1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اب رسول نہیں رہے؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان رشید, ‏مارچ 21، 2019۔

  1. ‏مارچ 21، 2019 #1
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    86
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    اشاعره کیطرف یه قول منسوب هے که وه رسول الله کو اب حقیقتا رسول نهیں کھتے بلکه کھتے هیں که وه حکما رسول هیں, اور یه بات شیخ ابونصر وائلی نے انکی طرف منسوب کی هے اور یه موصوف کا افترا هے علامه زاهد کوثری کے الفاظ هیں:
    "فمھما ذکر هذا المنافق الحائد بجھله عن الحقائق ان من مذهب الاشعریه ان النبوۃ عرض من الاعراض والعرض لا یبقی زمانین واذا مات النبی علیه السلام زالت نبوته وانقطعت دعوته."
    (العقیدۃ وعلم الکلام ص ۴۲۶.)

    حالانکه بات یه هے که ابونصر وائلی نے هی نهیں بلکه یه بات تو خود ابن حزم نے اپنی سند سے نقل کی هے.:
    "حدثت فرقه مبتدعه تزعم ان محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب صلی الله علیه وسلم لیس هو الآن رسول الله علیه السلام ولکنه کان رسول الله صلی الله علیه وسلم وهذا قول ذهب الیه الاشعریه واخبرنی سلیمان بن خلف الباجی وهو مقدمیھم الیوم ان محمد بن الحسن بن فورک الاصبھانی علی هذا المسئله."
    (الفصل فی الملل ج ۱ ص ۲۱۰, وفی ج ۱ ص ۸۸, ۸۹.)
    "یعنی ایک بدعتی فرقه ظاهر هوا هے جسکا دعوی هے که محمد صلی الله علیه وسلم موجوده وقت میں خدا کے رسول نهیں هیں. وه گزشته دور میں رسول تھے یه وه قول هے جسکو اشاعرۂ نے اپنایا هے مجھے ابوالولید باجی نے جو آج کل اشاعره کے اکابر میں سے هے, یه بتایا که ابن فورک اسی راے پر قائم تھے."
    .
    لیجئے جناب ابن حزم صحیح سند سے نقل کیا که ابن فورک کا عقیده تھا که وفات کے بعد رسول الله خدا کے رسول نهیں هے.
    .
    اور یه هی بات علامه ذهبی نے بھی لکھی.
    "ونقل ابوالولید الباجی ان السلطان محمودا ساله عن رسول الله علیه السلام فقال ابن فورک کان رسول الله واما الیوم فلا فامر بقتله بالسم."
    (سیر اعلام ج ۱۰ ص ۹۷, وفی ج ۱۷ ص ۲۱۶.)
    یعنی که ابن فورک نے بتایا که اب محمد رسول الله خدا کے رسول نهیں هیں اس وجه سے محمود سبکتگین نے ابن فورک کو قتل کرنے کا حکم دیا.
    علامه ذهبی مزید بتایا که
    "کان یقول ان روح رسول الله قد بطلت وتلاشت وماهی فی الجنه."
    رسول الله کی روح فتوح وفات پاجانے کے بعد باطل اور معدوم هو گی اور انکی روح جنت میں نهیں گی.
    نیز دیکھیں
    (تاریخ السلام ج ۲۸ ص ۱۴۸.)
    .
    اس سے ملتی جلتی بات مورخ ابن تغری بردی نے ذکر کی هے.
    (النجوم الزاهرۃ ج ۴ ص ۲۴۰, وقائع ۴۰۶.)
    .
    یه هی بات شیخ زاده نے ذکر کی هے.
    (نظم الفرائد ص ۴۹ بحواله عقیده سلف پر اعتراضات ج ۱ ص ۴۶۷.)
    اور سید محمود آلوسی کھتے هیں که:
    "...نعم ذهب الاشعری کما قال النسفی الی انهما بعد الموت باقیان حکما."
    (روح المعانی۲۱- ۲۲: ۲۹۱.)
    یعنی نسفی کے قول کے طابق ابوالحسن اشعری اس طرف گئے هیں که انبیاء ورسل کی وفات کے بعد نبوت ورسالت حکم هوتی هے.
    اور میمون نسفی کا قول "تبصره الادله فی اصول الدین" میں موجود هے.
    .
    یعنی معتبر علماء نے اس قول کو اشعریه کیطرف منسوب بتایا هے.
    جبکه اسکے خلاف علامه سبکی, جو که خود اشعری مذهب پر تھے بعض حضرات نے بتایا که سبکی سر سے پیر تک اشعری هیں جیسا (الموسوعه المیسرۃ ج ۲ ص ۱۵۶۶.) پر موجود هے بلکه سبکی صاحب تو شیخ ذهبی کو بڑا بر کھتے کبھی مسکین کھتے کبھی حق دینے سے عاجز کھتے هیں کبھی کھتے هیں که ابن تیمیه نے خراب کردیا. دراصل سبکی خود متصعب اشعری شافعی هیں حت کی احمد بن ابراهیم عزالدین کنانی کھتے هیں سبکی کم ادب غیر منصف بنده هے, اهل السنه اور انکے مرتبے سے جاهل هے.
    (الاعلان التوبیخ ۱۰۱,)
    اور علامه سخاوی سبکی کی ایک عبارت پر تعلیق لگاتے هو کھتے هیں
    "یه اعجب العجاب اور زیاده تعصب پر مشتمل هے."
    (ایضا.)
    بعض حضرات نے ذکر کیا هے که جو شخص سبکی کی تاریخ کا انصاف سے مطالعه کرے گا اور اس بات کا اقرار کئے بغیر نه رهے گا که سبکی کو شافعیه اور اشاعرۂ کی محبت نے خراب کردیا هے. وقد صدق من قال حبک الشیء یعمی ویصم, نے بتایا هے که:
    "کان شدید الرد علی ابی عبدالله بن کرام واذکر ان سبب ما حصل له من المحنه من شغب اصحاب ابن کرام وشیعتھم المجسمه."
    (طبقات الکبری ج ۴ ص ۱۳۰ ت ۳۱۶.)
    "یعنی آپ عبدالله بن ابی کرام کی نهایت شدت کے ساتھ مخالفت کرتے تھ اسلئے میرا خیال هے که ابن کرام کے ساتهیوں اور مجسمه نے انهیں اذیت اور تکلیف دی جسکا میں بعد میں ذکر کروں گا."
    اسکے بعد کھتے هیں که انهیں سلطان کے سامنے پیش کیا گیا تو سلطان نے ان سے اس بارے پوحپها جسکے جواب میں انهوں نے کها:
    "که اس قول کو اپنی طرف منسوب کرنے والے کو جهٹلایا اور فرمایا که یه سب اشاعره کا مسلک نهیں هے بلکه اشاعرۂ کا مسلک یه هے که رسول الله صلی الله علیه وسلم اپنی قبر میں زنده هیں اور همیشه کے لئے حقیقی طور پر رسول الله هیں نه کے مجازی طور پر اور جب سیدنا آدمی پانی اور گیلی مٹی کے درمیان تھے اس وقت سے آپ صلی الله علیه وسلم رسول الله هیں اور آپ کی نبوت همیشه کےلئے باقی اور جاری وساری هے جب سلطان کو حقیقت حال کا علم هو گیا تو ان کا اعزاز واکرام کیا اور انهیں وطن واپس جانے کی اجازت دے دی. کرامیه کو جب اس صورت حال کا علم هو گیا که انکی چغلی کهانی سے کوئی فائده حاصل نه هوا اور کے مکرو فریب کا وار خالی چلا تو انهوں ان سے جان حپهڑانے کیلئے ان کے پیپهے ایسے لوگ لگا دیے جنهوں نے انهیں زهر دے کر شهید کروالیا.
    (طبقات ج ۴ ص ۱۳۱.)
    سبکی نے ایک جگه اس قول کی نسبت کو الاشعره کیطرف جهوٹ بتایا هے.
    (طبقات ج ۳ ص ۳۸۴.)
    اور علامه قشیری کی کتاب شکایه اهل السنه کے حوالے سے بھی اس قول کی نسبت کو الاشعره کی جانب جهوٹ بتایا هے.
    (ایضا ج ۳ ص ۴۰۶.)
    اور علامه ابن عابدین شامی نے بھی اس قول کی نسبت کو الاشعره کی جانب منسوب کرنے کو افتراء اور بهتان بتایا هے.
    (ردالمحتار ج ۳ ص ۲۵۹.)
    .
    هم دیکھتے هیں که ابن فورک سے اس قول کو صحیح جدا سند سے ابن حزم نے نقل کیا هے اور اس قول کو دیگر علماء نے بھی ذکر کیا هے. اور اس قول کو ابن فورک کیطرف منسوب کرنے والے خود الاشعری مذهب کے امام المتکلمین هیں جس سے یه بات کی گجائش تو ختم هوجاتی هے که یه سب کرامیه کے کیا هوا هے جیسا که علامه سبکی نے بتایا.
    دوسری بات یه هے که ابوالحسن الاشعری, کی کتب میں جو آخری دور کی هیں جیسا که الابانه وغیره سے معلوم هوتا هے که وه مذهب اهلحدیث کے بهت قریب هو گئے تھے اور امام احمد کے مذهب کو اختیار کیا تھا, کی کتب میں کپھ بھی ایسا نهیں هے جس سے اس خبیث قول کا اثبات ابوالحسن کیطرف هوتا هو جیسا که حنفی علماء نے ذکر کیا هے.
    ابوالولید الباجی اور دوسری علماء کے قول سے معلوم هوتا هے که یه خبیث قول الاشعره کے بعض لوگوں میں موجود هو گا اور بعض میں نهیں. کیونکه الاشعره مذهب میں بھی الاشعری مذهب کے علماء کے مختلف طبقات هیں سب سے پهلے ابوالحسن هیں جو که اپنے امام احمد کے مذهب پر تھے. پهر اسکے بعد الباقلانی اور ابن فورک آتے هیں جو که شدیت سے صفت کا اثبات کرتے هیں پهر آگے مختلف درجے علماء کے هوتے هیں جسکی مکمل تفصیل شیخ الاسلام امام ابن تیمیه کی مجموع الفتاوی میں دیکھی جاسکتی هے.
    اور مختصر وجامع عبارات کیلئے دیکھیں.
    (عقیده سلف پر اعتراضات کا جائزه ج ۱ ص ۴۶۳.)
    .
    اور ڈاکڑ سراج الاسلام حنیف دیوبندی مماتی حنفی صاحب کا خیال یه هے که یه خبیث قول الاشعره کا تب کا هو گا جب وه بدعتی تھے بعد میں رجوع هو گیا. انتھی
    والله اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں