1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اصول الدعوۃ کہنا درست ہے؟

'عربی زبان وادب' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو جماز, ‏ستمبر 01، 2014۔

  1. ‏ستمبر 01، 2014 #1
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    کچھ دنوں پہلے ایک بھائ نے ایک کلاس شروع کرنے کا اعلان کیا اور پوسٹر پر کلاس کا ٹائٹل اصول الدعوۃ لکھوایا۔
    اس کلاس میں بنیادی طور پر دعوت الی اللہ کے مختلف طریقوں کے ٹریننگ دی جائے گی مثلا تقریر کرنے کا طریقہ، دیبیٹ (مناظرہ) کرنے کا طریقہ اور داعی کی صفات وغیرہ۔
    اس کلاس کے ٹائٹل سے مجھے اختلاف ہے۔ اور جب میں نے اپنی رائے پیش کی تو جواب میں بھائ نے مختلف علماء کے کورسز کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے بھی یہ اصطلاح استعمال کی ہے۔ اسپر مجھے اشکال ہوا اور سوچا کہ اس پر اپنے فاضل بھائیوں سے رائے لے لی جائے محدث فورم پر۔

    میری رائے اس معاملے میں یہ ہے:

    لفظ ’اصول’ کی جگہ ’منہج’ یا ’منہاج’ استعمال ہونا چاہیے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ لفظ منہج کا مفہوم عربی زبان میں واضح طریقہ کے ہیں جيسا کہ ابن منظور لسان العرب میں کہتے ہیں:
    طريق نهج: بين واضح، وهو النهج، ومنْهَج الطريق: وضحه. والمنهاج: كالمنهج۔۔۔

    اور کلاس بھی چونکہ دعوۃ کے نہج سکھانے کے لیے تشکیل دی گئ ہے اس لیے یہ لفظ زیادہ درست ہے۔ رہی بات اصول کی تو لفظ اصول کی تعریف علماء نے یہ کی ہے:
    هو ما يتفرع عنه غيره أو ما يبنى عليه غيره
    یعنی وہ جس سے اسکے غیر کا انتشار ہو یا پھر جس پر اسکے غیر (فرع) کی بنیاد ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

    أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔۔۔الآية (سورة ابراهيم)
    کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزه بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزه درخت کے جس کی (اصل) جڑ مضبوط ہے اور جس کی (فروع) ٹہنیاں آسمان میں ہیں۔۔۔

    اسی طرح امام راغب المفردات میں تعریف کرتے ہیں:
    اصل کل شیئ قاعدته
    اصل کسی چیز کی بنیاد کو کھتے ہیں۔

    اسی طرح علم الفرائض میں بھی اصول باپ دادا کو کہا جاتا ہے اور فروع اولاد کو۔

    اگر اصول الدعوۃ استعمال کیا جائے تو اسکا معنی ہوگا کہ وہ مصادر جن سے دعوت کا انتشار ہوتا ہے یا فروع نکلتی ہیں۔ یا پھر دعوۃ کی بنیاد یعنی دعوت کا مرجع اور وہ قرآن اور سنت علی فہم السلف ہیں۔ جیسا کہ اصطلاح اصول الدین استعمال ہوتی ہے اور مراد اس سے قرآن و سنت کو لیا جاتا ہے۔

    هذا ما عندي والله تعالى أعلم بالصواب

    بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس پر اپنی علمی آراء دیں۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏ستمبر 01، 2014 #2
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    دعوت میں سب سے زیادہ مفید چیز داعی کی صفات ہوتی ہیں۔ داعی اختلاف کی بجائے اتفاقی باتوں کی طرف پہلے دعوت دیتا ہے ۔ دیکھئے قرآن کااسلوب اور پیغمبر ﷺ کا اسوہ کہ یہود و نصاریٰ کو دعوت دیتے ہوئے پہلے ان باتوں پر اتفاق کی دعوت دیتا ہے جو دونوں میں مشترکہ ہیں۔ داعی خود کو حق کا محتاج سمجھتے ہوئے دعوت دے اور مدعو کیلئے جذبہ خیر خواہی سے سرشار ہو۔ داعی مدعو کے پیچھے ہی نا پڑے کہ بے چارے کو بور کردے اور وہ بہانوں سے پیچھا چھڑاتا رہے۔ داعی کو مناظرہ اور جدل سے پر ہیز برتنا چاہئے اور حتیٰ الامکان تفرقہ بازی سے دور رہنا چاہئے۔ اس سے بعض اوقات بات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ نوبت ایک دوسرےکے محترم شخصیات تک گالی گلوچ کی آجاتی ہے۔ جس سے مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ اصلاح کی جگہ فساد برپا ہوجاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ تم دوسروں کے جھوٹے معبودوں کو گالیاں مت دو مبادا وہ تمہارے سچے معبود کو گالی دیں۔ اور یہ جو آپ نے مسلہ اٹھا یا ہے یہ میری نظر میں اتنا اہم نہیں کہ اس پر آپ لوگ مناظرہ و جدال کا میدان سجالو۔ اور دلوں میں کدورتیں پالنا شروع کردو کہ میری علمی حیثیت کو چیلنج کرتا ہے۔ اس سے زیادہ مجھے کچھ معلوم نہیں ورنہ وہ بھی لکھ دیتا۔ علمی آرا کیلئے عالمان یہان موجود ہیں جو علمی رائے سے نوازیں گے اور غیر علمی رائے میں نے پیش کردی ہے جو اگر ناگوار گزرے تو درگزر سے کام لے لیں تاکہ اللہ آپ سے خوش اور راضی ہو جائے۔
     
  3. ‏ستمبر 01، 2014 #3
    ابراہیم بھائی

    ابراہیم بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 03، 2012
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    814
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

  4. ‏ستمبر 01، 2014 #4
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    لغوی طور آپ کی بات درست ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ جدید عربی زبان میں مناہج الدعوۃ کا اصول الدعوۃ کا ایک ذیلی موضوع بنایا گیا ہے۔ اصول الدعوۃ سے مراد دعوت کی بنیادیں ہیں۔ اور اس میں داعی، مدعو، دعوت اور اس کے مناہج سب شامل ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد الکریم زیدان نے اصول الدعوۃ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو کافی معروف ہے۔ اس کتاب کو انہوں نے موضوع دعوت، داعی، مدعو اور مناہج دعوت کے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔

    لہذا اگر تو ارکان دعوت کی بات کریں جو کہ خود دعوت، داعی اور مدعو ہیں تو ان کے لیے اصول دعوت کا لفظ موزوں محسوس ہوتا ہے اور بحث اگر دعوت کے اسالیب کے بارے ہی ہو تو پھر مناہج الدعوۃ کا لفظ زیادہ مناسب ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 01، 2014 #5
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    پیارے بھائ شکریہ نصیحت کا۔
    میں واضح کرتا چلوں کہ اس پر کوئ جھگڑا کھڑا نہیں ہوا اور نہ مقصود ہے اور تھا کیونکہ اس کورس کو اسی نام سے انہیں بھائ کے ساتھ مل کر میں بھی کروا چکا ہوں۔ کچھ دنوں پہلے جب اسکا نام تجویز کیے جانے لگا تو اس پر میں نے اپنی رائے پیش کی کہ ہمارے پہلے ٹائٹل سے زیادہ یہ درست معلوم ہوتا ہے اور بھائیوں نے اسکا نام ویسے ہی بدل دیا بعد میں۔ یہ سوال تعلم کے لیے کیا گیا تھا۔

    جزاکم اللہ خیرا
     
  6. ‏ستمبر 02، 2014 #6
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
    ایسے نکات پر غور و فکر کرنا ، اور انھیں یہاں بیان کرنا بہت مفید ہے۔جزاک اللہ خیرا
    ماشاء اللہ ۔
     
  7. ‏ستمبر 02، 2014 #7
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    ابو جماز بھائی ہو سکے تو اپنے کورس کے کچھ ٹپس الگ دھاگے میں فورم والوں کو سکھائیں اور اجر پائیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں