1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا سیدنا عبدالله بن مسعود رضی الله عنه کے نزدیک چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی الله عنہ سب سے افضل تھے؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از علی عمران, ‏اکتوبر 26، 2019۔

  1. ‏اکتوبر 26، 2019 #1
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    29
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ۔
    روافض حضرت علی رضی الله عنہ کو سب سے افضل ثابت کرنے کے لیے یہ روایت پیش کرتے ہیں:
    كنا نتحدث أن أفضل أهل المدينة علي بن أبي طالب۔
    (فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، مسند البزار)
    اس روایت کا جواب درکار ہے۔
    @عدیل سلفی
    @کفایت اللہ
    @اسحاق سلفی
    @خضر حیات
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر 26، 2019
  2. ‏اکتوبر 27، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں


    ہمارے نزدیک تمام صحابہ کرام ہی معزز و مکرم ہیں اور ہمارے سر کا تاج ہیں، سب سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ،ان میں سے کسی ایک کی جانب جھکاؤ یا کسی کے خلاف تعصب کے بغیر ان سب کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ، قرآن مجید ، احادیث اور خوداقوال صحابہ کی روشنی درج ذیل گذارشات پیش ہیں*
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمْ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً.
    محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ جو (اصحابِ گرامی ) ہیں ،وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ رکوع و سجدہ کرتے ہوئے اللہ کا فضل اور رضا تلاش کرنے میں مشغول ہیں۔سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں، یہ ہے ان کی یہی مثال تورات میں اور انجیل میں مذکور ہے ، ان کی مثال یوں ہے کہ گویا ایک فصل ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو مضبوط بنایا ، پھر وہ موٹی ہوئی،پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایاہے۔
    (الفتح 48:29)

    دوسری جگہ پر اللہ پاک فرماتے ہیں!!
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ.
    مہاجرین اور انصار میں سب سے پہلے آگے بڑھ کر [ایمان لانے والے] اور وہ جنہوں نے نیکی میں ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہیں۔ اس نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن میں باغوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
    (التوبہ،آیت نمبر-100)

    امت محمدیہ میں حدیث مصطفیٰ ﷺ کی سب سے معتبر کتاب صحیح بخاری سے دوتین احایث پیش کی جاتی ہیں :
    صحیح البخاریؒ ،بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ
    باب: نبی کریم ﷺکے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓکی دوسرے صحابہ پر فضیلت کا بیان
    حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں اصحاب النبی ﷺ کے درمیان ایک دوسرے پر فضیلت اس طرح دیتےکہ سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قراردیتے ، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ۔
    تشریح: حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے مذہب جمہور کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تمام صحابہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فضیلت حاصل ہے۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے اور خلف میں سے بھی اکثر نے یہی کہا ہے۔
    صحیح بخاری 3655
    عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ))
    ترجمہ : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کونہیں قراردیتے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کو ئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کوایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے -
    صحیح بخاری 3698
    اور امام احمد بن حنبل ؒ نے فضائل الصحابہ میں اور ان کے صاحبزدے جناب امام عبداللہ بن احمدؒ نے ’’ السُنۃ ‘‘ میں بسند صحیح روایت فرمایا ہے کہ :
    عن نافع، عن ابن عمر، قال: كنا نتحدث على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن خير هذه الأمة بعد نبيها صلى الله عليه وسلم أبو بكر ثم عمر ثم عثمان "
    کہ ہم صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کہا کرتے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعدسب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ‘‘

    عنِ ابنِ عمرَ قالَ كنَّا نتحدَّثُ علَى عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ إنَّ خيرَ هذِهِ الأمَّةِ بعدَ نبيِّها أبو بَكرٍ وعمرُ وعثمانُ فيبلغُ ذلِكَ النَّبيَّ فلا ينْكرُهُ علَينا
    ظلال الجنة في تخريج "السنة" لابن أبي عاصم وقال الشيخ محمد ناصر الدين الألباني صحيح

    یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں ہم صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کہا کرتے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعدسب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں،اور ہمارا اس طرح کہنا رسول اکرم ﷺ کے علم میں تھا ،لیکن آپ نے کبھی ہمیں اس طرح کہنے سے منع نہیں کیا ‘‘


    اورخود حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    صحیح البخاریؒ ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا»
    باب: فرمان مبارک کہ اگر میں کسی کو ’’خلیل ‘‘ یعنی سب سے بڑھ کر محبوب دوست بناتا۔۔۔
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ قُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ قَالَ مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ
    ترجمہ : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے جناب محمد بن حنفیہ ؒ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد ( علی رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں ؟ انہوں
    نے بتلایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) میں نے پوچھا پھر کون ہیں ؟ انہوں نے بتلایا ، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب ( پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد ؟ تو ) کہہ دیں گے کہ عثمان رضی اللہ عنہ اس لیے میں نے خود کہا ، اس کے بعد آپ ہیں ؟ یہ سن کر وہ بولے کہ میں تو صرف عام مسلمانوں کی جماعت کا ایک شخص ہوں ۔
    صحیح بخاری 3671

    اور جناب علی رضی اللہ عنہ نے اعلان کردیا تھا کہ مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دینے والے سزا دوں گا ۔
    عن علي رضي الله عنه قال : " لَا يُفَضِّلُنِي أَحَدٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَّا جَلَدْتُهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي "
    رواہ عبد الله بن أحمد في " السنة " (1312) ، وابن أبي عاصم في " السنة " (1219) ، والبيهقي في " الاعتقاد " (ص: 358)
    فارسی ترجمہ :عبدالله بن احمد در کتاب السنة(۱۳۱۲) و ابن ابی عاصم در السنة (۱۲۱۹) و بیهقی در الاعتقاد (ص۳۵۸) از علی ـ رضی الله عنه ـ روایت کرده که گفت: هرکس مرا از ابوبکر و عمر برتر بداند، حد افترا به او می‌زنم.
    جناب علی رضي اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: جس نے بھی مجھے ابوبکروعمر رضي اللہ تعالی عنہما پرفضيلت دی تومیں اسے حد افتراء(جھوٹا بہتان لگانے والے کی سزا) لگاؤں گا ۔

    شيخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ الله لکھتے ہیں :
    " ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وُجُوهٍ كَثِيرَةٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا أوتى بِرَجُلِ يُفَضِّلُنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : إلَّا جَلَدْته حَدَّ الْمُفْتَرِي " انتهى من "مجموع الفتاوى" (4/ 479) .
    شیخ الإسلام ابن تیمیه ـ رحمه الله ـ می‌گوید: «از طرق فراوانی ثابت شده که علی ـ رضی الله عنه ـ گفته است: هیچ کس را نمی‌آورند که مرا از ابوبکر و عمر برتر بداند، مگر اینکه حد افترا به او می‌زنم.(مجموع الفتاوی: ۴/۴۷۹).
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی فرماتےہیں :
    سیدناعلی رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ بات کئی اسانید کےساتھ ثابت ہے کہ وہ فرماتے تھے مجھے ابوبکر و عمررضي اللہ تعالی عنہما پرفضيلت دینے والا جوبھی (گرفتار ہوکر ) کر میرے پاس لایا گیا ، تومیں اسے حد افتراء (بہتان طرازی کی سزا) لگاؤں گا ۔
    اور حضرت علی ؓ نے برسر منبر خطبہ دیتے ہوئےشیخین یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضلیت کا بیان فرمایا :
    عون بن أبي جحيفة قال: كان أبي من شرط علي، وكان تحت المنبر، فحدثني أبي: أنه صعد المنبر - يعني عليا - فحمد الله تعالى وأثنى عليه، وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم، وقال: " خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر، والثاني عمر، وقال: يجعل الله تعالى الخير حيث أحب "
    عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میرے والد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہرہ داروں میں سے تھے، وہ منبر کے قریب بیٹھے تھے، میرے والدابوجحیفہ رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ علی رضي اللہ تعالی منبر پر چڑھے اور اللہ تعالی کی حمدوثنا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کے بعد کہنے لگے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہتر اور افضل ابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ اور دوسرے نمبر پرعمر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ، اورپھر یہ کہا کہ اللہ تبارک وتعالی جہاں پسند کرے بہتری اورخيررکھتا ہے ۔
    امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے اسے اپنی مسند ( 837 ) میں روایت کیا ہے اورشیخ شعیب ارناؤوط نے اس کی سند کوقوی قرار دیا ہے،
    اور مسنداحمدؒ میں دوسری روایت اس طرح ہے :
    حدثنا عاصم بن أبي النجود، عن زر يعني ابن حبيش، عن أبي جحيفة، قال: سمعت عليا، يقول: " ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد نبيها؟ أبو بكر " ثم قال: " ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد أبي بكر، عمر "
    إسناده حسن، عاصم- وهو ابن أبي النجود- حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين.
    وأخرجه الطبري 1/12، وابن حبان (746) من طريق سعيد بن يحيى بن سعيد، بهذا الإسناد.

    حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، کیا میں تمہیں یہ بھی بتلا دوں کہ اس امت میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔

    اور المعجم الکبیر طبرانی میں روایت ہے کہ :
    عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: «إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، وَالثَّانِي عُمَرُ، وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أَذْكُرَ الثَّالِثَ ذَكَرْتُهُ»
    حضرت عَمرو بن حریث رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ منبر پرتشریف رکھتے تھے ، اور حضرات شیخین سیدنا ابوبکر وعمر ررضی اللہ عنہما کا ذکر فرما رہے تھے ، اور فرمایا کہ رسول مکرمﷺ کےبعد افضل ابوبکرؓ ہیں ،ان کے بعد دوسرے نمبر پر سیدنا عمر ؓہیں ، اور اگر میں چاہوں تو ان دونوں حضرات کے بعد تیسرے مرتبہ والے صحابی کا نام بھی بتا سکتا ہوں ‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107)

    اور رافضیوں کی معتبر کتاب تلخیص الشافی میں حضرت علی کا اعلان موجود
    إنهما إماما الهدى، وشيخا الإسلام، والمقتدى بهما بعد رسول الله، ومن اقتدى بهما عصم" (تلخيص الشافي) للطوسي (2 /428)
    یعنی یہ حضرت ابوبکر و عمر دونوں ہدایت کے امام اور شیخ الاسلام اور حضورﷺ کے بعد مقتدیٰ ہیں اور جس نے ان کی پیروی کی، وہ برائی سے (یا اللہ کے عذاب ) سے بچ گیا ‘‘

    جہاں تک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول کہ :
    (كنا نتحدث أن أفضل أهل المدينة علي ) ہم کہا کرتے تھے کہ اہل مدینہ سب سے افضل جناب علی رضی اللہ عنہ ہیں ‘‘
    تو اس کا معنی و مراد سمجھنے کیلئے صحیح بخاری اور اس کی شرح فتح الباری سامنے رکھتے ہیں ؛
    عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: «كنا في زمن النبي صلى الله عليه وسلم لا نعدل بأبي بكر أحدا، ثم عمر، ثم عثمان، ثم نترك أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، لا نفاضل بينهم»
    ترجمہ : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم صحابہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کونہیں قراردیتے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کو ئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کوایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے –‘‘

    صحیح بخاری کے شارح علامہ ابن حجر عسقلانیؒ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
    ما روى البزاز عن بن مسعود قال كنا نتحدث أن أفضل أهل المدينة علي بن أبي طالب
    رجاله موثقون وهو محمول على ان ذلك قاله بن مسعود بعد قتل عمر

    اور مسند البزار کی روایت میں جو سیدنا عؓبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ : ہم کہا کرتے تھے کہ اہل مدینہ سب سے افضل جناب علی رضی اللہ عنہ ہیں ‘‘
    تو ابن مسعود ؓ کا یہ قول امیرالمومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کے زمانہ کا ہے ،یعنی اس وقت اہل مدینہ میں شیخین یعنی سیدنا ابوبکر ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہما موجود نہیں تھے ،(فتح الباری ،جلد ۷ ص۵۸)
    اور یہی امت مسلمہ کا عقیدہ کہ خلافت و فضیلت میں جناب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے نمبر پر ہیں ؛

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 27، 2019
    • زبردست زبردست x 3
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں