1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا بدعت حسنہ کے رد میں امام مالک رح کا قول امام مالک رح سے ثابت ہے؟

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏دسمبر 18، 2015۔

  1. ‏دسمبر 18، 2015 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    497
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    اہل علم سے گزارش ہے کہ اسکا جواب دیں بہت ضروری ہے اسکا جاننا میرے لئے کہ امام مالک رح سے ایک قول منقول ہے الاعتصام للشاطبی ص ۶۴،۶۵ پر کہ انھوں نے بدعت حسنہ کا رد کیا ہے ـ مجھے بس اتنا جاننا ہے کہ یہ قول امام مالک رح سے با سند ثابت ہے؟ ؟ اور اگر ثابت ہے تو اسکی سند صحیح ہے؟ برائے مہربانی اصلاح کریں

    جزاک اللہ خیرا

    اسکین ملاحظہ ہو

    12398740_1483535625288116_1882051948_o.jpg
     
  2. ‏دسمبر 19، 2015 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    497
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

  3. ‏دسمبر 19، 2015 #3
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    اگر حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ بدعت حسنہ کے مخالف تھے تو عرض ہے کہ :
    d.jpg e.jpg
     
  4. ‏دسمبر 19، 2015 #4
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    21.jpg 22.jpg 23.jpg 24.jpg
     
  5. ‏دسمبر 20، 2015 #5
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    @khalil rana صاحب
    بقول آپکے امام مالک رحمہ اللہ کو کون سی حدیث سے اتنے ادب و احترام کا سبق ملا کہ d.jpg

    تو یہاں تو آپ لوگ میرے خیال سےکسی "حدیث" کے تحت ہی اتنا نبی علیہ السلام کے لئے تعظیم و توقیر کررہے ہیں،
    1.jpg

    2.jpeg

    3.jpg

    جب آپ اوپر دئیے "ادب و احترام" کا ثبوت "کسی حدیث و قرآن" سے عنایت کردیں گے، تو ہم پھر امام مالک رحمہ اللہ کا عمل جو انکے ادب و احترام نبی علیہ السلام کے لئے ہوتا تھا، انکے لئے کوئی حدیث بھی انشاء اللہ پیش کردیں گے۔

    ویسے بائی دے وے کیا اوپر دئیے ہوئی تصاویر کے لوگوں کا احترام و تعظیم اور امام مالک رحمہ اللہ کے ادب و احترام و تعظیم میں کوئی فرق دکھائی دے رہا ہے آپکو؟؟؟؟؟؟
     
  6. ‏دسمبر 21، 2015 #6
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    بریلویوں کو تو کوئی دلیل نہیں ملی لیکن وھابیہ کو حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کے فعل پر دلیل مل گئی ہے جو انہوں نے یہاں بیان بھی کردی ہے، کیا بات آپ کے جواب کی۔
    کسی نے سچ کہا وھابیہ میں عقل نہیں ہوتی،جب آپ لوگ بریلویوں سے میلاد کے طریقوں کی خاص دلیل مانگتے ہیں تو بریلویوں کو خاص دلیل مانگنے کا کوئی حق نہیں، اس بات کے جواب میں ہر تھریڈ پر وھابیہ کی بے بسی قابل دید ہے۔
     
  7. ‏دسمبر 21، 2015 #7
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,500
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    امام ابن حزم نے اس کی سند یوں بیان کی ہے:
    حدثنا أحمد بن عمر بن أنس نا الحسين بن يعقوب نا سعيد بن فحلون نا يونس بن يحيى المفامي نا عبد الملك بن حبيب أخبرني بن الماجشون أنه قال قال مالك بن أنس من أحدث في هذه الأمة اليوم شيئا لم يكن عليه سلفها فقد زعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خان الرسالة لأن الله تعالى يقول {حرمت عليكم لميتة ولدم ولحم لخنزير ومآ أهل لغير لله به ولمنخنقة ولموقوذة ولمتردية ولنطيحة ومآ أكل لسبع إلا ما ذكيتم وما ذبح على لنصب وأن تستقسموا بلأزلام ذلكم فسق ليوم يئس لذين كفروا من دينكم فلا تخشوهم وخشون ليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم لأسلام دينا فمن ضطر في مخمصة غير متجانف لإثم فإن لله غفور رحيم} فما لم يكن يومئذ دينا لا يكون اليوم دينا
    اس کی سند میں حسین بن یعقوب کے علاوہ سب ثقہ وصدوق ہیں اور الحسین بن یعقوب، ابن حبیب کی کتاب کے راوی ہیں ان سے کئی محدثوں سمیت امام ابن عبد البر نے بھی روایت لی ہے۔ اور تاریخ الاسلام میں ان کے ترجمے سے لگتا ہے کہ وہ عادل شخص ہیں۔ لہٰذا ان قسم کے اقوال میں اتنی سختی نہیں برتنی چاہیے۔

    اس کے علاوہ امام شاطبی نے یہ قول الاعتصام میں ایک اور جگہ پر ذکر کیا ہے اور وہاں سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ قول ابن حبیب کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ اور دیگر جگہوں پر بھی امام شاطبی کا ان کی اور دیگر مالکی فقہاء کی کتاب سے نقل کرنا معروف ہے۔ لہٰذا صاحبِ کتب سے جب نقل کیا جائے تو اسناد کی ضرورت نہیں ہوتی۔
     
  8. ‏دسمبر 21، 2015 #8
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    جب بریلویں کے پاس کوئی "دلیل" ہی نہیں تو اسکا مطلب یہ انکا جشن منانا "بلادلیل" ہے۔ سبحان اللہ، آپکے الفاظ نے ہمارے اس موقف کی تصدیق کردی یہ جشن میلاد منانا بدعت ہے کیونکہ اسکی شریعت میں کوئی دلیل نہیں، کیا بات ہے آپکے جواب کی

    کہاں بیان کردی بھائی جان ہم نے، ذرا عرض کرینگے آپ، کیا آپکو اتنا بڑا شرطیہ جملہ یہاں نظر نہیں آیا؟؟؟؟

    (( جب آپ اوپر دئیے "ادب و احترام" کا ثبوت "کسی حدیث و قرآن" سے عنایت کردیں گے، تو ہم پھر امام مالک رحمہ اللہ کا عمل جو انکے ادب و احترام نبی علیہ السلام کے لئے ہوتا تھا، انکے لئے کوئی حدیث بھی انشاء اللہ پیش کردیں گے۔))

    اور ہمیں پتہ تھا کہ آپ کے پاس ایسی کوئی "حدیث و آیت" سرے سے ہوگی ہی نہیں جو اس مروجہ بدعتی جشن عید المیلاد کو اس طرح سے منانے کے لئے ہو۔ اسی لئے جملے میں یہ شرطیہ الفاظ کہے گئے۔ لیکن ہمیں پتہ تھا کہ
    نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی

    لیکن سچ تو یہ ہے کہ "ہر جاہل بریلوی نہیں ہوتا، لیکن ہر بریلوی جاہل ضرور ہوتا ہے، اس تھریڈ کو جو بلاتعصب اور بلا کسی مسلکی رنگ کے پڑھے گا، اسکو یہ بات ضرور محسوس ہوگی۔

    اور بے بس اور لاچار کون ہے، یہ بھی دنیا دیکھ رہی ہے، جو آج تک اپنے اس مروجہ جشن میلاد کو ایک بھی دلیل سے ثابت نہیں کرپایا۔

    خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے
    یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
     
  9. ‏دسمبر 21، 2015 #9
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    جاہل کون ہے یہ تو عقل سلیم رکھنے والا جان جائے گا، آپ کو طنزیہ عبارت کی ہی سمجھ نہیں تو آپ میرے اعتراض کا کیا جواب دینے بیٹھے ہیں۔
    یہ طنز کے طور پر لکھا کہ وھابیہ کو حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کے فعل پر دلیل مل گئی ہے جو انہوں نے یہاں بیان بھی کردی ہے، کیا بات آپ کے جواب کی۔
    آپ بوکھلا کیوں گئے ہیں،میلاد کے ثبوت پر تو اس تھریڈ میں بات ہی نہیں ہورہی، بات تو حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کے طریقہ ادب پر ہورہی ہے ، اگر تم اپنی بے عقلی کی وجہ سے کہو کہ تم نے اپنی تحریر میں میلاد کا لفظ لکھا ہے تو جناب یہ لفظ ضمنا آیا ہے ، اصل بات وہی ہے کہ امام مالک رضی اللہ عنہ کے فعل پر صحیح حدیث یہاں لکھ دو۔
    میں حیران ہوں کہ جن کو بات بھی سمجھ نہیں آتی وہ اس فورم میں ممبر ہیں۔
     
  10. ‏دسمبر 21، 2015 #10
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    خلیل صاحب، پہلے اس بات کا جواب تو دو
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں