1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا خلاف عثمانیہ مرتدین کی خلافت تھی؟

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از القول السدید, ‏جولائی 17، 2013۔

  1. ‏جولائی 17، 2013 #1
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    آج کل آل تکفیر نے توحید حاکمیت کی ایک الگ قسم بنا کر عوام الناس اور مسلم حکام کے خلاف کفر،ارتداد اور قتال کا محاذ گرم کئے ہوئے ہیں،جس کی کوئی شرعی حثیت نہیں ہے،باربار سمجھانے،دلائل کا بھرپور انبار لگانے اور حجت تمام کرنے کے باوجود بھی آل تکفیر ٹس سے مس نہ ہوئے،اس میں کوئی عجیب بات بھی نہیں ہے،کیونکہ خاتم الانبیاء،رحمۃللعالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ خوارج پلٹ کرآنے والے نہیں ہیں۔
    لیکن ہم اپنے قارئین کو اس فتنہ سے آگاہ کرنے کے لیے اپنی تگ و دو جاری و ساری رکھیں گے،ان شاءاللہ
    میں بات یہ کر رہا تھا کہ آج کل تکفیری حضرات توحید حاکمیت کی بنیاد پر مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں،اور ان کے علاقوں کو دارلکفر قرار دیتے ہیں،میرا ان تمام فتویٰ فیکٹریوں سے مختصر سا سوال ہے کہ:
    خلافت عثمانیہ میں کون سے اسلامی قوانین کا نفاذ تھا؟
    کیا خلافت عثمانیہ میں تحکیم بغیر ما انزل اللہ کا لحاظ رکھا جاتا تھا؟
    کیا خلافت عثمانیہ میں سو فیصد شریعت نافذ تھی؟
    یا پھر!!!!!!
    معاملہ کچھ اور تھا؟
    یعنی خلافت عثمانیہ میں سوائے مجلہ احکام عدلیہ کے،جو دیوانی قانون کے طور پر رائج تھا اور اس کی بھی پابندی عدالتوں کے لیے لازم نہ تھی،بقیہ تمام قوانین فرانسیسی ،اطالوی اور برطانوی تھے،بلکہ سلطنت عثمانیہ کے اساسی قانون میں یہ بات بھی موجود تھی کہ سود شرعا حرام ہے اور قانونا جائز ہے،علاوہ ازیں سلطنت کے قانون فوجداری میں یورپین قوانین کی تقلید میں حدود کو ساقط کر دیا گیا تھا،
    (رفیع اللہ شہاب پروفیسر،اسلامی ریاست کا عدالتی نظام،ص:194،قانونی کتب خانہ لاہور)

    لیکن اس کے باوجود اس وقت کے علماء میں سے کسی مکتب فکر کے کسی بھی عالم دین نے بھی ہم نہیں دیکھتے کہ وہ خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں یا دوسرے الفاظ میں اس وقت کے خلفاء کی تکفیر کر رہےہوں۔
    جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توحید حاکمیت کی یہ نئی ٹرم پیش کر کے اس کی بنیاد پر ایمان اور کفر کے فیصلے کرنا سوائے خوارج کے اور کسی کا وطیرہ نہیں رہا۔
    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے بگڑے ہوئے ذہنوں کو راہ راست پر لائے اور ہمارے عقائد اور منہج میں سلف صالحین کا فہم پیدا کرے۔
    دنیا و آخرت میں اپنے رب کی رحمتوں کو سمیٹے ہوئے نجات پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔
    آمین یا رب العالمین
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 18، 2013 #2
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    توحید حاکمیت کی اصطلاح میں کوئی قباحت نہیں البتہ علماء اگر احتیاط کرتے ہیں تو وہ اس باب میں کہ اس کی بنا پر انسان کو اللہ کا خلیفہ تسلیم کرنا غلط ہے کیونکہ اس سے صفات الہی میں حرف آتا ہے۔رہی یہ بات کہ اس توحید کے دیگر لوازمات کی تو اس میں علماء کے ہاں کوئی دو ارا نہیں۔لیکن اس سلسلے میں بھی واضح رہے کہ مذکورہ رائے بھی علماء کے ایک گروہ کی ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 05، 2016 #3
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    223
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    آپ یہ تھریڈ غور سے پڑھیں اور رائے سے نوازیں
    http://forum.mohaddis.com/threads/خلافت-عثمانیہ.33818/
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں