1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا موبائل فون کی انشورنس کروانا جائز ہے؟

'انشورنس' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 28، 2015۔

  1. ‏نومبر 28، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا موبائل فون کی انشورنس کروانا جائز ہے؟


    سوال:

    کیا اسلام میں موبائل فون کی انشورنس کروانا جائز ہے؟ اس کیلئے یہ کرنا ہوگا کہ میں انشورنس فراہم کرنے والی کمپنی کو ماہانہ اقساط دونگا، اور اگر موبائل خراب ہو جائے یا چوری ہو جائے تو کمپنی اسی جیسا ایک اور موبائل مجھے دے گی۔


    الحمد للہ:

    اس قسم کی انشورنس کو تجارتی انشورنس کہا جاتا ہے، اور اس انشورنس کی تمام صورتیں حرام ہیں، کیونکہ اس میں جوا، جہالت، اور سود ہے۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "انشورنس میں یہ ہوتا ہے کہ انسان کمپنی کو ماہانہ یا سالانہ کی بنیاد پر مخصوص رقم جمع کرواتا ہے، جس کے بدلے میں کمپنی بیمہ شدہ چیز کی ضامن ہوتی ہے۔

    یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بیمہ اور انشورنس میں اقساط بھرنے والا ہمیشہ ادائیگی ہی کرتا ہے، جبکہ کمپنی کو کبھی بالکل ادائیگی نہیں کرنی پڑتی اور کبھی ادائیگی کرنی پڑتی ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر حادثہ سے ہونے والا نقصان ادا شدہ اقساط سے زیادہ ہو تو کمپنی کو زیادہ ادائیگی کرنا پڑے گی، اور اگر نقصان کم ہوا ہے تو ادا شدہ اقساط سے کم ادائیگی کرنا پڑے گی، اور اگر کوئی نقصان ہوا ہی نہیں ہے تو ایسی صورت میں کمپنی کو فائدہ ہوگا، جبکہ اقساط بھرنے والے کو نقصان ہوگا۔

    کوئی بھی ایسا تجارتی معاہدہ جس میں انسان فائدہ اور نقصان کے درمیان ہی گھرا رہے تو اسے اللہ تعالی نے جوا کہہ کر قرآن مجید میں حرام قرار دیا ہے، اور اسے شراب و بتوں کی پرستش سے ملا کر بیان فرمایاہے۔

    اس لیے انشورنس اور بیمہ کی یہ قسم حرام ہوگی، اور میرے علم کے مطابق کوئی بھی انشورنس جو دھوکے پر مبنی ہو تو وہ حرام ہے، کیونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا)" انتہی

    "فتاوى علماء البلد الحرام" (صفحہ: 652)

    شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ سے استفسار کیا گیا:

    انشورنس اور بیمہ کا شرعی حکم کیا ہے؟ مثال کے طور پر ایک شخص ماہانہ یا سالانہ کی بنیاد پر بیمہ کمپنی کو اپنی گاڑی کی انشورنس کے بدلے میں مخصوص رقم جمع کرواتا ہے، کہ اگر گاڑی کیساتھ کوئی حادثہ ہو گیا تو کمپنی گاڑی صحیح کروانے کی ذمہ داری نبھائے گی، تو گاڑی کبھی خراب ہوتی ہے اور کبھی پورا سال ہی خراب نہیں ہوتی، لیکن انشورنس کروانے والے شخص کو پھر بھی سالانہ یا ماہانہ رقم ادا کرنا لازمی ہوتی ہے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "گاڑی وغیرہ کی انشورنس کروانا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں خدشات اور خطرات ہیں نیز اس میں لوگوں کا مال ناحق کھانے کا عنصر بھی شامل ہے، ہونا یہ چاہیے کہ انسان اللہ تعالی پر توکل رکھے، اور اللہ کے حکم سے کچھ ہو بھی جائے تو صبر کرے، اور جو کچھ بھی خرچہ آ رہا ہے اس برداشت کرے، چنانچہ تمام اخراجات اپنے ہی مال سے کرے، انشورنس کمپنی کی طرف توجہ نہ دے، اللہ تعالی ہر قسم کے امور میں مدد و اعانت کرنے والا ہے" انتہی


    "المنتقى من فتاوى الفوزان" (76 /4-5)

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/156877
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں