1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا غیراللہ کا ڈر شرک ہے ؟

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏اکتوبر 30، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 30، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,233
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    سوال :اللہ کے علاوہ دل میں کسی اور کا ڈر پیدا ہونے سے کیا شرک ہوجاتا ہے ؟
    جواب :اللہ کا ڈراور اس کا خوف عبادت ہے ، بندہ جس قدر اللہ تعالی سے ڈرنے والا ہوگا اللہ کا اتنا مقرب اور محبوب ہوگا ۔ اللہ تعالی نے انسان کو محض اس سے ڈرنے کا حکم دیا ہے ۔ فرمان الہی ہے :
    وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [البقرة: 40].
    ترجمہ: اور مجھ ہی سے ڈرو۔
    اللہ کا فرمان ہے :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب:70)
    ترجمہ:اےایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو۔
    ایک دوسری جگہ ارشادربانی ہے :
    فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا[المائدة: 44]
    ترجمہ: اب تمہیں چاہیے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے سے مول نہ بیچو۔
    یہ ڈر اور خوف اللہ سے اپنی بساط بھر ہونا چاہئے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102]
    ترجمہ:اےایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا[آل عمران: 102]
    گویا ڈرنے کا مستحق محض اللہ تعالی ہے اس کے مقابلے میں کسی سے ڈرنا عبادت میں شرک کہلائے گا اس کی دو صورت بن سکتی ہیں ۔
    پہلی صورت : بندوں سے ڈرکر دین پر عمل کرنا چھوڑدے ۔
    دوسری صورت: غیراللہ سے اس طرح ڈرنا یا ڈرنے کا عقیدہ رکھناکہ وہ اللہ کے بغیر خود سے نقصان پہنچاسکتا ہے مثلا بت، ولی ، جن ، میت اور خیالی بھٹکتی ارواح وغیرہ
    اس با ت ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں انداز میں کیا ہے :
    إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ[آل عمران: 175]
    ترجمہ: یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو۔
    اس لئے کسی صورت میں اللہ کے علاوہ دل میں دوسروں کا ڈر نہیں پیدا کیا جائے گا ، نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہے ،اللہ کے حکم کے بغیر کوئی ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا، فرمان الہی ہے :
    وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ‌ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ
    ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ‌ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌(سورة الأنعام:17)
    ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    خوف بے چینی کا نام ہے جو بندہ کے دل میں فرائض و واجبات میں کوتاہی اور معصیات کے ارتکاب پر پیدا ہوتی ہے ، اسی طرح بندہ طاعت کرکے عدم قبولیت کے خدشے سے بھی ڈرتارہتاہے ۔
    ہاں طبعی خوف اس خوف سے مستثنی ہے ، وہ فطری چیز ہے ، سانپ کو دیکھ کر، درندوں کو دیکھ کر انسان ڈرجاتا ہے ۔ یہ ڈر اللہ کے مقابلے میں نہیں ہوتا ہے یہ محض فطرتا ایسا ہوتا ہے جیساکہ موسی علیہ السلام سانپ سے ڈرگئے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    وَأَلْقِ عَصَاكَ
    ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ (النمل :10)
    ترجمہ: تو اپنی لاٹھی ڈال دے ،موسی نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے تو منہ موڑے ہوئے پیٹھ پھیرکر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ،اے موسی! خوف نہ کھا،میرے حضور میں پیغمبرڈرا نہیں کرتے ۔
    اللہ سے ڈرنے کا بدلہ جنت ہے ،اللہ کا فرمان ہے :
    وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى،فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى [النازعات: 40، 41]
    ترجمہ: ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔
    اللہ تعالی ہمیں خوف و خشیت کی صفت سے متصف کردے ۔ آمین

    واللہ اعلم

    کتبہ
    مقبول احمد سلفی
     
  2. ‏اکتوبر 30، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بہت خوب محترم شیخ!
    ایسی مضامین پر قلم اٹھانا اور ایسی تحاریر لوگوں کے سامنے پیش کرنا بہت ضروری ہے.
    جزاکم اللہ خیرا.
    بارک اللہ فیکم
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 30، 2016 #3
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,233
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آمین
     
  4. ‏اکتوبر 30، 2016 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    زبردست ، جزاک اللہ خیرا

    یہ ہی وہ عقیدہ هے جو هر ایمان والے کے پاس هونا چاہیئے ۔ بیشک شیطان ایمان والوں پر اس وقت تک حاوی نہیں ہو سکتا جبتک کہ انکا ایمان کمزور نا هو سکے ۔
    علمی اور ایمان افروز تحریر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں