1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ امام اور علیہ السلام لکھنا شیعیت ہے ؟

'متفرق موضوعات' میں موضوعات آغاز کردہ از علی بہرام, ‏نومبر 06، 2013۔

  1. ‏نومبر 06، 2013 #1
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    محترم جناب علی بہرام صاحب نے محترم جناب شاکر صاحب کے اس تھریڈ ’’ اہل حدیث کا امام کون ‘‘ میں سے ذیل کا اقتباس لے کر نئی بات شروع کردی، جو کہ جاری موضوع سے غیر متعلق ہونے کی وجہ سے نئے دھاگہ میں منتقل کردی گئی ہے۔۔۔۔ انتظامیہ

    امام حسین کے لئے " رضی اللہ عنہ " کی بجائے " علیہ السلام " کہنا شیعیت ہے توایسا لکھنا اور پڑھنا بھی شیعیت بھی شیعیت ہی ہوگا
    اب جو امام بخاری نے اپنی اصح کتاب بعد کتاب اللہ میں اہل بیت اطہار لئے علیہ السلام لکھا ہے توکیا یہ بھی شیعت ہے ؟ تو کیا امام بخاری بھی شیعہ تھے ؟ اور جو وہابی صحیح بخاری پڑھتے ہیں تو اس میں امام حسین کےلئے جو علیہ السلام لکھا ہوا وہ ایسے علیہ السلام ہی پڑھتے ہونگے تو کیا سارے وہابی جو صحیح بخاری پڑھتے ہیں وہ سب شیعہ ہیں ؟؟
    امام بخاری کے علاوہ بھی دیگراہل سنت کے محدیثین نے اہل بیت کے لئے علیہ السلام لکھا ہے کیونکہ وہ اہل سنت تھے وہابی نہ تھے اہل بیت کے لئے علیہ السلام لکھنا ، پڑھنا اور کہنا صرف وہابی مذہب میں منع ہے
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 09، 2014
  2. ‏نومبر 06، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    بھائی کیا آپ کے لئے صحیح بخاری حجت نہیں تقلید انسان کو کہا لے جاتی ہے بھائی کیا آپ کو اللہ کا خوف نہیں -

    دوسرا کیا شیعہ صحیح بخاری پر عمل کرتے ہیں کیا وہ ان کے مذھب میں یا آپ کے حنفی مذھب میں پڑھائی جاتی ہے کیا آپ کو اتنا بھی نہیں پتا -
     
  3. ‏نومبر 06، 2013 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069



    کیا کسی مذھب کو حدیث پر مقدم کیا جا سکتا ہے
     
  4. ‏نومبر 06، 2013 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069



    صحیح بخاری میں شک کرنے والے کارد :

    میرے ایک شیعۃ دوست نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ :
    ہم صحیح بخاری پرکس طرح اعتماد اور اس کے صحیح ہونے کا دعوی کریں حالانکہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی چار صدی بعدوجود میں آۓ ؟

    الحمد للہ:

    امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کی وفات ( 256 ھـ ) میں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ( 245 ) سال بعد ہوئ ، اورجیسا کہ آپ کے شیعۃ دوست کا گمان ہے اس طرح نہیں ، لیکن بات یہ ہے کہ جب جھوٹ اپنی اصلی جگہ سے نکلے تواس پرتعجب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
    اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اس سے یہ ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی بلاواسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کریں قطعی طور پریہ مراد نہیں ہے ہم نے صرف اسے وضاحت کے لیے ذکر کیا ہے ۔

    اب رہا یہ مسئلہ کہ ہم صحیح بخاری پر اعتماد کس طرح کر سکتے ہیں امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نےتونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہی نہیں کی تو اس کا جواب یہ ہے کہ :

    امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح بخاری میں بلاواسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات بیان نہیں کیں بلکہ اپنے ثقہ شیوخ اوراساتذہ سے روایات بیان کی ہیں جو کہ حفظ و ضبط اور امانت کے اعلی درجہ پرفائز تھے اور اسی طرح کے سب روای صحابہ کرام تک پہنچتے ہیں جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات بیان کرتے ہیں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم اورامام بخاری کے درمیان کم از کم راویوں کی تعداد تین ہے ۔

    اورپھرصحیح بخاری پر ہمارا اعتماد اس لیے ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے جن راویوں سے روایات نقل کی ہیں وہ اعلی درجہ کے ثقہ ہیں ، امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے ان کے اختیارمیں انتہائ قسم کی چھان بین کی اور پھران سے روایت نقل کی ہے ، اس کے باوجود امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اس وقت تک کوئ حدیث بھی صحیح بخاری میں درج نہیں کی جب تک کہ غسل کرکے دو رکعتیں پڑھ کر اللہ تعالی سے اس حدیث میں استخارہ نہیں کرلیا ، تواستخارہ کرنے کے بعد وہ حدیث لکھتے تھے ۔

    تواس کتاب کو لکھنے میں ایک لمبی مدت صرف ہوئ جو کہ سولہ سال پرمحیط ہے ، اور امت اسلامیہ نے اس کتاب کوقبول کیا اوراسے صحیح کا درجہ دیا اور سب کا اس کے صحیح ہونے اجماع ہے اور پھربات یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اس امت محمدیہ کوضلال اور گمراہی اکٹھا ہونے سے بچایا ہوا ہے ۔

    امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے شرح مسلم کے مقدمہ میں فرمایا ہے کہ :
    علماء کرام رحمہم اللہ تعالی کا اس پراتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعدکتابوں میں سب سے صحیح کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہے ، اور امت نے اسے قبول کیا ہے اوران دونو‎ں میں صحیح ترین کتا ب صحیح بخاری ہے جس میں صحیح مسلم سے زیادہ فوائد پاۓ جاتے ہیں ۔ انتھی ۔

    اگرآپ اس شیعی اوریاپھررافضی سے ان اقوال کے بارہ میں سوال کریں جوکہ اس کے بڑے بڑے علماء علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ اور باقر اور جعفر صادق رحمہم اللہ اورآل بیت وغیرہ سے نقل کرتے ہیں کہ آیا کہ انہوں نے یہ اقوال ان سے بلاواسطہ سنے ہیں یا کہ وہ یہ اقوال سندوں کے ساتھ نقل کرتے ہیں ؟ تو اس کا جواب واضح ہے ۔

    اور دوسری بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی اور ان گمراہ لوگوں کی سندوں میں بہت بڑافرق پایا جاتا ہے ان گمراہ لوگوں کی سندوں میں آپ کوئی بھی ایسا راوی نہیں پائيں گے جس کی روایت پراعتماد کیا جاسکے بلکہ ان کے سب کے سب راوی آپ کو ضعفاء اور کذابوں اور جرح کیے گۓ رارویوں کی کتابوں میں ملیں گے ۔

    اوریہ رافضی جو دعوی پھیلا رہا ہے سنت نبویہ میں طعن کا پیش خیمہ ہے جو کہ ان کے مذھب کوباطل اور ان کے عقیدے کوفاسد قرار دیتی ہے ، تو اس طرح کی گمراہیوں کے علاوہ ان کے پاس کوئ اورچارہ ہی نہیں ، لیکن یہ بہت دور کی بات ہے کہ اس میں وہ کامیاب ہوجائيں کیونکہ حق توواضح ہے اورباطل مضطرب اورپریشان ہورہا ہے ۔

    پھرہم سائل کویہ نصیحت بھی کرتے ہیں _اللہ تعالی آپ کوتوفیق دے - کہ آپ یہ کوشش کریں کہ آپ اس قسم کے لوگوں سے دوستی لگائيں جو اھل سنت و اھل حدیث ہوں اور بدعتیوں سے لگا‎ؤ نہ رکھیں اور نہ ہی ان اپنے حلقہ احباب میں شامل کریں ، ان لوگوں سے دوستیاں لگانے سے علماء کرام نے بچنے کوکہا ہے اس لیے کہ اس وقت کسی کا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے جب تک کہ مختلف قسم کے حیلوں اورملمع سازی کے ذریعے اسے گمراہ کرکےحق سے دور نہ کردیں۔

    ہم اللہ تعالی سے اپنے اورآپ کے لیے سنت پرچلنے اور بدعت اوربدعتیوں سے دوررہنے کی توفیق طلب کرتے ہیں ۔

    واللہ تعالی اعلم .
    الاسلام سوال وجواب

    http://islamqa.com/ur/20153
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 07، 2013 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جناب ایسی کتابیں شیعہ کاتبین کے ہاتھ سے گزر کر آئی ہوتی ہیں ۔ ورنہ کیا امام بخاری شیعہ تھے ؟
    امام بخاری رحمہ اللہ کے عقیدہ سے ادنی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہےکہ وہ سب سے افضل ابو بکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی کے قائل تھے ۔ مجھے بتائیں اگر بقول آپ کے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ’’ علیہ السلام ‘‘ لکھا تھا تو کیا چیز مانع تھی کہ انہوں نے ان سےافضل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے لیے یہ لفظ نہ لکھا ۔ ؟
    اگر انہوں نے ’’ علیہ السلام ‘‘ لکھناتھا تو انہوں نے ابو بکر الصدیق ، عمر فاروق ، عثمان ذو النورین کے ساتھ کیوں نہ لکھا ؟
    کتابوں کے اندر اس طرح کی چیرہ دستیاں یہ پتہ دیتیں ہیں کہ ان کی کتابت کرنے والے یا چھاپنے والے یا تو شیعہ ہیں یا متأثرین شیعہ ہیں ۔
     
  6. ‏نومبر 07، 2013 #6
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    یہ تو آپ نے قرآن کے بعد اصح کتاب کی صحت پر سوالیہ نشان لگادیا ؟؟؟؟؟کہ اصح کتاب بعد کتاب اللہ بھی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں رہی سبحان اللہ ماشاء اللہ
    اچھا اور آپ کو ایک حیرت انگیز بات بتاؤں صحیح بخاری کی کہ صحیح بخاری میں بعض روایتوں میں جہاں خاتون جنت حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر اور ساتھ میں امی عائشہ اور حضرت ابو بکر کا ذکر آیا ہے وہاں امام بخاری نے حضرت فاطمہ کے لئے علیہا السلام لکھا ہے اور امی عائشہ اور حضرت ابو بکر کے لئے رضی اللہ عنہ بھی نہیں لکھا شاید کہ امام بخاری نے کسی اہل حدیث کا وہ فتویٰ پڑھ لیا ہوگا جس میں کہا گیا ہے کہ جب حضرت علی اور معاویہ کا ذکر ساتھ ہورہا ہو تو معاویہ کے آگے کوئی دعائیہ کلمہ نہیں لگانا چاہئے لیکن یہ فتویٰ تو امام بخاری کی وفات کے بہت بعد کا فتویٰ ہے تو پھر جس نے یہ فتویٰ دیا اس نے صحیح بخاری کا مطالعہ بڑی گہرائی سے کیا ہوگا اور اس فتویٰ کے لئے امام بخاری سے دلیل پکڑی ہوگی کیا خیال ہے آپ کا ؟؟؟؟؟
     
  7. ‏نومبر 07، 2013 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    بھائی آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا -

    بھائی آپ کو پتا ہے حق والی جماعت کون سی ہے مجھے بتائے میں اس کو قبول کر لیتا ہو -
     
  8. ‏نومبر 07، 2013 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ ہمارے موقف کی مزید ایک دلیل ہے ۔ کہ یہ کسی شیعہ کا کارنامہ ہے ۔
    جناب آپ حضرات کے جو بس میں تھا آپ نے کوئی کسر نے نہیں چھوڑی فصل الخطاب فی إثبات تحریف کتاب رب الأرباب یہ آپ کی کتاب ہے جس میں شیعہ حضرات نے اپنے تئیں قرآن کی صحت پر ہی سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔
    رہی ہماری بات تو ہم الحمد للہ کتاب وسنت کے صحت پر اعتراض کرنے والے نہیں بلکہ ان کا دل و جان سےدفاع کرنے والے ہیں ۔
    کتابوں کے اندر کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو ناشر یا کاتب کی غلطی سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے اور وقت آنے پر ان غلطیوں کا تدارک کرلیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری کے کتنے ہی طبعات ہیں جن میں صحابہ کرام کے مابین یہ تفریق آپ کو نہیں ملےگی ۔
    باقی رہا مسئلہ نفس احادیث کی اسانید یا متون کے اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں حدیث دشمنوں نے بہت کرنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ جب بھی ایسا کیا منہ کی کھانی پڑی ۔
    اگر اب بھی آپ کو کوئی خوش فہمی ہے تو تجربہ کرکے دیکھ لیں ۔
     
    • پسند پسند x 6
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 24، 2013 #9
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105


    الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
    لو آپ اپنے دام میں‌ صیّاد آگیا


    اب تو اس پر بھی تحقیق کی ضرورت ہے کہ اسح کتاب بعد کتاب اللہ میں کیا کیا اضافہ شیعہ کاتبوں نے کیا ہے ؟
    ویسے ایک بات ہے کہ اصح کتاب بعد کتاب اللہ شعیہ کاتبوں سے لکھوانے کی حاجت کیوں پیش آئی کیا اس وقت کوئی سنی کاتب نہیں تھا جو یہ کام کرسکتا ؟
    یہ سب مفروضے ہیں کہ یہ شیعہ کاتبوں کی چیرہ دستی ہے
    اگر اہل بیت علیہم السلام کے نام کے ساتھ علیہم السلام لگانا اتنا ہی برا ہوتا جیسا کہ وہابی کہتے ہیں تو جب امام بخاری کے پاس اصح کتاب بعد کتاب اللہ کتابت کرکے لائی گئی ہوگی تو کیا امام بخاری یہ یہ بات نوٹ نہیں کی ہوگی کہ اس متن میں کیا کیا چیرہ دستیاں شیعہ کاتب نے کی ہیں پھر کیوں امام بخاری ان کی تصحیح نہ کی اس لئے میرے خیال سے یہ سب مفروضے ہیں کہ یہ شیعہ کاتبوں کی چیرہ دستی ہے
     
  10. ‏نومبر 25، 2013 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کیوں الجھے گا پاؤں یار کا زلف دراز میں
    کیوں آپ اپنے دام میں صیاد آئے گا ؟
    امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاتھ کا یا ان کے دور کا لکھا ہوا نسخہ آپ نے دیکھا ہے ؟
    میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ :
    کتابوں کے اندر کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو ناشر یا کاتب کی غلطی سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے اور وقت آنے پر ان غلطیوں کا تدارک کرلیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری کے کتنے ہی طبعات ہیں جن میں صحابہ کرام کے مابین یہ تفریق آپ کو نہیں ملےگی ۔
    باقی رہا مسئلہ نفس احادیث کی اسانید یا متون کے اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں حدیث دشمنوں نے بہت کرنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ جب بھی ایسا کیا منہ کی کھانی پڑی ۔
    اگر اب بھی آپ کو کوئی خوش فہمی ہے تو تجربہ کرکے دیکھ لیں ۔
     
    • پسند پسند x 7
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں