1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا خوارج کی کچھ صفات کے حامل لوگوں یا گروہوں کو خوارج کہا جا سکتا ہے؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ ہندی, ‏اپریل 21، 2016۔

  1. ‏اپریل 21، 2016 #1
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    اگر کسی شخص یا گروہ میں خوارج کی کچھ نشانیاں پائی جائے تو کیا اُس شخص یا گروہ کو خوارج کہا جا سکتا ہے۔ مثلا قران خوبصورت آواز میں پڑھنا شلوار ٹھنوں سے اونچی رکھنا کم عمر ہونا یا سر منڈوانا وغیرہ
    اِس بارے میں اہلِ سنت علماء کا کیا موقف ہے؟
    نیز خوارج کی کوئی ایسی نشانی بھی بتا دیجیے جو خوارج کے علاوہ کسی اور میں موجود نہ ہو۔
     
  2. ‏اپریل 22، 2016 #2
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

  3. ‏اپریل 22، 2016 #3
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    36
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    جی میرے ناقص علم کے مطابق جو نشانیاں خوارج کی آپ نے تحریر کی ہیں وہ خوارج کی جامع نشانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ صفات تو صحیح احادیث کے مطابق ایک مومن کے اندر ہونی چاہیے، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ '' جو قرآن مجید کو خوبصورت آواز میں نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے،، بخاری( 7527)
    اور فرمایا '' تم قرآن کو اپنی خوبصورت آوازوں کے ساتھ مزین کرو،،ابو داؤد( 1468)صححہ الالبانی
    اور فرمایا "اللہ تعالٰی کسی چیز کو اس طرح توجہ سے نہیں سنتا جیسا کہ اس نبی کی آواز کو توجہ سے سنتا ہے جو قرآن مجید کو خوش الحانی سے پڑھتا ہے،،( بخاری :5023)مسلم:( 792)
    شیخ اسحاق زاہد حفظہ اللہ فرماتے ہیں '' اس کا معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نہایت خوش الحان تھے اور پر ترنم آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے،اور اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے جو قرآن کو خوش الحانی سے پڑھتا ہو کہ اللہ اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور اس کو بڑا اجر و ثواب عطا کرتا ہے،، زاد الخطیب جلد اول صفحہ( 428)
    اور شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والوں کے بارے میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ '' اللہ پاک روز قیامت اس شخص کی طرف( رحمت کی نظر سے )نہیں دیکھے گا جو تکبر کے طور اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے،،( بخاری :5784) مسلم( 2085/44)
    اور فرمایا مومن کا ازار اس کی نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے، اگر نہیں تو نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونا چاہیے اور جو اس سے نیچے ہو تو وہ آگ میں لے جاتا ہے،،( ابو داؤد( 4093) علامہ زبیر علی زیئ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے،،
    اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال مونڈ دیے گئے تھے اور کچھ چھوڑے ہوئے تھے تو آپ نے اس سے منع فرمایا اور کہا( احلقوا کلہ او اترکوہ کلہ )اس کے سارے بال مونڈ دو یا سارے رکھو،،ابو داؤد( 4195)صححہ الالبانی
    معلوم ہوا کہ بال منڈوانا جائز ہے البتہ ایسی حجامت بنوانا کہ جس میں کچھ بال مونڈ دیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیے جائیں جائز نہیں،،
    درجہ بالا اعمال میں سے کچھ لازم کچھ پسندیدہ اور کچھ جائز ہیں،،
    البتہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نشانیاں خوارج کے حوالے سے اس لیے بیان فرمائیں کہ وہ بظاہر بہت نیک ہوں گے اور نیکی کے کام کریں گے، تاکہ امت ان کے ان عملوں سے دھوکہ نہ کھائے،، واللہ اعلم
    باقی خوارج کی تین علامتیں ایسی ہیں جن سے ان کی صاف ستھری پہچان ہوتی ہے وہ یہ کہ یہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، مسلمان حکمرانوں کے خلاف خروج کرتے ہیں اور بت پرستوں کو چھوڑ کر اہل اسلام سے قتال کرتے ہیں،، مجمع الزوائد :243/6،ح :10407،، بخاری :(6930)،(3344)
    واللہ اعلم،،
    باقی اہل علم اس بارے میں مزید تفصیل سے آگاہ کر سکتے ہیں،،


    Sent from my GT-I9190 using Tapatalk
     
  4. ‏اپریل 22، 2016 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,420
    موصول شکریہ جات:
    720
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    محترم عبداللہ ہندی بهائی نے پوچہا خوارج کے متعلق کہ اس بارے میں اہل سنت علماء کا کیا موقف ہے ۔

    یہاں چند لنک پیش ہیں تاکہ علماء اہل سنت کا موقف سمجہا جا سکے ۔ قبل اس کے کہ آپ کوئی مزید سوال کریں ، ان چند علماء کے علاوہ اور بهی بهت سارے علماء نے اس موضوع
    پر لکہا ہے ۔

    https://islamqa.info/ar/182237


    http://www.dorar.net/enc/firq/913


    http://www.binbaz.org.sa/noor/11822


    http://alnasiha.net/node/1524

    بغرض معلومات اور حسب طلب
    واللہ عالم
     
  5. ‏اپریل 22، 2016 #5
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    جزاک اللہ بہت اچھا کہا آپ نے۔
     
  6. ‏اپریل 22، 2016 #6
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    جزاک اللہ
     
  7. ‏اپریل 22، 2016 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.

    کسی پر کفر کا فتوی لگانا اور کسی کو کافر کہنا ایک بہت بڑی چیز ھے. میں جب شرح عقیده الطحاوية پڑھ رھا تھا تو بہت ساری چیزیں سامنے آئیں. یقین جانۓ یہ ایک بہت پیچیدہ مسئلہ ھے. اس لۓ مجھے یہ لگتا ھے کہ اہل علم ھی صرف اس پر روشنی ڈالیں. یہ زیادہ بہتر ھے. واللہ اعلم بالصواب
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب حفظہ اللہ
    محترم شیخ @خضر حیات صاحب حفظہ اللہ
     
  8. ‏اپریل 22، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آپ سب دوستوں کو ملحوظ رہے کہ :
    فورم پر تکفیر ، جہاد ،اور ’’خروج ‘‘ کے موضوع پر بحث ممنوع ہے ، انتظامیہ کی طرف سے کئی دفعہ اس پر تنبیہ کی جا چکی ہے ،
    یہ نازک ،اور خطرناک موضوعات ہیں ،
    محترم بھائی عمر اثری حفظہ اللہ نے ٹھیک کہا ہے کہ اس موضوع پر انتظامیہ اور علماء کے علاوہ کوئی طبع آزمائی نہ کرے،
    بحث مباحثہ کیلئے بے شمار دینی موضوعات ،اور اصلاح و تربیت کے کئی شعبے ہمارے لئے موجود ہیں ،ان پر اپنی معلومات شیئر کیجئے ؛
    اور یہ سطور مجھ فقیر کی جانب سے درخواست سمجھئے گا ،
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 23، 2016 #9
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    مجھے پہلے معلوم نہیں تھا کہ اِن چیزوں کے بارے میں فارم پر بات کرنا ممنوع ہے۔ آئندہ احتیاط کروں گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں