1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اللہ کے قانو ن کے بغیر فیصلہ کرنے سے انسان کافر ہوجاتاہے؟

'توحید حاکمیت' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏اپریل 06، 2013۔

  1. ‏اپریل 06، 2013 #1
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    وہ لوگ جو قانون الہی کے بغیر فیصلہ کرتےہیں ان کے حوالے سے قرآن تین طرح سے حکم لگاتاہے پہلا کفر دوسراظلم او رتیسرا فسق کاہے علما کے اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ ہر وہ شخص جو قانون الہی کے علاوہ فیصلہ کرتا ہے مطلقاکافر نہیں ہوجاتا اس میں دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اللہ کے قانون کو اعتقادی طور پر غلط سمجھ کر ترک کررہاہے تو وہ کافر ہے او راگر اعتقادا نہیں بلکہ عملا کوتاہی کررہاہے تو وہ فسق وظلم کے درجے میں آتاہے۔البتہ خوارج کا اس باب میں موقف یہ ہےکہ تحکیم بغیر ماانزللہ کی تکفیر مطلقا کی جائے گی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 06، 2013 #2
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    شریعت میں"کفر اصغر"اور" کفر اکبر"کی تقسیم:
    اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والا صریح کافر ہے:
    حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین اور دیگر سلف صالحین نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے کومطلقاً کافر قرار دیا ہے ۔

    صحیح روایات سے ثابت ہے کہ عبد اللہ بن طاؤس رحمہمااللہ روایت کرتے ہیں کہ:
    اس بات کی تائیدسیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے قول سے بھی ہوتی ہے :
    عظیم محد ث امام ابو یعقوب بن اسحاق حنظلی رحمہ اللہ جو"ابن راہویہؒ "کے نام سے مشہور ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ہم پلہ امام ہیں ،وہ فرماتے ہیں:
    سلف وصالحین اور فقہاء کرام کے معروف دس (۱۰)"نواقض اسلام"یعنی وہ عقائد وافعال جن کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ،اس میں چوتھا یہ ہے کہ :
    مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبداللہ بن بازرحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    مشہور سلفی عالم دین شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
    "ولا شک أن من لم یحکم بشيء مماأنزل اللّٰہ تعالٰی لا یکون الاغیر مصدق ولانزاع فی کفرہ۔أقول:فتدبر فی ہذالتفسیرأن الذی لایحکم بجمیع ماأنزل اللّٰہ کافر باجماع المسلمین" (فتاویٰ الدین الخالص:المجلد۶)
    "میں کہتا ہوں کہ:آیت مبارکہ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ}کی اس تفسیر پر غورکرنے کی ضرورت ہے کہ جو شخص ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہ کرے،اس کے کافر ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے" ۔

    مشہور سعودی عا لم دین شیخ محمدالصالح العثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    علامہ احمد محمد شاکر رحمہ اللہ "عمدۃ التفسیر"کی تعلیق میں فرماتے ہیں :
    سعودی عرب کے سابق مفتی عام اور وہاں کے کبار علماء شیخ مفتی محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ اس مسئلے پر فرماتے ہیں:
    شیخ عمر اشقر حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
    اسی طرح مشہور سلفی عالم دین شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں