1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا صحیح بخاری امام بخاری کی تالیف ہے ؟ ایک شیعی اعتراض کا جائزہ

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اپریل 19، 2019۔

  1. ‏مئی 19، 2019 #11
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    821
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    صحیح بخاری پر ایک شیعی اعتراض کا جائزہ ۰۰۰۰۰(قسط -۱۱)

    ۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)

    ۴- تعدیل وتوثیق کا مفسر ہونا بھی ضروری ہے۔
    جب امام سمعانی نے امام فربری کی توثیق کردی تو موصوف معترض نے کہاکہ امام سمعانی نے تعدیل مفسرنہیں کی کہ معلوم ہوکہ آخرکس بناپر انہوں نے ان کی توثیق کی ہے؟گویا وہ یہ کہناچاہ رہے ہیں کہ جس طرح جرح کامفسر ہوناضروری ہے اسی طرح تعدیل بھی مفسر ہی ہو،ورنہ وہ جرح غیرمفسر کی طرح تعدیل مبہم مردود اور غیرمعتبرٹھہریگی۔
    عرض ہے کہ توثیق کرنے والاناقد یہ جان کر - کہ توثیق کس بناپرکی جاتی ہے - ہی توثیق کرتاہے،اس ناقد کے نزدیک جس کی توثیق کررہاہے وہ عادل بھی ہےاور ضابط بھی (ضبط الصدر یا الکتاب سے متصف) جب ہی تو اس کی وہ توثیق کررہاہے،مُعَدِّل کے نزدیک اس راوی میں عدالت کی خصوصیات تھیں اور ضبط بھی قوی تھا اسی لئے اس کی تعدیل کررہاہے،ورنہ اگر وہ سبب ذکرتاتو تو تعدیل کے کئی اسباب ہیں،اسے یہ کہنا پڑتا کہ :یہ راوی جھوٹ نہیں بولتا، نہ چوری کرتا ہے، نہ ڈاکہ زنی کرتاہے ،نہ شراب پیتا ہے، نہ کسی کاحق غصب کرتاہے،نہ کسی کو قتل کرتاہے،نہ ناپ تول میں کمی بیشی کرتا ہے،نہ جوا کھیلتا ہے،نہ موسیقی سنتاہے ، نہ حرام کھاتا ہے،اورگناہ کبیرہ اور صغیرہ سے بچتاہے،وغیرہ وغیرہ، یہاں اگر اس طرح کسی راوی کی تعدیل کرتے ہوئے اسباب کوذکرکرنا کرناشروع کیاجائے تو ایک لمبی لائن لگ جائیگی،آپ کس کس بات کو ذکرکرینگے،یہ تو نہایت عجیب تر ہوگا، ہم بھی اگر کسی کے بارے گواہی دیتے ہیں تو چند الفاظ پر ہی اکتفاء کرتے ہوئے شہادت پیش کردیتے ہیں۔ مثلا کہتے ہیں: فلاں شخص بہت اچھا ہے، یافلاں شخص بہت نیک ہے، یافلاں شخص بہت ایماندار ہے، یافلاں شخص بہت سچاہے ، وغیرہ وغیرہ، ان چندالفاظ سے ہی ہم محض کسی کی حقیقت کوواضح کئے دیتے ہیں، اس طرح ہمارا مخاطب معلوم کرلیگا کہ تزکیہ کردہ شخص کی حیثیت اور مقام کیاہے، زیادہ لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت نہیں پڑتی،اہل السنہ کے کئی ایک ائمہ کا یہی موقف ہے کہ تعدیل مبہم مقبول ہے، اس کی تفسیر کی ضرورت نہیں، اور ان کی دلیل یہی ہے کہ اسباب تعدیل بہت زیادہ ہیں ، جن کاذکر شاق ہے، لہذا تعدیل کے اسباب کوذکر کئے بغیر ہی محض تعدیل اور تزکیہ پر اکتفاء کی جاتی ہے، اور راجح موقف بھی یہی ہے۔
    امام ابن الصلاح فرماتے ہیں:
    التعدیل مقبول من غیرذکرسببہ علی المذھب الصحیح المشھور، لان اسبابہ کثیرة یصعب ذکرھا ، فان ذالک یُحوج المعدل الی ان یقول :لم یفعل کذا ،لم یرتکب کذا ،فعل کذا وکذا ،فیعدد جمیع مایفسق بفعلہ اوبترکہ وذالک شاق جدا.
    کہ مشہور اور صحیح مذہب کے مطابق تعدیل اس کے سبب کوذکرکئے بغیرہی مقبول ہے،اس لئے کہ تعدیل کے کئی ایک اسباب کے ذریعے کی جاتی ہے جن کاذکرکرنا گراں ہے،کیونکہ ایسا کرنے سے مُعَدِّل(تعدیل کرنے والا)کو یہ کہنے پر کامحتاج بنادیگاکہ :اس نے یہ نہیں کیا، فلاں کام کاارتکاب نہیں کیا، فلاں کام کیا، وغیرہ، تو اس طرح تمام فسق وغیر فسق پر مشتمل باتوں کو وہ شمارکرناشروع کردیگا، جوکہ انتہائی شاق(گراں) ہے.
    [علوم الحدیث:۹٦]
    خلاصہ کلام کہ تعدیل کے حوالے سے درست اور صحیح مذہب یہی ہے کہ مبہم الفاظ میں کی گئی تعدیل عندالمحدثین والمحققین مقبول ہے،ورنہ تمام فسق اورفسق باتوں کااحصاء کرناپڑیگا جوکہ بہت ہی مشکل اورگراں امر ہے۔
    کیا امام فربری کی توثیق ان کے ہم عصروں سے ثابت نہیں؟؟
    معترض موصوف فرماتے ہیں :
    جہاں تک ہمیں معلوم ہے سب سے پہلے اس کی توثیق ذہبی نے ابوبکر سمعانی کی کتاب امالی سے نقل کی ہے :
    ﺃﺭﺥ ﻣﻮﻟﺪﻩ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺍﻟﺴﻤﻌﺎﻧﻲ ﻓﻲ " ﺃﻣﺎﻟﻴﻪ " ﻭﻗﺎﻝ : ﻛﺎﻥ ﺛﻘﺔ ﻭﺭﻋﺎ”
    ابوبکر سمعانی نے اپنی امالی میں اس کی سنہ وفات نقل کی ہے اور کہا کہ ثقہ ہے
    سیر اعلام النبلاء ج 15 ص 11
    مگر یہ توثیق کافی نہیں ہے کیونکہ خود فربری کے ہم عصر علماء میں سے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے۔
    اولا: یہ کہناکہ امام فربری کی سب سے اول توثیق کرنے والے امام سمعانی ہیں، ان سے قبل کسی بھی محدث سے ان کی توثیق ثابت نہیں، بلکل عبث رائے ہے،امام سمعانی قبل بھی ان کی توثیق ثابت ہے:
    امام ابوالولید باجی(المتوفی ۴۷۴ ھ) نے فربری کو ثقہ قراردیاہے،جوکہ امام سمعانی سے متقدم ہیں، امام سمعانی پانچویں ،صدی ہجری کے ہیں جیساکہ ان کے سن وفات سے ظاہر ہے، جبکہ امام باجی چوتھی صدی ہجری کے ہیں۔
    امام ابن رشید فہری فرماتے ہیں:
    انباناابوالحسن ابن احمد الصالحی کتبنا بظاہر دمشق عن ابی طاہر ابن ابراہیم الفرشی عن ابی بکر ابن الولید الطرطوشی ،عن ابی الولید ابن خلف الباجی الامام قال : والفربری ثقة مشھور.
    [افادة النصیح :۱۴- ۱۵][التعدیل والتجریح :۱/ ۱۷۳]
    امام باجی کی توثیق آپ کے سامنے ہے، لہذا یہ کہنا کہ امام سمعانی سے قبل امام فربری کی کسی محدث سے توثیق ثابت نہیں محض تکے سے ہی کہاگیاہے ، تحقیق کی طرف بلکل بھی توجہ نہیں دی گئی، اورہم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ معترض موصوف اہل السنہ کے ائمہ کی کون سی کتب رجال وکتب اصول حدیث کا گہرائی سے مطالعہ فرمایاکرتے ہیں یاان کے مطالعے کی عادت ڈالی ہوئی ہے، جو ہر سطحی بات میں تحقیق بلکل ادھوری اور ناقص معلوم دکھائی دے رہے ہی، حالانکہ جتنا دعوی کیاگیا ہے موصوف کا طرز تحقیق اس کے کسی حصہ سے بھی موافقت نہیں رکھتا۔
    ویسے فربری کے نصا توثیق بعض دیگر ائمہ سے بھی ثابت ہے، ملاحظہ فرمائیں:
    امام ابومحمد الرشاطی فرماتے ہیں: وعلی الفربری العمدة فی روایة کتاب البخاری “[افادة النصیح :۱۵- ۱٦]
    کہ صحیح بخاری کے روایت کرنے میں فربری پراعتماد کیاگیاہے۔
    امام ابن رشید فہری فرماتے ہیں: عمدة المسلمین فی کتاب البخاری۔
    نیز فرماتے ہیں: الثقة الامین وسیلة المسلمین الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی کتاب البخاری وحبلھم المتین۔
    [افادة النصیح
    خیر آگے چلئے، ہم اس سے بھی آگے امام فربری کی توثیق ان کے ایک ہمعصر محدث وامام بلکہ ان کے استاذ کبیر وحافظ حدیث سے بھی توثیق ثابت کردیتے ہیں،تاکہ اس الزام کی سرے سے ہی جڑ کٹ جائے کہ :امام فربری کی توثیق ان کے ہم عصروں سے ثابت نہیں۔
    آئے ہم آپ کو اس کی بھی حقیقت واضح کئے دیتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔
    معلوم شد کہ توثیق کے مختلف ذرائع ہیں، جن میں سے بعض اوپر بھی بیان کیے جاچکے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض روات کی محض اس لیے بھی توثیق کی گئی اورانہیں ثقہ قراردیدیاگیاکہ وہ کسی بڑے اوربزرگ صحابی کے غلام یاماتحت رہے، یاان کے معتمد تھے،گویاکسی اہم شخصیت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے بھی ائمہ نقد روات کی توثیق کردیتے ہیں، اس کے لئے میں ایک راوی کو بطورمثال ذکرتاہوں۔
    ۰۰( جاری ہے)
     
  2. ‏مئی 23، 2019 #12
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    821
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    صحیح بخاری پر ایک شیعی اعتراض کا جائزہ ۰۰۰۰۰(قسط -۱۲)

    ۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)

    قاسم بن عبداللہ مولی ابی بکرالصدیق۔

    آپ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، آپ نے عمرفارو رضی اللہ عنہ کے نماز میں تورک والے عمل کامشاہدہ کیا، آپ کے اساتذہ میں: عبداللہ ابن عمر،عبداللہ ابن عباس، عبداللہ ابن زبیر جیسے صحابہ کانام ملتاہے، جبکہ آپ کے تلامذہ میں :فضیل بن غزوان ،قرہ بن خالد، اور ابوعیسی سلیمان بن کیسان خراسانی شامل ہیں۔
    امام ابن القطان فاسی نے انہیں مجہول قرار دیاہے۔[تہذیب التہذیب
    حافظ ابن کثیرجامع ترمذی وغیرہ میں مروی ایک روایت کے متعلق رقمطرازہیں:
    وقول علی بن المدینی والترمذی :لیس اسنادھذاالحدیث بذاک ۔فالظاھر انہ لاجل جھالة مولی ابی بکر،ولکن جھالة مثلہ لاتضر، لانہ تابعی کبیر،ویکفیہ نسبتہ الی ابی بکرفھوحدیث حسن۔
    کہ :علی بن مدینی اور ترمذی کااس روایت کو غیرقوی قراردینا ظاہر ہے وہ ابوبکرکے مولی کی جہالت کی وجہ سے ہے، لیکن اس جیسے کی جہالت غیرمضرہے، کیونکہ اول تو وہ کبارتابعین میں سے ہیں، دوسرا اسے ابوبکرصدیق کی نسبت ہی کافی ہے، پس یہ حدیث حسن ہے۔[تفسیر ابن کثیر:]
    یہی بات حافظ زیلعی نے بھی کی ہے، ان کے الفاظ ہیں:
    لکن جھالتہ لاتضر،اذتکفیہ نسبتہ الی الصدیق۔
    [اتحاف السادة المتقین:]
    یہاں دیکھیں! یہ راوی کبار تابعین میں سے ہیں، اور ابن کثیر وزیلعی محض اس بناپر ان کی توثیق کرتے ہوئے اس کی بیان کردہ روایت کوحسن قرار دے رہے ہیں کہ وہ ابوبکرصدیق کے غلام تھے، ظاہر ہے ، ایسی صورت میں وہ غیرمعروف تو نہیں رہینگے، دونوں ائمہ محض نسبت صدیق سے انہیں معتبر اور قابل اعتماد قراردے رہے ہیں۔
    ویسے عام طور بھی نیک وصالحین لوگوں کی کوشش ہوتی ہے بلکہ یہ بات ان کی ترجیحات میں شامل ہے کہ وہ کسی قابل اعتماد شخص کو ہی کوئی ذمہ داری سونپیں، انہیں جس کے بارے تردد ہو اس سے وہ احترازکرتے ہیں، کیونکہ ہرایرے غیرے شخص کو کوئی عہدہ نہیں سونپاجاسکتا، خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، بلکہ عام حضرات اور تجاربھی ایسے ویسے بندے کو اپنی تجارت وغیرہاکے لے لئے نہیں مقررکرسکتے، اعتماد بہرحال ایک اہم امرہے،لہذا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ آخر کس طرح ایک ناقابل اعتماد شخص کواپناغلام رکھ سکتے ہیں، ان کا عبداللہ کو غلام بنانا ثابت کرتاہے کہ وہ ان کے نزدیک قابل اعتماد اورمعتبرتھا۔
    رہی بات ان کی بیان کردہ روایات کی تو وہ قلیل الحدیث راوی ہیں،ان کی بیان کردہ روایات میں کوئی منکر روایت موجود نہیں، لہذا ان کے حفظ پر بھی کلام نہیں ہوسکتا،اور ابن کثیرکوبھی ان کی بیان کردہ روایات میں کوئی منکر روایت نظرنہیں آئی، اس لئے انہیں ان کی توثیق کرنے میں کوئی تردد نہیں ہوا۔
    اگر بالفرض ان کے ضبط پرکلام ہو، تب بھی کوئی حرج نہیں ، کیونکہ بہرحال ان کی عدالت توثابت ہوگئی۔
    اس طرح کی دوسری مثال بھی ذکرکئے دیتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
    امام بخاری کے ساتھ حضروسفرمیں رہنے والے ان کے شاگرد خاص، مصاحب اور ان کے وراق امام فی النحو ابوجعفر محمد بن ابی حاتم ،جن کے متعلق حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
    الإمام الجليل أبو عبد الله محمد بن أبي حاتم الوراق وهو الناسخ وكان ملازمه سفرا وحضرا فكتب كتبه.
    [تغلیق التعلیق:٥/ ٤٣٧]
    آپ ایک جلیل القدر عالم وفاضل تھے، آپ کوامام بخاری سے بے پناہ محبت تھی، آپ نے اپنے اپنی زندگی کابے پناہ حصہ اپنے شیخ امام بخاری کی خدمت میں گذاردیا، امام بخاری سفرمیں ہوں یاحضر میں، آپ انہی کے ساتھ رہتے، آپ کے معتبر ہونے کاحال یہ تھا کہ امام بخاری اپنی کتب ان سے نسخ اورنقل کرواتے تھے،اسی وجہ سے انہیں: وراق بخاری “ کہاجاتاہے،آپ نے ایک کتاب بنام : شمائل بخاری” تالیف کی، جس میں امام بخاری کے بہت سارے حالات جمع کردئے ہیں، اس کتاب کوحافظ ذہبی (السیر) وغیرہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں۔
    مجھے تاحال ان کا ترجمہ (یعنی حالات زندگی ) نہیں مل سکا،تاہم محدثین انہیں بعض اوصاف سے یاد کرتے ہیں، جیساکہ حافظ ابن حجر نے انہیں، امام جلیل ، نحوی ، اور ناسخ وناقل قراردیاہے، جبکہ حافظ ذہبی نے انہیں، کتاب: شمائل بخاری” کاجامع اور مؤلف قراردیاہے،ویسے بظاہر ان پر اعتماد کے لئے کوئی واضح نص نہیں ہے، لیکن چونکہ وہ امام بخاری کے خاص تلامذہ میں سے تھے، اور اسی طرح وہ ان کی کتب کے لئے نسخ ونقل کاکام کرتے تھے، تو ظاہر ہے یہ سب کچھ اعتماد کے بغیر ممکن نہیں تھا،امام بخاری جیسا امام اپنی کتب انہیں نسخ ونقل کے لئے حوالے کریں، تو یہ کوئی بات نہیں، انہیں معتمد اور معتبر جانتے ہوئے ہی اپنی کتب حوالے کرتے ہونگے، اور امام بخاری کے اسی طرز کی وجہ سے محدثین مثل حافظ ذہبی ، ابن حجر وغیرہما نے امام بخاری کے احوال نقل کرنے میں ان پر اعتماد کیاہے۔ گویایہاں سے یعنی امام بخاری کے ان پر اعتبار اور اعتماد سے وراق البخاری کی عدالت ظاہر اور ثابت ہوتی ہے، ورنہ اس کے علاوہ بظاہر ہمیں ان کی عدالت کے اثبات کے لئے کوئی قرینہ نظرنہیں آتا،واللہ اعلم ۔
    رہاان کی کتاب :شمائل بخاری “ پر ائمہ کااعتماد تو، چونکہ انہوں نے اس کتاب میں تقریبا اپنے مشاہدات ذکرکئے ہیں، جن میں ضبط کی اتنی خاص ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ : لیس الخبر کالمعاینة “ کے تحت دیکھی چیز سنی ہوئی خبر سے زیادہ محفوظ اور پختہ ہوتی ہے، اور تادیر یادرہتی ہے، لہذا ان کی اس کتاب پر اعتماد کرنے میں کوئی حرج اور مانع نہیں، اسی لئے ائمہ نے اس پر اعتماد کیاہے،واللہ اعلم۔
    خلاصہ کلام کہ : کسی شخص کو کوئی ذمہ داری سونپنے سے بھی اس کی عدالت ثابت ہوجاتی ہے، خصوصا بڑی شخصیات کی امثلہ تو اس حوالے سے بڑی اہمیت اور وزن رکھتی ہیں، تو اس تمام صورتحال کومدنظررکھتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں، اورامام فربری کی عدالت اور توثیق خود امام بخاری کے طرز سے ثابت کرتے ہیں، ان شاء اللہ العزیز۔
    امام فربری بھی دوسرے تلامذہ کی طرح امام بخاری کے شاگردخاص ہیں،انہیں امام بخاری سے فربر میں صحیح بخاری کاتین بار سماع نصیب ہواہے۔امام بخاری کے نزدیک وہ اس قدر معتبر اور ثقہ تھے کہ امام بخاری نے اپنی اصل اپنے ہاتھ سے لکھا یعنی الصحیح”کاخطی نسخہ ان کے حوالے کردیاتھا،امام ابواسحاق ابراہیم بن احمد مستملی بلخی فرماتے ہیں:
    انتسخت كتاب البخاري من أصله كما عند ابن يوسف ، فرأيته لم يتم بعد ، وقد بقيت عليه مواضع مبيضة كثيرة ، منها تراجم لم يثبت بعدها شيئا ، ومنها أحاديث لم يترجم عليها ، فأضفنا بعض ذلك إلى بعض .
    کہ میں نے صحیح بخاری کواصل یعنی امام بخاری کے خطی نسخہ سے نسخ کیاہے، جو محمد بن یوسف فربری کے پاس تھا، میں نے دیکھا کہ وہ نامکمل حالت میں تھا یعنی اس میں کافی بیاضات تھے، ان میں سے بعض مواضع تراجم کے عنوان احادیث وغیرہا سے خالی تھے، (یعنی صرف عنوان ہی تھے، ان کے بعد کچھ بھی مذکور نہیں )اور اسی طرح بعض احادیث تراجم کے عنوان سے خالی تھیں، توہم نے اپنی طرف سے کچھ ان میں اضافے کئے[التعديل والتجريح :١/ ٣١٠- ٣١١]
    ۰۰( جاری ہے)
     
  3. ‏مئی 24، 2019 #13
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    821
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    صحیح بخاری پر ایک شیعی اعتراض کا جائزہ ۰۰۰۰۰(قسط -۱۳)

    ۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)

    قاضی عیاض (المتوفی ۵۴۴ھ)اپنی کتاب : مشارق الانوار” میں لفظ : ابوشریح “ کے اختلاف کو ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    قال ابوشریح: کل شیئ من البحر ، کذا فی اصل الاصیلی ، وفی سائرالنسخ : وقال شریح - صاحب النبی صلی اللہ علیہ وسلم - قال الفربری:کذا فی اصل البخاری : (شریح) .[مشارق الانوار:۱۸۲]
    یعنی لفظ :ابو” کے بغیر۔اور اسی وجہ سے ابن رشید فہری اپنی کتاب :افادة النصیح “ میں فرماتے ہیں:
    کان عندہ اصل البخاری، ومنہ نقل اصحاب الفربری، فکان ذالک حجة لہ عاضدة، وبصدقہ شاھدة۔
    [افادة النصیح:۱۸]
    محترم قارئین!ان نقول سے معلوم ہوتاہے کہ امام فربری کے پاس امام بخاری کااپنی خطی نسخہ تھا۔ جن سے ثابت ہوتاہے کہ وہ امام بخاری کے نزدیک کس قدرمعتبراورمعتمد تھے، جو اپنی جمع پونجی اور پوری زندگی کی محنت اور ثمرہ امام فربری کے حوالے کردیاتھا۔آج کل ہرطرح کے وسائل اورذرائع میسرہیں، اس کے باوجود ہم کتنے محتاط ہوتے ہیں،ذراسوچیں!کہ آپ جب اپنے مکتبہ کی کوئی کتاب کسی کودے رہے ہوں، تو آپ کی کیفیت کیاہوتی ہے،اول تو ہرکسی کودینگے نہیں،، لیکن اگر کسی کودینگے تو پوری طرح سے مطمئن ہوکرپھر اپنی کوئی کتاب اس کے حوالے کرینگے۔ اس سے آگے چلتے ہیں، ذراسوچئے ! آپ خود کو بطور مثال امام بخاری کے مقام پررکھ سوچیں، کہ
    صحیح بخاری کاخطی نسخہ امام بخاری کے لئے ایک طرح سے جمع پونجی کی حیثیت رکھتا ہے، آپ اپنے اس نسخہ میں آخر تک تعلیق واضافہ کرتے رہے، آپ نے اس کتاب کی تالیف میں کئی ممالک کے لئے رخت سفر باندھا اور کئی سال کی محنت سے اسے تالیف کیا۔ ابوجعفر محمد بن ابی حاتم وراق نقل کرتے ہیں کہ : ایک رات میں نیند سے کئی دفعہ بیدار ہوکر صحیح بخاری میں تعلیق واضافہ کرتے رہے۔ یوں سمجھیں “الصحیح “ کا یہ خطی نسخہ آپ کی پوری زندگی کا ثمرہ ہے،سالوں کی محنت ، دوردراز ممالک کے اسفار، اسفار کی مشقتیں اور صعوبتیں، زرومال کو صرف کرنا، اہل وعیال اور رشتیداروں سے دوررہنا، الغرض یہ اور اس قسم کے کئی مسائل اورمشاکل کوذہن میں رکھ کر پھر ذراخداترس ہوکر سوچیں اور انصاف سے بتائیں کہ کیا آپ اپنے ہاتھ سے تالیف کردہ اپنا یہ قیمتی نسخہ کسی ایرے غیرے کے ہاتھ میں تھماسکتے ہیں،،؟؟؟ کسے ہمیشہ کے لئے دے سکتے ہیں؟؟ میراتویہی گمان ہے کہ آپ قطعا قطعا قطعا کسی ایرے غیرے کو اپنی محنت شاقہ کاثمرہ حوالے نہیں کرسکتے،، بلکہ آپ اس کو دینگے جو آپ کے نزدیک ثقہ ہو، جس پر آپ بغیرتردد کے اعتماد اوربھروسہ کرسکیں، جس میں آپ کو بڑی امیدیں وابستہ ہوں، تو کیاامام بخاری جیسے محدث، امام، حافظ حدیث ، مدبر ، مفکر، فقیہ کے متعلق یہ سوچاجاسکتاہے کہ وہ اپنا قیمتی نسخہ ایسے شخص کے حوالے کردیں، جس پر انہیں اعتماد نہ ہو، حالانکہ امام بخاری تو امانت، دیانت ، وغیرہا ہرلحاظ سے نہایت محتاط پائےگئے ہیں، جیساکہ ان کے حالات زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے، امام فربری کو اپناقیمتی نسخہ حوالے کرنا اس بات کو بخوبی واضح کرتاہے کہ وہ امام بخاری کے نزدیک ثقہ اور قابل اعتماد تھے،لہذا اس پوری تفصیل سے ثابت ہوگیا - اور جیساکہ ہم نے بحمداللہ تعالی دعوی کیا- کہ امام فربری خود امام بخاری کے نزدیک بھی ثقہ اور قابل اعتماد تھے، رہی بات حفظ کی سو ہم سابقہ اقساط میں اچھی طرح واضح کرآئے ہیں کہ کتاب سے روایت کرنے میں ضبط کی کوئی ضرورت نہیں،بلکہ کتب کوروایت کرنے کے اصولوں مدنظررکھاگیاہوتو یہی کافی ہے۔ تو یہ ساری چیزیں امام فربری میں باتم موجود تھیں، جیساکہ محدثین نے بالتفصیل ان کی اپنے محل پر وضاحت کردی ہے۔
    خلاصہ کلام یہ کہ امام بخاری کا امام فربری کو اپنا قیمتی نسخہ عطاکرنا ان کی توثیق کرنے کے لئے کافی ہے،بلکہ فربری کے لئے یہ اعزاز باعث سعادت بھی ہے،معترض موصوف نے چئلنج کیاہے کہ : امام فربری کی ان کے کسی معاصرین میں سے توثیق ثابت کرکے دکھائی جائے۔ تو ہم نے بحمداللہ تعالی اس چئلینج کو پورا کرتے ہوئے فربری کے معاصر بلکہ ان کے استاذ کبیر ومحدث وامام عظیم امام بخاری سے ان کی توثیق ثابت کردی۔ والحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔
    یادش بخیر! آج شام کو جب یہ سطور میں لکھ رہاتھا توہمارے ہاں طوفانی بارش ہونے لگی، ایک رشتیدارنے اطلاع کی دی کہ تیز ہوا کی وجہ مکتبہ کی کھڑکی کھل گئی ، جس کی وجہ سے مکتبہ میں کچھ پانی آگیااور تقریبا چھ ، سات کتب بھی بارش کے پانی لگنے کی وجہ سے بھیگ گئیں ہیں، یہ خبرسن کر مجھے بیحد کوفت ، تکلیف اور صدمہ ہوا، دل بے چینی اور اضطراب میں مبتلاہوگیا، طرح طرح کے خیالات آنے لگے، بڑاافسوس ہونے لگا، اُس وقت دل کے حال اور کیفیت کو اللہ ہی جانتاہے، خیر روزہ افطار کرنے کے بعد امات کی، نماز میں بھی بے چینی کی کیفیت میں رہا،سلام پھیرنے پرہوش ہی نہ رہاکہ میں جماعت کرارہاہوں، اپنے طورپرآہستہ سے سلام پھیرا، پھراندازہ ہواکہ جماعت میں ہوں، پھردوبارہ جھراسلام پھیرا، اس کے بعد مکتبہ کی صورتحال کاجائزہ لینے چلاگیا، مؤن مسجد محترم علی مصطفی جمالی صاحب میرے ساتھ تھے، اس نے کچھ تفصیل دی، کہ فلاں کھڑکی کھل گئی تھی، اور یہ کتب بارش میں بھیگ گئی ہیں، ایک ایک کرکے ہرایک کاجائزہ لیا، آنکھوں سے دیکھ کر دل کو قرار اور اطمئنان نصیب ہوا، بس تھوڑا بہت پانی لگا تھا، کافی حد تک بحمداللہ تعالی بچاؤ ہوگیا-
    اب یہ میراعملی تجربہ آج ہوگیاکہ یہ کتب دوبارہ بھی خریدی جاسکتی ہیں، مگر ہم جیسے نااہل اور ناکارہ کو بھی ان چند مطبوعات کابھی اس قدر شدید احساس ہواکہ اس پرکیاتبصرہ کیاجائے، تو امام بخاری کے ہاں ان کے اپنے ہاتھ لکھے خطی نسخہ کی کیااہمیت ہوگی،اور انہوں نے جب یہ نسخہ امام فربری کے حوالے کیاتو ظاہر ہے پورے اعتماد اور وثوق معلوم کرنے کے بعد ہی حوالے کیاہوگا،یعنی فربری کی ثقاہت ان کے ہاں بلکل واضح اور ثابت ہوگی، واللہ اعلم۔
    ۰۰( جاری ہے)
     
  4. ‏جون 23، 2019 #14
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    821
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    صحیح بخاری پر ایک شیعی اعتراض کا جائزہ ۰۰۰۰۰(قسط -14)

    ۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)

    5_فربری کاصحیح بخاری کی عظمت بڑھانے کے لیے نوے ہزار(90000) لوگوں کااس کے سماع کرنے کاغلوپرمبنی دعوی اور اس حکایت کی تضعیف.
    فرماتے ہیں:
    '' البتہ فربری نے اس کی عظمت کو بڑھانے کے لیے ایک دعوی بھی کیا کہ اس کتاب کو امام بخاری سے 90 ہزار لوگوں نے سنا تھا اور میں سے فقط ایک میں ہی باقی رہ گیا ہوں ذہبی نے خطیب کی( تاریخ بغداد ) سے قول کو با سند صحیح نقل کیا ہے:
    "ﻭﻗﺎﻝ ﺍﻟﺨﻄﻴﺐ ﻓﻲ ﺗﺎﺭﻳﺨﻪ : ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦﺍﻟﻘﺎﺿﻲ ﺍﻟﺤﺮﺷﻲ ﺑﻨﻴﺴﺎﺑﻮﺭ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺍﻟﻔﻘﻴﻪ ﺍﻟﺒﻠﺨﻲ ‏( ﺡ ‏) ﻗﺎﻝ ﺍﻟﺨﻄﻴﺐ : ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺼﻔﺎﺭ ﺍﻟﺒﻠﺨﻲ ﻳﻘﻮﻝ : ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺍﻟﻤﺴﺘﻤﻠﻲ ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ ﺍﻟﻔﺮﺑﺮﻱ ، ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﻘﻮﻝ : ﺳﻤﻊ ﻛﺘﺎﺏ " ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ " ﻟﻤﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺗﺴﻌﻮﻥ ﺃﻟﻒ ﺭﺟﻞ ، ﻓﻤﺎ ﺑﻘﻲ ﺃﺣﺪ ﻳﺮﻭﻳﻪ ﻏﻴﺮﻱ.
    [ﺳﻴﺮ ﺃﻋﻼﻡ ﺍﻟﻨﺒﻼﺀ ‏ ﺍﻟﻄﺒﻘﺔ ﺍﻟﺮﺍﺑﻌﺔ ﻋﺸﺮ ‏،
    ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ‏ج 12 ص 469]
    ہالانکہ(کذا) یہ اور بات ہے کہ اہل سنت علماء نے امام بخاری سے اس کتاب کو روایت کرنے والوں میں 90 ہزار تو بہت دور 9 شاگردوں کے نام بھی ذکر نہیں کئے، بلکہ ذہبی نے فربری کے قول کو رد بھی کیا ہے چنانچہ اس قول کو نقل کر کے لکھا ہے کہ ﻭﻟﻢ ﻳﺼﺢ -
    ﺃﻥ ﺍﻟﻔﺮﺑﺮﻱ ﻗﺎﻝ : ﺳﻤﻊ " ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ " ﻣﻦ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ
    ﺗﺴﻌﻮﻥ ﺃﻟﻒ ﺭﺟﻞ ﻣﺎ ﺑﻘﻲ ﺃﺣﺪ ﻳﺮﻭﻳﻪ ﻏﻴﺮﻱ .
    ﻗﻠﺖ : ﻗﺪ ﺭﻭﺍﻩ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻔﺮﺑﺮﻱ ﺃﺑﻮ ﻃﻠﺤﺔ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺒﺰﺩﻭﻱ ﺍﻟﻨﺴﻔﻲ ﻭﺑﻘﻲ ﺇﻟﻰ ﺳﻨﺔ ﺗﺴﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻭﺛﻼﺛﻤﺎﺋﺔ
    اور یہ صحیح نہیں کہ جو فربری نے کہا کہ امام بخاری سے صحیح کو 90 ہزار لوگوں نے سنا تھا اور میں ان میں سے آخری بچا ہوں جو اس کو روایت کرتا ہے ۔ میں (ذہبی )کہتا ہوں کہ اس کو ابو طلحہ منصور بن محمد بزدودی نسفی نے بھی روایت کیا ہے اور وہ 329 (ہجری) تک زندہ رہا (جبکہ فربری 320 میں وفات ھوئی )
    [ﺳﻴﺮ ﺃﻋﻼﻡ ﺍﻟﻨﺒﻼﺀ ‏،ﺍﻟﻄﺒﻘﺔ ﺍﻟﺜﺎﻣﻨﺔ ﻋﺸﺮ ‏، ﺍﻟﻔﺮﺑﺮﻱ ج 15 ص 12]
    اولا:جب دلائل سے ثابت ہوگیاکہ کہ فربری کی عدالت مسلمہ ہے، اور ائمہ کے ہاں بشمول امام بخاری وہ معتمد اور ثقہ ہیں، تو پھر اس کی بیان کردہ اس :نوے ہزارلوگوں کاصحیح بخاری کاسماع کرنے والی حکایت" کوآخرکس بناپرضعیف اورغیرثابت کہاجارہاہے،راوی کوثقہ قراردینے کامطلب یہی ہوتاہے کہ وہ اپنی ہربات میں قابل اعتبار وقابل اعتماد ہے، الاکہ قرائن آجائیں جو اس کی نقل کردہ بات کوردکررہے ہوں، اور یہاں ایساکونساقرینہ ہے کہ جس کی بناپر اس حکایت کورد کرنے کی لاحاصل سعی کی جارہی ہے، اگر اہل السنہ کے ائمہ نے صحیح بخاری کے روات میں نوے ہزار(90000) کے بجائے نوروات بھی ذکر ہیں کیے ہیں تو اس سے آخر فربری کی حکایت پرکیوں زد پڑنے لگی، جو اسے غلوپرمحمول کیاجائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہزاروں صحابہ نے نمازیں پڑھی ہیں، حج کامشاہدہ کیاہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کتب احادیث میں چند ایک صحابہ نے نماز اور حج وغیرہ کاطریقہ اور کیفیت بیان کی ہے، توکیااس نقل قلیل کی وجہ سے نماز اور حج کے نقل کردہ طریقہ کومشکوک نگاہ سے دیکھاجاسکتاہے، یااس میں شبہہ کیاجاسکتاہے، اس طرح تو عبادات کے بے شمار طریقے(جواحادیث میں بیان ہوئے ہیں) مشکوک ٹھہری گے، کیونکہ ناقلین (صحابہ) مشاہدہ کرنے والوں کی بنسبت بہت ہی کم مقدار میں ہیں، آپ سے التجاہے کہ یہ دقیانوسی والی باتیں ترک کرکے اصل حقیقت کی طرف آئیے، اور وہ اعتراض پیش فرمائیں جس کاحقیقت سے بھی تعلق ہو.
    ثانیا:أمام بخاری معمولی شخصیت توتھے نہیں اور نہ ہی ان کی کتاب ایسی معمولی تھی جو اس کاسماع کرنے والی قلیل جماعت ہو، ہرجگہ امام بخاری اور ان کی الصحیح کاشہرہ تھا، امام ذہلی جیسامحدث بھی اپنی مجلس میں تلامذہ کوحکم دینے پرمجبورہوجاتاہے کہ امام بخاری (نیشاپور) آنے والے ہیں، ذرادھوم سے ان کااستقبال ہوناچاہیے، اور جب وہ وارد نیشاپور ہوئے تو انہیں بے حد عزت دی گئی، اوراستقبال کرنے والوں میں امام مسلم بھی شامل تھے، اور پھر جب امام بخاری کی صحیح بخاری کے سماع کی مجلس لگی تو حلقہ درس بڑھتاجارہاتھا، یہاں تک کہ امام ذہلی کے حلقہ میں خال واقع ہونے لگا، امام بخاری کانیشاپورمیں ورود مسعود یہ دوسری دفعہ تھا، آپ نے اس دفعہ پانچ، چھ سال لگاتار شہرنیشابور میں قیام فرمایا، اور مسلسل صحیح بخاری کی سماع ہوتارہا، باقی شہروں کوتوچھوڑیے، محض نیشاپورمیں ان پانچ، چھ سالوں میں کتنے بے شمار لوگوں نے سماع کیاہوگا، حالت جب یہ ہوکہ امام بخاری کے درس صحیح بخاری کی وجہ سے امام محمد بن یحیی الذہلی کے حلقے میں خال ہوناشروع ہوجائے، (جبکہ امام ذہلی کانیشاپورمیں وہ مقام اور مرتبہ تھا جو شہر بخاری میں امام بخاری کوحاصل تھا،) تو ایسی صورت میں امام بخاری کے حلقہ کی صورتحال اور اس میں لوگوں کی تعداد کااندازہ کرناکوئی مشکل امر نہیں. ایساسلسلہ جب کئی سال چلتارہاہوتو یہ بلکل بعید نہیں کہ صحیح بخاری کاہزاروں لوگ سماع کریں، ابھی تو ہم نے فربر میں مجلس سماع صحیح بخاری کوبھی زیربحث نہیں لارہے، جہاں بھی مسلسل تین سال صحیح بخاری کاسماع ہوتارہا، یہ ریاستیں(سمرقند، بخاری فربر وغیرہ) تو امام بخاری کااپناعلاقہ تھیں،یہاں تو ان کاشہرہ دوسرے علاقوں کی بنسبت بہت زیادہ ہوناچاہیے، ان شہروں (فربر، نیشاپور) کے علاوہ بھی دوسرے کئی شہروں میں صحیح بخاری کے سماع کی مجالس منعقد کی گئی تھیں، جن کی صحیح تعداد کاہمیں علم نہیں، اس پوری صورتحال کے جائزہ سے یہ بات بلکل نکھرکرواضح ہوجاتی ہے کہ فربری کادعوی غلونہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے، جس کی تائید میری مذکورہ یہ چندسطورباتم کررہی ہیں، والحمد للہ.
    ثالثا:حافظ ذہبی نے فربری کی اس حکایت کی تضعیف نہیں کی، جو معترض موصوف یہ سمجھ بیٹھے ہیں، حافظ ذہبی نے تو فربری کے اس قول کے دوسرےجملے کورد اور غیرصحیح قراردیاہے یعنی :ﻓﻤﺎ ﺑﻘﻲ ﺃﺣﺪ ﻳﺮﻭﻳﻪ ﻏﻴﺮﻱ "
    کہ :صحیح بخارے کے روات میں میرے علاوہ دنیامیں کوئی باقی نہیں رہا. چنانچہ فربری کے اس قول کوذکرکرنے کے بعد حافظ ذہبی نقد بھی اسی جملہ پرہی کیاہے، ان کے الفاظ ہیں:
    " ﻗﻠﺖ : ﻗﺪ ﺭﻭﺍﻩ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻔﺮﺑﺮﻱ ﺃﺑﻮ ﻃﻠﺤﺔ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺒﺰﺩﻭﻱ ﺍﻟﻨﺴﻔﻲ ﻭﺑﻘﻲ ﺇﻟﻰ ﺳﻨﺔ ﺗﺴﻊ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻭﺛﻼﺛﻤﺎﺋﺔ"
    "کہ اس (صحیح بخاری) کوفربری کے (فوت ہونے کے) بعد ابوطلحہ بزدوی نسفی نے روایت کیاہے، اور وہ تین سؤ انتیس(329ھ)تک حیات رہے ہیں"
    اب دیکھیں! حافظ ذہبی کانقد فربری کے اسی جملہ پرہورہایے جس میں وہ اپنے علم کے مطابق خود کوصحیح بخاری کاآخری راوی قراردے رہے ہیں، جبکہ ذہبی کاکہناہے کہ سب سے آخری راوی وہ نہیں بلکہ ابوطلحہ بزدوی ہیں، اب اگر ذہبی کی تضعیف نوے ہزارلوگوں کے سماع والے جملہ پرہوتاتوپھر ان کانقد صحیح بخاری کوروایت کرنے والوں میں سے دنیامیں باقی رہ جانے والے آخری شخص والے جملہ پرکیوں ہوتا؟ تضعیف تو کررہے ہوں سامعین کی تعداد والے جملہ کی اور نقد اوراپناتبصرہ دے رہے ہوں آخری رہ جانے والے راوی والے جملہ پر! کیایہ عجیب نہیں؟ایساطرزاوراسلوب حافظ ذہبی توکیاایک متوسط درجہ کااہل علم بھی اختیار ہیں کرسکتاچہ جائیکہ اسے ذہبی کی طرف منسوب کیاجائے.فربری کے اس جملہ یعنی :صحیح بخارے کے روات میں میرے علاوہ دنیامیں کوئی باقی نہیں رہا"پرحافظ ابن حجر وغیرہ نے بھی نقد کیاہے، اور انہوں نے بھی وہی بات کہی ہے جوحافظ ذہبی نے فرمائی ہے،جس سے بھی واضح ہوجاتاہے کہ قابل نقد جملہ نوے ہزارسامین والانہیں، بلکہ دنیامیں رہ جانے والے آخری شخص اور راوی پرمشتمل جملہ ہے، لہذا حافظ ذہبی کی طرف اس حکایت کی تضعیف منسوب کرنا قطعاغیردرست اورنامناسب ہے، اور فربری کی نقل کردہ حکایت میں کسی قسم کاکوئی غلو نہیں جو اسے غلو پر محمول کرکے اسے ضعیف قراردیاجائے، واللہ اعلم.
    ... (جاری ہے)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں