1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اہل حدیث صرف اپنے مطلب کی احادیث کو صحیح کہتے ہیں؟؟؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو زہران شاہ, ‏نومبر 09، 2018۔

  1. ‏نومبر 09، 2018 #1
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    محترم شیخ @اسحاق سلفی
    السلام عليكم ورحمۃ الله وبرکاتہ
    بعض اوقات جب ہم کسی مسئلے پر بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے تو کہتے ہیں کہ تم لوگ(اہلحدیث سلفی) اپنے مطلب کی احادیث کو صحیح کہتے ہو اور جب مطلب کی نہ ہو تو ضعیف کہتے ہو ۔
    مجھےآٹھ دس ایسی نازک احادیث(جس پر کوئی بھی ایمان نہیں لاسکتا ورنہ معاملہ خراب مثلاً ’’اذا رایتم معاویۃ علی منبری فاقتلوہ‘‘) درکار ہے جس کی سند ضعیف یا موضوع ہو کتاب کی حوالے کے ساتھ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 09، 2018
  2. ‏نومبر 10، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    حدیث صحیح یا ضعیف محدثین کے اصولوں کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ کسی کو غلطی لگ سکتی ہے، ایسی صورت میں تنبیہ کردینی چاہیے۔ اختلاف رائے اور مناظرانہ انداز میں بعض دفعہ عدل وانصاف کے تقاضے بھی برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن یہ سب رویے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    اہل حدیث وہی ہے، جو محدثین کے اصولوں کے مطابق حدیث کو صحیح یہ ضعیف قرار دیتا ہے۔
    اس حدیث کی میں نے خود تحقیق نہیں کی، لیکن کئی ایک اہل علم نے اسے ضعیف بلکہ موضوع قرار دیاہے۔
    وهذه أقوال المحققین من أهل السنة بخصوص هذا الحديث
    قال العقيلي في الضعفاء (1/280) بعد أن ذكر عدة أحاديث منها هذا الحديث قال :
    « ولا يصح عن النبي عليه الصلاة والسلام في هذا المتون من وجه يثبت » (39) .
    وقال ابن حبان في المجروحين (1/171) ترجمة أحمد بن محمد بن بشر بن فضالة بعد أن ذكر له أحاديث هذا منها قال : « وهذه الأحاديث التي ذكرناها أكثرها مقلوبة ومعمولة ، عملت يداه » .
    وقال ابن الجوزي في الموضوعات ( 2 / 266 ) ( هذا الحديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ) وفي الموضوعات ( 2 / 264 ) ذكره ابن الجوزي من الأحاديث التي وضعت في ذم معاوية .
    وقال ابن عساكر في تاريخ دمشق (59/157) : « وهذه الأسانيد كلها فيها مقال » .
    وقال شيخ الإسلام ابن تيمية في « منهاج السنة النبوية » (2/259) : « وهذا الحديث ليس في شيء من كتب الإسلام وهو عند الحفاظ كذب وذكره ابن الجوزي في الموضوعات » .
    وقال الحافظ الذهبي في سير أعلام النبلاء (3/150) : « هذا كذب » .
    وقال الحافظ ابن كثير في البداية والنهاية (8/91) : « وهذا الحديث كذب بلا شك ولو كان صحيحا لبادر الصحابة إلى فعل ذلك لأنهم لا تأخذهم في الله لومة لائم »
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 10، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,401
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کیلئے ایک کتاب پیش ہے ،اس کا توجہ سے مطالعہ فرمائیں ؛
    ان شاء اللہ آپ کے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔
    کتاب : سو 100مشہور ضعیف احادیث
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں