1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام الشافعی نے کہا وہ رافضی ہیں ؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از وجاہت, ‏فروری 28، 2017۔

  1. ‏مارچ 03، 2017 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    قال ابن عدي: حمله شدة تشيعه أن أخرج إلينا نسخةً قريبًا من ألف حديث عن موسى بن إسماعيل بن موسى بن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده إلى أن ينتهي إلى علي والنبي - صلى الله عليه وسلم -، عامتها مناكير.
    ’ اس کا کٹر شیعہ ہونا اس بات کا سبب بنا ۔۔۔ ‘ کا ترجمہ ’ اس پر شیعت کا حملہ ہے ‘ کرنا انتہائی عجیب و غریب ہے ۔ علوم وفنون کے ساتھ یہ ’ زیادتی ‘ شاید کبھی نہ ہوئی ہوگی ۔ اسی لیے نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں ۔ اور وہ مسائل اور عبارات جو تیرہ صدیاں کسی کو کھٹکے تک نہیں ، آج وہ اس طرح کے اعتراض کی شکل اختیار کر گئے ہیں گویا تکاد السموات یتفطرن منہ و تنشق الارض و تخر الجبال ہدا ۔
     
    • متفق متفق x 5
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 03، 2017 #12
    محمد فراز

    محمد فراز رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2015
    پیغامات:
    524
    موصول شکریہ جات:
    126
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    حافظ ابن حجر فرماتے ہیں
    " مائة والحاكم أجل قدرا وأعظم خطرا وأكبر ذكرا من أن يذكر في الضعفاء لكن قيل في الأعتذار عنه أنه عند تصنيفه للمستدرك كان في أواخر عمره وذكر بعضهم أنه حصل له تغير وغفلة في آخر عمره ويدل على ذلك أنه ذكر جماعة في كتاب الضعفاء له وقطع بترك الرواية عنهم ومنع من الاحتجاج بهم ثم أخرج أحاديث بعضهم في مستدركه وصححها من ذلك أنه أخرج حديثا لعبد الرحمن بن زيد بن أسلم وكان قد ذكره في الضعفاء فقال: أنه روى عن أبيه أحاديث موضوعة لا تخفى على من تأملها من أهل الصنعة أن الحمل فيها عليه وقال في آخر الكتاب فهؤلاء الذين ذكرتهم في هذا الكتاب ثبت عندي صدقهم لأنني لا استحل الجرح إلا مبينا ولا أجيزه تقليدا والذي اختار لطالب العلم أن لا يكتب حديث هؤلاء أصلا.
    لسان الميزان (5/ 233)
     
  3. ‏مارچ 21، 2017 #13
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,379
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جناب رضا میاں ، جناب اسحاق سلفی اور جناب خضر حیات
    جزاکم اللہ الف خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں