدنی آرہی ہے۔
    ج: بہت سے علماء کا کہنا ہے کہ جو پراپرٹی کرایہ پر دی ہو، اس پراپرٹی کی مالیت پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ اس سے حاصل ہونے والا کرایہ کی سالانہ بچت نصاب تک پہنج جائے تو اس بچت پر زکوٰۃ دینا ہوگا۔ مکان کی طرح پلاٹ پر بھی کوئی زکوٰۃ نہیں ہے، خواہ کئی مکانات اور پلاٹ کیوں نہ ہوں۔ البتہ اگر کسی کا کاروبار ہی مکانات یا پلاٹوں کی خرید و فروخت ہو تو اس کے ایسے تمام ماکانات اور پلاٹس ”مال تجارت“ شمار ہوں گے۔ ایسی صورت میں جملہ مکانات و پلاٹ کی مالیت پر سال بہ سال زکوٰۃ دینا ہوگا۔

    4۔ زیورات پر اس لیے کہ زیورات کی اصل رقم بڑھتی رہتی ہے اور یہ نقصان دہ چیز نہیں۔لہذا ان پر بھی زکواۃ ہوگی۔
    ج: جی نہیں۔ زیورات کی مالیت بڑھے یا کم ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر زیورات نصاب سے زائد ہیں تو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔


    5۔اس کے علاوہ اس مولانا صاحب نے کوئی خاص دلیل نہیں دی جس سے یہ ثابت ہو کہ بینک میں رکھی جانے والی ر قم پر سال گزرنے کے بعد زکواۃ نہیں۔
    ج: کوئی دلیل ہے بھی نہیں۔ زکوٰۃ دینی ہوگی

    6۔ جس شخص نے بینک میں رقم رکھی ہوئی تھی وہ ہرسال گزرنے کے بعد ان رقوم کی زکواۃ ادا کر تا رہا ہے۔لیکن ابھی ایک سال کی زکواۃ اس کےذمے تھی کہ اچانک کسی مجبوری سے بینک والی رقم نکلوا کر استعمال کرلی اور اب اس کی حالت یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی رقم نہیں بچی بلکہ تھوڑا بہت رقم کا مقروض بھی ہے۔تو کیا اس صورت میں اسے وہ جو رقم ایک سال کی زکواۃ ادا کرنے والی رہ گئی تھی وہ ادا کرے گا۔یا اس کے مفلسی کے حالات کی وجہ سے اب اس پر یہ زکواۃ معاف ہوگی۔
    ج: اگر زکوٰۃ فرض ہوگئی تھی۔ یعنی بنک بیلنس پر سال گذر گیا تھا اور زکوٰۃ جو ادا کرنی تھی، ادا نہیں کی اور پھر سارا بنک بیلنس نکال کر کہیں خرچ کرلیا ۔۔۔ تو جو زکوٰۃ واجب ہوگئی تھی، اسے ”قضا“ سمجھئے۔ آپ کو ادا کرنی ہوگی، جب بھی رقم آجائے

    واللہ اعلم بالصواب

    نوٹ: یہ میری ذاتی رائے ہے۔ حتمی جوابات کے لئے ٹیگ کئے گئے معزز علمائے کرام کے جوابات کا انتظار کیجئے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں