1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

کیا بینک میں نوکری کرنا صحیح ہے ؟؟؟

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از ام عبدالرحمٰن, ‏نومبر 18، 2013۔

  1. ‏نومبر 18، 2013 #1
    ام عبدالرحمٰن

    ام عبدالرحمٰن رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 10، 2013
    پیغامات:
    365
    موصول شکریہ جات:
    314
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    اسلام علیکم ۔۔

    اللہ پاک نے قرآن پاک میں بہت جگہ پر سود لینے سے منع فرمایا ہے اور اسے حرام قرار دیا ہے ۔۔

    الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥) سورہ بقرہ
    جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٢٧٨﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴿٢٧٩﴾ سورہ بقرہ
    مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّ‌بَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿١٣٠﴾
    سورہ آلِ عمران ۔
    اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو۔

    تو ہمارے ملک میں جو بینک کا نظام ہے وہ بھی تو سود کے زمرے میں آتا ہے تو انسان سود سے کیسے بچے کیونکہ آج کل تو تنخوائیں ئی بینک میں آتی ہیں تو وہ بھی تو ایک طرح سے سود ہی ہوا نا؟؟؟ کیا اسی طرح کسی بینک میں نوکری کرنا بھی غلط ہی ہوا ؟؟؟ کیونکہ جو تنخواہ ملتی ہے وہ بھی تو رِبا سے ہی آتی ہے ۔۔
    آپ سب سے گذارش ہے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔۔۔
    جزاک اللہ ۔۔۔
    کلیم حیدر
    محمد ارسلان
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 18، 2013 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,794
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بینک کی ملازمت کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    بینک کی ملازمت کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ کیا الیکٹریشن اور چوکیدار ان لوگوں سے مستثنیٰ ہیں جو سودی کام کرتے ہیں؟
    (۲)بعض بینک ملازمین یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ مجبوراً یہ نوکری کر رہے ہیں اور کوئی وسائل نہیں کہ یہ نوکری چھوڑ دی جائے نیز ایسے لوگوں کے گھروں سے کھانا اور ان سے تعلق رکھنا کیسا ہے؟ (عبداللطیف تبسم)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


    رائج الوقت بینک سودی ہیں اس لیے ان میں ملازمت ناجائز اور حرام ہے ۔ بینک میں الیکٹریشن اور چوکیدار سود لینے دینے والوں میں تو شامل نہیں البتہ سودی لین دین والے کاروبار میں معاون ضرور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [''گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کیا کرو۔'']
    (۲) اس عذر کی کوئی وجہ جواز نہیں ایسے لوگوں کا کھانا کھانا پانی پینا درست نہیں۔ خود انہیں کھلا پلا لے اور انہیں وعظ و نصیحت کرتا رہے۔ ۳/۹/۱۴۲۱ھ
    قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل​
    جلد 02 ص 497​
    محدث فتویٰ​
     
    • پسند پسند x 6
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 18، 2013 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,022
    موصول شکریہ جات:
    1,152
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    آپ نے اوپر کی پوسٹ مجھے ٹیگ کی ہےتو بہن کہنا یہ ہے کہ میرا اصل فیلڈ تو یہی ہیں اور اس پر معلومات بھی ہیں مگر لوگوں کے تیروں کا رخ باہر کی طرف کرنے کے لئے کہیں اور پھنس گیا ہوں-
    اوپر پوسٹ میں آپنے کچھ سوال کیے ہیں جن پر فردا فردا میں اپنی معلومات دوں گا مگر چونکہ میں مستند عالم نہیں ہوں اسلیئے ان معلومات کو مسئلہ کو بہتر سمجھنے کے لئے بنیاد تو بنایا جا سکتا ہے مگر حتمی رائے کسی مستند عالم سے لازمی لے لیں

    میری بہن واقعی صرف ہمارے ملک میں نہیں بلکہ ہر ملک میں بلکہ شریعت والے ملک سعودی عرب تک میں بنک کا نظام سودی ہی ہے اس پر میرے خیال میں علماء میں اختلاف نہیں البتہ ایک نئی بینکاری شروع کی گئی ہے جسکو اسلامی بینکاری کا نام دیا گیا ہے اس کے ناجائز ہونے پر کچھ علماء اختلاف کرتے ہیں مگر وہ ایسے ہی ہے جیسے رفع یدین نہ کرنے والے تاویلیں کرتے ہیں اس پر بحث کے لئے شاہد علیحدہ سیکشن ہے

    یہاں میری بہن شیطان دو چیزوں کو گڈ مڈ کر دیتا ہے جیسا کہ قرآن سود والوں کا قول بتاتا ہے کہ انما البیع مثل الربو (تجارت بھی تو سود کی طرح ہے) یہاں بھی اسی طرح لا شعوری طور پر حق کو باطل کے ساتھ مختلف طرح گڈ مڈ کرتا ہے مثلا وسوسہ ڈالتا ہے کہ سود سے بچا بھی نہیں جا سکتا سرکاری ملازم کی تنخواہ بھی تو حکومت سود کی کمائی سے دیتی ہے وغیرہ
    اس کے لئے میں بحث کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہوں گا تاکہ شیطان کو گڈ مڈ کرنے کا موقع نہ ملے اور اسکی تلبیس واضح ہو سکے
    1۔کسی فی نفسہ حرام چیز کے لئے کسی خاص صورت میں شارع کی طرف سے رخصت دینے سے اسکی فی نفسہ حرمت ختم نہیں ہو گی مثلا خنزیر فی نفسہ حرام ہے لیکن فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ (جو مجبور ہو باغی اور عادی نہ ہو اس پر گناہ نہیں) کے تحت رخصت ہونے سے اس کو مطلقا جائز نہیں کہ دیں گے بلکہ سب کو اسکی فی نفسہ حرمت لازمی بتانی ہو گی
    2۔فی نفسہ حرمت کو مانتے ہوئے مجبوری کی تشریح یا وضاحت یا تعین کون کرے گا تو اسکے لئے اتنے زیادہ علم کی ضرورت نہیں بلکہ اخلاص نیت کی ضرورت ہے مثلا کوئی کہے کہ میں مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے کتے کا گوشت کھان چاہتا ہوں تو یہ غیر باغ کے خلاف ہو گا جس سے مراد ہے کہ شریعت کے باغی ہونے کہ نیت نہ ہو اور اسکا پتا اس سے چلتا ہے کہ آیا کوئی اور راستہ زندگی بچانے کا ہے کہ نہیں- یہ شرط پوری ہونے کے بعد بھی ولا عاد کی شرط ہے کہ جتنی ضرورت ہے اتنا کھانا ہے تکے بنابنا کے کھانا شروع نہیں کر دے- اب اگر کوئی سرکاری ملازمت میں سود سمجھتا ہے مگر مجبوری ظاہر کر کے کھانا چاہتا ہے تو میرے خیال میں اسکے لئے سود جائز نہیں ہو گا کیونکہ دوسری نوکریاں حتی کہ ریڑھی لگانا، مزدوری، وغیرہ کا متبادل موجود ہے ہاں جو سرکارہ ملازمت میں سود نہیں سمجھتا تو اسکے لئے جائز ہے
    اب میں بہن کے اعتراض کی طرف آتا ہوں کہ اسمیں بھی مختلف صورتوں کے لئے مختلف بات ہو سکتے ہے مثلا
    1۔تنخواہوں کا بینکوں کے ذریعےسے حاصل کرنا- اسمیں ایک تو یہ بات ہے کہ اسمیں سود کے گناہ کی بجائے ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (برے کاوں میں تعاون نہ کرو) کا حکم لگتا ہے ہاں اگر کوئی سیکورٹی وغیرہ کی مجبوری ہو تو وہ اعتراض بھی ختم ہو سکتا ہے اسکی مماثلت پاکستان میں شناختی کارڈ یا حج کے لئے عورت تک کا شناختی کارڈ بنوانے سے دی جا سکتی ہے جہاں گورنمنٹ کی اپنی مجبوری ہے اور ہمیں اسنے مجبور کیا ہوا ہے

    جی میری بہن بینک میں نوکری کرنا حرام ہے اسکی تھوڑی وضاحت کروں گا کہ میرے علم کے مطابق اس حرمت کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں
    1۔سود کا ہونا- اسمیں اس حدیث کو بھی دیکھا جائے گا کہ سود لینے والا، دینے والا، لکھنے والا اور گواہ برابر ہوتے ہیں پس جو بنک کے ملازم ان کے تحت آتے ہیں ان کے لئے وجہ سود بھی ہو گی اور برے کام پر تعاون کی وجہ تو ہو گی ہی-
    2۔برے کام میں تعاون کرنا-جیسے میں نے اوپر ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان والی آیت لکھی ہے- اس میں باقی ملازمیں آئیں گے
    یوسف ثانی
    خضر حیات
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 18، 2013 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,704
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    سودى بنكوں ميں ملازمت كرنا !!!

    مجھے بنك ميں ملازمت كرنے كى پيشكش ہوئى ہے، بنك ميں ملازمت كے متعلق حكم كے بارہ ميں مجھے مكمل يقينى علم نہيں ہے، كيونكہ بنك سودى منافع كا كاروبار كرتے ہيں، ميرى گزارش ہے كہ يہ بتايا جائے كہ آيا بنك ميں ملازمت كرنى جائز ہے يا ناجائز ؟

    الحمد للہ :

    آپ اس كا جواب مندرجہ ذيل حديث ميں ديكھ سكتے ہيں:

    جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:


    امام نووى رحمہ اللہ تعالى اس كى شرح ميں كہتے ہيں:

    اس ميں سودى معاملات كرنے والوں كى بيع لكھنے اور اس پر گواہى دينے كى صراحتا تحريم ہے، اور اس ميں باطل پر معاونت كرنے كى بھى صراحت پائى جاتى ہے. واللہ اعلم.

    لہذا سودى بنك ميں ملازمت كرنے والا شخص كسى بھى طريقہ سے يا پھر عملى طور پر سودى لين دين ميں معاونت ضرور كرتا ہے، اگرچہ وہ بنك كا چوكيدار ہى كيوں نہ ہو.

    ميرے مسلمان بھائى ہو سكتا ہے - جب آپ صبر كريں تو - اللہ تعالى آپ كو كوئى حلال كام مہيا كر دے.

    فرمان بارى تعالى ہے:


    واللہ اعلم .
    الشيخ محمد صالح المنجد
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 18، 2013 #5
    ام عبدالرحمٰن

    ام عبدالرحمٰن رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 10، 2013
    پیغامات:
    365
    موصول شکریہ جات:
    314
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    ہماری حکومت ایسا نظام کیوں نہیں نافذ کرتی جس میں سود کا لینا دینا نہ ہو ۔۔ کم از کم ایسی بینک تو بنائی جا سکتی ہیں جن میں سود کا نظام نہ ہو اور انسان اپنا اکاؤنٹ بنا لے وہاں سود سے بچنے ک لئے ۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 18، 2013 #6
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,022
    موصول شکریہ جات:
    1,152
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    میری بہن اس بارے قرآن کہتا ہے انما علیک الابلاغ و علینا الحساب (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر پیغام پہنچانا ہے اور اور محاسبہ کرنا ہمارا کام ہے) اگرچہ فلعلک باخع نفسک علی اٰثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفا کے تحت جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو غم ہوتا تھا تو آپکا غم انتہائی قابل تحسین ہے اللہ آپکو اسپر اجر دے امین

    جہاں تک اکاؤنٹ بنانے کی بات ہے تو میرے خیال میں کسی بھی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں سود نہیں ہوتا البتہ گناہ پر تعاون والی بات ہوتی ہے لیکن آپ کی جائز مجبوری کی صورت وہ بھی ختم ہو جاتی ہے جیسا کہ میں نے اوپر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی مثال دی تھی
    البتہ اگر آپکی خواہش ہے بینک والے باقی کاموں کے لئے کوئی متبادل نظام دیا جائے تو اس پر ابھی مصروفیت کی وجہ سے کچھ نہیں لکھ سکتا بعد میں ان شاء اللہ کافی تفصیل سے بشرط فرصت تھریڈ شروع کروں گا جزا کِ اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 18، 2013 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,704
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    سودى بنكوں سے لين دين كرنا


    سودى بنكوں كے ساتھ لين دين كرنے كا حكم.

    الحمد للہ :

    سوال:

    مندرجہ ذيل اشخاص كا حكم كيا ہے:

    - وہ شخص جو بنك ميں رقم ركھے اور سال گزرنے پر فائدہ حاصل كرے؟
    - كچھ مدت كے ليے بنك سے فائدہ پر قرض حاصل كرنے والا شخص؟
    - وہ شخص جو ان بنكوں ميں رقم ركھے ليكن اس پر فائدہ حاصل نہ كرے؟
    - ان بنكوں ميں ملازمت كرنے والا شخص چاہے وہ مينجر ہو يا كوئى اور؟
    بنك كو اپنى جگہ اور مكان كرايہ پر دينے والے كا حكم كيا ہے؟

    جواب:

    الحمد للہ:

    بنكوں ميں نہ تو فائدہ كے ساتھ رقم ركھى جاسكتى ہے اور نہ ہى بنك سے فائدہ پر قرض حاصل كرنا جائز ہے، كيونكہ يہ سب كچھ صريحا سود ہے، اور بنكوں كے علاوہ كہيں اور بھى فائدہ پر رقم ركھنى جائز نہيں، اور اسى طرح كسى شخص سے بھى فائدہ پر قرض حاصل كرنا جائز نہيں ہے، بلكہ سب اہل علم كے ہاں يہ حرام ہے.





    اللہ تعالى اس سے اپنے بندوں كو يہ تنبيہ كرنا چاہتا ہے كہ تنگ دست سے قرض كى ادائيگى كا مطالبہ كرنا جائز نہيں اور نہ ہى اسے مہلت دينے كے عوض ميں زيادہ رقم عائد كرنى جائز ہے، بلكہ اس كى خوشحالى تك بغير رقم زيادہ كيے انتظار كرنا واجب اور ضرورى ہے، كيونكہ وہ ادائيگى سے عاجز ہے، يہ سب كچھ اللہ تعالى كى اپنے بندوں پر رحمت اور اس كا فضل و كرم اور مہربانى ہے، اور انہيں ظلم اور بد ترين قسم كے لالچ سے بچانا ہے جوان كے ليے نقصان دہ ہے نہ كہ نفع مند.
    اور مجبورى كے وقت بنك ميں بغير كسى فائدہ كے رقم ركھنے ميں كوئى حرج نہيں، اور سودى بنك ميں ملازمت كرنا جائز نہيں چاہے مينجر ہو يا منشى اور اكاؤنٹنٹ يا كوئى اور كام، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

    اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ:

    يہ حديث امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم ميں روايت كى ہے.

    معاصى و گناہ اور برائى ميں تعاون كرنے كى حرمت پر بہت سى آيات و احاديث دلالت كرتى ہيں، اور اسى طرح مذكورہ دلائل كى روشنى ميں سودى بنكوں كو عمارتيں كرايہ پر دينا جائز نہيں، اور اس ليے بھى كہ اس ميں سودى كاموں ميں ان كى معاونت ہوتى ہے.

    اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ سب كو ہدايت كى نعمت سے نوازے اور سب مسلمانوں كو چاہے وہ حكمران ہيں يا محكوم اللہ تعالى سود سے جنگ كرنے كى توفيق نصيب فرمائے، اور سود سے بچا كر ركھے، شرعى معاملات ميں جنہيں اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے مباح قرار ديا ہے اسى ميں كفائت ہے، بلا شبہ اللہ تعالى اس پر قادر ہے.

    الشيخ ابن باز ( رحمہ اللہ تعالى )
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 18، 2013 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,794
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    سود سے بچنے کا انتظام صرف ایک منظم اسلامی حکومت میں ہو سکتا ہے، ہماری حکومتیں چونکہ غیر اسلامی ہیں، چاہے آئین کتنی ہی اسلامی دفعات پر مشتمل ہوں، لیکن جب تک عملی طور پر اس ملک میں شریعت کا نظام قائم نہیں ہوتا محض آئین میں اسلامی دفعات، آئین میں اسلامی دفعات کے نعرے لگا کر اپنے نفس کو دھوکے میں مبتلا کرنے والی بات ہے۔

    موجودہ نام نہاد اسلامی حکومتیں سود سے بچنے کے لیے ایک علیحدہ نظام تو کجا، الٹا یہ تمام سودی ادارے حکومت کی سر پرستی میں قائم ہیں، حکومت لوگوں کو سود پر قرضے دیتی ہے، حکومت ان بینکوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائے گی، کیونکہ یہ تمام ادارے حکومت کی نگرانی میں قائم ہیں۔ اس کے علاوہ، زنا، فحاشی، بےحیائی، اور شراب نوشی کے تمام تر اڈے بھی حکومت کی سرپرستی میں قائم ہیں۔

    اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال جاننا اور اُن کو حلال قرار دینا نہ صرف یہ کہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے بلکہ اپنے ایمان کو بھی خطرے میں ڈالنے والی بات ہے، کچھ بعید نہیں کہ انسان اس عمل کی وجہ سے دائرہ اسلام سے بھی خارج ہو جائے۔ اللہ سے ہدایت کا سوال ہے۔
     
  9. ‏نومبر 18، 2013 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,704
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    بنكوں ميں فائدہ ( سود ) پر سرمايہ كارى كرنے كا حكم


    سوال:
    بنكوں ميں سرمايہ كارى كرنے كا حكم كيا ہے؟ يہ علم ميں رہے كہ بنك رقم ركھنے پر فائدہ ديتے ہيں؟

    جواب:

    الحمد للہ:

    شريعت اسلاميہ كا علم ركھنے والوں كے ہاں يہ بات معلوم ہے كہ بنكوں ميں سودى فائدہ پر سرمايہ كارى كرنا شرعا حرام، اور كبيرہ گناہوں ميں سے ايك كبيرہ گناہ، اور اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے جنگ ہے.

    جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

    اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ثابت ہے كہ:
    اور صحيح بخارى ميں امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے ابو جحيفہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:
    اور بخارى و مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    اس معنى - سود كى حرمت اور اس سے بچنے كے دلائل - كى آيات اور احاديث بہت زيادہ ہيں، لہذا سب مسلمانوں پر واجب ہے كہ وہ سود كو ترك كرديں اور اس سے بچيں، اور ايك دوسرے كو اس سے اجتناب كرنے كى تلقين بھى كريں.

    اور مسلمان حكمران اور ذمہ داران پر بھى واجب ہے كہ وہ اپنے ملك ميں بنك قائم كرنے والوں كو اس سے منع كريں، اور اللہ تعالى كے حكم كا نفاذ كرتے اور اس كى سزا سے بچتے ہوئے انہيں شريعت اسلاميہ كا پابند بنائيں.

    اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:


    اور ايك مقام پر اللہ عزوجل نے فرمايا:


    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:


    امر بالمعروف اور نہى عن المنكر يعنى نيكى كاحكم دينے اور برائى سے منع كرنے كے وجوب ميں بہت زيادہ آيات و احاديث وارد ہيں، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ سب مسلمانوں وہ حكمران ہوں يا علماء يا عام رعايا كے لوگ اور عام لوگ ان سب كو شريعت اسلاميہ پر چلنے كى توفيق عطا فرمائے، اوراس پر استقامت بخشے، اور شريعت اسلاميہ كى مخالفت كرنے والى ہر چيز سے بچنے كى توفيق عطا فرمائے. بلاشبہ اسى اللہ تعالى ہى سب سے بہتر دينے والا ہے.

    الشيخ ابن باز ( رحمہ اللہ تعالى )
     
  10. ‏نومبر 18، 2013 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,704
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    بنكوں ميں خاص منافع پر رقم ركھنے كا حكم


    سوال:
    معين نفع كے ساتھ بنكوں ميں رقم ركھنے كا حكم كيا ہے.... ؟

    جواب:

    الحمد للہ:

    معين منافع كے ساتھ بنكوں مين رقم ركھنا جائز نہيں، كيونكہ يہ معاہدہ سود پر مشتمل ہے،

    اور پھر اللہ تعالى كا فرمان تو يہ ہے كہ:
    اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:


    اور يہ رقم ركھنے والا جو اس رقم پر جو كچھ حاصل كررہا ہے اس ميں كوئى بركت نہيں

    كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:
    يہ قسم رباالنسيئۃ اور رباالفضل ميں شامل ہے، كيونكہ رقم ركھنے والا شخص بنك كو اپنى رقم اس شرط پر ديتا ہے كہ يہ رقم ايك معلوم مدت تك منافع كى معلوم مقدار كے ساتھ بنك ميں رہے گى...

    مستقل فتوى اور ريسرچ كميٹى ( اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء )

    واللہ اعلم .
    شيخ محمد صالح المنجد
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں