1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ خود تعویذ لٹکاتے تھے !

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از سلطان ملک, ‏مارچ 07، 2018۔

  1. ‏مارچ 07، 2018 #1
    سلطان ملک

    سلطان ملک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 27، 2013
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    حافظ ابن کثیر نے البدایہ ولنہایہ کے اندر لکھا ہے کہ جب امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو ان کے گلے میں سے ایک تعویذ نکلا۔

    یہ بات کہاں تک صحیح ہے فورم کے اہل علم سے گزارش ہے کہ اس کو واضح کریں۔
     
  2. ‏مارچ 07، 2018 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398



     
  3. ‏مارچ 08، 2018 #3
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    ابن کثیر نے ابن تیمیہ کے جنازہ کے بارے میں بزارلی سے نقل کیا ہے کہ

    إن الخيط الذي كان فيه الزئبق الذي كان في عنقه بسبب القمل، دفع فيه مائة وخمسون درهما

    جوؤں کے باعث جو آپ نے اپنی گردن میں جو پارے والا دھاگہ ڈالا تھا۔
    ”البدایہ والنہایہ ج 14 ص 159، ترجمہ مولانا اختر فتح پوری"
    ح

    ========


    یہ علاج حکمت سے ہے، پارہ لگا دھاگہ جو کہ جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے کے کام آتا ہے اور اس سے جسم میں پڑی جوئیں گرتی رہتی ہیں۔ کیمیکل ری ایشن۔ اسے کسی بھی زاویہ سے تعویز کہنا درست نہیں ہو گا۔

    برطانیہ میں بلی کے جس میں جب جوئیں پڑتی ہیں تو
    "سپاٹ اون" ایک ٹیوب ہے اس میں 3 قطرے ہوتے ہیں ہے جو پارہ جیسے مزید کیمکملز سے تیار کی جاتی ہے جسے بلی کی گردن میں پیچھے 3 قطرے لگا دئے جاتے ہیں جس سے بلی کے جسم کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ کسی کونے میں جا کر بیٹھ جاتی ہے اور وقفوں کے ساتھ جسم کو جھڑکتی رہتی ہے جس سے جوئیں گرتی رہتی ہیں۔

    نوٹ: پارہ کو کبھی چکھنے کی بھی کوئی کوشش نہ کرے ورنہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 08، 2018 #4
    سلطان ملک

    سلطان ملک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 27، 2013
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    جزاک اللہ خیر

    Sent from my SM-A910F using Tapatalk
     
  5. ‏مارچ 09، 2018 #5
    مصبور صدیقی

    مصبور صدیقی مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2018
    پیغامات:
    36
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    12

    اگر بطور علاج پارہ لگا دھاگہ گلے میں باندھا جا سکتا ہے؟ تو بطور علاج کلام الله کیوں نہیں؟ بشرطیکہ اس کی توہین نہ ہو تو..
     
  6. ‏ستمبر 12، 2018 #6
    abulwafa80

    abulwafa80 رکن
    جگہ:
    انڈیا یوپی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2015
    پیغامات:
    49
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
    اوپر ایک ویڈیو ہے لیکن اوپن نہی ہو رہا ہے عمر اثری صاحب و ویڈیوبہیج سکتے ہےدوبارہ
     
  7. ‏ستمبر 12، 2018 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ویڈیو یوٹیوب سے ہٹا لی گئی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں