1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی؟

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از ناظم شهزاد٢٠١٢, ‏اگست 26، 2012۔

  1. ‏اگست 26، 2012 #1
    ناظم شهزاد٢٠١٢

    ناظم شهزاد٢٠١٢ مشہور رکن
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2012
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    1,524
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    کیا انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی؟

    بڑا اہم سوال ہے اور جو روایت پیش کی جاتی ہے اس کا تجزیہ بھی دیکھیں۔ اگر کہیں سے کوئی غلطی ہو تو ازراہ کرم مطلع فرمائیں۔
    نیچے کلک کریں
    کیا انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی؟
     
  2. ‏اگست 26، 2012 #2
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : أَتَيْتُ، (وفي رواية هدّاب) مَرَرْتُ عَلَي مُوْسَي لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْکَثِيْبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

    أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب : من فضائل موسي عليه السلام، 4 / 1845، الرقم : 2375، والنسائي في السنن، کتاب : قيام الليل وتطوع النهار، باب : ذکر صلاة نبي اﷲ موسي عليه السلام، 3 / 215، الرقم : 161. 1632، وفي السنن الکبري، 1 / 419، الرقم : 1328، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 148، الرقم : 12526 - 13618،

    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : معراج کی شب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، (اور ھدّاب کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا : ) سرخ ٹیلے کے پاس سے میرا گزر ہوا (تومیں نے دیکھا کہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے۔‘‘

    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ.

    رَوَاهُ أَبُوْيَعْلَي وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَابْنُ عَدِيٍّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

    وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : وَأَرْجُوْ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

    والعسقلاني في الفتح وقال : قد جمع البيهقي کتابًا لطيفًا في حياة الأنبياء في قبورهم أورد فيه حديث أنس رضي الله عنه : الأنبياء أحياء في قبورهم يصلّون. أخرجه من طريق يحيي بن أبي کثير وهو من رجال الصحيح عن المستلم بن سعيد وقد وثّقه أحمد وابن حبّان عن الحجاج الأسود وهو ابن أبي زياد البصري وقد وثّقه أحمد وابن معين عن ثابت عنه وأخرجه أيضاً أبو يعلي في مسنده من هذا الوجه وأخرجه البزار وصحّحه البيهقي.

    أخرجه أبو يعلي في المسند، 6 / 147، الرقم : 3425

    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔‘‘

    اس حدیث کو امام ابویعلی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس حدیث کو امام ابن عدی اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے اور امام ابن عدی نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔

    امام عسقلانی ’’فتح الباری‘‘ میں بیان کرتے ہیں کہ امام بیہقی نے انبیاء کرام علیہم السلام کے اپنی قبروں میںزندہ ہونے کے بارے میں ایک خوبصورت کتاب لکھی ہے جس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی وارد کی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہوتے ہیں اور صلاۃ بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ حدیث انہوں نے یحی بن ابی کثیر کے طریق سے روایت کی ہے اور وہ صحیح حدیث کے رواۃ میں سے ہیں انہوں نے مستلم بن سعید سے روایت کی اور امام احمد بن حنبل نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے اور ابن حبان نے یہ حدیث حجاج اسود سے روایت کی ہے اور وہ ابن ابی زیاد البصری ہیں اور انہیں بھی امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے۔ اور ابن معین نے حضرت ثابت سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اور امام ابو یعلی نے بھی اپنی مسند میں اسی طریق سے یہ حدیث روایت کی ہے اور امام بزار نے بھی اس کی تخریج کی ہے اور امام بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘

    اس کے علاوہ قرآن مجید میں اس کا ثبوت حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بیان میں آپ کو مل جائے گا
    واللہ اعلم ورسول اعلم
     
  3. ‏اگست 26، 2012 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,768
    موصول شکریہ جات:
    9,770
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

  4. ‏اگست 25، 2018 #4
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    السلام علیکم شیخ کفایت اللّه

    آپ کی دی گئی لنک کام نہیں کر رہی


    برائے مہربانی

    اسکی سند پر بھی جو کلام ہے وہ واضح کیجیے جزاک اللّه خیرا کثیرا

    امام شمس الدین زہبی نے سیر اعلا البنلاء میں اس حدیث کے راوی ثابت البنانی کے بارے اس بات کو نقل کیا ہے جب انہو نے حضرت آنس رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کا سماع کیا کہ انبیاء علیھم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہے اور نمازیں پڑھتے ہے تو انہو نے کہا میری بھی خواہش ہے کہ میں بھی قبر میں نماز پڑھتا ثابت البنانی کو کسی نے وفات کے بعد دیکھا کہ وہ اپنی قبر نماز ادا کر رہے ہے
    مسند ابی یعلی الموصلی جلد نمبر 3 ہے اس کی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مسند میں یہ روایت ہے
     
  5. ‏اگست 26، 2018 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ماہنامہ اشاعۃ الحدیث شمارہ 28 ،ستمبر 2006
    نیز "فتاوی علمیہ " جلد اول ص171

    قبر میں نماز اور ثابت البنانی رحمۃ اللہ علیہ

    سوال : ایک روایت میں آیا ہے کہ ثابت البنانی رحمہ اللہ اپنی قبر میں نماز پڑھتے تھے ۔ اسی روایت کی حقیقت کیا ہے؟ (ماسٹر انورسلفی ، حاصل پور ضلع بہاولپور)
    ـــــــــــــــ
    الجواب : حمادؒ بن سلمہ سے روایت ہے کہ ثابت (بن أسلم البنانی رحمه الله ) نے کہ: " أخبرنا عفان بن مسلم قال: حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت قال: «إن كنت أعطيت أحدا الصلاة في قبره فأعطني الصلاة في قبري»
    اے میرے اللہ !اگر تو نے اپنی مخلوق میں سےکسی کو اس کی قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو مجھے بھی میری قبر میں نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرما۔ (طبقات ابنِ سعد وسندہ صحیح)
    عبد الله ان شوذب سے روایت ہے : میں نے ثابت البنائی کو کہتے سنا:
    " حدثنا سعيد بن أسد حدثنا ضمرة عن ابن شوذب قال: سمعت ثابتا البناني يقول: اللهم إن كنت أعطيت أحدا من خلقك يصلي لك في قبره فأعطنيه )
    اے میرے اللہ: اگر تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو مجھے بھی اجازت دینا۔
    (المعرفة و التاریخ يعقوب بن سفيان الفارسي الفسوي، (المتوفى: 277 ھ) ۹۶٫۲ و سندہ حسن، حلیة الاولیا 2/319)
    یہ ایک دعا ہے جو ثابت البنانی رحمہ اللہ نے مانگی ہے۔

    اوریوسف بن عطیہ (متروک ) نے کہا: "فأذن لثابت أن يصلي في قبره " پس ثا بت کو ان کی قبر میں نماز پڑ ھنے کی اجازت مل گئی ۔(حلیۃ الاولیا ء 2/319)

    ((مکمل روایت یہ ہے ((حدثنا أبو حامد بن جبلة قال: ثنا محمد بن إسحاق السراج، قال: ثنا عمر بن شبة، قال: ثنا يوسف بن عطية، قال: سمعت ثابتا، يقول لحميد الطويل: «هل بلغك يا أبا عبيد أن أحدا يصلي في قبره إلا الأنبياء؟» قال: لا، قال ثابت: «اللهم إن أذنت لأحد أن يصلي في قبره فأذن لثابت أن يصلي في قبره»
    یعنی تابعی ثابت البنانیؒ نے سیدنا حمیدؒ الطویل سے پوچھا کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی کا قبر میں نماز پڑھنا ثابت ہے ،تو جناب حمید الطویل نے فرمایا نہیں ، تو جناب ثابت البنانیؒ نے دعاء کی کہ اے اللہ ! اگر تو نے اپنی مخلوق میں سےکسی کو اس کی قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو اپنے بندے ثابت کو بھی اپنی قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت و توفیق دینا "
    یہ روایت یوسف بن عطیہ کی وجہ سے موضوع ہے۔ یوسف بن عطیہ کے بارے میں امام بخاری نے کہا: "منكر الحديث " (کتاب الضعفاء بتحقیقی:424)امام نسائی نے کہا: "متروک الحديث‘‘ (کتاب الضعفاء 617)
    جسر (بن فرقد) سے روایت ہے کہ اس نے ثابت البنانی کوقبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔(حلیۃ الاولیا ۳۱۹٫۴) اس کی سند درج ذیل ہے
    حدثنا عثمان بن محمد العثماني، قال: ثنا إسماعيل بن علي الكرابيسي، قال: حدثني محمد بن سنان القزاز، قال: ثنا شيبان بن جسر، عن أبيه، قال: " أنا والله الذي لا إله إلا هو أدخلت ثابتا البناني لحده ومعي حميد الطويل أو رجل غيره شك محمد قال: فلما سوينا عليه اللبن سقطت لبنة فإذا أنا به يصلي في قبره فقلت للذي معه: ألا ترى؟ قال: اسكت فلما سوينا عليه وفرغنا أتينا ابنته فقلنا لها: ما كان عمل أبيك ثابت؟ فقالت: وما رأيتم؟ فأخبرناها فقالت: كان يقوم الليل خمسين سنة فإذا كان السحر قال في دعائه: اللهم إن كنت أعطيت أحدا من خلقك الصلاة في قبره فأعطنيها "، فما كان الله ليرد ذلك الدعاء
    (حلیة الاولیاء 2/319)
    یہ سند موضوع ہے۔ جسر کے بارے میں امام دارقطنیؒ نے کہا: "متروک‘ (سوالات البرقانیؒ 70 ) و ہ ضعیف متروک ہے۔ (تحفۃ الاقویاءء فی تحقیق كتاب الضعفاء:۵۴)

    جسر بن فرقد کا شاگردشیبان نا معلوم ہے۔ شیبان کا شاگر د محمد بن سنان (بن یزید ) ضعیف ہے۔ (تقریب التہذیب:۵۹۳۲)
    محمد بن سنان کا شاگرد اسماعیل بن الکرابیسی بھی مجہول الحال ہے۔ اس کے شاگر وابوعمر وعثمان بن محمد بن عثمان کی توثیق نا معلوم ہے ،یعنی یہ سند ظلمات ہے۔
    تنبیہ: ان مردود روایت کو مولوی عبدالحئی لکھنوی صاحب نے بحوالہ حلیۃ الاولیاء ( حدثنا عثمان بن محمد العثماني : حدثنا إسماعيل بن علي الكرابيسي : حدثني محمد بن سنان : حدثنا سنان عن أبيه‘‘ کی سند سے نقل کیا ہے۔ (دیکھے " اقامۃ الحجۃ على ان الاكثار في التعبد لیس ببدعۃ ۲۴ مجموعه رسائل لکھنوی ج ۲ ص 174) لکھنوی صاحب سے اسے زکریا دیوبندی صاحب نے اپنی کتاب " فضائل نماز“ ( تیسرا باب خشوع و خضوع سے بیان میں ) میں نقل کر کے عوام الناس کے سامنے پیش کر دیا ہے۔( نیز دیکھئے فضائل اعمال صفحہ361)| زکریا صاحب سے اسے کسی نور محمد قادری ( دیو بندی ) نامی شخص نے بطور استدال و حجت نقل کر کے "قبر میں نماز " اور "عقیدہ حیات قبر " کا ثبوت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھئے دیوبندیوں کا ماہنامه الخیر ملتان (جلد ۲۴ ثا رہ:۵، جون ۲۰۰۹ و ۲۴۹٫۲۵)


    عرض ہے که " محمد بن سنان القزاز " کے شدید ضعف اور الکرابیسی والعثمانی کی جہالت کے ساتھ ساتھ سنان اور اس سے باپ ( ابوسنان ) کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں ہے۔
    عین ممکن ہے کہ مولوی عبدالحئی لکھنوی والے نسخے میں"شيبان بن جسر عن أبيه )کو (سنان عن أبيه ‘‘ لکھ دیا گیا ہو۔
    اس مردود روایت کو مولوی عبدالحئی لکھنوی صاحب کا بغیرتحقیق و جرح سے نقل کرنا اور پھر ان کی کور انہ تقلید میں زکریا صاحب ،نورمحمدقادری دیوبندی اور مسئولین ماہنامہ الخیر ملتان کا عام لوگوں کے سامنے بطور حجت و استدلال پیش کرنا غلط حرکت ہے۔
    علماء کو چاہئے کہ عوام کے سامنے صرف وہی روایات پیش کریں جو کہ صحیح و ثابت ہوں ۔ اس سلسلے میں علماء کو چاہئے کہ پوری تحقیق کر یں ورنہ پھر خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ (عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَمَتَ نَجَا») جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔
    (کتاب الزھدلابن المبارک ۳۸۵ وسندہ حسن ،سنن التر مذی: 2501)
    خلاصة التحقيق
    یہ بات تو ثابت ہے کہ مشہورتا بعی جناب ثابت بن اسلم البنانی رحمہ الله قبر میں نماز پڑھنے کی دعاء کرتے تھے مگر یہ بات ثابت نہیں ہے کہ انھوں نے قبر میں نماز پڑھی ہے ۔
    ضعیف و متروک راویوں کی روایات کی بنیاد پر اس قسم کے دعوے کرنا کہ ثابت رحمہ اللہ قبر میں نماز پڑھتے تھے، غلط اور مردود ہے۔
    (۵ جمادی الاولی 1427ھ)​
    https://archive.org/stream/FatawailmiyaUrdu/FtaawaIlmiya1#page/n169
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 26، 2018 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

  7. ‏اگست 27، 2018 #7
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    جزاک اللّه شیخ اسحاق مشکور
     
  8. ‏اگست 27، 2018 #8
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    جزاک اللّه خیراً کثیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں