1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا لفظ امام کلمہ توثیق ہے؟ ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از انصاری نازل نعمان, ‏جولائی 04، 2015۔

  1. ‏جون 29، 2017 #11
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی یہی شبہ آپ کو ہو رہا ہے جس کی نکیر کردی ہے!
    کہ آپ کا امام کے لفظ سے توثیق اخذ کرنا باطل ہے!
    اور کیا واشگاف الفاظ چاہئیں؟
    یہ تو حکمت چین و حجت بنگال والی بات ہوئی!
     
  2. ‏جون 29، 2017 #12
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہ واشگاف الفاظ ہوتے ہیں؟ ان دو لنکوں پر اس لفظ کے معنی سے متعلق لغات کا مطالعہ فرما لیجیے:
    http://urduban.com/urdu_to_urdu.php?word=واشگاف&search=
    https://rekhta.org/urdudictionary?keyword=واشگاف&lang=ur
     
  3. ‏جون 29، 2017 #13
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    امام ذہبی کا کلام بالکل واشگاف ہے، ظاہر ہے، کھلا ہوا ہے!
    لیکن حکمت چین و حجت بنگال کا علاج میرے پاس نہیں!
     
  4. ‏جون 29، 2017 #14
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہ الفاظ کہاں ہیں:
     
  5. ‏جون 29، 2017 #15
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    چلیں یار اگر آپ نہیں دکھا سکتے تو میں آپ پر بوجھ نہیں ڈالتا اور خود بتا دیتا ہوں:
    وكما وضعوا أساس ترتيب الرواة وبذوره وضعوا أيضًا بعض المصطلحات والألفاظ التي تضع الراوي في مرتبته اللائقة به من حيث ضبطه وعدالته، ويكتفىبإطلاق مصطلح من المصطلحات هذه لبيان مدى ضبطه ومقدار حفظه وعدالته، وكل الأئمة قد أسهم تقريبًا في هذا المجال.
    أطلقوا -مثلًا- على أعلى درجات الضبط والعدالة من الألفاظ: "ثقة" أو "ثبت" مكررًا أو لفظ "حجة" أو "إمام"؛ قال سفيان بن عيينة في عمرو بن دينار: "ثقة"وكررها أكثر من مرة ليبين أنه في على درجات۔۔۔
    (توثيق السنة في القرن الثاني الهجري أسسه واتجاهاته، ص 174، ط: مکتبۃ الخنانجی)
    انہوں نے تو "امام" کو ضبط اور عدالت کا اعلی درجہ قرار دیا ہے۔

    وإليكم بيان مراتب التعديل على ضوء ما ذكرها الحافظ ابن حجر في مقدمة كتابه القيم "تقريب التهذيب" مرتبة من الأعلى إلى الأدنى، ومضافا إليها زيادات من كلام غيره من العلماء.
    المرتبة الأولى: الوصف بما يدل على المبالغة وهو الوصف بأفعل؛ مثل فلان أوثق الناس، وأعدل الناس وإليه المنتهى في التثبت ومثله قول الشافعي في ابن مهدي: لا أعرف له نظيرا في الدنيا ومثله: أيضا قول حسان بن هشام في ابن سيرين: حدثني أصدق من أدركت من البشر.
    قال السيوطي: قلت: ومنه: لا أحد أثبت منه، ومن مثل فلان؟ وفلان لا يسأل عنه، ولم أر من ذكر هذه الثلاثة وهي في ألفاظهم.
    المرتبة الثانية: ما كرر فيه أحد ألفاظ التعديل إما لفظا كثقة ثقة، أو ثبت ثبت1 أو حجة حجة، أو معنى كثقة حجة، أو ثقة حافظ، أو ثقة حجة، أو حجة حافظ إلى نحو ذلك.
    المرتبة الثالثة: ثقة، أو ثبت، أو حجة، أو إمام، أو حافظ، أو متقن، أو عدل إلى نحو ذلك.
    (الوسيط في علوم ومصطلح الحديث، ص 408، ط: دار الفکر العربی)

    یہ علماء آپ سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان کی بات آپ سے زیادہ معتبر ہے۔
     
  6. ‏جون 29، 2017 #16
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہ بات اوپر پیش کردی ہے!
    اگر آپ کا مطالبہ اردو عبارت کا ہے، تو یہ ممکن نہیں! امام ذہبی ، امام ابن حجر وغیرہ نے اردو میں کلام نہیں کیا!
     
  7. ‏جون 29، 2017 #17
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    اوپر کہیں وہ الفاظ نہیں ہیں جو آپ نے "واشگاف" قرار دیے ہیں۔ صرف تاویلات باطلہ اور احتمالات ہیں جنہیں آپ استنباطات فاسدہ کا نام دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ علماء کرام آپ سے زیادہ واقف ہیں:
     
  8. ‏جون 29، 2017 #18
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    مراسلہ کو بغور پڑھا کریں!
    یہ بات ثقہ رواة کے لئے ہے، جبکہ ہم نے بات کی ہے:
     
  9. ‏جون 29، 2017 #19
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    خود بھی بغور پڑھا کریں:
    اس میں نہ تو "ضعیف" کا لفظ ہے اور نہ ہی "امام" کا۔
    یعنی آپ نے جن الفاظ پر استدلال کیا ہے وہ موجود ہی نہیں ہیں اور آپ کا استدلال باطل ہے۔
     
  10. ‏جون 29، 2017 #20
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہ تو وہی بات ہوئی جیسے پرویزی کہتے ہیں کہ قران میں نماز کا لفظ نہیں، نماز تو مجوسیوں کی عبادت تھی!
    دکھاؤ قرآن میں نماز کا لفظ دکھاؤ!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں