1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا خلفاء راشدین کے افعال بھی حجت ہیں ؟

'مصادر شریعت' میں موضوعات آغاز کردہ از Muhammad Waqas, ‏مارچ 06، 2013۔

  1. ‏مارچ 06، 2013 #1
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    سوال : "علیکم بسنتی وسنۃ الخلاء الراشدین من بعدی "۔۔۔۔۔۔۔کیا اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خلفاء راشدین کے افعال بھی حجت ہیں؟ [فتاویٰ الامارات: ٧١]

    جواب : بلا شبہ اگر خلفاء راشدین کا عمل ایک چیز پہ متفق ہو جاتا ہے اور سنت کے مخالف نہ ہو تو بلا شبہ ان کا یہ عمل حجت ہے لیکن بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث چاروں خلفاء میں سے کسی ایک کے قول کی حجیت ہونے پر دلالت کرتا ہے۔تو آپ علیہ السلام کے فرمان "فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین ۔"
    اس میں یا تو مضاف کو محذوف ماننا پڑے گا کہ لفظ "احد" مضاف محذوف ہے۔یا یوں کہا جائے گا"وسنة احد الخلفاء الراشدین" یا پھر خلفاء الراشدین سے پہ پہلے لفظ مجموع کو مضاف مقدر ماننا پڑے گا۔پہلا معنی اگر کر لیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ خلفاء راشدین میں سے ایک اگر منفرد ہو جائے تو اس کی بات حجت ہوگی اور دوسرے معنیٰ سے یہ مراد ہے کہ چاروں خلفاء راشدین کا ایک رائے پر جمع ہونا حجت ہوگا اور صحیح بھی یہی معنیٰ ہے۔
    نبی علیہ السلام نے اس حدیث میں جن الفاظ کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔یہ اقتباس گویا کہ قرآن کریم سے اخذ کردہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا [٤:١١٥]
    "جو شخص ہدایت واضح ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے گا،مومنوں کے راستہ کے علاوہ کسی راستہ کی تابعداری کرے گا تو ہم اسے پھیر دیں گے جس طرف بھی وہ پھرتا ہے اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔"
    "يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ" ان الفاظ پر اگر کوئی شخص اعتراض کرسکتا ہےکہ مؤمنین سے پہلے احد کو مقدر مانو کسی ایک مومن کی مخالفت ہوگی،اس آیت میں دوسرا مطلب یہ بھی بن سکتا ہے کہ جو تمام مومنوں کے راستہ کی مخالفت کرے گا اور اصل مقصود بھی یہ ہے۔

    اس لیے متقدمین میں سے امام شافعی رحمہ اللہ اس طرف گئے ہیں کہ اس آیت سے مسلمانوں کے اجماع کی حجیت کی دلیل ملتی ہے۔
    [فتاویٰ البانیہ : 119-120]
    اسی حدیث "فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین" کی شرح میں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں :​
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں