1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا شیعہ راوی کی روایت مناقب اہل بیت میں قبول نہیں کی جاتی؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از ریحان احمد, ‏جون 19، 2017۔

  1. ‏جون 19، 2017 #1
    ریحان احمد

    ریحان احمد مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2011
    پیغامات:
    267
    موصول شکریہ جات:
    709
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    صحیح مسلم کی ایک مشہور روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ تم سے محبت نہیں رکھے گا مگر مومن، اور تم سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔

    ایک صاحب کا اس پر اعتراض پڑھا کہ یہ روایت سخت ضعیف ہے کیونکہ اسکا بنیادی راوی عدی بن ثابت ہے اور وہ شیعہ تھا۔ اور شیعہ کی علی رضی اللہ عنہ کے مناقب میں روایت قابل قبول نہیں ہے۔

    کیا یہ اصول اور اعتراض درست ہے؟
     
  2. ‏جون 20، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی !
    پہلی بات یہ سمجھ لیں کہ :
    رواۃ حدیث میں موجود وہ لوگ جنہیں شیعہ کہا گیا ، وہ ہمارے دور کے روافضیوں جیسے شیعہ نہیں تھے ،
    بلکہ امام ابن حجر ؒ لکھتے ہیں :
    فالتشيع في عرف المتقدمين هو اعتقاد تفضيل علي على عثمان, وأن عليا كان مصيبا في حروبه وأن مخالفه مخطئ مع تقديم الشيخين وتفضيلهما, وربما اعتقد بعضهم أن عليا أفضل الخلق بعد رسول الله -صلى الله عليهآله وسلم-, وإذا كان معتقد ذلك ورعا دينا صادقا مجتهدا فلا ترد روايته بهذا, لا سيما إن كان غير داعية, وأما التشيع في عرف المتأخرين فهو الرفض المحض فلا تقبل رواية الرافضي الغالي ولا كرامة,
    (تهذيب التهذيب الجزء الاول ترجمہ ابان بن تغلب)
    یعنی متقدمین نے جنہیں شیعہ کہا ہے تو اس سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جو جناب علی ؓ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتے تھے، اور جنگوں میں جناب علی کو حق پر اور انکے مخالفین کو خطا پر سمجھتے تھے، لیکن ساتھ ہی شیخین یعنی سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت و برتری کے بھی قائل تھے ، ہاں ان میں بعض کا عقیدہ تھا کہ جناب علی ؓ پیغمبر کے بعد سب سے افضل ہیں ،
    اور اگر یہ عقیدہ رکھنے والا نیک اور دیندار ، اور سچا ہو ، تو اسکی روایت رد نہیں کی جائے گی ،خاص کر جب وہ اپنی روایت میں اپنے مذہب کا داعی نہ ہو ۔
    آگے فرماتے ہیں :

    اور جہاں تک متاخرین کے دور کے شیعہ کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ یہ خالص رافضی ہیں ( یعنی تبرا باز شیعہ ہیں ) اور رافضی کی روایت کسی صورت قبول نہیں ہوتی ، نہ ان کی کوئی حیثیت ہے ‘‘ ))
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوسری بات یہ کہ :
    یہ روایت عدی بن ثابت کے بغیر دوسری اسناد سے بھی منقول ہے :
    امام طبرانی المعجم الاوسط میں روایت کرتے ہیں :

    حدثنا عبد الرحمن بن سلم قال: نا أبو الأزهر النيسابوري قال: حدثني عبد الرزاق، وحدي قال: نا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس قال: نظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى علي، فقال: «لا يحبك إلا مؤمن، ولا يبغضك إلا منافق، من أحبك فقد أحبني، ومن أبغضك فقد أبغضني، وحبيبي حبيب الله، وبغيضي بغيض الله، ويل لمن أبغضك بعدي»
    اس کے تمام رواۃ ثقہ ہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور امام احمد بن حنبلؒ ( فضائل الصحابہ ) میں روایت کرتے ہیں :
    حدثنا عبد الله قال: حدثني أبي، قثنا أسود بن عامر قثنا إسرائيل، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد الخدري قال: إنما كنا نعرف منافقي الأنصار ببغضهم عليا ‘‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تیسری بات یہ کہ :
    امام مسلم رحمہ اللہ نے جب اس روایت کو اپنی ۔۔ الصحیح ۔۔ میں درج فرمایا
    تو یقینی بات ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے اور انکی شرط پر ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں