1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

کیا اہل حدیث نام اپنے آگے لگانا ضروری ہے؟

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏ستمبر 24، 2011۔

  1. ‏ستمبر 24، 2011 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    12,481
    موصول شکریہ جات:
    16,670
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    علوی صاحب ایک بات ذہن میں آئی ہے کی کیا اہل حدیث نام اپنے آگے لگانا ضروری ہے،؟
    کیا ہم اپنے آپکو مسلمان نہیں کہہ سکتے؟ قرآن اور حدیث پر جو عمل کرتا ہے وہ یقینن حق پر ہے اسکے لئے اہل حدیث سے رشتہ جوڑنا ضروری ہے؟

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٠٢﴾
    مومنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا - سورة آل عمران 102
    • شکریہ شکریہ x 12
  2. ‏ستمبر 27، 2011 #2
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,672
    موصول شکریہ جات:
    5,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    368

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
    محترم اب یہ کتابی باتیں ہیں کہ آپ خود کو صرف مسلم یا مسلمان کہنے کے بعد کسی اور تعارف کی ضرورت محسوس نہ کریں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت اپنا مکمل تعارف کروائے بغیر کوئی چارہ نہیں آج خود کو مسلمان کہنے والے لاتعداد فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک قادیانی بھی خود کو مسلمان کہلاوانے پر بضد ہے۔ایک قبر پرست مشرک بھی مسلمان ہونے کا دعویدار ہے۔ ایک اندھا اکابر پرست بدعتی بھی مسلمان ہے تو احادیث کی حجیت کا انکار کرنے والا بھی اپنا تعارف ایک مسلمان کہہ کر ہی کرواتا ہے۔
    اب میں عامر بھائی سے پوچھتا ہوں کہ آپ کون سے مسلمان ہیں؟

    1۔ کیا قادیانی مسلمان؟
    2۔ کیا قبر پرست اور مشرک بریلوی مسلمان؟
    3۔ کیا اندھا اکابر پرست بدعتی دیوبندی مسلمان؟
    4۔ کیا امام کو اپنا رب بنا لینے والا اندھا مقلد حنفی مسلمان؟
    5۔ کیا احادیث کو نہ ماننے والا منکر حدیث و پرویزی مسلمان؟
    6۔ کیا عذاب قبر کا منکر برزخی مسلمان؟
    7۔ کیا اپنے سوا سب کو کافر کہنے والا اور خود کو صرف مسلم کہنے والا خارجی مسلمان؟
    8۔ کیا قرآن وحدیث پر فہم سلف صالحین کی روشنی میں عمل کرنے والا اہل حدیث مسلمان؟

    امید ہے عامر بھائی کو بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ مسلمان تو سب ہی ہیں لیکن خود کو اہل حدیث کہنا کتنا ضروری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے دور مبارک میں جب خارجی فرقہ ظاہر ہوا تو وہ بھی خود کو مسلمان کہتے تھے اور صحابہ بھی۔ پھر اہل باطل اور اہل حق کے درمیان امتیاز اور پہچان کے لئے صحابہ کے لئے اہل سنت کے لفظ استعمال ہونا شروع ہوا۔ آج بھی جب خود کو کوئی اہل حدیث کہتا ہے تو اس کا مقصد صرف اور صرف اہل باطل کے درمیان فرق مقصود ہوتا ہے تاکہ سننے والا جان لے کہ اس کا تعلق کسی بدعتی یا گمراہ فرقے سے نہیں بلکہ فہم سلف صالحین کے مطابق قرآن و حدیث پر عمل کرنے والے اہل حدیث فرقے سے ہے۔
    • شکریہ شکریہ x 14
  3. ‏ستمبر 27، 2011 #3
    اہل الحدیث

    اہل الحدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    90
    موصول شکریہ جات:
    543
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اہل حدیث فرقے؟؟؟

    اہل حدیث کوئی فرقہ نہیں بلکہ کتاب و سنت کی طرف دعوت دینے والی جماعت ہے بھائی جان!!!!!!!
    • شکریہ شکریہ x 12
  4. ‏ستمبر 27، 2011 #4
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    889
    موصول شکریہ جات:
    3,967
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    :)
    شاہد نذیر بھائی ! اب ایسا تو ہر مکتب فکر والا یونہی اس سلسلہ میں اپنا نمبر سب سے آخر میں اسی طرح پیش کرے گا کہ "اہل حدیث" کا لفظ ہٹا کر اپنی پسند کا لفظ لکھ لے گا۔
    پھر ہم آپ ایک لمبی بحث لے کر آ جائیں گے کہ نہیں بھائی ! یہ اہل حدیث ہی ہیں جو قرآن وحدیث پر فہم سلف صالحین کی روشنی میں عمل کرتے ہیں۔ جواب میں فریق مخالف بھی یہی راگ الاپے گا۔ پھر بحث در بحث سلسلہ چلے گا اور یوں نہ آپ قائل ہوں گے اور نہ وہ۔
    اس لیے گذارش ہے کہ یوں کسی خاص لقب پر لٹھ لے کر اصرار کرنے کے بجائے سلف الصالحین کی ان تعلیمات کی پیشکشی پر توجہ فرمائیں جس سے ہر کسی کے علم میں اضافہ ہو اور وہ عمل کی جانب بھی راغب ہوں۔
    • شکریہ شکریہ x 13
    • پسند پسند x 1
  5. ‏ستمبر 27، 2011 #5
    Mohd Mubarak

    Mohd Mubarak مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 27، 2011
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ٍشكريه بهائي جان
    • شکریہ شکریہ x 7
  6. ‏ستمبر 27، 2011 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    1,534
    موصول شکریہ جات:
    4,570
    تمغے کے پوائنٹ:
    374

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    مبارک بھائ! اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ کے نام کو انگریزی میں یا تو مکمل لکھنا چاہئے یا صرف "ایم" ۔ "ایم ڈی" یا "ایم او ایچ ڈی" کبھی نہیں لکھنا چاہئے۔ اس کے غلط مطلب بھی نکلتے ہیں۔لہذا آپ سے دردمندانہ درخواست ہے کہ اپنے یوزر نیم کو اس کے مطابق تبدیل کر لیں ۔ شکریہ
    • شکریہ شکریہ x 14
  7. ‏ستمبر 27، 2011 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    16,780
    موصول شکریہ جات:
    39,892
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,141

    السلام علیکم
    اہلحدیث مسلک کا سب سے بڑا منہج اور دعوت "عقیدہ توحید" ہے لہذا سبھی بھائیوں سے گزارش ہے کہ توحید کے موضوع پر زیادہ سے زیادہ مواد شئیر کریں اور آپس کے اختلاف سے بچیں۔اس قسم کی بحث سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔باذوق بھائی کی یہ بات ٹھیک ہے کہ یوں بحث در بحث کا سلسلہ چلتا جائے گا۔دنیا میں کفر و شرک اتنا عام ہے کہ لوگوں کے عقیدے دیکھیں تو بہت افسوس ہوتا ہے۔بجائے آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے اس قیمتی وقت کو قیمتی تحاریر لکھنے میں صرف کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
    میری بات سے کسی بھائی کو تکلیف پہنچی ہو تو معذرت۔
    • شکریہ شکریہ x 14
  8. ‏ستمبر 28، 2011 #8
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    12,481
    موصول شکریہ جات:
    16,670
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ شاہد نذیربھائی جان.

    آپ نے کہا کی اب مسلمان اپنے آپ کو کہنا صرف کتابی باتیں رہ گئی ہے. بھائی جان یہ کتابی باتیں مجھے نہیں لگتی ، یہ تو ایک اٹل حقیقت ہے،
    وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَ‌اهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿البقرة: ١٣٢﴾
    اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا

    آپ کی بات صحیح ہے کی اپنا مکمل تعارف کراے بغیر چرا نہیں.

    یہ موضوع میں نے لڑائی جھگڑے کے لئے نہیں شروع کیا، بلکہ خود اپنی اصلاح کے لئے شروع کیا ہے.
    کیا کوئی بھائی جو میں نے آیت پیش کی ہے اسکا کوئی جواب دے سکتا ہے.؟؟
    • شکریہ شکریہ x 10
  9. ‏ستمبر 28، 2011 #9
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,290
    موصول شکریہ جات:
    11,256
    تمغے کے پوائنٹ:
    587

    اس بارے اہل الحدیث اہل علم کا اختلاف ہے کہ اہل حدیث نام اپنے ساتھ لگانا ضروری ہے یا نہیں؟
    بعض اس کو ضروری سمجھتے ہیں یعنی واجب یا فرض کا درجہ دیتے ہیں جبکہ بعض کے نزدیک اصل چیز اہل حدیث کی فکر اور منہج ہے، یہ ہونی چاہیے، چاہیے نام کچھ بھی ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا جیسا کہ سید احمد شہید بریلوی اپنے نام کے ساتھ بریلوی لگاتے تھے اور اب کچھ حنفی علماء نے اپنے ناموں کے ساتھ سلفی لگانا شروع کر دیا ہے کہ دعوی یہ کیا ہے کہ اصل سلفی، حنفی ہیں۔

    پس میرے خیال میں اگر آپ کا عقیدہ اور منہج اہل حدیث کا ہے تو بھلے آپ اپنے نام کے ساتھ بریلوی لگائیں یا اہل حدیث، اس سے آپ کی اخروی نجات متاثر نہیں ہو گی۔ اور اگر آپ کا عقیدہ و منہج اہل الحدیث کا نہیں ہے اور آپ اپنے آپ کو اہل حدیث یا سلفی وغیرہ لکھتے ہیں تو اس صورت میں یہ نام آپ کو آخرت میں کچھ بھی کام نہ آئیں گے۔ پس اصل نام نہیں ہے بلکہ فکر و عمل یا عقیدہ و منہج ہے، وہ درست ہونا چاہیے۔

    اہل کتاب میں بھی ایک وقت میں ناموں کے بارے حساسیت بہت بڑھ گئی تھی، یہاں تک کہ اپنے باہمی اختلافات کی بدولت جب وہ فرقوں میں بٹ گئے تو اب ان فرقوں میں کسی داخل یا خارج کرنے کا کام اور اس پر مناظرہ کرنا ہی دین کی اصل خدمت قرار پائی۔ یہاں تک کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے بھی اختلاف کرنے لگے۔ یہودیوں نے کہا کہ وہ یہودی تھے یعنی ہمارا بندہ تھا اور عیسائیوں نے کہا کہ ہمارے تھے۔ اس پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    مَا كَانَ إِبْرَ‌اهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَ‌انِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ ﴿٦٧
    ہمارے ہاں شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے بارے یہ مکالمہ ہوا ہے کہ وہ بریلوی تھے یا دیوبندی یا اہل حدیث۔

    مسلمان کے علاوہ کسی گروہ یا جمعیت یا انجمن یا قبیلے کا نام رکھنے کی نہ تو ممانعت ہے اور نہ ہی ممنوع ہے۔ بات یہ ہے کہ جب ان ناموں کے بارے حساسیت بڑھ جاتی ہے اور ان ناموں کا اسلام کا مترادف قرار دیے جانے کی سوچ بڑھ جاتی ہے تو پھر یہ چیز شریعت اسلامیہ کی نظر میں مذموم ہے۔

    بہر حال یہ دلیل درست نہیں ہے کہ قادیانی یا منکرین حدیث بھی چونکہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لہذا مسلمان کے علاوہ بھی لازما کوئی سابقہ یا لاحقہ ہونا چاہیے۔ کل کلاں، بلکہ کل کیا آج ہی یہ ہو رہا ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے اپنے آپ کو سلفی کہنا شروع کر دیا ہے اور وہ دن دور نہیں ہے کہ جب بریلوی اور دیوبندی بھی اپنے ناموں کے ساتھ اہل حدیث کا اضافہ کر لیں گے تو پھر آپ کو ضرورت پڑے گی کہ آپ اپنے نام کے ساتھ اس سابقہ یا لاحقہ کا اضافہ کریں کہ 'اصلی اہل حدیث' جیسا کہ اصلی اہل سنت یا اصلی سلفی کی اصطلاحات تو معروف ہو چکی ہیں کیونکہ مدمقابل فکر رکھنے والوں نے بھی اپنے آپ کو ان ناموں سے معروف کر دیا تھا۔ پھر اصلی اہل حدیث میں بھی کئی ورژن آئیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    میرے خیال میں کوشش کریں کہ قرون اولی کے اہل الحدیث یعنی صحابہ، تابعین، ائمہ ثلاثہ اور محدثین عظام کی فکر و عقیدہ اور منہج و عمل کو اپنانے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں، اور کوئی آپ کو اہل حدیث کہتا ہے یا نہیں، یا مانتا ہے یا نہیں، یا اہل حدیث جماعت میں داخل کرتا ہے یا نہیں، اس سے صرف نظر کرتے ہوئے بس کام کرتے جائیں۔

    میرے تلامذہ میں بیسیوں ایسے دیوبندی اور بریلوی ہیں کہ تدریس کی بدولت ان کا عقیدہ اہل حدیث کا بن گیا اور انہوں نے نماز و دیگر مسائل میں احادیث صحیحہ کے مطابق عمل شروع کر دیا لیکن وہ اپنا تعارف بطور اہل حدیث کروانا پسند نہیں کرتے ہیں اور اس کی ان کے نزدیک کچھ وجوہات ہیں بلکہ بعض اہل حدیث تو میں نے ایسے بھی دیکھے ہیں جو اپنے نام کے ساتھ جان بوجھ کر بریلوی لگاتے ہیں کیونکہ وہ سابقہ بریلوی تھے اور اب بریلویوں میں دعوت و تبلیغ کا کام بریلوی نام سے کر رہے ہیں۔ یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ براءے نام بریلوی یا دیوبندی رہیں لیکن ان کے اذہان و قلوب اہل حدیث کے ہو جاءیں جیسا کہ انگریز نے ہماری اکثریت کو برائے نام تو مسلمان رہنے دیا لیکن ذہنا انگریز بنا دیا۔ اسے آپ حکمت کہیں یا کچھ اور نام دیں لیکن مجھے بہر حال اہل حدیث نام استعمال کرنے میں کوئی حساسیت نہیں ہے۔ اگر آپ کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں اور نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں اور یہ دیکھیں کہ آپ کی دعوت کے پھیلنے میں کیا چیز زیادہ مفید ہے۔ اہل حدیث کا نام استعمال کرنا یا نہ کرنا اور جو مفید ہے اس کے مطابق دعوت پھیلائیں۔
    جزاکم اللہ خیرا
    • شکریہ شکریہ x 21
    • زبردست زبردست x 1
  10. ‏ستمبر 28، 2011 #10
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,159
    موصول شکریہ جات:
    21,094
    تمغے کے پوائنٹ:
    877

    علوی بھائی جان، اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرمائیں۔ آب زر سے لکھے جانے لائق ہے اوپر کی پوری پوسٹ۔۔!!!
    • شکریہ شکریہ x 10
    • متفق متفق x 2

اس صفحے کو مشتہر کریں