1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا "قبل اور بعد" مبنی ہیں؟

'عربی سیکھیں' میں موضوعات آغاز کردہ از amateen777, ‏اگست 18، 2016۔

  1. ‏اگست 18، 2016 #1
    amateen777

    amateen777 رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2015
    پیغامات:
    59
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    جیسا کہ سورہ روم میں یہ دنوں "من" کے بعد مضموم استعمال ہوئے ہیں ایسے ہی قران میں دوسرے مقامات پر ہوا ہے۔
     
  2. ‏اگست 18، 2016 #2
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    قبل اور بعد کی تین حالتیں ہیں
    ان کا مضاف الیہ موجود ہو تو یہ معرب ہوں گے.
    ان کا مضاف الیہ محذوف کیا گیا ہو تو یہ معرب ہوں گے.
    ان کا مضاف الیہ نسیا منسیا ہو تو یہ مبنی ہوں گے.

    نسیا منسیا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا کوئی مضاف الیہ نہ نکالا جا سکے. ایسا عموما تعمیم کے لیے ہوتا ہے. سورہ روم کی اس آیت میں مضاف الیہ محذوف کے طور پر ایک قرائت من قبل و من بعد (دو زیر کے ساتھ) بھی ہے. لیکن مشہور قراءت میں یہ مبنی ہیں. یعنی "اللہ کے لیے ہی امر ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی". کس سے پہلے اور کس کے بعد, اس کی وضاحت نہیں ہے. اور یہ ایک محاورہ نما عبارت ہے کہ ہر چیز سے پہلے اور بعد یعنی ہمیشہ اللہ کا ہی اختیار ہے.
     
  3. ‏اگست 19، 2016 #3
    amateen777

    amateen777 رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2015
    پیغامات:
    59
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    جزاکم اللہ خیرا

    Sent from my Iris X8 L using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں