1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا علم حدیث صحافیانہ مہم جوئی ہے۔

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جولائی 20، 2017۔

  1. ‏جولائی 20، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    کیا صحاح ستہ ایک صحافیانہ مہم جوئی ہے؟
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    محترم قاری حنیف ڈار صاحب نے جے آئی ٹی کے تناظر میں ایک پوسٹ لکھی جس لا مضمون یہ ہے ، فرماتے ہیں :
    ''صحاح ستہ ھمارے محدثین کی ذاتی افتادِ طبع کی بنیاد پر ثواب حاصل کرنے کے لئے کی گئ ایک صحافیانہ مہم جوئی کے سوا کچھ نہیں جو دو ڈھائی سو سال بعد شروع کی گئ اور جس میں معلوم کو چھوڑ کر نامعلوم کی تلاش میں صحرا نوردی کر کے اپنے ھی من پسند اصولوں کے تحت جمع کی گئیں بریکنگ نیوز کو قرآن حکیم پر سوار کر دیا گیا ھے حالانکہ یہ بات خود محدثین کے وھم و گمان میں بھی نہیں تھی یہ تو ایسے ھی ھے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو آئین کا حصہ بنا دیا جائے جبکہ جے آئی ٹی ارکان کے وھم و گمان میں بھی یہ امکان نہیں ھے ''

    فن حدیث اور اصول محدثین کوجے آئی ٹی کے طرز پر صحافیانہ مہم قرار دینا، بہت بڑی علمی خطا ہے، چند نکات پر غور کیجئے:

    1جے آئی ٹی کی مہم یہ تھی کہ دلائل ڈھونڈ کر عدالت کے سپرد کئے جائیں اور عدالت ان دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرے، جب کہ محدثین کی مہم یہ تھی کہ عدالت (اللہ، اور رسولﷺ)نے جو فیصلے کر دئیے ہیں وہ آنے والی امت تک پہنچا دئیے جائیں۔
    2جے آئی ٹی کی ڈیوٹی ایک چیز کی تحقیق تھی کہ آیا اس چیز کا وجود ہے بھی یا نہیں۔
    جب کہ محدثین کی ڈیوٹی ایک ایسی چیز کو ہم تک پہنچانا تھا ، جس کا وجود یقینی ہے، یعنی نبی کریمﷺ کے اقوال وافعال کا وجود ہے، اس پر کسی کو اختلاف نہیں اور انہیں اقوال و افعال سے امت کو روشناس کروانے کا نام ہے، فن حدیث۔
    3معلوم کو چھوڑ کر نامعلوم کی دوڑ جے آئی ٹی میں تو ممکن ہے کہ ہو، صحاح ستہ میں نہیں تھی، کیوں کہ صحاح کی اکثر احادیث پہلے سے موجود کتب حدیث، صحابہ وتابعین کے صحف میں موجود تھیں۔یعنی ان کی دوڑ نامعلوم کے لئے یا بریکنگ نیوز کے لئے نہیں تھی، بلکہ ایک پہلے سے موجود خبرکورد وبدل سے بچانے کی تھی اور وہ اس میں کامیاب رہے۔
    4حدیث کا محفوظ رہ جانا ضروری تھا ، قرآن میں ہے:
    لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ۔
    ''رسول اللہﷺ کی زندگی آپ کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔''
    رسول اللہﷺ کی زندگی ساری امت کے لئے نمونہ تھی یا صرف صحابہ کے لئے؟ اگر ساری امت کے لئے نمونہ تھی ، تو اس زندگی کا بعد والوں تک پہنچنا ضروری تھا۔ورنہ ماننا پڑے گا کہ قرآن پر عمل اب اس دور میں ممکن نہیں رہا، کیوں کہ قرآن تو کہتا ہے کہ اسوہ حسنہ پر عمل کرو اور اسوہ محفوظ ہی نہیں؟
    اگر اسوہ محفوظ نہیں تو قرآن نے تکلیف مالایطاق کا پابند بنایا ہم کو، یعنی ہمارے پاس جس کی طاقت ہی نہیں قرآن نے ہمیں وہ حکم دیا۔
    اور اگر محفوظ ہے اور یقینا محفوظ ہے تو کتب حدیث کے علاوہ وہ کون سی جگہ ہے، جہاں پہ اسوہ رسول محفوظ کردیا گیا ہو؟
    یعنی نبیﷺ کی نماز کا طریقہ؟
    زکوۃ کا طریقہ؟حج اور جہاد کے احکام وغیرہ، اگر آپ کہیں کہ سنت میں محفوظ تھا تو گزارش کہ وہ سنت بھی کتب احادیث ہی سے ملے گی،اس کے علاوہ کوئی راہ ہے تو بتلا دیجئے؟
    شریعت اس کی پابند نہیں کہ وہ امتیوں کے اقوال کو مانے، لیکن شریعت نے خود پر قرآن اور اس کے بیان کو محفوظ رکھنا لازم کر لیا ہے، قرآن کا بیان حدیث ہے، جس طرح قرآن کو شریعت نے محفوظ رکھا اسی طرح حدیث کو شریعت نے محفوظ رکھا۔

    لہذا اس استدلال کی کوئی حیثیت و وقعت علمی میدان میں نہیں ہے کہ اسے ایک صحافیانہ مہم قرار دیا جائے۔

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں