1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا لفظ امام کلمہ توثیق ہے؟ ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از انصاری نازل نعمان, ‏جولائی 04، 2015۔

  1. ‏جولائی 04، 2015 #1
    انصاری نازل نعمان

    انصاری نازل نعمان رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2013
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    121
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام عليكم و رحمته و بركاته
    سوال یہ ہے کہ کیا لفظ امام کلمہ توثیق ہے؟ اگر کوی محدث کسی راوی کو امام لکھ دیتا ہے تو کیا وہ اسکی ثقہ ہونے کی دلیل ہے؟؟
     
  2. ‏جولائی 04، 2015 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاتہ!
    لہٰذا امام ، حافظ وغیرہ کہنے سے توثیق لازم نہیں آتی!!
     
    • مفید مفید x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 05، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,732
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    محمد بن عمر بن واقد الواقدی کو ’’ امام فی المغازی ‘‘ کہا جاتا ہے ، لیکن اس کے باوجود ان پر سخت قسم کی جرحیں بھی موجود ہیں ۔ و للحدیث بقیۃ
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 28، 2017 #4
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محدثین رواۃ کے بارے میں الفاظ کا استعمال کرتے وقت ان کے لغوی معانی کا لحاظ کرتے ہیں. چنانچہ کسی ضعیف راوی کو کذاب نہیں کہتے کہ ہیں تو یہ دونوں جرح ہی- ان معانی کے ہی لحاظ سے جرح کے مراتب میں فرق کیا جاتا ہے. اسی طرح لفظ امام کا بھی معاملہ ہے- اس کا مطلب ہے مقتدا یعنی جو اس درجے پر ہو کہ اس کی پیروی کی جاتی ہو- چنانچہ جس فن میں امام کہا جائے اس فن میں یہ توثیق ہے- مثلا واقدی کو امام فی المغازی کہا جاتا ہے تو وہ سیرت کے امام ہیں- ان کا ضعف احکام کی احادیث میں ہے- حفص اور عاصم کو قراءت میں امام کہا گیا ہے تو یہ قراءت کے امام ہیں, ضعف احکام کی احادیث کے بارے میں مذکور ہے- اسی پر سب کو قیاس کیا جا سکتا ہے-
    جسے مطلقا امام کہا جائے اسے جس فن میں معروف ہے اس میں امام کہا جانا چاہیے- ہاں اگر مبالغے یا تعظیم کی علامات یا الفاظ بھی مذکور ہوں تو پھر انہی کے بقدر توثیق ہوگی-
    یاد رہے کہ بعض چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں توثیق بذات خود تضعیف ہوتی ہے جیسے خوارج یا معتزلہ کا امام ہونا وغیرہ
    ہذا ما ظہر لی من تتبع کلام الأئمۃ. و اللہ اعلم
     
  5. ‏جون 29، 2017 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محض الفاظ کے معنی سے اصطلاح میں استدلال کرنا محدثین کا نہ طریق ہے نہ ان کا منہج ہاں یہ پرویزیت کا فتنہ ضرور ہے!
    محدثین نے واشگاف الفاظ میں بیان کردیا ہے کہ امام، حافظ وغیرہ کے الفاظ کسی ضعیف راوی کے لئے توثیق نہیں ہوتے!
    ملاحظہ فرمائیں؛


    (الْأُولَى): قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: " إِذَا قِيلَ لِلْوَاحِدِ إِنَّهُ " ثِقَةٌ أَوْ مُتْقِنٌ " فَهُوَ مِمَّنْ يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ ".
    قُلْتُ: وَكَذَا إِذَا قِيلَ " ثَبْتٌ أَوْ حُجَّةٌ "، وَكَذَا إِذَا قِيلَ فِي الْعَدْلِ إِنَّهُ " حَافِظٌ أَوْ ضَابِطٌ "، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 122 جلد 01 معرفة أنواع علوم الحديث، (مقدمة ابن الصلاح) - عثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاح - دار الفكر، دمشق
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 242 - 243 جلد 01 معرفة أنواع علوم الحديث، (مقدمة ابن الصلاح) - عثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاح - دار الكتب العلمية، بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 307 - 308 جلد 01 معرفة أنواع علوم الحديث، (مقدمة ابن الصلاح) - عثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاح - دار المعارف، القاهرة

    كَأَنْ يُقَالَ فِيهِ: حَافِظٌ أَوْ ضَابِطٌ ; إِذْ مُجَرَّدُ الْوَصْفِ بِكُلٍّ مِنْهُمَا غَيْرُ كَافٍ فِي التَّوْثِيقِ، بَلْ بَيْنَ [الْعَدْلِ وَبَيْنَهُمَا عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ ; لِأَنَّهُ يُوجَدُ بِدُونِهِمَا، وَيُوجَدَانِ بِدُونِهِ، وَتُوجَدُ الثَّلَاثَةُ] .
    وَيَدُلُّ لِذَلِكَ أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ سَأَلَ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ رَجُلٍ، فَقَالَ: " حَافِظٌ، فَقَالَ لَهُ: أَهُوَ صَدُوقٌ؟ " وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ مِنَ الْحُفَّاظِ الْكِبَارِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُتَّهَمُ بِشُرْبِ النَّبِيذِ وَبِالْوَضْعِ، حَتَّى قَالَ الْبُخَارِيُّ: هُوَ أَضْعَفُ عِنْدِي مِنْ كُلِّ ضَعِيفٍ.

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 280 – جلد 02 فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي - شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن السخاوي - مكتبة دار المنهاج، الرياض

    عمر بن هارون الحافظ الإمام المكثر عالم خراسان أبو حفص الثقفي مولاهم البلخي: من أوعية العلم على ضعف فيه.

    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قلت: كذبه ابن معين جاء ذلك من وجهين عنه، وقال مرة: ليس بشيء. وقال أبو داود: ليس بثقة. وقال النسائي وجماعة.
    متروك. قلت لا ريب في ضعفه.

    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 340 - 341 جلد 01 - تذكرة الحفاظ - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - دار الكتب العلمية، بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 311 – 312 جلد 01 - تذكرة الحفاظ - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي -دائرة المعارف النظامية ، حيدرآباد، دكن
    عمر بن ہارون کا امام الذہبیؒ نے ''الحافظ'' بھی کہا ''امام'' بھی کہا '' من أوعية العلم'' بھی قرار دیا، اور ان تمام القابات کے باوجود فرمایا:
    قلت لا ريب في ضعفه
    میں کہتا ہوں اس کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں!!
    امام ابن حجر العسقلانی ؒنے
    تقريب التهذيب میں عمر بن هارون کو متروک قرار دیا، اور اس کے ساتھ یہ بتلایا کہ وہ نویں طبقہ کے حافظ ہیں۔ لہٰذا ''حافظ'' کلمہ توثیق نہیں۔ اگر یہ کلمہ توثیق ہوتا تو امام ابن حجر العسقلانی، اسی جملہ میں عمر بن هارون کو متروك قرار نہ دیتے۔
    عمر ابن هارون ابن يزيد الثقفي مولاهم البلخي متروك وكان حافظا من كبار التاسعة مات سنة أربع وتسعين [ومائة] ت ق
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 417 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - دار الرشيد – سوريا
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 728 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - دار العاصمة
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 459 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - بيت الأفكار الدولية

    آیئے ہم آپ کو اس کے مزید ثبوت پیش کرتے ہیں:
    امام الذہبیؒ سير أعلام النبلاء میں ابن خراش کا تعارف یوں فرماتےہیں:

    ابن خِراش:الحَافِظُ، النَّاقِد، البَارع أَبُو مُحَمَّدٍ عبد الرَّحْمَن بن يُوْسُف بن سَعِيْدِ بن خِرَاش المَرْوَزِيّ، ثم البغدادي.
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 508 جلد 13 - سير أعلام النبلاء - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - مؤسسة الرسالة – بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 2250 - سير أعلام النبلاء - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - بيت الافكار الدولية

    اسی ابن خراش کے متعلق امام الذہبیؒ ميزان الاعتدال میں
    موسى بن إسماعيل، أبو سلمة المنقرى التبوذكى البصري الحافظ الحجة، أحد الاعلام. کے ترجمہ میں رقم فرماتے ہیں:
    قلت: لم أذكر أبا سلمة للين فيه، لكن لقول ابن خراش فيه: صدوق، وتكلم الناس فيه.
    قلت: نعم تكلموا فيه بأنه ثقة ثبت يا رافضي
    .
    میں(الذہبی) کہتا ہوں : ابو سلمہ کو لین ذکر نہیں کیا گیا، لیکن ابن خراش کا قول ہے کہ ابو سلمہ صدوق ہیں اور لوگوں نے ان پر کلام کیا ہے۔
    میں (الذہبی) کہتا ہوں: جی ہاں ابو سلمہ کے بارے میں لوگوں نے یہ کلام کیا ہے کہ ابو سلمہ ثقہ ثبت ہیں، اے(ابن خراش) رافضی!
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 200 جلد 04 - ميزان الاعتدال في نقد الرجال - امام الذهبي - دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت

    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 536 جلد 06 - ميزان الاعتدال في نقد الرجال - امام الذهبي - دار الكتب العلمية، بيروت
     
  6. ‏جون 29، 2017 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ان میں سے صرف اس:
    کے علاوہ امام کا لفظ کہاں ہے؟
     
  7. ‏جون 29، 2017 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    مراسلہ بغور پڑھا کریں:
     
  8. ‏جون 29، 2017 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جی جی اسی لیے یہ عرض کیا تھا۔ نہیں سمجھے تو صراحت سے پوچھ لیتا ہوں کہ محدثین نے جو حافظ کے لفظ کے بارے میں لکھا ہے وہ تو اوپر موجود ہے۔ یہ "امام" کے لفظ کے بارے میں "واشگاف الفاظ" کہاں پائے جاتے ہیں؟
     
  9. ‏جون 29، 2017 #9
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    امام ذہبی رحمہ اللہ کا کلام پڑھیئے
     
  10. ‏جون 29، 2017 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290


    پڑھ لیا۔
    ان کے بارے میں تو الامام اور دوسرے الفاظ سے توثیق کا شبہ ہو رہا تھا جبھی تو امام ذہبیؒ نے ضعف کی وضاحت کی۔ اگر ان الفاظ سے توثیق بالکل نہ ہوتی تو ذہبیؒ کو ضعف کی وضاحت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

    مجھے لفظ امام کے بارے میں یہ الفاظ دکھائیے جو آپ نے فرمائے ہیں:
    محدثین کا "امام" کے بارے میں یہ واشگاف جملہ کہاں پایا جاتا ہے کہ "یہ لفظ کسی ضعیف راوی کی توثیق کے لیے نہیں ہوتا"؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں