1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا صحیح البخاری کی قسطنطنیہ کی حدیث ضعیف ہیے

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از Rahil, ‏جنوری 26، 2018۔

  1. ‏جنوری 29، 2018 #11
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

  2. ‏جنوری 30، 2018 #12
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم ،
    اس فورم کا جو اصول ہے"منھج سلف و صالحین پر آزادانہ بحث" اس کے برخلاف مجھ پر ویسے ہی کافی پابندیاں ہے اس لئے کچھ لکھتے ہوئے محتاط ہوتا ہوں آپ نے جو کہا تو میں نے اپنی کوئی اصطلاح نہیں بنائی بلکہ یہاں میری مراد شاذ مقبول و شاذ مردود میں سے ایک ہے یعنی شاذ مقبول بمعنی صحیح ہے
    کیونکہ یہ بخاری میں چھ یا سات جگہ موجود ہے مگر صرف ثور بن یزید سے یہ اس میں اضافہ ہے مگر چونکہ یہ بخاری میں ہے اس لئے مقبول ہے اور صحیح ہے

    shaz.png
     
  3. ‏جنوری 30، 2018 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پابندیاں !! کچھ مثالیں ذکر کردیں کہ ابھی تک آپ کی کون سی علمی بحث یا علمی نکتہ پابندی کی نظر ہوا ہے ؟
    مقبول حديث كو شاذ کہنا محل نظر ہے۔ شاذ کو شاذ کہا ہی اس لیے جاتا ہے ، کیونکہ وہ روایت مردود ہوتی ہے ۔
    شاذ بمعنی ’ فرد ‘ یعنی ’ غریب ‘ ہو ، تو الگ بات ہے ۔ کیونکہ تفرد شذوذ کے باعث بھی ہوتا ہے ، اور نکارت کے باعث بھی ۔
    حدیث صحیح کی شرط میں یہ بات ذکر ہے ’ من غیر شذوذ و لا علۃ ‘ پھر اس کے باوجود ’ صحیح ‘ بھی کہنا اور ’ شاذ ‘ بھی درست نہیں ۔
    آپ نے اپنی بات کی تائید میں ایک حوالہ پیش کیا ہے ، اس سے بھی ’ شاذ صحیح ‘ کی اصطلاح کا جواز تو نہیں نکلتا ، لیکن بہر صورت ’ شذوذ ‘ کو مطلقا ’ تفرد ‘ کے معنی میں استعمال کی تائید ہوتی ہے ۔
    ابتسامہ ۔
    چلیں ، انتظار کرلیتے ہیں ، اس وقت کا جب آپ صراحت سے یہ کہیں گے کہ بخاری کی یہ روایت درست نہیں ۔
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 30، 2018 #14
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    میں نے جو حوالہ دیا ہے اس میں واضح موجود ہے کہ شاذ کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے ہے ایک شاذ مقبول ،دوئم شاذ مردود تو اپ کا مفروضہ از خود باطل ہو گیا ہے کہ شاذ صرف مردود ہی ہوتی ہے
     
  5. ‏جنوری 30، 2018 #15
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    اس حوالے سے صرف دو باتیں ایک آپ نے خود بیان کی ہے
    " اب اپ کی دفاع حدیث سے ہٹ کر کوئی پوسٹ اپروف نہیں کی جائی گی۔
    دوئم میری پوسٹ بغیر اپرول کے منظر عام پر نہیں آتی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی بہرحال اپ کو اختیار ہے مگر اپ کے فورم کا اصول میرے لئے کچھ اور ہی ہے
     
  6. ‏جنوری 30، 2018 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ مفروضہ نہیں ، حقیقت ہے ۔ ورنہ خود آپ بھی ہر غریب حدیث کو ’ صحیح شاذ ‘ کہہ کر بیان نہیں کرتے ہوں گے ۔ بہر صورت پھر بھی آپ نے چونکہ حوالہ دیا ہے ، اور یہ ایک علمی انداز ہے ، اس لیے میں مزید اس سلسلے کو آگےنہیں بڑھاؤں گا۔
    آپ یہ کہہ سکتے ہیں ، کہ میں آپ کو وارننگ دینے کے باوجود اپنے اس اصول پر قائم نہیں رہا۔
    لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے دفاع حدیث سے ہٹ کر کوئی پوسٹ منظور نہیں ہونے دی ۔ اگر آپ مصر ہوں تو آپ کو فورا یہاں مثالیں پیش کرنی چاہییں ۔
    رہی بات ’ زیر نگرانی ‘ رکھنے کی ، تو اس کی گواہ بھی آپ کی آئی ڈی ہی ہے ۔ جب آپ کو متعدد بار منع کیا گیا کہ آپ نے فلاں فلاں موضوع سے متعلق پوسٹ نہیں کرنی ، تو پھر بھی اس پر اصرار کا مطلب ؟
    اور میں ایک بار پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ آپ کو یا کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ واقعتا کسی موضوع سے متعلق آپ کی کوئی تحقیق انیق میں نے حذف کی ہے ، اگر ہے ، تو یہاں پیش کریں ۔ البتہ کسی موضوع سے متعلق خاص انداز سے کجی بحثی ، تکرار ، فضولیات میں حسب استطاعت حذف کرتا رہتا ہوں ۔
    ہم انسان ہیں ، غلطی ہوسکتی ہے ، لیکن اللہ کا شکر ہے ، میں ذاتی طور پر اپنے انتظامی اختیارات کو بہت دیر بعد استعمال شروع کرتا ہوں ۔ اور جب کرلوں ، تو پھر میں ایک ایک بات کی توجیہ اور اس کا جواب بھی رکھتا ہوں ۔ یہ الگ بات کہ بعض دفعہ ان فضولیات میں پڑنے کو جی نہیں چاہتا۔
     
  7. ‏جنوری 31، 2018 #17
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    شاذ کی دو قسموں کیلئے یہ عربی عبارت کس کتاب کی ہے آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا ، اگر حوالہ دے دیتے تو ہمیں اصل تک رسائی میں آسانی رہتی !
     
  8. ‏جنوری 31، 2018 #18
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    kitab .jpg

    محترم،
    یہ کتاب ہے اور اگر آپ اصل مصدر چاہتے ہیں تو مقدمہ ابن صلاح میں شاذ کی تعریف کے تحت پڑھ سکتے ہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں