1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مسئلہ تحکیم میں کفر اکبر کا مرتکب ہونے کے لئےاستحلال، جہود و انکار کی قید آج کی ایجاد ہے؟

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از القول السدید, ‏فروری 28، 2013۔

  1. ‏فروری 28، 2013 #1
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔

    انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھتا ہے کہ جب مسلمان علماء دین کو چھوڑ کر اہل ظن و فلسفہ کے گرد جمع ہوتے ہیں تو پھر دین میں بگاڑ کی ایسی ایسی شکلیں پیدا ہوتی ہیں کہ جن کی اصلاح مشکلات سے لبریز ہوتی ہے۔ ایک طرف تو یہ فلسفی حضرات اپنے فن کی وجہ سے مسلمانوں کو پھانستے ہیں تو دوسری جانب علماء کے بارے حیلوں بہانوں سے ایسے شبہات اور اتہمات ، کبھی براہ راست اور کبھی دائیں بائیں سے ایسے حملے جاری رکھتے ہیں کہ معاشروں میں علماء کو نیچ ، لاعلم ، بکاو مال ، حکومتی ایجنٹ اور گمراہ شمار کروانے لگتے ہیں۔اس سے انکو دوہرا فائدہ ہوتا ہے ایک تو انکے نام کا خوب ڈنکا بجتا ہے کہ "واہ بھئی واہ اتنے بڑے عالم کو زیر کردیا ہمارے حضرت نے" تو دوسری جانب عام مسلمان ان چکمہ سازوں کے خوش لحان بیانات اور خوشنماء تحریروں سے پریشانی اور تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
    اس موضوع پر پھر کسی اور وقت گفتگو کریں گے، ابھی ہمارا مطلوب ایسے "خود ساختہ مجددین اور مصلحین" کے ایک ایسے شبہ کا رد پیش کرنا ہے کہ جس سےمسلمانوں کو الجھانے حتی المکان کوشش میں وہ دن رات مصروف ہیں۔

    وہ ہے کہ "تحکیم بغیر ما انزل اللہ" کے مسئلے میں استحلال قلبی، جہود و انکار کی قرآنی نصوص کو باطل قرار دیتے ہوئے ، ہر حکم بغیر ماانزل اللہ کے مرتکب کو کفر اکبر کا اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا اور ان شروط کو پیش کرنے اور ملحوظ خاطر رکھنے والوں پر طعن اور انکو ارجاء کی وجہ و بنیاد اور امام قرار دینا۔
    یاد رہے ، یہ شروط صحابہ و سلف صالحین اور آئمہ محدثین ومفسرین کے نزدیک تو ٹھیک تھیں اور وہ انکی موجودگی میں ہی کسی کے شریعت کے سوا فیصلے کو ہی کفر اکبر سے تعبیر کرتے تھے ، اور اگر کوئی شخص اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی قانون سے فیصلہ تو کرتا ہو مگر اس کام کے کرنے کو اپنے لئے حلال و جائز نہ مانتا ہواور نہ ہی وہ قانون الہیہ سے انکار ہو تو پھر یہ دائرہ اسلام سے اخراج کا باعث نہیں بنتا مگر ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ کہ جس کو بولنے ، جملوں سے گھائل کرنے اور تحریر میں تیر چلانے کا فن آتا ہے وہ سب پر بھاری، وہی رہنماء و مقتدا اور پیشوا۔۔

    اور اب لوگوں کو یہ باور کروانے کی ایک منظم مہم کا آغاز کیا جاچکا ہے کہ ان شروط کا وجود ہی نہیں ہے ، یہ "جدید ارجائی ایجاد" ہے۔۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ

    ہم ان شاء اللہ اس موضوع پر جلد ایک تفصیلی مضمون یہاں فورم پر پیش کریں گے ، مگر فی الحال ہم اس مسئلے پر اقوال سلف صالحین پر اکتفاء کرتے ہوئے ان نام نہاد مفکرین کی گمراہی کی کو یہاں واضح کریں گے۔ ان شاء اللہ


    تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے بارے سلف صالحین کی رائے

    اللہ کے فضل سے ہم نے سلف صالحین سے یہ بات ثابت کی کہ جو بھی شخص اگر اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا تو وہ گناہ گار تو ضرور ہوگا مگر دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔ ایسا شخص تب ہی دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا جب وہ اللہ کی شریعت کے علاوہ فیصلہ کرنے کو اپنے لئے جائز و حلال سمجھتا ہو یا اللہ کے قانون کا ہی انکاری ہو۔

    اللہ تمام مسلمانوں کو قرب قیامت اٹھنے والے رنگین و خوشنماء فتنوں سے محفوظ رکھے اور دین اسلام کو فہم سلف صالحین کے تحت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
  2. ‏فروری 28، 2013 #2
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    کفردون کفر والی روایت کی تحقیق بقلم : ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ

    تنظیم قاعدۃ الجہاد کے امیر ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
     
  3. ‏فروری 28، 2013 #3
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    سمیر بھائی!۔ اللہ کا حکم یا اللہ کی شریعت کو نافذ کرنا مطلب۔۔۔ خلافت! تو بھائی عجمی کو کس لئے رگیدا جارہا ہے۔۔۔
    یہ تو عرب میں ہوگی بھائی ہماری جان چھڑاو کسی طرح۔۔۔
    اُن خاندانوں کا سوچو جن کی بیٹیاں اپنے باپ، بھائی، کی نوکری نہ ہونے کی وجہ سے یا کاروبار ختم ہوجانے کی وجہ سے۔۔۔
    دو وقت کی روٹی سے محروم ہوکر جسم فروشی پر آمادہ ہوگئی ہیں۔۔۔ بارہ سال میں ایک مہذب معاشرہ۔۔۔ اپنی اخلاقی پستی میں ڈوب گیا۔۔۔
    اور یہ شریعت نافذ کررہے ہیں۔۔۔ زولفیں بڑھانے کے علاوہ انہوں نے کتنی شریعت پر عمل کرلیا؟؟؟۔۔۔
     
  4. ‏فروری 28، 2013 #4
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جب اللہ کا دین نافذ ہوجائے گا تو ان شاء اللہ یہ تمام آفات ختم ہوجائیں گی ۔
     
  5. ‏فروری 28، 2013 #5
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    لیکن یہ خرافات! اللہ کا دین نافذ کرنے کے لئے جو جہاد کیا جارہا ہے کیا اُس سے پہلے ہمارے معاشرے میں تھیں؟؟؟۔۔۔
    اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟؟؟۔۔۔ کیونکہ دوسری طرف آپ کی ہی بات سے دوسرا مطلب کیا نکل رہا ہے آپ سمجھ سکتے ہیں۔۔۔
    بات ساری یہ ہے کہ ابھی اپنی چار دیواری محفوظ ہے اس لئے بلند وبانگ دعوٰے کئے جارہے ہیں۔۔۔ اللہ تعالٰی شعور کی نعمت سے بھی مالا مال فرمائے۔
     
  6. ‏فروری 28، 2013 #6
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    بھائی سمیر خان ! اس بار بار کے کاپی پیسٹ کا جواب بالکل یہی ہے کہ علماء کے بار بار کے دیے گئے واضح جوابات ایسے حضرات کو "منہ کروائے" جاتے رہیں ۔

    آپ ان حضرات کے "پسندیدہ" تمام مسائل پر علماء کی موٹی موٹی تحاریر پاس رکھ لیں اور جب تک یہ کاپی پیسٹ چھوڑ کر سیدھی طرح بات نہیں کرتے ، ان کو یہی کافی ہے ان شاء اللہ۔

    جزاک اللہ خیرا۔
     
  7. ‏مارچ 01، 2013 #7
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔

    الحمد اللہ علی ذلک ۔
    اب بوسیدہ تلبیسات کا دور گزر گیا سمیر اینڈ بروسا میاں۔۔
    لمبے لمبے کاپی پیسٹ بھی اب رعب نہیں ڈال پائیں گے اللہ کے حکم سے۔
    سمیر میاں ہم نے آپ کے "پر" گن رکھے ہیں اور اللہ کے فضل سے جو آپ نے کاپی پیسٹ کرنا تھا ، ہم نے اس کا جواب پہلے ہی لکھ دیا تھا۔

    بعض لوگ اس روایت کو اس بنیاد پر ضعیف قرار دیتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طلحہ کا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
    شیخ سلیم الہلالی نے اس اثر کے صحیح ہونے میں ایک کتاب 'قرة العیون فی تصحیح تفسیر عبد اللہ بن عباس' کے نام سے تالیف کی ہے کہ جس میں اس اثر کے بارے شبہات کا کافی وشافی رد موجود ہے۔ بحمد اللہ


    جناب ذرا آپ ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیں گے کہ ایک ڈاکٹر کو علم حدیث میں کلام کی اجازت کس نے دی؟

    ذات دی۔۔۔۔۔۔ شتیراں نوں۔۔۔۔۔۔۔!!

    لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
     
  8. ‏مارچ 01، 2013 #8
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    سمیر نے کاپی پیسٹ کیا:
    لیں جی آ گئی بلی تھیلے سے باہر!!!
    پہلے پورا زور لگایا ایک ڈاکٹر نے کہ وہ ابن عباس سے مروی روایات کو ضعیف و باطل قرار دے اور ٹہرا سکے ۔۔۔ مگر وہ خود جانتا تھا کہ وہ کیا خیانت کر رہا ہے،۔۔ اس لئے اسے پتا تھا اس کا صحت روایت کے بارے دجل کام نہیں آئے گا، لہذا اپنے حواریوں کو مطمئن کرنے کے لئے اگلی شرلی چھوڑ دی۔

    واہ رہے واہ ۔۔۔ حاطب رضی اللہ عنہ کا معاملہ آیا تو اگر مگر اور اب مفسر قرآن ابن عباس کا معاملہ آیا تو پھر اگر مگر۔۔ ھھھ بہت خوب


    اور تو اور جناب اب تو ان حضرات سے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ قاطع خوارج ہی چھوٹ گئے ۔
    قدیم خوارج نے بھی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فہم تحکیم سے اختلاف کیا تھا اور آج کے جدید خوارج کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ اسغفراللہ
     
  9. ‏مارچ 01، 2013 #9
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    سمیر نے کاپی پیسٹ کیا:
    لیں جی روایت کی صحت پر تابڑ توڑ حملے کرنے والوں نے خود ہی تسلیم کر لیا کہ روایات کی صحت صحیح ہے ۔ اسی لئے تو کسی دوسرے بندوبست میں لگ گئ۔ :)
    جناب اللہ کی لعنت ہو جھوٹ بولنے والوں اور بہتان لگانے والوں پر!
    زرا یہ دعوی تو پیش کریں جو آپ نے "خودقرار دیئے" گئے "مرجئہ" کے نام لگا دیا ہے؟؟؟۔۔ :)
    بروسا جی ہیلپ ہم آوٹ پلیز!!!


    استغفر اللہ !
    اب نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ اپنا "کوا سفید" ثابت کرنے کہ چکر میں مفسر قرآن اور دیگر صحابہ میں خود ساختہ اختلاف کاپی پیسٹ کرنے لگے ۔۔ حیف صد حیف۔ کیا دور کی گمراہی ہے۔
    جناب سمیر خان صاحب!
    تمام صحابہ کے اقوال وہی ہیں جو اللہ کا حکم ہے:
    "ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولئک ہم الکافرون"
    " جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں سو یہ لوگ کافر ہیں"۔

    حضرت! اللہ سے ڈر جاو!اللہ سے ڈر جاو! اللہ سے ڈر جاو!
    جو آپ نے عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اقوال پیش کئے ہیں وہ آپ کے باطل افکار کے لئے آکسیجن نہیں بن سکتے!
    کیوں؟
    جناب ، اس میں تو کسی کو اختلاف ہی نہیں کہ حکم بغیر ما انزل اللہ کفر ہے۔ تمام صحابہ و تابعین ، تبع تابعین ، آئمہ محدثین و فقہا اور تو اور نہ آپکا اور نہ ہمارا۔۔
    جسے کام کو اللہ کفر کہے ، بھلا کس کی مجال ہے کہ وہ اسے کفر نہ کہے!
    میرے مدنی منے اصل مسئلہ یہاں مستعمل "لفظ کفر" کی تعبیر کا ہے۔
    اورمفسر قرآن ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حکم بغیر ما انزل اللہ کی تعبیر کفر دون کفر کی ہے۔
    اور ان کی یہ تفسیر صرف ہم ہی نہیں قائل بلکہ تمام صحابہ و سلف صالحین قائل ہیں ۔۔

    نہیں یقین تو لیں ، دیکھ لیں اور شرمندہ ہوں ۔ کیوں کہ آپ کی یہ تلبیس بھی رائیگاں گئی۔۔۔
    جن روایات کی صحت پر تم نے کیچڑ اچھالا تمام آئمہ محدثین و فقہا ہمیشہ اس سے اس آیت کی تفسیر و تشریح میں استدلال کرتے آئے ہیں۔ الحمد اللہ

    کس منہ کعبے جاو گے سمیر ۔۔
    شرم تم کو مگر نہیں آتی؟؟

    ہمارے اسلاف کا موقف تو تم نے دیکھ لیا سمیر اینڈ بروسا، اب تم زرا اپنے اسلاف کا موقف اور منہج لے آو اس آیت کی تفسیر کے بارے؟؟؟


    اگر اب بھی نفس مسئلہ نہ سلجھا اور عقل نے فہم سلف صالحین تسلیم نہ کیا تو پھر میں بری ہوں ایسی گمراہی سے۔ اللہ تمام اہل ایمان کو فکر خوارج چاہے قدیم ہو یا جدید، محفوظ فرمائے۔ آمین۔

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
     
  10. ‏مارچ 01، 2013 #10
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جب آدمی جواب دینے سے قاصر ہوجائے تو اسی طرح کرتا ہے۔ ہمیں ان کے ان اقوال پر کوئی پریشانی نہیں ہے۔کیونکہ ہمیں معلوم ہے جہاں حق بیان کیا جاتا ہے باطل ضرور اپنی ٹانگ اڑاتا ہے ۔ یہ آج سے تھوڑی ہورہا ہے یہ حق اور باطل کی معرکہ آرائی انبیاء علیہم السلام کی بعثت ہی سے شروع ہوگئی تھی۔اور جب تک اللہ چاہے گا اس وقت تک رہے گی۔ ہم نے تو باطل کے اوپر حق کی مار ماری ہے ۔ جبھی تو باطل پھڑپھڑا رہا ہے۔ ہم نے تو اپنا موقف باطل کے سامنے کھل کر بیان کردیا ہے ۔ اور درباری علماء کی تلبیسات کو بھی بیان کردیا ہے۔ اب یہ تو ہر شخص کی ذمہ داری ہے وہ عقل مندی کا مظاہرہ کرے ۔ اور حق کی جانب رجوع کرے ۔ کیونکہ کل اسے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے ۔ وہ رب العزت وہاں پر سب کچھ پوچھ لے گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں