1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا عورت منحوس ہوتی ہے ؟

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 27، 2019۔

  1. ‏مارچ 27، 2019 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا عورت منحوس ہوتی ہے ؟

    ابوبکر قدوسی

    ابھی کل کی بات ہے کہ میں گھر داخل ہوا . گاڑی ابھی اندر کر رہا تھا کہ کہ ایک بہت خوبصورت مکمل کالی بلی دروازے سے آن لگی - زندگی میں کم کم ایسی کالی سیاہ بلی دیکھی ہے ..بہت غور بھی کیا تو سفیدی کی کوئی "رمق " بھی دکھائی نہ دی - ایک بار تو جی چاہا کہ اسے پال لیا جائے کہ سیاہ رنگ کا اپنا ہی حسن ہوتا ہے -
    اسے دیکھ کے خیال آیا کہ ہمارے معاشرے میں ہندوؤں کی تھذیب نے کس قدر گھر کر لیا ہے کہ ہمیں ہر دوسرے شے میں نحوست دکھائی دینے لگتی ہے -
    سب سے زیادہ عورت ، گھر اور سواری میں ہم نحوست تلاش کرنے میں " کامیاب " رہتے ہیں - روحانی امور سے متلعق رہنمائی کے لیے ہمیں ہمیشہ اسلام کی طرف رجوع کرنا چاہیے - اپنی کم علمی کے سبب اور توہمات کو اپنے اوپر سوار کر کے ہم نے پیروں فقیروں کے بزنس کو خوب عروج دے رکھا ہے -

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت واضح حدیث ہے کہ:

    مِخْمَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِى ثَلاَثَةٍ فِى الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ » (سنن ابن ماجہ۔رقم الحدیث 1993،سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ :1930)

    مخمر بن معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے:
    ’’نحوست کچھ نہیں ہے۔ اور برکت (بسا اوقات) تین چیزوں میں ہوتی ہے : عورت، گھوڑے اور مکان میں۔‘‘


    اسی طرح ایک دوسری حدیث ہے جس نے معاملہ مزید واضح کر دیا :

    عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إن كان في شيء: ففي المرأة، والفرس والمسكن).

    سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر( نحوست) کسی چیز میں ہوتی تو عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی" -


    ان دونوں روایات کے سبب یہ واضح ہے کہ نحوست ایسا کوئی وجود نہیں رکھتی کہ کسی کی زندگی خراب ہو کے رہ جاے - اور ایک اہم ترین بات جو واضح کرنا چاہوں گا کہ ہمارے ہاں نحوست کا جو تصور پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ :
    جب سے ہم اس گھر میں آئے ہیں ہمارا خاندان اپس میں الجھ گیا ہے سو یہ گھر منحوس ہے
    جب سے یہ بیوی میری زندگی میں آئی ہے میرا کاروبار برباد ہو گیا ہے یہ ہے ہی منحوس -
    جب سے یہ گاڑی لی ہے کبھی سکون سے سفر نصیب نہیں ہوا -
    یعنی یہ تصور کہ ان نے آ کے تقدیر کے معاملات کو شائد بدل ڈالا - یہی وہ نحوست کا نظریہ ہے جس کی حدیث میں نفی کی گئی ہے -

    لیکن صحیح مسلم کی اس حدیث کی وجہ سے بہت سے احباب الجھ جاتے ہیں ، حدیث ہے کہ :

    وحدثنا ابو الطاهر ، وحرملة بن يحيي ، قالا:‏‏‏‏ اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، عن حمزة ، وسالم ابني عبد الله بن عمر، ‏‏‏‏‏‏عن عبد الله بن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ " لا عدوى ولا طيرة وإنما الشؤم في ثلاثة المراة والفرس والدار ". مسلم ٥٨٠٥ -

    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری لگنا اور شگون لینا کوئی چیز نہیں، البتہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے، گھر میں گھوڑے میں اور عورت میں۔“-

    بظاہر اس حدیث کا پہلو دو احادیث سے تعارض اور تضاد دکھائی دیتا ہے - لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے -
    کیوں کہ سیاق و سباق کے بغیر جب ایک شے یا الفاظ کو الگ کر کے بیان کیا جاتا ہے تو ہمیشہ معنی اور مفاہیم الجھ جآتے ہیں -
    ان تینوں احادیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی روشنی میں دیکھا اور پڑھا جائے گا -
    نبی کریم نے بہت سی شادیاں کیں ، اگر عورتیں منحوس ہوتیں تو آپ ان سے دور رہتے ، آپ نے اپنی بیویوں کو گھر بھی دیے اگر گھر منحوس ہوتے تو آپ کہیں جنگل میں یا کھیتوں میں نکل جاتے - آپ کے پاس ہمیشہ کوئی نہ کوئی سواری بھی رہی -
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلی دونوں احادیث میں نحوست کے وجود تردید بھی کر دی ، اور اپنے عمل سے بھی یہی بات ثابت کر دی تو یہ بعد والی حدیث کا پھر کیا مطلب ہو گا ؟
    تو جناب اس کا طلب محض یہ ہے کہ عورت یعنی بیوی ، سواری ، اور گھر میں خرابی آ جائے تو انسان کی زندگی خراب ہو جآتی ہے ،
    عورت کے وجود میں کھو کے ، گھر کی محبت میں یا گھر کی بلندی اور شان کے سبب ، یا شان دار گاڑی کے کارن ، انسان دین سے دور ہو جائے یا غرور میں مبتلاء ہو کے اپنی آخرت خراب کر بیٹھے تو یہ چیزیں اس کے لیے اس معنی میں خرابی کا سبب ہو گئیں ..ورنہ ان تینوں کے اپنے اندر نہ کوئی نحوست ہوتی ہے اور نہ ہی خرابی - اور ہاں اگر کسی عورت کی نماز روزہ آخرت آپ کی محبت میں برباد ہو جاتی ہے تو ہوں گے آپ بھی پھر اس کے لیے منحوس -
    اور آپ کو یاد ہو گی نا حدیث کہ جس میں ماں کو باپ سے تین گنا زیادہ مقام دیا گیا ...اب ماں تو عورت بھی ہوتی ہے -
    آپ کو یاد ہو گی حدیث جس میں عورتوں کو دنیا کی سب سے قیمتی متاع قرار دیا گیا اور آنکھوں کی ٹھنڈک ..
     
  2. ‏مارچ 27، 2019 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی ان تینوں حدیث کی وضاحت کر دیں
     
  3. ‏مارچ 27، 2019 #3
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری لگنا اور شگون لینا کوئی چیز نہیں، البتہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے، گھر میں گھوڑے میں اور عورت میں۔“- (صحیح مسلم)

    مصنف کی اس روایت سے متعلق اتنی لمبی خود ساختہ
    مذکورہ تہمید کے بجاے-

    اس کا جواب یہاں موجود ہے -

    بعض لوگ اس روایت سے یہ مسئلہ اخذ کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن مجید کی آیت سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کوردکردیا کہ ان کی روایت قرآن سے متعارض تھی حالانکہ اصل مسئلہ کچھ اس طرح ہے کہ یا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی حدیث کو صحیح طرح یا سمجھ نہ سکے تھے یا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننے والوں نے صحیح طرح سنا اورسمجھا نہیں اوریہ دونوں احتمال قوی ہیں ۔پہلے احتمال کی تائید مسند طیالسی کی اس روایت سےہوتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ اللہ کےرسول ﷺ کے حوالہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ روایت کرتے ہیں کہ

    ’’عورت ،گھر اور گھوڑے میں نحوست ہے ‘‘تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کوصحیح طرح محفوظ نہیں کرپائے اس لیے کہ جب وہ داخل ہوئے تھے تو اللہ کے رسول ﷺ یہ فرمارہے تھے کہ’’اللہ تعالی یہودکو تباہ و برباد کرے جویہ کہتے ہیں کہ عورت ،گھراورگھوڑے میں نحوست ہے ‘‘

    تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کاآخری حصہ (ان الشؤم فی الداروالفرس والمرأة /عورت،گھراورگھوڑے میں نحوست ہے‘‘) سن لیا جبکہ وہ پہلا حصہ (قاتل الله اليهود وةيقولون ،اللہ تعالی یہود کو تباہ وب رباد کرے جویہ کہتے ہیں) نہ سن سکے۔‘‘(السلسلة الصحيحة :2/ 725)

    دوسرے احتمال کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ ’’خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ﷺ نے بذات خود اللہ کے رسول ﷺ سے سناہے کہ گھر،گھوڑے اورعورت میں نحوست ہے ؟تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگرمیں ہاں کہوں تو میں اللہ کے رسول ﷺ کے ذمہ وہ چیز لگا بیٹھوں جو اللہ کے رسول نے نہیں فرمائی ۔البتہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ سناہے کہ سچا شگون نیک فال (اچھاکلمہ) ہے اور نظر بدحق ہے۔‘‘(مسند أحمد :2/ 289)

    http://forum.mohaddis.com/threads/شگون-وبدشگونی.492/
     
    Last edited: ‏مارچ 27، 2019
  4. ‏مارچ 28، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    کیا عورت ،گھر ،سواری میں نحوست ہوتی ہے؟

    محمد اسحاق سلفی
    کچھ لوگوں کا احادیث پر اعتراض کہ ہے بعض احادیث میں عورت اور گھر کو نحوست والا کہا گیا ہے۔
    اس نقطۂ نظرکی تائید میں، مثال کے طور پر یہ روایت پیش کی جاتی ہے:
    عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلاَثٍ: فِي المَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَالدَّابَّةِ " صحیح بخاری 5753
    (احمد، رقم ۶۴۰۵)
    ''ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھوت، برا شگون اور نحوست کسی چیز میں نہیں ہے، سوائے تین چیزوں کے: عورت، گھر اور جانور میں۔ ''

    پہلے تو یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے اس کے تمام متون کا تجزیہ کیاجانا ضروری ہے۔ اگرتمام متون کو سامنے رکھے بغیر کسی حدیث کو سمجھاجائے گا تو بعض اوقات بالکل غلط نتیجے پر پہنچنے کا امکان ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث کے راوی بعض اوقات کچھ تفصیلات بیان نہیں کرتے اور بات کو اجزا میں بیان کرتے ہیں، اور کبھی ایک حدیث کئی اسانید سے منقول ہوتی ہے جس میں بعض اسناد سے مروی متن حدیث دوسری اسانید سے منقول متون سےزیادہ صحیح اور محفوظ ہوتا ہے ،
    چنانچہ مکمل بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسانید سے مروی متون اور اس حدیث کےسارے اجزا کو سامنے رکھ کرنتیجہ نکالا جائے تاکہ ایک حدیث اپنے پورے سیاق وسباق اور پیش وعقب کے ساتھ ہمارے سامنے آجائے۔
    اوپر مذکور صحیح بخاری کی سیدنا ابن عمر سے مروی حدیث کے بعد امام بخاریؒ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی حدیث لائے ہیں :
    عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن كان في شيء، ففي المرأة، والفرس، والمسكن»
    اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں :
    حدثنا مالك، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن كان، ففي المرأة والفرس والمسكن» - يعني الشؤم "
    سیدنا سہل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں (نحوست ہوتی ) تو عورت ، گھوڑے (یعنی) سواری اور گھر، میں ہوتی۔“

    تو واضح ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث اصل میں یوں تھی :
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ، وَالمَرْأَةِ، وَالفَرَسِ»
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نحوست کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھر، بیوی اور گھوڑے (یعنی) سواری میں ہوتی۔“
    (صحیح البخاری ،5094 ) سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 799 )
    اور یہ صریح متن والی حدیث صحیح مسلم (2225) کتاب السلام ،میں اس طرح مروی ہے :
    عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ، فَفِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ»
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :​
    اگر کسی چیز میں (نحوست ہوتی ) تو عورت ، گھوڑے (یعنی) سواری اور گھر، میں ہوتی۔"
    یہاں حدیث کے پہلے جملہ "اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی " ہی واضح ہے کہ کسی شئے میں فی نفسہ نحوست نہیں ہوتی ،ہاں اگر ہوتی تو ان مذکورہ تین چیزوں میں ہوتی ۔
    ہی واضح ہے کہ
    اور نفس مسئلہ پراس ضمن میں امام احمد بن حنبل کی'' مسند'' میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بات کو واضح کرتی ہے:
    عن أبي حسان، قال دخل رجلان من بني عامر على عائشة فأخبراها أن أبا هريرة يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " الطيرة في الدار، والمرأة، والفرس " فغضبت فطارت شقة منها في السماء، وشقة في الأرض، وقالت: والذي أنزل الفرقان على محمد ما قالها رسول الله صلى الله عليه وسلم قط، إنما قال: " كان أهل الجاهلية يتطيرون من ذلك" ( مسند احمد بن حنبل رقم 26034)
    علامہ شعیب ارناؤط نے اس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ :
    إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو حسان - وهو الأعرج - من رجاله وبقية رجاله ثقات رجال الشيخين.
    وأخرجه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (786) ، و"شرح معاني الآثار" 4/314 وأخرجه الطبري في "تهذيب الآثار" (37) و (72) وأخرجه الطيالسي (1537)

    ''کبار صحابہ کے شاگرد تابعی جناب ابو حسان مسلم بن عبداللہ اعرجؒ سے روایت ہے کہ دو آدمی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اوران سے عرض کی کہ: جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ نحوست تو صرف عورت، جانور اور گھر میں پائی جاتی ہے۔ یہ بات سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بہت غصہ آیا اور ناراض ہوئیں اور فرمایا کہ :اس ذات کی قسم جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز یہ نہیں فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا، وہ یہ ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ ” ان چیزوں (نحوست کے قائل ) اور ان سے برا شگون لیتے تھے۔“
    (مسند احمد ، نیز دیکھئے سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ 993 )
    ____________
    عصر حاضر کے نامور محقق محدث علامہ ناصرالدین البانیؒ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرویات کی صحت و مفہوم بتاتے ہوئے کہتے ہیں :
    باب معنى قوله - صلى الله عليه وآله وسلم -: «الشؤم في ثلاثة .. »
    سؤال: بارك الله فيك يا شيخ حديث أبي هريرة الذي يقول فيه النبي - صلى الله عليه وآله وسلم -: «إنما الشؤم في ثلاث: المرأة والدار والفرس» يعني قال بعض العلماء فيما استدركته عائشة على الصحابة أنها قالت: رحم الله أبا هريرة إنما دخل على الشطر الأخير من هذا الحديث، فقول النبي - صلى الله عليه وآله وسلم -، فأول الحديث إنما يقول النبي - صلى الله عليه وآله وسلم -: «قاتل الله اليهود، تقول إنما الشؤم في ثلاث .. » ثم ذكرت تكملة الحديث، فما أدري ما صحة هذه الزيادة يا شيخ، وهل هذه هي مناسبة الحديث أم لا؟
    الشيخ: تعني بالزيادة ما يتعلق بحديث عائشة؟
    مداخلة: بحديث عائشة لما استدركته على أبي هريرة.
    الشيخ: استدراك السيدة عائشة رضي الله عنها صحيح، لكن هذه الصحة لا تنفي أن يكون لحديث أبي هريرة أصل صحيح، ولكن بغير هذا اللفظ، وأنا عالجت هذه المشكلة لأن الحديث في الواقع روي في الصحاح، فضلاً عما دونها، بألفاظ ثلاثة، أحدها ما ذكرت عن أبي هريرة: «إنما الشؤم»، الثاني: «الشؤم». الثالث: وهو الصحيح: «لو كان الشؤم في شيء لكان في هذا»،
    هذا اللفظ الأخير هو الصحيح من حيث اعتماد صاحبي الصحيحين عليه، ومجيء أيضاً هذا اللفظ من طرق كثيرة وعديدة ترجحه على اللفظين الأولين من حيث أولاً الرواية ثم من حيث الدراية؛ لأن الأحاديث متتابعة إن لم نقل متواترة عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - في إنكار التطير، فأن يقال الشؤم في ثلاثة، أو إنما الشؤم في ثلاثة، فهذا يتنافى مع نفي الشارع الحكيم في تلك الأحاديث الكثيرة المشار إليها: «لا طيرة» وفي لفظ: «لا طيرة في الإسلام» هذا يجعلنا نُقوِّي موقفنا من حيث الرواية أن اللفظ الثالث والأخير لو كان الشؤم في شيء لكان في ثلاثة، وبذلك نخلص من المشكلة التي تتبادر إلى الذهن من اللفظ الأول أو الثاني، ونقول هذا جاء من اختصار بعض الرواة وليس من الضروري أن يكون هذا الاختصار من بعض الرواة حادثاً فيما بعد، وإنما يمكن أن يكون وقع فيه بعض الرواة أيضاً الذي أوصلوا الحديث إلى السيدة عائشة، فهي روت ما سمعت، والرسول عليه السلام رد عليهم بلا شك، إنما الشؤم، هذه ليست عقيدة إسلامية.
    إذاً: نحن نثبت الروايتين، رواية ودراية، نثبت رواية عائشة لأنه سند صحيح، ونثبت رواية عائشة على الترجيح وهي باللفظ الأخير الثالث .. ؟ وهذا أنا ذكرته في السلسلة الصحيحة، في أكثر من موضع. نعم.
    "الهدى والنور" (668/ 03: 38: 00)

    (موسوعة الألباني في العقيدة )3/1161
    http://shamela.ws/browse.php/book-36190/page-1542#page-1542

    علامہ ناصر الدین البانیؒ کے اس فتوی کا اردو میں خلاصہ کچھ یوں ہے کہ :
    سائل نے شیخ البانی سے سوال کیا کہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ نحوست تو صرف عورت، جانور اور گھر میں پائی جاتی ہے۔ یہ بات سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سیدنا ابو ہریرہ کی روایت پر استدراک کیا کہ اصل بات یوں نہیں بلکہ یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہود کہا کرتے تھے کہ : عورت، جانور اور گھر میں نحوست پائی جاتی ہے "
    تو شیخ آپ سے سوال ہے کہ ان دونوں باتوں میں کون سی صحیح اور درست ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو شیخ البانیؒ نے جواب دیا کہ :
    ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر جو استدراک کیا وہ صحیح ہے ،لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ کی حدیث صحیح نہیں ، وہ بھی صحیح ہے لیکن ان الفاظ سے نہیں بلکہ دوسرے لفظوں سے ، اوران میں تطبیق یوں ہے کہ:
    تین چیزوں میں نحوست کی حدیث تین قسم کے متون سے منقول ،مروی ہے ،
    (1) ایک سیدنا ابوہریرہ سے جسے سوال میں ذکر کیا گیا کہ : «إنما الشؤم في ثلاث: المرأة والدار والفرس»
    ترجمہ : نحوست تو صرف عورت، جانور اور گھر میں پائی جاتی ہے "
    (2) اور دوسرا صیغہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بخاری میں : «الشؤم في الدار، والمرأة، والفرس»
    ترجمہ : نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے عورت، جانور اور گھر میں پائی جاتی ہے "
    (3) اور تیسرا صیغہ متن جو صحیح ہے وہ یہ ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    «لو كان الشؤم في شيء لكان في هذا» اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو ان چیزوں میں ہوتی "

    یہ آخری الفاظِ متن ہی صحیح اور محفوظ ہیں ،صحیحین کے مؤلفین امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ کا اسی متن پر اعتماد ہے ، ان الفاظ کے ساتھ منقول متن کے بہت سارے طرق (سندیں ) ہیں ، جس کی بنا پر یہ متن پہلے دو قسم کے متون پر ترجیح رکھتا ہے ، اور پھر "درایت " کے لحاظ سے بھی اس متن کو ترجیح ہے ، کیونکہ متواتر طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے "تطیر " یعنی بدشگونی کی نفی اور انکار مروی ہے ،
    تو اگر ان تین چیزوں میں نحوست کی روایت کو صحیح تسلیم کیا جائے تو جن احادیث میں "بد شگونی " کی نفی کی گئی ہے ان احادیث کی نفی ہوگی ، (جو احادیث میں باہم تضاد ثابت کرتا ہے )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
    Last edited: ‏مارچ 28، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں