1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا رؤیت ہلال کیلیے فلکی حساب پر اعتماد کرنے والے اپنے ملک کے مطابق چلیں ؟

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جون 06، 2016۔

  1. ‏جون 06، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا رؤیت ہلال کیلیے فلکی حساب پر اعتماد کرنے والے اپنے ملک کے مطابق چلیں ؟

    سوال: ہم ترکی میں ڈیڑھ سال سے مقیم ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ترکی کے لوگ رویت ہلال کیلیے فلکی حساب پر اعتماد کرتے ہیں شرعی رویت پر بالکل انحصار نہیں کرتے، چنانچہ انہوں نے فلکی حساب سے ثابت کیا ہے کہ روزہ جمعرات کو ہو گا، تو کیا ہم ترکی کی وزارت اوقاف کے اعلان کے مطابق روزہ رکھیں جیسے کہ ہم نے گزشتہ سال رکھا تھا یا ہم شرعی رویت کے لیے مملکت حرمین کے مطابق روزے رکھیں؟

    Published Date: 2016-06-05

    الحمد للہ:

    رویت کیلیے فلکی حساب پر اعتماد کرنا جائز نہیں ہے۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "رافضی حضرات اجرام فلکی کی نقل و حرکت کو معتبر سمجھتے ہیں، اور کچھ فقہا ءبھی ان کی اس بات کو مانتے ہیں، اس بارے میں الباجی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "سلف کا اجماع ان کے خلاف حجت ہے" اور اسی طرح ابن بزیزہ کہتے ہیں کہ: "یہ باطل موقف ہے" انتہی

    "فتح الباری" (4/ 127)

    نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "جو شخص فلکی حساب کا قائل ہے تو اس کا یہ موقف مردود ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

    (ہم ان پڑھ ہیں، ہمیں لکھنا اور حساب کرنا نہیں آتا، [آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہاتھ کے اشارے سے 29 اور 30 کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا]مہینہ اتنے اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔۔۔)

    اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ جمہور کا موقف درست ہے، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے صریح احادیث کی وجہ سے باطل اور مردود ہے" انتہی

    "المجموع" (6/ 270)

    دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں کہ:

    "مسلمانوں پر اللہ تعالی کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی مقرر کردہ شریعت پر چلنا ضروری ہے، اس لیے روزے رکھنے اور عید کیلیے صرف رویت ہلال پر ہی اکتفا کریں، اسی پر اہل علم کا اجماع ہے، اس لیے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے فلکی حساب پر اعتماد کرنے والے کا موقف شاذ ہے اس پر عمل نہ کیا جائے" انتہی

    "فتاوى اللجنة الدائمة" (10/ 107)

    مزید کیلیے سوال نمبر: (37667) کا جواب ملاحظہ کریں۔

    چنانچہ اگر کوئی مسلمان کسی ایسے ملک میں رہتا ہے جہاں پر لوگ رویت ہلال کیلیے فلکی حساب پر اکتفا کرتے ہیں تو ان کی بات معتمد نہیں ہو گی؛ کیونکہ وہ صریح احادیث اور اجماع کی مخالفت کر رہے ہیں۔

    آثار میں یہ ملتا ہے کہ:

    "نافع ، مالک سے ایسے حکمران کے بارے میں کہتے ہیں جو رویت کیلیے فلکی حساب پر اعتماد کرتا ہے کہ: ہم اس کی اس بارے میں بات نہیں مانے گے۔

    اسی طرح "المدونہ" کے شارح نے اس بات پر اجماع بھی نقل کیا ہے۔

    سبکی رحمہ اللہ اپنے رسالے: "العلم المنشور" میں کہا ہے کہ:

    "متعدد مالکی فقہائے کرام کہتے ہیں کہ: اگر حکمران رویت ہلال کیلیے فلکی حساب پر اعتماد کرے اور اسی سے رویت ثابت کرے تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی؛ کیونکہ یہ موقف سلف صالحین کے اجماع سے متصادم ہے" انتہی

    "مجلة مجمع الفقه الإسلامي" (3/ 430) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق۔

    تو ایسی صورت حال میں جہاں آپ رہائش پذیر ہیں وہی کی رویت ہلال پر اعتماد کیا جائے چاہے کسی اسلامی تنظیم، ادارے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو ، یا پھر ان ممالک کے مطابق عمل کرے جو رویت ہلال کو ہی معتمد سمجھتے ہیں جیسے کہ مملکت حرمین شریفین۔

    مزید کیلیے آپ فتوی نمبر: (97750) کا جواب بھی ملاحظہ کریں۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/231523
     
  2. ‏جون 06، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    كيا يورپى كميٹى كے مطابق ہى چليں چاہے وہ فلكى حساب كے مطابق ہى عمل كرتى ہو ؟

    ہم مركز اسلامى برطانيہ كى جانب سے اپنے مركز كے نمازيوں كے ليے ماہ رمضان اور نماز عيد الفطر كى تحديد كرنا چاہتے ہيں، اور اس سلسلے ميں ہم نے يہاں سب مسلمانوں كو اس موضوع ميں اكٹھا كرنے كى كوشش كى ہے، بعض تو فلكى حساب كے مطابق عمل كرنے كا كہتے ہيں، يورپى فتوى كميٹى كى بھى اس ميں رائے ہے، يہ علم ميں رہے كہ يورپ ميں مسلمانوں كے فتوى جات يہى كميٹى ديتى ہے.

    ہمارا سوال يہ ہے كہ:

    كيا ہم يورپى فتوى كميٹى كے مطابق عمل كريں چاہے وہ فلكى حساب كے مطابق ہى عمل كرے، يا كہ ہم نے اپنے شہر ميں مسلمانوں كو اكٹھا كرنے كى جو كوشش شروع كى ہے اس پر قائم رہيں، چاہے اس ميں كميٹى كى رائے كے مخالفت ہى ہو ؟


    Published Date: 2007-09-08

    الحمد للہ:

    ماہ رمضان كى ابتدا يا انتہاء ميں فلكى حساب و كتاب پر عمل كرنا جائز نہيںن بلكہ چاند ديكھنے پر عمل كرنا ضرورى ہے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى اسى كا حكم ديتے ہوئے فرمايا ہے:

    " چاند ديكھ كر روزہ ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى روزہ ترك كرو " يعنى عيد الفطر مناؤ.

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1909 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1081)

    مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 1602 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

    مسلمانوں كا اجماع ہے كہ اگر آسمان صاف ہو تو رؤيت ہلال كے بدلے ميں فلكى حساب و كتاب پر عمل كرنا جائز نہيں، اور اگر آسمان ابرآلود ہو تو بعض علماء كرام نے صرف حساب لگانے والے كے ليے فلكى حساب پر عمل كى اجازت دى ہے.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    بلاشبہ ہمارے ليے دين اسلام ميں يہ جاننا ضرورى ہے كہ رؤيت ہلال، يا حج يا عدت يا ايلاء يعنى بيوى سے عليحدہ رہنے كى قسم كھانا اور اس طرح كے چاند كے متعلقہ دوسرے احكام ميں حساب و كتاب والے كى خبر كہ چاند نظر آئيگا يا نہيں نظر آئيگا جائز نہيں.

    نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كے متعلق بہت سى نصوص ملتى ہيں، اور مسلمانوں كا اس پر اجماع بھى ہے، اور اس ميں شروع سے كوئى اختلاف بھى نہيں پايا جاتا، اور نہ ہى آج كے دور جديد ميں كوئى اختلاف ہے ليكن متاخرين تيسرى صدى كے بعد اپنے آپ كو فقھاء كہنے والے بعض افراد كا گمان ہے كہ اگر چاند غائب ہو اور آسمان ابر آلود ہو تو حساب كرنے والا شخص خود تو حساب و كتاب پر عمل كر سكتا ہے، چنانچہ اگر حساب رؤيت پر دلالت كرے تو وہ روزہ ركھ لے، اور اگر دلالت نہ كرے تو روزہ نہ ركھے.

    يہ قول اگرچہ آسمان ابر آلود ہونے كے ساتھ مقيد، اور حساب لگانے والے كے ساتھ مختص ہے، پھر بھى يہ شاذ اور اجماع كے خلاف ہے، كيونكہ پہلے اجماع ہو چكا ہے، ليكن آسمان صاف ہونے كى صورت ميں اس پر عمل كرنا، يا عموما حكم عام كو اس كے ساتھ معلق كرنا كسى بھى مسلمان شخص كا قول نہيں. اھـ

    ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 25 / 132 ).

    اس بنا پر اگر مذكورہ كميٹى فلكى حساب و كتاب كے مطابق عمل كرتى ہے، اور رؤيت ہلال كو مد نظر نہيں ركھتى تو آپ كے ليے اس كميٹى كے كہنے پر عمل كرنا جائز نہيں.

    بلكہ آپ لوگ رؤيت ہلال پر عمل كريں اور چاند ديكھ كر روزہ ركھيں جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا حكم ہے، اور مسلمانوں كا اس پر اجماع ہے.

    اللہ تعالى آپ سب كو اپنے محبوب اور رضامندى كے عمل كرنے كى توفيق سے نوازے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/37667
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں