1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع تحاکم الی الطاغوت ہے ؟

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر سعد, ‏فروری 11، 2017۔

  1. ‏فروری 11، 2017 #1
    عمر سعد

    عمر سعد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 28، 2017
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    کیا موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع تحاکم الی الطاغوت ہے ؟
    الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ
    بعض لوگ سادہ لوح عوام کو یہ تأثر دیتے ہیں کہ جو شخص ان عدالتوں کی طرف رجوع کرتا ہے وہ طاغوت کا پجاری اور شریعت اسلامیہ سے خارج ہے (کیونکہ فیصلہ کروانا عبادت ہے جب اس نے غیر شرعی عدالت سے فیصلہ کروایا گویا اس نے اس کی عبادت کی )حالانکہ ہم اوپر واضح کر آئے ہیں کہ جب سلطہ والی (خود مختار ،اختیارات والی)شرعی عدالتیں موجود نہ ہوں تو اپنے جائز حقوق کے لئے غیر اسلامی عدالتوں سے فیصلہ کروانا نہ صرف جائز ودرست ہے بلکہ انبیاء و صالحین کا طریقہ بھی ہے (جیسا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دربارنجاشی میں پیش ہونا ) ہاں اگر معاشرہ میں بااختیار اسلامی شرعی عدالتیں موجود ہوں اور ان کے مدمقابل غیر شرعی اور غیر اسلامی عدالتیں قائم ہوں تومحض لوٹ کھسوٹ یا اپنے حق میں ناجائز فیصلہ لینے کے لئے اسلامی بااختیار عدالت کو چھوڑ کر ایسی عدالت میں جانا حرام ہے ۔جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساءمیں کیا ہے :
    ﴿ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاْ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوٓاْ أَن يَكۡفُرُواْ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيۡطَـٰنُ أَن يُضِلَّهُمۡ ضَلَـٰلاَۢ بَعِيدً۬ا ﴾
    (النساء:60)
    ’’ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجو گمان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے چاہتے یہ ہیں کہ آپس کے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا کہ اس کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے انہیں گمراہ کر دے بہت دور کا گمراہ کرنا۔‘‘
    آیت کا پس منظر و شان نزول :
    اس آیت میں طاغوت سے مراد کاہن یا کعب بن اشرف یہودی ہے جن سے کافر لوگ اپنے فیصلے کرواتے تھے جیساکہ مشہور تابعی امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک اسلام کے دعویدار آدمی (مسلمان ) اور یہودی کا آپس میں جھگڑاہو گیا ،یہودی نے کہا کہ میں تیرا فیصلہ تیرے دین والوں سے کرواتا ہوں یا کہا کہ تیرے نبی (محمد ﷺ) سےکرواتا ہوں کیونکہ وہ یہودی جانتا تھا کہ نبی ﷺفیصلہ وغیرہ رشوت نہیں لیتے اور برحق فیصلہ کرتےہیں اور فیصلہ کروانے میں ان دونوں کا تنازع ہوگیا پھر وہ دونوں جھینہ قبیلے کے ایک کاہن سے فیصلہ کروانے پر متفق ہو گئے تو تب یہ آیت نازل ہوئی ۔

    [تفسیر طبری ،ص:926،ج:3،رقم:9918]
    طاغوت سے مراد کعب بن اشرف یہودی:
    مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشادامام مجاہد قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :
    ’’ایک منافق اور ایک یہودی میں جھگڑا ہوگیا تومنافق آدمی نے کہا توہمارے ساتھ کعب بن اشرف کے پاس چل اور یہودی نے کہا :نہیں ،تو ہمارے ساتھ نبی ﷺ کے پاس چل ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‘‘

    [تفسیر طبری ،ص:927-928،ج:3،رقم:9923]
    اس آیت کے ترجمہ و پس منظر سے یہ بات معلوم ہوئی :
    • مدینہ میں دو عدالتیں موجود تھیں ،نبی ﷺ کی اور کعب بن اشرف یہودی اور کافر کاہن کی ۔
    • منافق آدمی نے اپنے مفادات کےلئے عدالت نبوی کا انکار کر کے کافروطاغوت کاہن یا یہودی سردار سے فیصلہ کروانا چاہا اسی بناء پر اللہ تعالیٰ ان کی مذمت فرمائی۔
    اور ہر صاحب شعور دین دارآدمی جانتا ہے کہ جو شخص نبوی عدالت کاانکار کر کے کفار کے فیصلہ پر راضی و خوش ہو اس کے کفر میں کیا شک ہو سکتا ہے ۔
    • اگر معاشرے میں بااختیار اسلامی شرعی عدالت نہ ہو اور بندہ کو اپنا جائز حق لینا مطلوب
    • اور اس کے لئے وہ کسی ایسی عدالت میں جاتا ہے تو وہ قطعا آیت بالاکا مصداق نہیں ۔
    اور اسی طرح بعض لوگوں کی یہ سوچ ہے :
    ﴿ أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَ﴾ ‌ (المائدۃ:50)
    اس کے تحت قانون یاسہ سے موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع کرنے والوں کو طاغوت کے پجاری قرار دیدیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس آیت کی تفسیر بھی سلف صالحین اور معتبر مفسرین سے بیان کردی جائے تاکہ آیت کا مدعاو منشاء کما حقہ واضح ہوجائے جہاں تک قانون یاسہ یا الیاسق کا تعلق ہے اس پر تفصیلی بحث ہم سابقہ صفحات میں کر آئے ہیں اور جہاں تک اس آیت کے منشاءومفہوم کا تعلق ہے تواس کے بارے میں امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃاللہ (المتوفی :310ھ)رقمطراز ہیں :
    ’’یہ یہود جنہوں نے اپنے مقدمے میں آپ ﷺ کو حاکم بنایا اور آپ ﷺنے انکے درمیان فیصلہ کردیا پھر یہ آپ ﷺ کے فیصلے سے راضی نہیں ہوئے توکیا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یعنی بت پرستوں اور مشرکوں کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ انکے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے اور اس میں وہی فیصلہ مذکور ہے جو آپ ﷺ نے انکے درمیان کیا تھا اور یہی حق ہے اور اس کے خلاف کوئی اور فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے ۔
    پھر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو جنہوں نے اپنے اور اپنے دیگر یہودیوں کے خلاف نبیﷺ کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ان کو ڈانٹتے ہوئے اور جہالت عملی طالب قرار دیتے ہوئے ایسے یہودیوں سے فرمایا جوشخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہو اور اس کی ربوبیت پر یقین رکھتا ہواس کے نزدیک اللہ کے حکم اور فیصلے سے بہتر اور کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اور (مفسرقرآن )امام مجاہد نے بھی ہماری اس تفسیر کے مطابق ہی فرمایا ہے۔‘

    [تفسیر طبری ،ص:577،ج:4،تحت ھذاالآیۃ مطبوعہ دار الحدیث القاھرۃ]
    امام مجاہد اور امام ابن جریر طبری رحمہما اللہ کی تفسیر سے واضح ہوگیا ہےکہ یہودنے نبیﷺ سے فیصلہ کروایا جب وہ فیصلہ انکے مفادات کے خلاف آیا توانہوں نے انکار کر دیا جن پر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا :
    ﴿ أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَ‌ ﴾ (المائدۃ:50)
    ’’کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ‘‘
    معلوم ہوا کہ جو آدمی کسی بااختیار شرعی عدالت سے فیصلہ لینےکے بعد اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس شرعی فیصلہ کی خواہش رکھتا ہے ایسا آدمی یقینا جاہلیت کا دلدادہ ہے اور شریعت اسلامیہ کا باغی ہے ۔
    مفادات کےلئے کرتا ہے تو ایسا شخص کافر و مرتد نہیں بلکہ فاسق ہے اور اس کے فسق کے درجات فیصلہ اور اسباب فیصلہ کے پیش نظر مختلف ہوں گے !!
    لنک:
    http://alfitan.com/

    [​IMG]
    شیئر کیجئے​
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 07، 2017 #2
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    اور اس فسق کو اختیارکرنے کے لیے یہ علماء سو ایڑی چوٹ کا زور لگارہے ہیں ۔
     
  3. ‏مئی 08، 2017 #3
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,923
    موصول شکریہ جات:
    1,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    مصنف الشیخ ذکاء اللہ السندھی سے کہیں کہ- پہلے وہ یہ ثابت کریں کہ حضرت یوسف علیہ سلام اور نبی کریم کے اصحاب کرام رضوان الله اجمعین نے جن عدالتوں سے رجوع کیا تھا وہ اس وقت کے زمانے اور شریعتوں کے لحاظ سے غیر شرعی تھیں؟؟- پھر آگے بات ہوگی-
     
  4. ‏جولائی 14، 2017 #4
    فرقان الدین احمد

    فرقان الدین احمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2017
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    اسلام و علیکم؛ حکومتی نظام کے متعلق ایک مختصر مگر امید ہے ایک جامع مضمون۔ مطالعہ کے بعد آرا٫ سے ضرور آگاہ فرمائیے گا۔ آج چونکہ ہر طاغوتی نظام مثلاً معاشی؛ عدالتی؛ حکومتی وغیرہ کے حق میں دلائل اتنی کثرت سے موجود ہوتے ہیں کہ چاہے یہ دلائل کتنے ہی آسانی سے ان سے زیادہ اور جامع نقلی و عقلی دلائل سے رد کیے جا سکیں مگر لوگوں کی نفس پرستی کی وجہ سے معاشرہ میں ان کا چرچا ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آج بھی نبیﷺ کی عدالت یعنی مفتیان اسلام کے عدالتیں موجود ہیں مگر نہایت آسانی سے با اختیار کی شرط لگا کر اس کو بے اصل بنا دیا گیا۔
    رسول اللہ ﷺ کی عدالت پولیس کے محکمے کی وجہ سے با اختیار نہیں بلکہ نفاق سے پاک ہونے کی وجہ سے با اختیار تھی؛ ورنہ اگر وہ اس معنی میں با اختیار ہوتی جو مولانا صاحب کی تحریر سے مراد ہے تو رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ سے اختلاف کے بعد محض قرآن کی آیت نہیں بلکہ جیل کی سزا بھی نافذ ہو تی۔
    یہ آج بھی ہمارا انفرادی فیصلہ ہے کہ ہم نے طاغوتی عدالت سے حق لینا ہے یا دونوں فریق کسی مفتی سے اپنے مسئلہ کا فیصلہ کرا کر پولیس کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے خوف کی وجہ سے اپنے آپ پر نافذ کرے۔
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  5. ‏جولائی 16، 2017 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    آج کوئی مفتی ڈیڑھ ہشیار بنتے ہوئے اپنی عدالت لگاتا ہے ، تو اس مفتی کی خوب چھترول کرکے اس کو قید میں ڈالنا چاہئے!
    اور ایسے ڈیڑھ ہشیار مفتی کے حمایتوں کو بھی چھترول کا بھرپور حصہ دیا جانا چاہئے!
    کوئی عالم کوئی مفتی اپنے کسی فیصلہ پر عمل نہیں کروا سکتا! اگر فریقین کسی بات پر صلح کر لیں تو یہ معاملہ الگ ہے، یہ علماء اور مفتی صلح تو کروا سکتے ہیں، لیکن کوئی سزا دینے کا حق نہیں رکھتے!
     
  6. ‏جولائی 17، 2017 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,220
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پھر اصل نکتہ ’ صلح ، اصطلاح اور اصلاح ‘ ہی رکھیں ، اگر کسی علاقے کے لوگ کسی نظام کے پابند ہو کر جرم کی تحقیق و تفتیش اور سزاؤں پر اتفاق کرلیں ، تو شرعی اعتبار سے یہ معاملہ درست ہوگا ، اور وہاں کی حکومت کو بھی اس کام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ، یا کم از کم رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔
     
  7. ‏جولائی 17، 2017 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @خضر حیات بھائی میں بلکل متفق ہوں!
    میں نے ایک مراسلہ میں لکھا بھی تھا کہ ہمارے مدارس کے تعلیمی نظام میں اس طرح کی تبدیلی ہونی چاہئے کہ علماء معاشرے میں دیگر امور بھی ادا کر سکیں!
    از راہ معلومات عرض ہےکہ مجھے پورے یورپ کا تو نہیں معلوم، لیکن جرمنی میں چرچ یہاں کے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے، اور بہت سے گھریلوں جھگڑوں یا جھوٹے جرم وغیرہ میں ان کی تربیت کے باقاعدہ لیکچرز اور پروگرامز وغیرہ بھی کرتے ہیں، اور بطور سزا اس طرح کے جرائم ، جیسے نوجوانوں کے جرائم وغیرہ میں بطور سزا اس تربیتی کورس میں حصہ لینا پڑتا ہے، یا چرچ کے اداروں میں کوئی سماجی فلاحی کام بھی کرنا پڑتا ہے!
    اور دیکھا جائے تو یہاں چرچ کا کام اسکول ، کنڈرگارٹن اور اس طرح کے کام ہی رہ گیا ہے!
    اور چرچ کو چندہ جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ہر ایک کرسچن کی تنخواہ سے آٹھ فیصد چرچ کا ٹیکس الگ سے کاٹ لیا جاتا ہے!
     
  8. ‏جولائی 17، 2017 #8
    فرقان الدین احمد

    فرقان الدین احمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2017
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    اس فورم کے ایک سینئر رکن کے دینی طبقہ کے بارے میں خیالات پڑھ کر افسوس سے زیادہ پریشانی ہے کہ اگر اس دینی فورم پر موجود بظاہر دینی ذہن کے لوگ بھی صرف ایسے خیالات ہی نہیں بلکہ اس کے اظہار کو بھی درست سمجھتے ہیں تو انا للہ و انا الیہ راجعون۔
     
  9. ‏جولائی 17، 2017 #9
    فرقان الدین احمد

    فرقان الدین احمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2017
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    "اگر کسی علاقے کے لوگ کسی نظام کے پابند ہو کر جرم کی تحقیق و تفتیش اور سزاؤں پر اتفاق کرلیں ، تو شرعی اعتبار سے یہ معاملہ درست ہوگا"؛ جناب شریعت کے اس اصول کی دلیل بھی بیان فرما دیں۔ میرے مطالعہ کے مطابق تو اسلام "کسی نظام" نہیں بلکہ صرف اپنے نظام کو ہی حق گرادنتا ہے اور اس کے علاوہ سب نظاموں کو طاغوت ٹہراتا ہے۔
     
  10. ‏جولائی 18، 2017 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,220
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی میری مراد یہی ہے کہ کوئی بھی ایسا نظام جس میں شرعی احکامات یا اسلامی نظام کی مخالفت نہ ہو ۔
    شریعت سے متصاد نظام میری مراد ہرگز نہیں ۔
    مثال کے طور پر شریعت میں چوری پر ہاتھ کانٹا ، کوڑے ، رجم وغیرہ سزا ، اگر ان اسلامی سزاؤں کے نفاذ پر کوئی اہل علاقہ اتفاق کرلیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں