1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

کیا رسول اللہ ﷺ اَن پڑھ تھے ؟؟؟؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو بصیر, ‏جولائی 29، 2013۔

  1. ‏جون 20، 2017 #11
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    275
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    السلام علیکم!
    وہ آپ کو احادیث مبارکہ کی کتابوں میں ملے گی۔ یعنی وہ کتابیں جن کو ہم لاریب نہیں کہہ سکتے جن کی تحقیق ساتھ ساتھ ہم سب پر لازم ہے ۔ شکریہ
    صحیح بخاری،ترمزی،مشکاۃ شریف،مسلم،وغیرہ میں درج ہیں ۔ تحقیق کے ساتھ اس پر عمل کریں شکریہ۔
     
  2. ‏جون 20، 2017 #12
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    275
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    السلام علیکم! اس پوسٹ کو مکمل پڑھیں توجہ کے ساتھ شکریہ۔
    سورۃ الفرقان 25 آیت نمبر 5۔
    وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا Ĉ۝
    کہتے ہیں ’’ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اِسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں‘‘ (5)

    اس کے یہ بھی ایک مطلب ہے نقل کروانا اب آپ بتائیں نقل کیسے کی جاتی ہے؟
    پہلے سے لکھی ہوئی عبارت کو دیکھ کر دوسری عبارت کو کاپی کرنا نقل کہلاتا ہے ۔ شکریہ۔

    انس آپ کا سوال ہے۔

    سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لکھنا پڑھنا اس لئے نہیں سکھایا تھا کہ آپ کے مخالفین آپ پر شک نہ کریں، فرمانِ باری ہے:
    قرآن سے پہلے نبی کریم ﷺ نہ پڑھنے تھے اور لکھتے تھے یہ حکمت تھی اللہ تعالیٰ کی یہ دیکھانا تھا کہ یہ جو نبی جو آج پڑھ لکھ رہا ہے اس پہلے آج تک اس نے نہ تو کوئی کتاب لکھی اور نہ ہی یہ پڑھ سکتا تھا یہ وحی نازل ہوئی اور یہ پیغمبر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو پڑھنا اور لکھنا سیکھایا ہے۔
    سورۃ القلم۔
    نٓ ۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں، (1)
    یہاں جبرائیل علیہ السلام ، نبی کریم ﷺ اور اصحاب کی طرف اشارہ ہے ۔ جو نزول کے ساتھ ساتھ قرآن مجید لکھتے تھے ۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو یہ لاریب نہ ہوتا اور یہ شک سے پاک نہ ہوتا جیسا کہ احادیث کی کتابوں میں ہے یعنی وہ کتابیں بعدمیں جمع کی گئی جس کی وجہ سے لاریب نہیں شک سے پاک نہیں۔
    تم اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو ۔(2)
    تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟ (کیسا فیصلہ کرتے ہو) (36)
    کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو ؟ (37)

    سورۃ العلق 96۔

    پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ (1) جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ (2) تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے۔ (3) جس نے قلم کے ذریعے [علم] سکھایا۔ (4)جس نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا۔ (55)
    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم
    کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ
    صلی اللہ علیہ وسلم
    نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ
    صلی اللہ علیہ وسلم
    کے پاس آیا اور کہا
    «اقْرَأْ»​
    یعنی پڑھئیے آپ
    صلی اللہ علیہ وسلم
    فرماتے ہیں:
    میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا
    ۔
    فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور
    «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ»​
    (96-العلق:1)​
    سے
    «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ»​
    (96-العلق:5)​
    تک پڑھا۔


    آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: مجھے کپڑا اڑھا دو، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔
    ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
     
  3. ‏جون 20، 2017 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,295
    موصول شکریہ جات:
    7,987
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    بد تمیزی سے گریز کیا کریں ، قرآن مجید کا نام لے کر دوسروں کی ’ مستند باتوں ‘ کو جھوٹ اور الزام کہنا اور خود اپنی طرف سے چھوڑے جانا یہ دوغلی پالیسی ہے ۔
    ہمارے پاس تو مستند روایات ہیں کہ قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، آپ کے پاس کیا ہے ؟ جو بھی لکھیں ساتھ قرآن کی آیت ضرور لکھیں ۔ ممکن ہو تو یہ بھی بتائیے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یا جبریل نے جو قرآن مجید لکھوا ہوا صحابہ کو دیا تھا ، وہ اس وقت کہاں ہے ؟ اس میں اس کی لکھائی کس طرح کی تھی ؟ زبر زیر وغیرہ تھی کہ نہیں ؟
    اس میں یہ تو کہیں نہیں لکھا ہوا کہ قرآن مجید کتابی شکل میں باقاعدہ ایک مصحف کی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو تھمایا تھا ، اگر ایسا ہی ہے تو بتائیں وہ مصحف کس تاریخ کو نازل ہوا ؟ اور نازل ہونے کے بعد اسے کہاں رکھا گیا تھا ؟
    وہی دوغلی پالیسی ۔
    یعنی قرآنی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے آپ ’ شک والی کتابوں ‘ کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہیں ۔ سبحان اللہ !
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  4. ‏جون 20، 2017 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,295
    موصول شکریہ جات:
    7,987
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    پھر وہی فضول انداز ۔
    انس صاحب نے قرآن مجید کی آیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت ’ امیت ‘ ثابت کی ہے ۔ اس کا جواب کہاں ہے ؟
    جتنی آیات لکھی ہوئی ہیں ، ان میں کسی ایک آیت میں ’ صفت امیت ‘ کی نفی نہیں ، صرف دھوکہ دہی کے لیے قرآنی آیات بلا سوچے سمجھے لکھی جاتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 20، 2017 #15
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    275
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    السلام علیکم!
    اس پوسٹ کا عنوان دیکھیں کیا ہے؟
    پوسٹ کا عنوان ہے
    کیا رسول اللہ ﷺ اَن پڑھ تھے ؟

    اور میں نے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی۔؟
    بد تمیزی سے گریز کیا کریں کہاں کی بد تمیزی آپ کو تو میری ہر بات ہی بد تمیزی لگتی ہے معلوم نہیں کیوں!!!!!
    دوغلی پالیسی ۔اللہ کا شکر ہے مجھے حق صاف نظر آتا ہے اور حق یہی ہے کہ ۔
    قرآن مجید کو حاکم بنا کر ان شک والی کتابوں سے حق تلاش کیا جائے کوئی شک نہیں علمائ اکرام نے محنت سے ان احادیث کو اکٹھا کیا لیکن شک سے پاک نہیں میرا تو یہی ایمان ہے کہ اگر قرآن سے جواب مل جائے تو وہ روایات جو قرآن کی مخالفت کریں ان کا رد لازمی ہے اور ان شک والی کتابوں کی تحقیق لازم ہے ۔ شکریہ۔۔۔۔
     
  6. ‏جون 21، 2017 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,295
    موصول شکریہ جات:
    7,987
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    جواب میں قرآن مجید کی آیات سے ہی استدلال کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں واضح لفظ ’ الأمی ‘ استعمال ہوا ہے ۔ اس کے باوجود حجت بازی کرتے جانا اور ساتھ کہنا کہ میں قرآن کو حاکم مانتا ہوں ، عجیب و غریب بات ہے ۔
     
  7. ‏جون 22، 2017 #17
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    275
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    السلام علیکم!
    آپ کے تمام جوابات
    کتاب کا نام۔ جمعُ القرآن میں واضح ہیں۔
    مصنف۔علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلوروی ۔
    الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ(رجسٹرڈ)
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہر شخص ہو ہدایت دے جو ہدایت حاصل کرنا چہتا ہو۔
    اس کتاب میں دلیلوں سے واضح کیا گیا ہے اور تبصرہ کیا گیا ہے قرآن مجید کو جمع کرنے والی روایت کے بارے میں۔
    شکریہ
     
  8. ‏جون 23، 2017 #18
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,295
    موصول شکریہ جات:
    7,987
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    آپ نے ان کا نام لیٹ سنا ہوگا ، آپ کی اس ’ کتاب لاریب ‘ کے مصنف کا پوسٹ مارٹم فورم پر موجود ہے ۔
     
  9. ‏جولائی 04، 2017 #19
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    275
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    السلام علیکم!
    پہلے تو آپ سے ایک سوال ہے ۔۔۔۔۔بتایں میں نے اس کتاب کو لاریب کہاں کہا؟ اس کا جواب آپ پر قرض ہے معافی مانگیں شکریہ۔ نہیں تو اس قیامت کے دن آپ جواب دیں گے۔۔میں آپ کو دوزخ کی آگ سے بچانا چہتا ہوں۔
     
  10. ‏جولائی 04، 2017 #20
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,295
    موصول شکریہ جات:
    7,987
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    آپ ہر وقت ’ لاریب کتاب ‘ کی رٹ لگاتے رہتے ہیں ، میں نے اس کتاب کا حوالہ بھی اسی ضمن میں سمجھا ہے ، واقعتا آپ کے نزدیک یہ لاریب کتاب نہیں ؟
    اگر نہیں تو پھر اپنا دعوی ’ لاریب کتاب ‘ سے ہی پیش کریں ۔ شک والی کتابوں کے حوالے نہ دیں ۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں