1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا درست ہے، نینسی یا چہروں کی کتاب؟‘‘

'احتجاجی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از ایم اسلم اوڈ, ‏مارچ 10، 2012۔

  1. ‏مارچ 10، 2012 #1
    ایم اسلم اوڈ

    ایم اسلم اوڈ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    298
    موصول شکریہ جات:
    955
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    نیوزی لینڈ کے ایک قصبے میںوہ ایک جرنلسٹ کے ہاں پیداہوئی۔ اس کے جرنلسٹ باپ نے آبائی گھر بیچاتو وہ برطانیہ آ کر اپنی آنٹی کے ہاںمقیم ہوگئی۔ وہ ایمبولینس ڈرائیور رہی، جرنلسٹ بنی ۔ اسے عربی زبان پر عبور تھا اورمصر اس کا مرغوب موضوع تھا ۔اس نے زندگی کے لا تعداد ذائقے چکھے اور بے شمار سفر کیے مگر اس کی زندگی کا کامیاب دور وہ تھا جب وہ برطانیہ کی ٹاپ سیکرٹ ایجنٹ کے طور پر مہم جوئی پر نکلی اور اس نے امریکا، برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا کی حکومتوں سے ناقابل ِ یقیںکارکردگی کے اعلیٰ ترین تمغے حاصل کیے۔ انتھک محنت، بے شمار خدمات اور کامرانی کے لاتعدادتمغہ جات اسکی زندگی تھی۔
    اس نے جنگ عظیم دوم میں گسٹاپو کے خلاف حیران کن حد تک خطرناک اقدامات کئے۔ اسے برطانیہ کی عیار ترین سیکرٹ ایجنٹ کہا گیا اور دشمن کی ہر طرح کی پیچیدہ ترین رکاوٹوںسے فنکارانہ بچ نکلنے کے باعث نازی اسے’’ سفید چوہیا ‘‘ قرار دیتے تھے۔انھوں نے اس پر بھاری انعام مقرر کیامگر وہ اسے زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔ اس نے دو بدو لڑائی کے گر سیکھے، کراٹے کے خطرناک دائو پیچ سیکھے، گن چلانا سیکھی اورشارٹ ہینڈمیں مہارت حاصل کی۔ وہ اس قدر نڈر اور سفاک ثابت ہوئی کہ اس نے دورانِ ٹریننگ ایک بھر پور گھونسے سے اسلحہ ساز فیکٹری کے سنتری کا جبڑا توڑ ڈالا، ایک بار جرمن حملے کے نتیجے میں تاریںمنقطع ہونے کے باعث جب اتحادی فوجوںکا لندن ہیڈکوارٹرزسے ریڈیائی رابطہ تباہ ہو گیا تو اس نے دشمن کے علاقے میں دو سو کلو میٹر تک کا فاصلہ بائیک پر موت کے سائے میں طے کیا۔وہ کھلے آسمان تلے اورکبھی مویشیوں کے چارے کی گھاس پر سوئی مگر اس نے تار درست کر کے ریڈیائی رابطہ بحال کر کے ہی دم لیا۔وہ اتنی سفاک اور محتاط ہو گئی تھی کہ ایک دفعہ جب اس کے پاس تین خواتین جاسوس بھرتی ہونے آئیں تو اس نے دو کو امتحان میں پاس کرکے بھرتی کر لیا مگرتیسری کو مشکوک قراردیتے ہوئے فائرنگ سکواڈ کے حوالے کر کے اس کے پرخچے اڑا دیئے۔
    جنگ سے پہلے وہ اور طرح کی زندگی بسر کرنے کی عادی تھی۔ رنگوں اورروشنیوں کی ، پھولوں اور خوشبوئوں والی ،مشروبات اور کافی کے ذائقوں سے بھری گلیمرس زندگی !مگر جب بھر پور اور محبت بھری زندگی گزار تی نینسی ویک نے جرمنی کے توسیع پسندانہ عزائم کے سائے اپنے ملک اور ہمسایہ ممالک تک دراز ہوتے دیکھے تو اس نے گرگٹ کی طرح کئی روپ بدلے۔اس نے ہرنی کی طرح چوکڑیاں بھریں،لومڑی کی طرح عیاری برتی اور ایک سفاک ترین قاتل کی طرح بے تحاشا قتل و غارت گری کی، غرض وہ ہر مہم کے لیے تیار اورہر خطرے کے سامنے سینہ تان کر رہی ۔بہت بعد میںایک ٹی وی چینل نے جب قتل و غارتگری کے حوالے سے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا:Did the allies parachute me into France to fry eggs and bacon for the men?
    ’’تو کیا اتحادیوں نے مجھے فرانس میں پیرا شوٹ کے ذریعے سے اس لیے اتارا تھا کہ میں وہاں انڈے اور سؤر کا گوشت فرائی کروں ‘‘۔
    قارئین کرام! دوسری جنگِ عظیم کا ناقابلِ یقیں کرداریہ جاسوس خاتون نینسی 98سال عمر پاکر لندن میں اسی سال یعنی2011میں وفات پا گئی۔ واشنگٹن پوسٹ نے اہم رہنمائوں کی اموات کی فہرست میںاسے جگہ دی وجہ یہ کہ اس نے اپنے اور ہمسایہ ممالک پر اغیار کے تسلط کے خلاف عورت ہونے کے باوجود مردوں سے بڑھ کر جوانمردی اور جنگ بازی کا ثبوت دیا۔اس نے تتلی کی طرح نرم و نازک عورت ہونے کے باوجودآہن و آتش کی اس بھٹی میں زندگی بسر کی، جہاں سے اسکی دو تہائی ساتھی خواتین واپس نہ آسکی تھیں۔
    یہ سب معلومات واشنگٹن پوسٹ فراہم کر رہا ہے اورقارئین ! ہم واشنگٹن پوسٹ کی اس ساری سٹوری پر یقین کر لیتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ نینسی بہادر تھی۔چنانچہ آسٹریلیا نے اس کی تعریف کی، برطانیہ نے اس کو میڈل دئیے، امریکا نے اسے سلیوٹ کیا اور فرانس نے اس کی خدمات کو سراہااور اب واشنگٹن پوسٹ نے اسے عالمی اور عظیم و نامور شخصیات کی فہرست میں شامل کر کے ایک زمانے کے لیے معتبر بنا دیا۔ جی ہاں، خوب بہت خوب!
    اب آپ ذرا واشنگٹن پوسٹ ہی کا ایک دوسرا صفحہ کھول لیجیے ۔یہاں آپ کو ایک عنوان یوں ملے گا۔’’Faces of the Fallen‘‘ آپ اس کا ترجمہ’’ گزرے ہوئوں کے چہرے کی کتاب ‘‘کر سکتے ہیں۔عنوان کی نچلی سطر یوں ہے: ’’ 6303امریکا کے وہ سروس ممبران جو عراق و افغانستان کی آزادی کے آپریشن اور آپریشن Enduring freedom میں مارے گئے، ان لوگوںکے چہرے۔‘‘ پھر اس کے نیچے چہرے ہی چہرے ہیں۔ مختلف عمروں ، ملازمتوں، مزاجوں اور مختلف خدوخال کے حامل چہرے۔ ان میں 6165 مردوں کے اور 138 امریکی خواتین کے چہر ے ہیں۔ پھران میں سے 3972 آرمی ممبران کے ، 1314میرینز کے اور191نیوی سے تعلق داران کے چہرے ہیں ۔ 128چہروں کا تعلق امریکی ائیر فورس سے ہے اور473چہرے نیشنل گارڈز کے ہیں۔ 120ریزور آرمی کے اور 90 ریزور میرنز کے چہرے ہیں۔پھر عمر کے اعتبار سے ان کی تقسیم یوں ہے کہ ان میں سے 2839 چہرے وہ ہیں جنہوں نے عمر کی صرف 20سے لے کر 24بہاریں دیکھیں۔ 1510وہ چہرے ہیں جنہوں نے اس سے کچھ زیادہ یعنی 25 تا29 سال کی زندگی کا لطف لیا۔1185چہرے30تا39سالوں کے ہیں۔ 319چہروں نے 40 سے 49سال کی عمر دیکھی اور سب سے زیادہ یعنی 50سے 59سال تک کی عمر پانے والے چہروںکی تعداد48ہے جبکہ 397چہرے وہ ہیں جو سب سے بد قسمت ثابت ہوئے یعنی ان چہروں کوکم ترین زندگی دیکھنے کی مہلت ملی، یہ چہرے 18سے 19 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کے ہیں۔
    ان سب چہروں میں جو قدرِ مشترک ہے، وہFallen کی ہیـ، یعنی یہ سب گزر چکے ہیں۔ ان کا عہد بیت گیاہے ، اب یہ باقی نہیں رہے اوران کی کہانی ختم ہو گئی ہے ۔ ان میں دوسری قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ سب کے سب چہرے امریکی ہیں ۔ان میں تیسری مشترک قدر یہ ہے کہ یہ سب کے سب عراق و افغانستان میں ’آزادی‘ کے لیے کام آئے ہیں، اخبار کے مطابق کچھ عراقیوں کی آزادی کے لیے اور کچھ افغانیوں کی آزادی کے لیے۔
    قارئین کرام! ہمیںیہاں اتنے بڑے اخبار کی تضاد بیانی پر ہنسی آرہی ہے۔ ایک طرف تو یہ اخبار نینسی کو اس لیے ہیرو قرار دیتا ہے کہ وہ فرانس اور دیگر ممالک پر جرمنی کے حملہ کے خلاف پوری قوت سے جا ٹکرائی۔ اس نے حملہ آوروں کو تگنی کا ناچ نچایا، وہ کئی بار موت کے منہ میں آئی مگر بچ نکلی، چنانچہ اسی بہادری پر اسے ایک نہیں کئی کئی ممالک نے ہیرو بھی قرار دیا، میڈل بھی دیئے اور اس کی خدمات کا اعتراف بھی کیا مگر دوسری طرف جب یہی صورتحال عراق اور افغانستان میں پیش آتی ہے، یعنی ان ملکوں کے باشندوں پر بیرونی حملہ آور اتحاد کر کے حملہ کر دیتے ہیں، وہ ان کی آزادی سلب کر لیتے ہیں ، وہ ان کی حکومتیں گرا دیتے ہیں، ان کے وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ ان کے رسوم و رواج، مذہب و ملت اور خودی و خودداری پر خار دار تاریں کھینچ دیتے ہیں تو یہاں ان کے خلاف جد و جہد کرنے والے نینسی کے مانندآزادی پسند اور دلیر و جرأت مند قرار نہیں پاتے بلکہ باغی اور دہشت گرد کہلاتے ہیں اور حد تو یہ کہ خود حملہ آور یہاں آزادی پسند قرار دیئے جارہے ہیں۔ حالانکہ قاعدہ یہ ہے کہ بیرونی حملہ آور دہشت گرد ہوتے ہیں اور اپنے ملک وملت کا دفاع کرنے والے آزادی پسند اور ہیرو ہوتے ہیں جیسا کہ اخبار نے نینسی کو قرار دیا ہے تو پھر آج یہاں بھی افغانی اور عراقی آزادی پسند ہونے چاہئیں۔ کیا یہ دھوکا دہی ، دو رنگی اور دہرا معیار نہیں؟ کیاامن و انصاف کے بلند بانگ دعووں کے سائے تلے دبے واشنگٹن کاترجمان اخبار اس کھلے تضاد کی وضاحت کرنا پسند کرے گا؟کیا وہ تمام ممالک جنہوں نے نینسی کو میڈل دیئے یعنی امریکا، برطانیہ ، فرانس اور آسٹریلیااور پھرعالمی عدالتیں، عالمی امن کا دعویداریو این، دن رات امن امن چیختے دانشور ،ویٹی کن سٹی میں مقیم جناب پوپ صاحب اور انسانی حقوق کے فلک شگاف نعرے لگاتاعالمی میڈیا،رنگ و نسل کی بنا پر انسانوں میں روا رکھے جانے والے اتنے بڑے امتیازی سلوک پرلب کشائی کرنا گوارہ کرے گا؟
    آہ اے قارئین! کوئی نہ بولے گا ۔سب لب بستہ رہیں گے، اس لیے رہیں گے کہ ان کے اصول اور ان کے قاعدے اپنے فائدے کے لیے ، انسانیت کا ڈھنڈورا پیٹناصرف اپنے مفاد کے لیے، قانون و آئین کی ساری شقوں کی تمام تر تشریحات صرف انہی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ باقی سب دھوکا، سب سراب اور سب فراڈ ہے اوراگر کچھ سچ ہے تو وہ یہ کہ مسلمانوں کے خلاف یہ سارے غیر مسلم ایک ہیں، یہ سب مسلم دشمن ہیں۔عوام تو جانتے ہیں مگر آہ کاش! یہ لیڈر بھی جان لیں۔ جناب گیلانی صاحب! جناب نواز شریف صاحب !کیا آپ کو علم ہے کہ یہ دشمن ہیں؟ جناب محض معافی مانگنے پر اگر ہم قاتل نیٹو کو راستے دیں گے تو کیا معافی سے ہمارے شہید ہوئے جوان دوبارہ زندہ ہو جائیں گے؟ جناب عزت مآب کیانی صاحب! کیا اگر دوبارہ رستے دیئے جائیں گے تو یہ ہمارے ہی بھائیوں کا دوبارہ اسی طرح سے خون نہیں بہائیں گے؟اور پھراس خونِ ناحق کے کچھ چھینٹے کیا ہماری گردن پہ نہ آئیں گے؟کیا فرق ہے کہ خون افغانیوں کا ہو یا پاکستانیوں کا؟ ہے تو خون ہی نا، اپنے دیس اپنی ناموس اور اپنے کلمے کے لیے لڑتے بے گناہ انسانوں اور پھر مسلمانوں کا خون!

    بشکریہ ہفت روزہ جرار
    والسلام،،، علی اوڈراجپوت
    ali oadrajput
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں