1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا لمبی داڑی حماقت کی علامت ہے؟؟؟

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عمران الہی, ‏ستمبر 21، 2016۔

  1. ‏ستمبر 21، 2016 #1
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    میں نے بعض کتابوں میں پڈھا کہ لمبی داڑی حماقت کی علامت ہے،یہ بات کہاں تک درست ہے،فورم پر موجود علمائے کرام سے گزارش ہے کہ اس گتھی کو سلجھائیں،اس بارے میں ابو عبید آجری رقم طراز ہیں:
    وسئل أبو داود عن أبي إسرائيل الملائي فقال ذكر عند حسين الجعفي فقال كان طويل اللحية أحمق
    (سؤالات أبي عبيد الآجري لأبي داود السجستاني رحمهما الله ج:1 ص:122

    امام ابوداود سے ابو اسرائیل کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ حسین جعفی کی موجوگی میں اس کا ذکر ہوا تو اس نے کہا کہ وہ لمبی داڑی والا بے وقوف تھا۔
    اسی طرح امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں مجالد بن سعید کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
    وقيل لخالد الطحان دخلت الكوفة فلم لم تكتب عن مجالد قال لأنه كان طويل اللحية
    جناب خالد طحان سے پوچھا گیا کہ آپ کوفے میں تشریف لائے ہیں اور آپ نے مجالد سے کچھ نہیں لکھا؟
    انھوں اس کا جواب یہ دیا :
    میں اس سے کوئی چیز اس لیے نہیں لکھی کیوں کہ وہ لمبی ڈاڑھی والا ہے۔اسی طرح ابن عدی نے الکامل فی الضعفاء میں لکھا ہے:
    عن بشر بن آدم قلت لخالد بن عبد الله الواسطي دخلت الكوفة وكتبت عن الكوفيين ولم تكتب عن مجالد قال لأنه كان طويل اللحية
    بشر بن آدم سے روایت ہے کہ میں نے خالد بن عبد اللہ واسطی سے پوچھا:
    آپ کوفے میں تشریف لائے ہیں،تمام کوفیوں سے کچھ نا کچھ لکھا ہے اور آپ نے مجالد سے کچھ نہیں لکھا؟
    خالد نے جواب دیا:میں نے اس سے کوئی چیز اس لیے نہیں لکھی کیوں کہ وہ لمبی داڑی والا ہے۔اس پر بھی غور کر کے بتائیں کہ کیا یہ سب درست ہے:

    قال العقيلي رحمه الله في الضعفاء الكبير :
    سالم بن أبي حفصة ، كوفي من الشيعة حدثنا محمد بن الحسن الأصبهاني قال : حدثنا محمد بن عبد الله المخرمي قال : حدثنا محمد بن بشير العبدي قال : رأيت سالم بن أبي حفصة ذا لحية طويلة ، أحمق بها من لحية
    حدثنا محمد بن إسماعيل قال : حدثنا سعيد بن منصور قال : قلت لابن إدريس : رأيت سالم بن أبي حفصة ؟ قال : نعم رأيته طويل اللحية ، وكان أحمق .
    حدثنا محمد بن إسماعيل قال : حدثني محمد بن فضيل قال : حدثني حسين بن علي الجعفي قال : رأيت سالم بن أبي حفصة ، طويل اللحية ، أحمق

     
  2. ‏ستمبر 21، 2016 #2
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    كتاب الحمقی و المغفلین ابن الجوزی کی کتاب ہے؟اگر ایسا ہی ہے تو انھوں نے لمبی داڑی کو بے وقوفی کی علامت لکھا ہے،وہ رقم طراز ہیں:
    وقال الأحنف بن قيس: إذا رأيت الرجل عظيم الهامة طويل اللحية فاحكم عليه بالرقاعةولو كان أمية بن عبد شمس
    جناب احنف بن قیس تابعی فرماتے ہیں:جب تو کسی بڑی کھوپڑی اور لمبی داڑی والے کو دیکھے تو سمجھ لے کہ وہ بے وقوف ہے،خواہ وہ امیہ بن عبد شمس ہی ہو۔
    .وقال معاوية لرجل عتب عليه: كفانا في الشهادة عليك في حماقتك وسخافة عقلك، ما نراهمن طول لحيتك.
    سیدنا امیر معاویہ نے کسی آدمی کو ڈانٹتے ہوئے کہا: ہمیں تیری حماقت اور بے وقوفی پر گواہ بننے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہم تیری داڑی کو لمبا دیکھ رہے ہیں۔

    وقال عبد الملك بن مروان: من طالت لحيته فهو كوسجٌ في عقله.
    عبد الملک بن مروان کا قول ہے:جس کی داڑی لمبی ہو اس کی عقل میں کمی ہوتی ہے۔
    وقال أصحاب الفراسة: إذا كان الرجل طويل القامة واللحية فاحكم عليه بالحمق،
    اصحاب فراست کا کہنا ہے کہ جب کسی بندے کا قد لمبا اور داڑی طویل ہو تو سمجھ لو کہ وہ بے وقوف ہے۔
    (الحمقى والمغفلين ص 26)
     
  3. ‏ستمبر 21، 2016 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    امام ابن الجوزی مزید لکھتے ہیں
    وعن سعد بن منصور أنه قال: قلت لابن إدريس: أرأيت سلام بن أبي حفصة؟
    قال: نعم، رأيته طويل اللحية وكان أحمق.

    سعد بن منصور سے مروی ہے کہ میں نے ابن ادریس سے پوچھا: کیا آپ نے سلام بن ابو حفصہ کو دیکھا ہے؟ تو انھوں جواب دیا کہ ہاں میں نے اس کو دیکھا ہے،اس کی لمبی داڑی تھی اور وہ احمق تھا۔
    وعن ابن سيرين أنه قال: إذا رأيت الرجل طويل اللحية لم، فاعلم ذلك في عقله.
    امام ابن سیرین سے ان کا قول مروی ہے:جب تو لمبی داڑی والے آدمی کو دیکھے تو جان لے کہ اس کی عقل میں کمی ہے۔
    لو جی ایک شاعر نے بھی اس موضوع پر شعر لکھا ہے:
    قال بعض الشعراء: متقارب:
    إذا عرضت للفتى لحيةٌ وطالت فصارت إلى سرته
    فنقصان عقل الفتى عندنا بمقدار ما زاد في لحيته

    عربی سے شغف رکھنے والے بھائی سمجھ سکتے ہیں کہ امام ابن الجوزی نے کیا لکھا ہے:

    وقال ابن الجوزي ص 189، 190:(
    تصحيح الخطأ بالرفس:
    وعن المدائني قال: قرأ إمام ولا الظالين بالظاء المعجمة، فرفسه رجل من خلفه، فقال الإمام:
    آه ضهري، فقال له رجل: يا كذا وكذا خذ الضاد من ضهرك واجعلها في الظالين وأنت في
    عافية، وكان الراد عليه طويل اللحية

    وقال رحمه الله أيضا ص 342، 343:
    لست من هذا البلد:
    قال عبد الله بن محمد: قلت لرجل مرة: كم في هذا الشهر من يوم؟ فنظر إلي وقال: لست أنا والله من هذا البلد.
    قال أبو العباس: سألت رجلاً طويل اللحية فقلت: إيش اليوم؟ فقال: والله ما أدري فإني
    لست من هذا البلد، أنا من دير العاقول

    وقال رحمه الله أيضا ص 353، 354:
    لحية الشيخ:
    خرج عبادة ذات يوم يريد السوق، فنظر في بعض طرقه إلى شيخ طويل اللحية كلما أراد أن يتكلم بادرته لحيته، فمرة يدسها في جيبه ومرة يجعلها تحت ركبته فقال له عبادة: يا شيخ لم
    تترك لحيتك هكذا؟ قال: فتريد أن أنتفها حتى تكون مثل لحيتك! قال عبادة: فإن الله
    يقول: "قد أفلح من زكاها وقد خاب من دساها" قال صلى الله عليه وسلم: احفوا
    الشارب واعفوا اللحى ومعنى عفو اللحى أن يزال أثرها، فقال الشيخ: صدق الله ورسوله،
    سأجعلها كما أمر الله ورسوله، فحلق لحيته وجلس في دكانه، فكان كل من رآه وسأله عن خبره قرأ عليه الآية وروى له الحديث)0
    تنبيه : نقل هذه الآثار كما سبق من باب بيان نقل من نقل عنه من السلف كراهية طول اللحية جدا
     
  4. ‏ستمبر 21، 2016 #4
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    ابن عبد ربہ اندلسی نے ایک کاتب کی خوبیوں کے بارے میں لکھا ہے:
    : قال محمد بن إبراهيم الشيباني : من صفة الكاتب اعتدال القامة وصغر الهامة وكثافة اللحية ولا يكون مع ذلك فضفاض الجثة متفاوت الأجزاء طويل اللحية عظيم الهامة فإنهم زعموا أن هذه الصورة لا يليق بصاحبها الذكاء والفطنة
     
  5. ‏ستمبر 21، 2016 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    قال أبو منصور الثعالبي رحمه الله المتوفى 429ه في التمثيل والمحاضرة ص 423: اللحية ما طالت فأفلحت إذا طالت اللحية تكوسج العقل
    قال المعافى بن زكريا في كتابه الجليس الصالح الكافي والأنيس الناصح الشافي ص 491:( وأن عظم اللحية كان على شكل يدل على السفاهة والحمق وقد حدثنا علي بن الفضل بن طاهر البلخي قال حدثنا محمد بن أيوب بن يزيد قال حدثنا أحمد بن يعقوب قال حدثنا مصعب بن خارجة عن أبيه من كانت لحيتة طويلة فلا يلم في عقله شيء
     
  6. ‏ستمبر 21، 2016 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    کمال ہے! حیرت بھی ہوئی اور ہنسی بھی آئی۔
    اور کچھ ایسے حضرات بھی یاد آئے جو عالم و عاقل ہونے کے دعوے دار ہیں اور ان کی داڑھیاں اسی طرح ہیں اور ان سے عجیب و غریب غلطیاں صادر ہوتی ہیں۔
     
  7. ‏ستمبر 22، 2016 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,212
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    واقعتا انتہائی عجیب و غریب قسم کی باتیں ہیں ۔
    شاید اسی لیے لوگ داڑھیاں کتروانا یا منڈوانا شروع ہوگئے ہیں ، تاکہ ہماری ’ عقلیت ‘ کا پول نہ کھل جائے ۔
    حالانکہ بیوقوف کلین شیو بھی ہو تو اپنی حرکتوں سے پہچانا جاتا ہے ۔
    جبکہ عقلمندی نظر آجاتی ہے ، چاہے وہاں داڑھی کو دیوار چین بنا کر ہی کیوں نہ کھڑا کردیا جائے ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 22، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اس سے صحابہ کرام پر حرف آتا ہے
     
  9. ‏ستمبر 22، 2016 #9
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,295
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    کیا پیمانہ مقرر کیا هے ، وہ علامت جو ہماری پہچان هے ، شناخت هے ، ہمیں اوروں سے جدا کرتی هے ، جس کی هم عزت و توقیر کرتے ہیں ، ہمارے معاشرہ میں احترام کا درجہ رکهتی هے وہ ہی اس درجہ ذلیل ٹهہرائی جائے کہ بیوقوفی کی علامت هو!
    داڑهی اور داڑهی والوں سے نفرت اپنی جگہ لیکن ۔۔۔!!
     
  10. ‏ستمبر 22، 2016 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,869
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    کیا کسی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے داڑھی کے بال کانٹنا ثابت ہیں اور کسی حدیث میں جس کی داڈھی لمبی ہو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو احمق کہا ہو ؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. رحمانی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    751
  2. نعامہ سعیدی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    347
  3. عمر اثری
    جوابات:
    0
    مناظر:
    1,943
  4. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    471
  5. ادب دوست
    جوابات:
    16
    مناظر:
    736

اس صفحے کو مشتہر کریں