1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام کے پیچھے بھی سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے؟

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 08، 2015۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جنوری 06، 2016 #31
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    ایک حدیث دوسری حدیث کی ناسخ بھی ہو سکتی ہے بلکہ ہوتی ہے۔کیا آپ کو اس سے اختلاف ہے؟
     
  2. ‏جنوری 06، 2016 #32
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    گویا آپ کا جواب ہاں میں ہے۔ ٹھیک۔
    اب سوال کے دوسرے حصہ پر بھی کچھ کہئے کہ حدیث سے قرآن کے عمومی حکم میں تخصیص ہوسکتی ہے؟
     
  3. ‏جنوری 06، 2016 #33
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ صاف لفظوں میں کہیں۔
    آپ جس حدیث سے قرآن کا نسخ ثابت کرے جارہے ہیں اس کو ”البانی“ ہی نے ”ضعیف“ کہا ہے اور ہمارے نزدیک وہ چونکہ قرآنی حکم کے بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بھی خلاف ہے لہٰذا صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ امام کی اقتدا میں مقتدی قراءت نہیں کرے گااس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی یہی ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی فرمان ہے جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو۔
    آپ لوگ اپنے ”بڑوں“ کو ”ارباب من دون اللہ“ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہمارے ذمہ صرف سمجھا دینا ہے دل میں اتارنا نہیں۔
     
  4. ‏جنوری 06، 2016 #34
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ صاف لفظوں میں کہیں۔
    آپ جس حدیث سے قرآن کا نسخ ثابت کرے جارہے ہیں اس کو ”البانی“ ہی نے ”ضعیف“ کہا ہے اور ہمارے نزدیک وہ چونکہ قرآنی حکم کے بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بھی خلاف ہے لہٰذا صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ امام کی اقتدا میں مقتدی قراءت نہیں کرے گااس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی یہی ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی فرمان ہے جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو۔
    آپ لوگ اپنے ”بڑوں“ کو ”ارباب من دون اللہ“ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہمارے ذمہ صرف سمجھا دینا ہے دل میں اتارنا نہیں۔
     
  5. ‏جنوری 06، 2016 #35
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    آپ نتائج پر چھلانگ لگانے میں بہت جلدی کر رہے ہیں۔ میں نے فقط یہ پوچھا ہے کہ اصولاً (خاص اس موضوع کی بات نہیں ہے) کیا یہ ممکن ہے کہ کسی حدیث سے قرآن کے کسی عمومی حکم کی تخصیص ہو جائے؟
     
  6. ‏جنوری 06، 2016 #36
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    معلوم نہیں۔
     
  7. ‏جنوری 06، 2016 #37
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    آپ نے غلط نتیجہ نکالا ہے۔
    میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس سے پتہ چلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ ”میری احادیث قرآن کی تخصیص بھی کرتی ہیں“ آپ کے علم میں ہو تو تحریر فرمادیں۔
     
  8. ‏جنوری 07، 2016 #38
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    چلیں میں ایک کوشش کر لیتا ہوں بات سمجھانے کی۔
    قرآن میں ہے:
    والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما ۔۔۔(المائدہ ۵ آیت ۳۸ )
    ترجمہ:’’ چو ر مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو ‘‘
    اب یہ حکم عام ہے چاہے چوری کسی قسم کی ہو یا کسی چیز کی ہو تھوڑی ہو یا زیادہ لیکن حدیث اس عام حکم کی تخصیص کر دیتی ہے۔
    ’’لا قطع فی ثمر معلق ولافی حریسۃ جبل ، فاذا آواہ المراح اوالبحر ین فالقطع فیما یبلغ ثمن المجن (المؤطا،۱۵۱۸)

    اگر آپ کو تفصیل درکار ہو تو آپ درج ذیل مضمون کا مطالعہ کر لیجئے۔
    تقید مطلق اور عموم قرآن کی تخصیص کا مسئلہ

    اگر آپ یہاں تک متفق ہوں، تو بات آگے بڑھائی جائے۔
     
  9. ‏جنوری 08، 2016 #39
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! آپ صرف ”سجھانا“ ہی چاہتے ہیں یا کچھ ”سمجھنا“ بھی؟
    قرآن پیش کرو وہ پسند نہیں۔ اس کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہو ”اس سے حنفیہ کی تائد ہوتی ہے“۔
    احادیث پیش کرو تو تان اس پر آکر ٹوٹتی ہے ”تقلید، شرک“۔
    بھئی سچی بات ہے میں آپ کے ”فہم“ کو مانوں یا اسلاف کے امام الفقہاء کے فہم کو؟
    جب تک کوئی آپ کے فہم کو نہیں مانتا وہ ”مقلد محض“ اور ”مشرک“ اور جو آپ کے فہمِ نارسا کو مان لے وہ ”مسلم“ ہو جاتا ہے!!!!!!!!!!!!!!!
     
  10. ‏جنوری 08، 2016 #40
    محمد کاشف

    محمد کاشف رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 17، 2015
    پیغامات:
    153
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    جزاک اللہ خیرا فی الدنیا والاخرۃ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں