1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا فجر کی اذان کے بعد تحیۃ المسجد کے نفل ادا کرنا درست ہے

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از khurramhayat75, ‏جون 05، 2018۔

  1. ‏جون 05، 2018 #1
    khurramhayat75

    khurramhayat75 مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 08، 2017
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    اس حدیث کا ترجمہ اور تشریح کر دین کیا یہ درست ہے
    کیا فجر کی اذان کے بعد تاحیت مسجد کے نفل ادا کرنا درست ہے جبکے یہ حکم فجر اور عصر کی فرض نماز کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں

    جاء في "دقائق أولي النهى" (1/275) : في أوقات النهي عن الصلاة خمسة أحدها : " من طلوع الفجر الثاني إلى طلوع الشمس " انتهى .
    والمعنى أنه إذا طلع الفجر صلى ركعتي الفجر ثم أمسك عن الصلاة ؛ لما روى أبو داود (1278) عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، فَقَالَ يَا يَسَارُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ : ( لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ ) والحديث صححه الألباني رحمه الله في صحيح أبي داود .
    وهذا مبني عندهم على أن النهي متعلق بالوقت - وهو طلوع الفجر - ، لا بفعل الصلاة.

    وعن أحمد رواية أخرى ، وهو المذهب عند الشافعية , أن النهي متعلق بفعل الصلاة ، فإذا صلى الصبح أمسك عن الصلاة ; لما روى أبو سعيد , أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ) رواه مسلم (827), وفي حديث عمرو بن عبسة قال : ( صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ) رواه مسلم (832) ، ومعنى هذا أن وقت النهي يدخل بفعل صلاة الصبح ، لا بطلوع الفجر .
    ينظر "المجموع" (4/76) ، و"المغني" (1/428) ، و"الموسوعة الفقهية" (7/183



    Sent from my RNE-L21 using Tapatalk
     
  2. ‏جون 06، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    احادیث کا ترجمہ:
    ابن عمر رضی اللہ کے غلام یسار بیان کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا اور بیان کیاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس قسم کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: فجر کے بعد دو رکعتوں کے علاوہ نماز نہ پڑھو، اور حاضرین یہ بات دوسروں تک بھی پہنچا دیں۔
    ( یہ حدیث سنن ابی داود میں ہے، شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے)
    حضرت اب سعید خدری رسول اللہ صلی اللہ سے بیان کرتے ہیں : عصر کے بعد غروب شمس تک اور فجر کے بعد طلوع شمس تک کوئی نماز نہیں ہے۔ ( صحیح مسلم )
    عمرو بن عبسہ سے مروی حدیث میں ہے: صبح کی نماز پڑھنے کے بعد طلوع شمس تک کوئی بھی نماز پڑھنے سے گریز کرو۔ ( صحیح مسلم )
    اس میں علماء کا اختلاف ہے، منع کرنے والے علماء کے وہی دلائل ہیں، جو اوپر ذکر ہوئے۔
    دیگر علما کا موقف ہے کہ تحیۃ المسجد وغیرہ پڑھے جاسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اوپر ذکر کردہ احادیث میں عمومی نوافل پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، سببی نماز جیساکہ تحیۃ المسجد یا تحیۃ الوضوء یہ کسی بھی پڑھے جاسکتے ہیں ۔
    دونوں موقف ہی مضبوط ہیں، اور دونوں طرف احادیث سے دلائل موجود ہیں۔
    اگر آپ ان اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
     
    • علمی علمی x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 06، 2018 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں