1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا صالحین بیٹا و رزق دیتے ہیں؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از قادری رانا, ‏دسمبر 08، 2015۔

  1. ‏دسمبر 19، 2015 #11
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    369
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    تین طرح کے وسیلے جو احادیث سے ثابت ہیں

    (1)اللہ تعالیٰ کے اسماءوصفات کا وسیلہ
    (2) اپنے نیک اعمال کا وسیلہ
    (3) نیک آدمی کا وسیلہ
    (نیک آدمی کا وسیلہ، نیک اور زندہ شخصیت سے محض دعا کروانا ہے)

    حضرت عمرؓ کے دور میں جب قحط سالی پیدا ہوئی تو لوگ حضرت عباسؓ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اللہ سے دعا کریں۔ حضرت عمر اس موقع پر فرماتے ہیں:
    اللهم إنا کنا نتوسل إليک بنبينا فتسفينا وإنا نتوسل إليک بعم نبينا فاسقنا﴿صحيح بخاری:1010
    ’’اے اللہ! پہلے ہم نبیﷺ کووسیلہ بناتے (بارش کی دعا کرواتے) تو تو ہمیں بارش عطا کردیتا تھا اب (نبیﷺ ہم میں موجود نہیں) تیرے نبیﷺ کے چچا کو ہم (دعا کے لیے) وسیلہ بنایا ہے پس تو ہمیں بارش عطا کردے۔
    اس کے بعد حضرت عباسؓ کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی۔
    حضرت عمرؓ کو آپؐ کے چچا عباس سے وسیلہ کے طور پر دعا کروانا اور یہ اقرار کرنا کہ ہم پہلے نبیؐ سے دعا کرواتے تھے اور اب ا ن کے چچا سے کروا رہے ہیں یہ ثابت کرتا ہےکہ صحابہ فوت شدہ کو وسیلہ نہیں بناتے تھے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 20، 2015 #12
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    اویس صاحب آپ نے اچھی بات لکھی ہے مگر جو لوگ مجازی ہیں اور انکا ایمان و یقین مجاز پر ہے وہ کبھی حقیقی نہیں بننا چاہتے ،پہر اسی اعتقاد پر اسکی موت ہوگی پہر اللہ تعالی کہے گا لاو اپنے مجازی معبودوں کو جن کو واسطہ بناے ہوئے تھے اور جن کو ہمارا شریک بناے ہوئے تھے پھر آخری فیصلہ ہوجاے گا ۔اللھم احفظنا من ھذاالبلاء ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 20، 2015 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    طالب علم صاحب آب نے مثالوں مثالوں میں پاکستانی بس سروس یاد کروا دی ہے ـ ابتسامہ ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 20، 2015 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    قادر رانا صاحب ! محترم تلمیذ صاحب نے بہترین سوال کیا ہے ، اس پر توجہ فرمائیں ، فرض کر لیں ، بزرگوں کو پکار مجازی ہے ، لیکن آپ حقیقی پکار جس پر قرآن وسنت سے دلائل ہیں ، کے ساتھ اس مجاز کا اضافہ کیوں کرتے ہیں ؟ کیا کسی نے نبی نے کسی کو مجازی طور پر پکارا ؟ اپنے کسی صحابی کو مجازی طور پر پکارنے کی ترغیب دلائی ؟
    قرآن مجید میں جگہ جگہ آیا ہے ، کہ اللہ کو پکارو ، غیر اللہ کو نہ پکارو ۔
    کیا اس مجازی کی بھی کہیں ترغیب موجود ہے ؟
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 20، 2015 #15
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جو اعلانیہ شرک کرے وہ جاہل
    شرک کو آپ خود حرام کهیں
    بهائی آپکی ایسی کوششوں کو آپ خود کسطرح جانچتے هیں ، اگر قرآن اور سنت ثابتہ پہ خود کو جانچیں اور پرکہیں تو خود کیلئے کیا فیصلہ صادر فرمائینگے ؟
     
  6. ‏دسمبر 20، 2015 #16
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    226
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    تو بریلوی علماء ان پر فتویٰ کیوں نہیں لگاتے؟ بلکہ حقیقتا وہ ان کے پشتیبان بنے ہوئے ہیں جیسا کہ آپ کے طاہرالقادری صاحب جو عارفہ پروین کا کلام بڑے شوق سے سنتے ہیں
     
  7. ‏جنوری 12، 2016 #17
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    قرآن میں نسبت مجازی کی جب مثال آ گئی تو پھر ادھر ادھرکی باتیں کیا معنی؟یہ کہنا کہ حضرت عمر کے نزدیک فوت شدہ کا وسیلہ جائز نہیں اس پر حدیث کے کونسے الفاظ دلالت کرتے ہیں۔اگلی بات حضرت ربیعہ سے حضور کا کہنا سل ربیعہ مانگ کیا مانگتا ہے اور انہوں نے جنت مانگی اب یہ نسبت مجازی ہے کہ نہیں جنت دینی اللہ نے ہے نسبت حضور کی طرف۔
    اب تھوڑی تفصیل مدد کے کئی طریق ہوتے ہیں
    1۔نسبت مجازی کا استعمال جیسے ربیعہ والا وقع یا حضرت قتادہ کا اپنی آنکھ کو رسول اللہ کی بارگاہ میں لے کے آنا
    2۔دعا کروانا جیسے رسول اللہ سے بارش کے لئے دعا کروائی گئی
    3۔وسیلہ جیسے صحابی رسول نے آپ کا وسیلہ لیا
    یہ تینوں طریقے کسی زندگی میں بھی جائز ہیں اور بعد از وصال بھی۔کیونکہ جو زندہ کے لئے شرک نہیں وہ فوت شدہ کے لئے کیسے مجھے تو یہ منطق ہی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ زندہ کا وسیلہ جائز اور فوت شدہ کا شرک ۔جبکہ شرک شرک ہوتا ہے سجدہ عبادت نہ زندہ کو جائز نہ فوت شدہ کو مگر پتہ نہیں یہ کونسی شریعت ہے جس میں زندی کے لئے جائز چیز فوت شدہ کے لئے شرک ہو جاتی ہے ۔
    اور مجھے یہ بھی بتایا جائے اگر کوئی بندی اس نسبت مجازی کا قائل ہو اس پر بھی شرک کا فتوی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  8. ‏جنوری 12، 2016 #18
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    دیکھیں یہ بات مجھے تسلیم ہے کہ عوام کا عقیدہ غلط ہوتا ہے اس کی اصلاح کی کوشش بھی کی جاتی ہے مگر دھڑ سے اس پر شرک کا فتوی نہیں لگے گا۔بالفرض اگر کوئی ڈائریکٹ کے عقیدے سے مانگے مگر کیونکہ وہ عطائی مان رہا ہے یہ چیز حرام یا لزوم کفر تو ہو سکتی ہے مگر شرک نہیں
     
  9. ‏جنوری 12، 2016 #19
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    محترم رانا قادری صاحب

    اللہ سبحانہ و تعالی کی صفات ، خصوصا وہ صفات جنکا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا ، جنکی مثالیں اللہ نے مشرکین مکہ کو دیں ، مثلا حیات و موت ، رزق اور آفات سے نجات وغیرہ اگر آپ سے یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہا جائے تو ان صفات باری تعالی میں کسی غیر اللہ کو شریک کرنے کے عمل ظاہر اور اعلانیہ قول کے متعلق کیا فیصلہ کرینگے؟
    آپ ابہی زندہ ہیں ، میری تحریر کا جواب دینے کی قدرت رکہتے ہیں ، آپکی فوت اور دفن کے بعد (اللہ آپ کی عمر دراز کرے) ، آپکی قبر سے جواب طلب کیا جائے تو کیا آپ اپنی آواز یا تحریر جوابا پہونچا سکتے ہیں؟
    سمجہنا چاہتا ہوں الجہنا اور الجہانا نہیں کیونکہ میرے نزدیک یہ شریعت اللہ کا ، اللہ کی قدرت اور اللہ مالک کل ہونے نیز مالک یوم الدین ہونیکا معاملہ ہے ۔ میرے نزدیک یہ حد فاصل کا معاملہ ہے ، وہ حد جو ملت اسلام کو دوسری ساری ملتوں سے متمیز کر دیتی ہے اور جو پہچان ہے ملت اسلامیہ کی ۔
    والسلام
     
  10. ‏جنوری 13، 2016 #20
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    قادری صاحب 1 آپنے لکھا ہے کہ :یہ چیز حرام اور لزوم کفر تو ہو سکتی ہے مگر شرک نہین ۔ اب آپ یہ بتایئں کہ وہ حرام یا لزوم کفر کیوں ہوسکتی ہے دلیل کی روشنی میں بتایئں ،،، اور وہ شرک کیوں نہیں ؟ نیز آپکے نزدیک شرک کی تعریف کیا ہے ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں