1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا رسول اللہﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا گالی دی تھی ۔ملحدوں کےا عتراض کا جواب درکار ہے

'دہریت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏اگست 15، 2015۔

  1. ‏اگست 15، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    حدثنا سليمان بن حرب، ‏‏‏‏حدثنا شعبة، ‏‏‏‏عن الحكم، ‏‏‏‏عن إبراهيم، ‏‏‏‏عن الأسود، ‏‏‏‏عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت لما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينفر إذا صفية على باب خبائها كئيبة، ‏‏‏‏فقال لها ‏"‏ عقرى ـ أو حلقى ـ إنك لحابستنا أكنت أفضت يوم النحر ‏"‏‏.‏ قالت نعم‏.‏ قال ‏"‏ فانفري إذا ‏"‏‏.‏

    ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دوگی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
    ملحد نے ان الفاظ کو گالی کہا ہے

    ”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے
     
  2. ‏اگست 15، 2015 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @اسحاق سلفی
    @خضر حیات
     
  3. ‏اگست 15، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بھائی پہلے یہ حدیث اور اس کا ترجمہ دیکھ لیں ،

    عن عائشة رضي الله عنها قالت:‏‏‏‏"اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان ينفر فراى صفية على باب خبائها كئيبة حزينة لانها حاضت فقال:‏‏‏‏ عقرى حلقى ، لغة لقريش إنك لحابستنا ثم قال:‏‏‏‏ اكنت افضت يوم النحر يعني الطواف قالت:‏‏‏‏ نعم قال:‏‏‏‏ فانفري إذا".(صحیح البخاری :حدیث نمبر: 6157 )

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج سے) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا «عقرى حلقى» (یہ قریش کا محاورہ ہے) اب تم ہمیں روکو گی! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر چلو۔‘‘
    اس میں کوئی گالی کی بات نہیں ، صرف «عقرى » کہا (تو بانجھ ہو ۔۔ جو بظاہر بد دعا ،ہے ۔۔لیکن فی الحقیقت بد دعاء نہیں۔۔اور اہل عرب کے ہاں یہ بات معروف ہے ‘‘
    علامہ ابن الاثیر ۔۔النہایہ فی غریب الحدیث ‘‘ میں اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
    ومنه حديث صفية «لما قيل له: إنها حائض، فقال: عقرى حلقى» أي عقرها الله وأصابها بعقر في جسدها. وظاهره الدعاء عليها، وليس بدعاء في الحقيقة، وهو في مذهبهم معروف.
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں