1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا حصین بن نمیر سالار یزید بن معاویہ الی مکہ صحابی تھا ؟

'تذکرہ مشاہیر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حمزہ, ‏دسمبر 23، 2014۔

  1. ‏دسمبر 23، 2014 #1
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    383
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

  2. ‏دسمبر 21، 2015 #2
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    حصین بن نمیر رضی اللہ عنہ، ایک صحابی الرسول ﷺ بھی تھے، اور انکو آنحضرت ﷺ کے لئے کتابت کرنے کا بھی شرف حاصل ہوتا ہے۔ لیکن یہاں شائد وحی کی کتابت نہیں ہے، حضور اکرم ﷺ کے عام خطوط کی کتابت مراد ہے، واللہ عالم۔ ایک شیعہ تاریخ دان ، المسعودی کی کتاب "التنبیہ الاشراف" باب سن وفات 11 ہجری کے تذکرے صفحہ نمبر 119 میں وہ اس بات کا ذکر کرتا ہے۔ کاتبان حضرت نبوی ﷺ کے عنوان کے ساتھ اس نے حضرت حصین بن نمیر رضی اللہ عنہ کا شمار تیسرے نمبر پر رکھا ہے۔ اسکے علاوہ بھی چند مزید صحابیوں کے نام لکھے ہیں جسمیں نمبر 16 پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے کتابت نبوی ﷺ کا فریضہ انجام دیا تھا۔اسکین پیجز ملاحظہ ہو، نیز اسکا حاشیہ بھی پڑھیے
    Tanbeeh w Ashraf 2.jpg

    Tanbeeh w Ashraf 3.jpg

    نیز اسی بات کو ایک دیوبندی ویب سائٹ کے ریفرنس سے اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ اسمیں دیگر کاتبان وحی کے ساتھ ساتھ، نمبر 16 پر حضرت حصین بن نمیر رضی کا تذکرہ موجود ہے۔

    ۱۶— حضرت حصین بن نمیر رضی اللہ عنہ: الوزراء والکُتّاب میں ہے کہ: حضرت حصین بن نمیر اور حضرت مغیرہ بن شعبہ لوگوں کے معاملات لکھا کرتے تھے (الوزراء والکُتّاب ۱۲) اور انصاری نے لکھا ہے کہ آپ دونوں حضرات قرض اور معاملات تحریر فرماتے تھے، ابنِ مسکویہ نے بھی آپ کو کاتبینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کیاہے اور لکھا ہے کہ مذکورہ بالا دونوں شخصیات عوام الناس کے معاملات بھی لکھا کرتے تھے اور حضرت خالد اور حضرت معاویہ کی عدم موجودگی میں ان کی نیابت میں کتابت فرماتے تھے (تجارب الامم۱/۲۹۰) آپ کے کاتبینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہونے کی صراحت عراقی اور یعقوبی نے بھی کی ہے، (حوالہ کے لیے دیکھیے: شرح الفیہ عراقی۲۴۷، تاریخ یعقوبی۲/۸۰ بحوالہ نقوش۷/۱۴۸)

    ماخذ: کاتبینِ پیغمبرِ اعظم ﷺ— ایک تعارف

    نوٹ: اسی ویب سائٹ میں نمبر 5 پر سیدنا ابو سفیان رض کے بارے میں بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ بھی کاتب رسول ﷺ کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے۔

    ایک شیعہ ویب سائٹ سے حوالہ:

    تاریخ میں آنحضور کے کاتبین کے نام
    کتب تواریخ میں آنحضور کے معاونین کے نام آئے ہیں۔ یعقوبی نے اپنی تاریخ کی دوسری جلد میں رسول خدا کی وحی‘ خطوط اور معاہدے لکھنے والے معاونین کے نام تحریر کئے ہیں:
    ”علی(ع)ابن ابی طالب(ع)‘ عثمانؓ بن عفان‘ عمرو بن العاص‘ معاویہ بن ابی سفیان‘ شرجیل بن حسنہ‘ عبداللہ بن سعید بن ابی سرح‘ مغیرة بن شعبہ‘ معاذ بن جبل‘ زید بن ثابت‘ حنظلہ بن الربیعہ‘ ابی بن کعب‘ جہیم بن الصلت‘ حضین النمیری۔“(تاریخ یعقوبی‘ ج ۲‘ ص ۶۹)

    ماخذ: آنحضور ﷺ کے کاتبین




     
  3. ‏دسمبر 21، 2015 #3
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اسکے علاوہ ایک اہل حدیث عالم دین عبدالودود سلفی صاحب نے بھی اپنی اِس کتاب "ضرب شدید بر مذمت یزید بن معاویہ" میں بھی حضرت مسلم بن عقبہ رضی اللہ عنہ اور حصین بن نمیر رضی اللہ عنہ کو ایک "صحابی الرسول ﷺ" ہی کہا ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 61 پر وہ لکھتے ہیں کہ
    "اس لشکر (وہ جو امیر یزید رحمہ اللہ نے مدینہ کی بغاوت رفع کرنے کے لئے حرہ کے معرکہ میں بھیجی تھی) کے قائد صحابی رسول ﷺ حضرت مسلم بن عقبہ رضی اللہ عنہ تھے جنک بارے میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بوقت وفات حضرت یزید رح کو بلا کر کہا تھا کہ تم کو اہل مدینہ سے ضرور الجھنا پڑے گا۔ اگر ایسا ہو تو مسلم بن عقبی کو انکے مقابلے کے لئے بھیجنا ، کیونکہ میں انکے اخلاص سے واقف ہوں (ابن کثیر)۔ حضرت مسلم بن عقبیٰ رض 93 سال کے ایک کبیر السن صحابی تھے تاکہ پولس ایکشن میں کوئی جوان افسر جوش جوانی میں سختی کا مظاہرہ نہ کرے۔ انکے علاوہ دوسرے افسران ایک ایک ہزار کی کمان انکے زیر قیادت کررہے تھے۔ وہ بھی چاروں صحابی ہی تھے یعنی
    1. حضرت عبداللہ بن سعدۃ الفزاری رضی اللہ عنہ (الاصابہ۔ یہ مجاہدین دمشق کے کماندار تھے ۔ ابن کثیر ج 8)
    2. حضرت حصین بن نمیر الکوفی رضی اللہ عنہ(الاصابہ۔ یہ مجاہدین حمص کے کماندار تھے۔ البدایہ )
    3. حضرت روح بن زنباع الجذامی رضی اللہ عنہ۔ (الاصابہ ۔ یہ اہل فلسطین کے کماندار تھے۔ البدایہ)
    4. حضرت عبداللہ بن عصام الاشعری رضی اللہ عنہ۔ (الاصابہ ج 2۔ جیش بن ولجہ القی۔ یہ اہل اردن کے کماندار تھے۔ البدایہ)

    واضح رہے جناب عبدالودود صدیقی کی یہ کتاب دفاع امیر یزید رحمہ اللہ کے سلسلے میں لکھی گئی ہے، جسمیں انہوں نے ایک اور سلفی اہل حدیث عالم دین، ابو زید ضمیر صاحب کی ایک تقریر کا رد کیا ہے۔

    Husseen.jpg
    اسکے علاوہ علامہ محمود احمد عباسی صاحب نے بھی اپنی کتاب "تحقیق مزیدبسلسلہ خلافت معاویہ و یزید" میں بھی حضرت حصین بن نمیر کا شمار ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں کیا ہے جنہوں نے امیر یزید رحمہ اللہ کے ہاتھ بیعت کی تھی، نیز انکے کاتب نبی ﷺ ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے

    Husseen 2.jpg
     
  4. ‏دسمبر 22، 2015 #4
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    383
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم
    شاید یہ حصین بن نمیر اور ہیں بحرحال میں اس کا ابھی حوالہ نہیں دے سکتا کہ امتحانات میں مصروف ہون البتہ مسلم بن عقبہ کا زکر کتب صحابہ میں ہے لیکن کسی کا نام کتب صحابہ میں ہونا اس کی صحابی ہونے کی شاید دلیل نہیں ہے ۔۔۔۔ورنہ ابن کثیر وغیرہ اسے مسرف بن عقبہ کبھی نہیں کہتے۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ ابن ملجم قاتل امیر المومنین علی رضہ کا زکر بھی بعض کتب میں ملتا ہے کہ اس کو رویت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ مسلم بن عقبہ نے زمانہ جاہلیت ضرور دیکھا تھا۔۔
     
  5. ‏دسمبر 22، 2015 #5
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    وعلیکم السلام
    بھائی @ابو حمزہ ہوسکتا ہے آپکی بات درست ہو، لیکن میں نے آپکو چھ مختلف مقامات کا حوالہ دیا ہے، ان میں چھہوں جگہ اس بات کا ثبوت بحوالہ دیا گیا ہے کہ یہ ایک صحابی رسول ﷺ ہی ہیں۔ نیز انکے آنحضرت ﷺ کے کاتب ہونے کی شہادت بھی چھہ میں سے پانچ ریفرنسز میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ
    • یہ ایک صحابی رسول ہیں ۔
    • یہ آنحضرت ﷺ کے کتابت کے فرائض بھی انجام دیا کرتے تھے۔
    • یہ ان صحابہ و تابعین میں شامل ہیں جنکو امیر یزید نے واقعہ حرہ و مکہ میں اہل مدینہ و مکہ کی شورش کو رفع کرنے کے لشکر کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

    اگر حصین بن نمیر رض کی شخصیت کچھ اور ہوتی تو میرے خیال سے کچھ نہ کچھ فرق تو کہیں ظاہر ہوتا۔

    واللہ عالم
     
  6. ‏دسمبر 27، 2017 #6
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم بھائی،
    یہ حصین بن نمیر کوئی اور ہیں اس کی پوری تفصیل ابن حجر عسقلانی نے الاصابہ فی تمیز الصحابہ میں درج کی ہے کہ ابن عساکر نے ان کو حصین بن نمیر سکونی کے حالات سے خلط ملط کر دیا ہے جو یزید بن معاویہ کا مکہ والے لشکر امیر تھا
    husain bn numer1.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں