1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مسائل کے حل کیلیے نماز میں تاخیر جائز ہے ؟؟

'نماز باجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 09، 2017۔

  1. ‏فروری 09، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا مسائل کے حل کیلیے نماز میں تاخیر جائز ہے

    مسائل حل کرنے کیلیے نماز میں تاخیر کا کیا حکم ہے؟

    Published Date: 2017-02-09

    الحمد للہ:

    اگر کوئی مسلمان دو افراد یا دو گروہوں کے مابین صلح کرنے کیلیے جائے اور نماز کا وقت ہو جائے، اور اسے اندیشہ ہو کہ اگر مجمع بکھر گیا تو پھر صلح ممکن نہیں ہو گی تو ایسی صورت میں پہلی جماعت سے نماز مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لہذا وہ بعد میں نماز با جماعت ادا کرے یا اگر جماعت نہ بھی ملے تو اکیلے ہی نماز ادا کر لے، یہ جماعت چھوڑنے یا جماعت کو قدرے مؤخر کرنے کیلیے عذر بن سکتا ہے۔

    چنانچہ بخاری: (2690) اور مسلم: (421) میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے کچھ افراد کی باہمی چپقلش تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ ان کے پاس صلح کروانے کیلیے گئے اور نماز کا وقت ہو گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس نہ آئے ، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کیلیے اذان کہہ دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی واپس نہ پہنچ پائے، تو بلال رضی اللہ عنہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بتلایا کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیلیے نہیں پہنچ سکے اور نماز کا وقت ہو گیا ہے تو کیا آپ لوگوں کی جماعت کرواؤ گے؟ تو انہوں نے کہا: اگر تم کہتے ہو تو پڑھا دیتا ہوں، تو اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جماعت کروائی۔۔۔ الخ

    اور اگر نماز کو آئندہ نماز یعنی ظہر کو عصر کے ساتھ یا مغرب کو عشا کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو بھی اس کی اجازت ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، دونوں نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں۔

    احادیث عذر کی صورت میں دو نمازوں کو حالتِ اقامت اور بغیر سفر کے بھی جمع کر کے ادا کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔

    ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں :

    "امام احمد نے صراحت کے ساتھ کام کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی ہے"

    اور ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ضرورت اور کام کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اسے عادت نہیں بنایا جا سکتا" انتہی

    "فتح الباری" از: بن رجب (3 /93)

    لیکن ایک نماز کو مؤخر کر کے ایسی نماز کے ساتھ ادا کرنا جس کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا جائز نہ ہو [مثلاً: عصر کو مغرب کے ساتھ جمع کرنا، اور فجر کو ظہر کے ساتھ جمع کرنا]تو ایسا عمل درست نہیں ہے۔

    بلکہ واجب یہی ہے کہ نماز کو اس کے وقت میں ہی ادا کیا جائے، چنانچہ وہ مسجد کی نماز با جماعت لوگوں میں صلح کی غرض سے چھوڑ دے اور پھر جن کی صلح کروا رہا ہے ان کے ساتھ با جماعت نماز ادا کر لے، تا کہ لوگوں کے بکھرنے سے پہلے صلح بھی ہو جائے اور نماز بھی با جماعت ادا ہو جائے۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/153812
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں