1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا لفظ امام کلمہ توثیق ہے؟ ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از انصاری نازل نعمان, ‏جولائی 04، 2015۔

  1. ‏جون 29، 2017 #31
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    اس میں ایک جگہ بھی امام ذہبیؒ نے آپ کی والی بات نہیں کی۔ سب آپ کی باطل تاویلات ہیں۔
    صریح الفاظ دکھائیے جیسے میں نے صراحت سے لفظ امام کو کلمات توثیق میں دکھایا ہے۔
     
  2. ‏جون 29، 2017 #32
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,181
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جہاں امام و حافظ وغیرہ کلمہ توثیق ہے، وہ کسی ثقہ راوی کے درجہ ثقاہت کے لئے ہے، کسی ضعیف راوی کے لئے یہ کلمات توثیق نہیں!
    ثقہ روات کے لئے درجات ثقاہت کو بیان کرنے والوں کا اطلاق ضعیف روات پر کرنا ایسا ہی ہے جیسے
    کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
    بھان متی نے کنبہ جوڑا
    امام ذہبی رحمہ اللہ کا مؤقف وہی ہے، جو ہم نے بیان کیا ہے، اور یہ بات امام ذہبی رحمہ اللہ کے کلام میں صراحتاً موجود ہے!
    لیکن اہل الرائے کے اٹکل پچو کے موتیا کے شکار کو نظر آنا مشکل ہے!
     
  3. ‏جون 29، 2017 #33
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہ قاعدہ کس کتاب میں بیان ہوا ہے؟ درجہ ثقاہت کی صراحت کے ساتھ دکھائیے گا.

    یہ بھی بتا دیجیے گا کہ یہ لفظ امام ثقہ راوی کا درجہ ثقاہت بیان کرتا ہے تو ضعیف راوی میں کیا بیان کرتا ہے؟ آخر کسی مقصد سے تو لایا جاتا ہوگا نا ضعیف راوی کے لیے؟ یا ایویں ہی ذکر کیا جاتا ہے صفحات بھرنے کے لیے؟
     
    Last edited: ‏جون 29، 2017
  4. ‏جون 30، 2017 #34
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,181
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اپنی ہی پیش کی ہوئی عبارات کو سمجھتے تو یہ قاعد ہ نظر آجاتا کہ امام و حافظ کے کلمات ثقہ راوی کے درجات ثقاہت کے بیان کے لئے ہیں! یہ کلمات کسی ضعیف راوی کی ثقاہت کے اثبات کے لئے قطعی مفید نہیں!
    باقی رہی ضعیف روات کے لئے کلمات تو امام ذہبی اور ابن حجر رحمہااللہ کے کلام کو دیکھیں:
    عمر بن هارون الحافظ الإمام المكثر عالم خراسان أبو حفص الثقفي مولاهم البلخي: من أوعية العلم على ضعف فيه.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قلت: كذبه ابن معين جاء ذلك من وجهين عنه، وقال مرة: ليس بشيء. وقال أبو داود: ليس بثقة. وقال النسائي وجماعة.
    متروك. قلت لا ريب في ضعفه.

    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 340 - 341 جلد 01 - تذكرة الحفاظ - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - دار الكتب العلمية، بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 311 – 312 جلد 01 - تذكرة الحفاظ - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي -دائرة المعارف النظامية ، حيدرآباد، دكن
    عمر بن ہارون کا امام الذہبیؒ نے ''الحافظ'' بھی کہا ''امام'' بھی کہا '' من أوعية العلم'' بھی قرار دیا، اور ان تمام القابات کے باوجود فرمایا:
    قلت لا ريب في ضعفه
    میں کہتا ہوں اس کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں!!
    اب یہاں کیا امام ذہبی رحمہ اللہ نے پہلے عمر بن هارون ''الامام'' کہہ کر اسے مرتبہ ثانیہ کا ثقہ قرار دیا ، اور پھر اسی عبارت میں آگے اسے ضعیف قرار دیا، بلکہ یوں کہا کہ اس کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں!
    نہیں ایسا نہیں، امام ذہبی کے کلام میں تضاد نہیں، بات سیدھی سی ہے کہ امام ذہبی کا عمر بن ھارون کو ''الامام'' اور الحافظ'' لکھنا اس کی توثیق نہیں! اور یہ کلمات ضعیف رواة کی توثیق نہیں ہوتے!

    امام ابن حجر العسقلانی ؒنے
    تقريب التهذيب میں عمر بن هارون کو متروک قرار دیا، اور اس کے ساتھ یہ بتلایا کہ وہ نویں طبقہ کے حافظ ہیں۔ لہٰذا ''حافظ'' کلمہ توثیق نہیں۔ اگر یہ کلمہ توثیق ہوتا تو امام ابن حجر العسقلانی، اسی جملہ میں عمر بن هارون کو متروك قرار نہ دیتے۔
    عمر ابن هارون ابن يزيد الثقفي مولاهم البلخي متروك وكان حافظا من كبار التاسعة مات سنة أربع وتسعين [ومائة] ت ق
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 417 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - دار الرشيد – سوريا
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 728 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - دار العاصمة
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 459 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - بيت الأفكار الدولية
    اب ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے کیا عمر بن ھارون کو ''حافظ'' کہہ کر مرتبہ ثانیہ کا ثقہ قرار دیا ، اور اس سے قبل اسی جملہ میں اسے متروک بھی قرار دیا!
    نہیں ایسا نہیں! امام ابن حجر العسقلانی کے کلام میں بھی تضاد نہیں، ابن حجر العسقلانی نے عمر بن ھاورون کی توثیق نہیں کی، اور نہ ہی ''حافظ'' کے کلمہ کسی ضعیف راوی کی توثیق ہوتے ہیں!

    امام الذہبیؒ سير أعلام النبلاء میں ابن خراش کا تعارف یوں فرماتےہیں:

    ابن خِراش:الحَافِظُ، النَّاقِد، البَارع أَبُو مُحَمَّدٍ عبد الرَّحْمَن بن يُوْسُف بن سَعِيْدِ بن خِرَاش المَرْوَزِيّ، ثم البغدادي.
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 508 جلد 13 - سير أعلام النبلاء - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - مؤسسة الرسالة – بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 2250 - سير أعلام النبلاء - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - بيت الافكار الدولية

    اسی ابن خراش کے متعلق امام الذہبیؒ ميزان الاعتدال میں
    موسى بن إسماعيل، أبو سلمة المنقرى التبوذكى البصري الحافظ الحجة، أحد الاعلام. کے ترجمہ میں رقم فرماتے ہیں:
    قلت: لم أذكر أبا سلمة للين فيه، لكن لقول ابن خراش فيه: صدوق، وتكلم الناس فيه.
    قلت: نعم تكلموا فيه بأنه ثقة ثبت يا رافضي
    .
    میں(الذہبی) کہتا ہوں : ابو سلمہ کو لین ذکر نہیں کیا گیا، لیکن ابن خراش کا قول ہے کہ ابو سلمہ صدوق ہیں اور لوگوں نے ان پر کلام کیا ہے۔
    میں (الذہبی) کہتا ہوں: جی ہاں ابو سلمہ کے بارے میں لوگوں نے یہ کلام کیا ہے کہ ابو سلمہ ثقہ ثبت ہیں، اے(ابن خراش) رافضی!
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 200 جلد 04 - ميزان الاعتدال في نقد الرجال - امام الذهبي - دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت

    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 536 جلد 06 - ميزان الاعتدال في نقد الرجال - امام الذهبي - دار الكتب العلمية، بيروت
    اب کیا کوئی یہ کہے گا کہ امام ذہبی نے ابن خراش رافضی کو الحافظ کہہ کر اسے تیسرے درجہ کا ثقہ قرار دیا ہے؟
    قطعی نہیں! امام ذہبی رحمہ اللہ نے ابن خراش کی قطعی کوئی توثیق نہیں کی!
    کسی بھی لئے ضعیف رواة کے لئے امام و حافظ وغیرہ کے کلمات ادا کئے گئے ہوں، لیکن یہ بات قطعی ہے کہ توثیق کے لئے نہیں کیئے گئے! اور نہ ہی ان کلمات سے ان کی توثیق لازم آتی ہے!
    باقی ! یہ نکتہ کہ کس لئے یہ الفاظ ادا کیئے گئے ہیں! تو یہ ایک دوسری بحث ہے!
     
    Last edited: ‏جون 30، 2017
  5. ‏جون 30، 2017 #35
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    کاپی پیسٹ میں تو آپ ماہر ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ میری دی ہوئی عبارت میں یہ قید نہیں ہے یہ الفاظ توثیق کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے ثابت شدہ ثقہ راوی کا درجہ بتانے کے لیے ہیں. میری دی ہوئی عبارات میں تو ان الفاظ کو خود الفاظ تعدیل میں شمار کیا گیا ہے.
    وكما وضعوا أساس ترتيب الرواة وبذوره وضعوا أيضًا بعض المصطلحات والألفاظ التي تضع الراوي في مرتبته اللائقة به من حيث ضبطه وعدالته، ويكتفىبإطلاق مصطلح من المصطلحات هذه لبيان مدى ضبطه ومقدار حفظه وعدالته، وكل الأئمة قد أسهم تقريبًا في هذا المجال.
    أطلقوا -مثلًا- على أعلى درجات الضبط والعدالة من الألفاظ: "ثقة" أو "ثبت" مكررًا أو لفظ "حجة" أو "إمام"؛ قال سفيان بن عيينة في عمرو بن دينار: "ثقة"وكررها أكثر من مرة ليبين أنه في على درجات۔۔۔
    (توثيق السنة في القرن الثاني الهجري أسسه واتجاهاته، ص 174، ط: مکتبۃ الخنانجی)
    آپ کی مطلوبہ قید موجود نہیں ہے.

    وإليكم بيان مراتب التعديل على ضوء ما ذكرها الحافظ ابن حجر في مقدمة كتابه القيم "تقريب التهذيب" مرتبة من الأعلى إلى الأدنى، ومضافا إليها زيادات من كلام غيره من العلماء.
    المرتبة الأولى: الوصف بما يدل على المبالغة وهو الوصف بأفعل؛ مثل فلان أوثق الناس، وأعدل الناس وإليه المنتهى في التثبت ومثله قول الشافعي في ابن مهدي: لا أعرف له نظيرا في الدنيا ومثله: أيضا قول حسان بن هشام في ابن سيرين: حدثني أصدق من أدركت من البشر.
    قال السيوطي: قلت: ومنه: لا أحد أثبت منه، ومن مثل فلان؟ وفلان لا يسأل عنه، ولم أر من ذكر هذه الثلاثة وهي في ألفاظهم.
    المرتبة الثانية: ما كرر فيه أحد ألفاظ التعديل إما لفظا كثقة ثقة، أو ثبت ثبت1 أو حجة حجة، أو معنى كثقة حجة، أو ثقة حافظ، أو ثقة حجة، أو حجة حافظ إلى نحو ذلك.
    المرتبة الثالثة: ثقة، أو ثبت، أو حجة، أو إمام، أو حافظ، أو متقن، أو عدل إلى نحو ذلك.
    (الوسيط في علوم ومصطلح الحديث، ص 408، ط: دار الفکر العربی)
    یہاں بھی نہیں ہے آپ کی مطلوبہ قید.
    اب اگر آپ کہتے ہیں کہ ان عبارات میں یہ الفاظ صرف مرتبہ بتانے کے لیے بیان ہوئے ہیں اور یہ توثیق کے الفاظ نہیں ہیں تو پھر انہی عبارات میں ثقہ, ثبت, حجۃ وغیرہ کے الفاظ بھی ہیں. ان پر بھی یہی حکم لگائیے.
     
  6. ‏جون 30، 2017 #36
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہ بات "قطعی" کیسے ہو گئی جبکہ آپ ابھی تک کسی سے صراحت کے ساتھ یہ بات نہیں دکھا سکے.؟کسی کے الفاظ میں یہ بات نہیں دکھائی.
     
  7. ‏جون 30، 2017 #37
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,730
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    لفظ ’ حافظ ‘ اور ’ امام ‘ کے حوالے سے امر واقع یہ ہے کہ بہت سارے راوۃ ان القاب سے ملقب ہیں ، لیکن پھر بھی ان پر جرح یا سخت قسم کی جرح ہے ۔ بہت کم ایسا ہوگا کہ کوئی ’ امامت کے درجہ ‘ پر فائز ہو ، اور اس کے حق میں لفظ ’ امام ‘ کے علاوہ دیگر کلمات توثیق یا تجریح نہ ملتے ہوں ـ لہذا لفظ ’ حافظ ‘ اور ’ امام ‘ کو کسی ایک خاص معنی میں لینے پر اصرار نہیں ہونا چاہیے ۔
    لفظ ’ امام ‘ کلمات توثیق میں ذکر ہوا ہو ، حافظ ابن حجر اور سخاوی تک ہم نے مصطلحات توثیق جو پڑھی ہیں ، مجھے نہیں یاد کہ ان میں کہیں اس کو ذکر کیا گیا ہو ۔ اگر بعد والا کوئی اس طرح کے کلمات کا اضافہ کرتا ہے ، تو اس پر واضح امثلہ اور دلائل ذکر کرنے کی ضرورت ہے ۔
     
  8. ‏جون 30، 2017 #38
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,181
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میرے پچھلے مراسلہ کو بغور پڑھیئے! اور سمجھنے کی کوشش کیجیئے!
    ابن حجر العسقلانی اور اور ذہبی رحمہااللہ کے کلام کو مد نظر رکھتے ہوئے ثقہ کے مراتب کو سمجھیئے!
     
  9. ‏جون 30، 2017 #39
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ان امثلہ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ میرا مطلب ہے اگر ایک شخص کو امام کہہ کر ثقہ کہا گیا ہے تو اعتراض ہوگا کہ ثقہ پہلے سے تھا اور "امام" سے درجہ بتایا گیا ہے۔ اگر ایک جگہ امام اور دوسری جگہ ثقہ کہا گیا ہے تو بھی یہی اعتراض ہوگا۔ اور اگر صرف "امام" کہا گیا ہو اور کچھ نہ کہا گیا ہو تو اسے معترضین توثیق ہی نہیں مانیں گے۔ تو مثالوں کے ذکر کا طریقہ کار کیا ہو؟؟؟

    نیز جب کسی راوی کو امام کہا جاتا ہے تو آخر کسی معنی میں تو کہا جاتا ہوگا۔ وہ معنی کیا ہیں جو توثیق کے ساتھ بھی جمع ہو جاتے ہیں اور جرح کے ساتھ بھی؟
     
  10. ‏جون 30، 2017 #40
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,344
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    سَلْمِ بنِ مَيْمُوْنٍ الخَوَّاص كے متعلق میزان الاعتدال (2/186) میں ہے.
    ابن عدی فرماتے ہیں:
    ينفردُ بمتونٍ وبأسانيد مقلوبةٍ

    ابن حبان فرماتے ہیں:
    وكان من كبارِ عُبادِ أهلِ الشامِ ، غلب عليه الصلاحُ حتى غفل عن حفظِ الحديثِ وإتقانهِ ، فلا يحتجُ بهِ

    عقیلی فرماتے ہیں:
    حدث بمناكير لا يتابعُ عليها

    ابو حاتم کہتے ہیں:
    لا يكتبُ حديثهُ

    اتنے بڑے عابد ہونے کے باوجود جرح موجود ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں