1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا شرک وتوحید ایک مسلمان میں جمع ھو سکتے ھیں؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏مارچ 20، 2016۔

  1. ‏مارچ 20، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.

    ويجتمع في المؤمن ولاية من وجه ، وعداوة من وجه ، كما قد يكون فيه كفر وإيمان ، وشرك وتوحيد ، وتقوى وفجور ، ونفاق وإيمان . وإن كان في هذا الأصل نزاع لفظي بين أهل السنة ، ونزاع معنوي بينهم وبين أهل البدع ، كما تقدم في الإيمان . ولكن موافقة الشارع في اللفظ والمعنى - أولى من موافقته في المعنى وحده ، قال تعالى : وما يؤمن أكثرهم بالله إلا وهم مشركون [ يوسف : 106 ] . وقال تعالى : قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا [ الحجرات : 14 ] الآية ( مهذب شرح العقیدہ الطحاویة:صفحہ: ۲٧۹)

    پہلا سوال ھیکہ کیا شرک وتوحید جمع ھو سکتے ھیں؟ جس طرح کفر وایمان جمع ھو جاتے ھیں (کفر سے مراد کفر دون کفرہ ھے جہاں تک سمجھا).
    دوسرا سوال یہ ھیکہ وشرك وتوحيد“ میں شرک سے مراد کیا ھوگا شرک اکبر یا کہ شرک اصغر؟
    تیسرا سوال یہ ھیکہ براہ کرم "ولكن موافقة الشارع في اللفظ والمعنى - أولى من موافقته في المعنى وحده“ اس عبارت کی وضاحت کر دیں.
    چوتھا سوال یہ ھیکہ "وما يؤمن أكثرهم بالله إلا وهم مشركون [ يوسف : 106 ]“ کا شان نزول کیا ھے؟ کیا اس آیت میں عموم ھے؟ اس آیت سے کون لوگ مراد ھیں؟

    محترم شیخ @خضر حیات صاحب حفظہ اللہ
    محترم شیخ @انس صاحب حفظہ اللہ
     
  2. ‏مارچ 21، 2016 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس قدر پیچیدہ سوال بہتر ہے ، عقیدے کے استاد محترم کے سامنے بیٹھ کر حل کروا لیا کریں ۔
    اگر یہیں کوشش کرنی ہے تو استاد محترم انس صاحب تو شاید ٹائم نہیں نکال سکیں گے ، لہذا محترم @طاہر اسلام عسکری ثم مولوی صاحب سے گزارش کرکے دیکھ لیں ۔
    ممکن ہے آپ کے بہانے ہمیں بھی یہ مسئلہ سمجھ آجائے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 21، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    استاد محترم کی بات ھی تو سمجھ میں نہیں آرھی ھے جناب.
    وہ شرک سے مراد شرک اکبر لے رھے ھیں.
    اور آیت کو مشرکین مکہ کے ساتھ خاص کر رھے ھیں.
    اب کیا کروں.......
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 21، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    آج عقیدے کی پوری گھنٹی اس بحث میں نکل گئ لیکن کوئ خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ھو سکا.
    شاید مجھے زیادہ مطالعہ کی ضرورت ھے.
    لیکن اگر شیخ محترم @طاہر اسلام صاحب اس کی وضاحت فرما دیں تو بڑی مہربانی ھوگی.
    یہ مسئلہ چونکہ بہت پیچیدہ ھے اس لۓ سمجھنا چاہتا ھوں. یہ کافر ومشرک کہنا بہت بڑا مسئلہ ھے.
    اللہ ھمیں صحیح سمجھ عطا فرماۓ.
    آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 21، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  6. ‏مارچ 21، 2016 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اہل علم توجہ فرمائیں
     
  7. ‏مارچ 23، 2016 #7
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    جی بالکل جمع ہو سکتے ہیں ؛ ایک مسلمان شرک اکبر کا مرتکب ہو سکتا ہے ؛ جہالت یا تاویل کی بنا پر جیسے نو مسلم افراد نے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر کر دیجیے اور جیسے ایک صاحب نے کہا تھا : ماشاءاللہ و شئت تو آں حضرت ﷺ نے فرمایا تھا: ا جعلتنی للہ ندا ۔ ایسی صورت میں جب تک اس پر اتمام حجت کر کے اس کی جہالت یا شبہے کو زائل نہ کیا جائے وہ مسلمان ہی سمجھا جائے گا ! اور اتمام ھجت کے بعد اگر وہ اپنے اس شرکیہ قول یا عمل پر اصرار کرے تو پھر وہ کافر قرار دیا جائے گا اور اسے مسلمان کہنا درست نہ ہو گا ؛ یہیں سے اس تعبیر کی کم زوری واضح ہو جاتی ہے جس کے تحت مسلمان مشرک کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ؛ اگر وہ مسلمان ہے تو مشرک نہیں اور اگر مشرف ہے تو اسے مسلمان کہنا جائز نہیں ؛ یہ ایسے ہی جیسے کسی کو مسلمان کافر کہا جائے !!!
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 23، 2016 #8
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    سورت یوسف کی مندرجہ بالا آیت سے مراد واقعی کافر ہیں جو ایمان کے مدعی ہیں لیکن شرک اکبر کے حامل ہونے کی وجہ سے ان کا ایمان مقبول نہیں ہے اور نہ انھیں مومن کہا ہی جا سکتا ہے !
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 23، 2016 #9
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    اس کے معنی یہ ہیں کہ اہل سنت کے یہاں بعض گروہوں میں جو لفظی اختلاف ہے اس کی بنیاد بعض گروہوں کی تعبیر پر ہے جو انھوں نے شرعی الفاظ سے ہٹ کر کی ہے اگرچہ ان کا مفہوم وہی ہے جو شریعت میں مقصود ہے لیکن الفاظ میں وہ شریعت کے موافق نہیں ہیں تو لفظ و معنی دونو میں شریعت کی موافقت محض معنی میں موافقت سے بہتر ہے ۔ یہ اشارہ ہے ایمان کی بھث کی طرف کہ حنفیہ ایمان کی کمی بیشی کے قائل نہیں ہیں اگرچہ مفہوم کسی درجے میں ان کا بھی درست ہو جاتا ہے لیکن الفاظ قرآنی کی مخالفت ہے کہ قرآن میں ایمان کے لیے زیادت و نقصان کے الفاظ آئے ہیں ۔ یہی معاملہ یہاں بھی ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 23، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    شکرا جزیلا. شیخ محترم.
    میں بھی یہی کہ رھا تھا کہ ایمان وشرک جمع ھو سکتے ھیں لیکن استاد مان نہیں رھے تھے.
    اب کچھ اشکالات اور ھیں اس پر بھی روشنی ڈال دیں گے تو بہتر ھوگا.
    کیا یہ لوگ مومن تھے؟ یا ایمان کا دعوی کرتے تھے؟
    کیا اس آیت کو ان لوگوں پر بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ھے جو شرک کرتے ھیں اور ایمان کا دعوی بھی کرتے ھیں؟
    جزاک اللہ خیر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں