1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مکان کے لیے جمع کیے گئے پیسوں پر زکوٰۃ دینا ہو گی

'نصاب' میں موضوعات آغاز کردہ از عمیر, ‏جون 15، 2016۔

  1. ‏جون 15، 2016 #1
    عمیر

    عمیر تکنیکی ذمہ دار رکن انتظامیہ
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    220
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    199

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

    اگر کوئی شخص کرایہ کے مکان میں رہتا ہے اور خاص اپنا مکان بنانے کے لیے پیسے جمع کرتا ہے، ہر سال وہ کچھ پیسے جمع کرتا ہے جو کہ نصاب کی رقم سے زائد ہو جاتے ہیں. تو کیا ان پیسوں پر اسے زکوٰۃ دینا ہو گی؟
    ساتھ ہی اگر اُنہیں جمع کئے گئے پیسوں میں سے اُس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی قرض دے رکھا ہو تو کیا اس قرضے والی رقم پر بھی زکوٰۃ دینا ہو گی؟
     
  2. ‏جون 15، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    مکان خریدنےکے لئے رکھی گئی رقم پرزکوة
    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 August 2013 12:40 PM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ١۔سعودی عرب سے پیسے بھیجے کہ میرے لیے مکان خرید لیا جاے، کیونکہ پاکستان میں میرا مکا ن نہیں ہے، تاکہ چند ما ہ بعد واپس آ کر رہائش رکھ سکوں۔ سال ختم ہونے کے باوجود مکان نہ خریدا جا سکا،کیا اس رقم پر زکوة ہے، یہ رقم ابھی مکان خریدنے کیلیے مخصوص ہے۔؟
    ٢۔ صاحب نصاب درمیان سال رقم میں اضافہ کر لیتا ہے۔ اس رقم پر زکوة کا کیا حکم ہے۔؟
    ٣۔ زکوات کا حقدار اگر عمرہ کی خواہش کرے تو اسے زکوة سے عمرہ کروایا جا سکتا ہے۔؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    ١۔جب تک آپ مکان خرید نہیں لیتے ،اس وقت تک آپ کو ہر سال اس رقم کی زکوة ادا کرنی ہو گی۔
    ۲۔صاحب نصاب کا مال اگر درمیان سال میں زیادہ ہو جاتا ،تو جب وہ زکوة نکالے گا ،اس وقت مجموعی مال کو شمار کر کے زکوة دے گا،خواہ وہ سال کے شروع میں حاصل ہوا ہے یا درمیان میں یا آخر میں۔زکوة دیتے وقت سارے مال کو شمار کیا جائے۔
    ۳۔زکوة کے مستحق کو آپ زکوة دے دیں ،اب وہ اس کی ملکیت ہے ،وہ اسے جس طرح چاہے خرچ کرے،اسے اختیار ہے۔
    ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب
    محدث فتوی

    فتوی کمیٹی
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 15، 2016 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,295
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاکم اللہ خیرا
     
  4. ‏جون 15، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    قرض میں دیئے گئے مال پر بھی زکٰوۃ ادا کرنا ہوگی ، اگر قرض میں دیا گیا مال واپس ملنے کی قوی امید ہو
    اور اگر واپس ملنا مشکل و ناممکن نظر آئے تو جب تک واپس نہ مل جائے زکاۃ واجب نہیں ، ایسا قرض جب واپس ملے تو ایک سال کی زکاۃ ادا کردی جائے
    زكاة الدين
    س ـ لي دين عند أحد الإخوة فهل تلزمني زكاته؟
    ج ـ إذا كان الدَّين الذي لك على موسرين باذلين متى طلبته أعطوك حقك، فعليك أن تزكيه، كلما حال عليه الحول، كأنه عندك وهو عندهم كالأمانة، أم أن كان من عليه الدين معسراً لا يستطيع أداءه لك، أو كان غير معسر لكنه يماطلك ولا تستطيع أخذه منه، فالصحيح من أقوال العلماء، أنه لا يلزمك أداء الزكاة عنه، حتى تقبضه من هذا المماطل أو المعسر، فإذا قبضته استقبلت به حولاً وأديت الزكاة بعد تمام الحول من قبضك له، وإن أديت الزكاة عن سنة واحدة من السنوات السابقة التي عند المعسر أو المماطل فلا بأس، قال هذا بعض أهل العلم ولكن لا يلزمك إلا في المستقبل متى قبضت المال من المعسر أو المماطل، واستقبلت به حولاً، ودار عليه الحول لزمتك الزكاة هذا هو المختار.
    الشيخ ابن باز رحمہ اللہ
    فتاوى إسلامية
    لأصحاب الفضيلة العلماء
    سماحة الشيخ: عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ)
    فضيلة الشيخ: محمد بن صالح بن محمد العثيمين (المتوفى: 1421هـ)
    فضيلة الشيخ: عبد الله بن عبد الرحمن الجبرين (المتوفى: 1430هـ)
    إضافة إلى اللجنة الدائمة، وقرارات المجمع الفقهي
    المؤلف (جمع وترتيب) : محمد بن عبد العزيز بن عبد الله المسند
    الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 15، 2016 #5
    عمیر

    عمیر تکنیکی ذمہ دار رکن انتظامیہ
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    220
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    199

    جزاکم اللہ خیرا اسحاق بھائی
     
  6. ‏جون 15، 2016 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    زكاة المال المقرض
    س ـ أقرضت شخصاً مبلغاً من المال، وحال عليه الحول، ولم يسد فهل أدفع الزكاة أم أنتظر حتى يسدد، ثم أخرج عن سنة عند القبض؟!
    د ـ متى كان الدين أو القرض عند شخص غني موسر تقدر على أخذه منه متى أردت فإن فيه الزكاة كل عام، لأنه بمنزلة الأمانة، وسواء تركته عنده للتوسعة عليه أو لعدم حاجتك إليه، أما إن كان الدين أو القرض عند معسر أو مماطل أو عاجز عن الوفاء فإن المختار والراجح أنه لا زكاة فيه حتى تقبضه، فإذا قبضته فأخرج زكاته عن سنة واحدة. ولو بقي عند الغريم عدة سنوات والله أعلم.
    الشيخ ابن جبرين

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ترجمہ :
    قرض پر دیئے ہوئے مال پر زکوٰۃ
    سوال :
    میں نے ایک شخص کو کچھ مال قرض دیا ہوا ہے ،جس پر ایک سال گزر چکا ہے ،اور اس نے ابھ تک واپس نہیں کیا، تو کیا میں اس مال کی زکوٰۃ ادا کروں ،یا اسکی واپسی کا انتظار کروں ، اور پھر قبضہ میں لینے کے بعد ایک سال کی زکوٰۃ ادا کردوں ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب :
    اگر قرض کسی دولت مند اور خوش حال انسان کے پاس ہو ،اور صورت ایسی ہو کہ آپ جب چاہیں اس سے واپس لے لیں ، تو اس صورت میں ہر سال زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا ،کیونکہ اس طرح گویا مال اس کے پاس امانت ہے ،خواہ آپ نے اس کی سہولت کیلئے اس کے پاس مال چھوڑ رکھا ہو ، یا ابھی آپ کو اس مال کی ضرورت ہی نہ ہو ،
    اور اگرقرض کسی تنگ دست ،یا ٹال مٹول کرنے والے ، یا ادا نہ کرسکنے والے کے پاس ہو ، تو مختار قول اور راجح یہی ہے کہ اس مال میں اس وقت تک زکاۃ نہیں جب تک آپ اسے واپس قبضہ میں نہیں لے لیتے ،
    اور جب آپ واپس قبضہ میں لے لیں تو اس مال پر ایک سال کی زکوٰۃ اادا کرنا ہوگی ،اگر وہ مقروض کے پاس کئی سال رہا ہو ،
    فضيلة الشيخ العلامة عبدالله بن عبدالرحمن ابن جبرين
    فتاوی اسلامیہ جلد ۲
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 19، 2016 #7
    محمد عارف

    محمد عارف مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2016
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    اسلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    ایک شخص کے تین گھر ھیں جو کرایے پر ھیں. یہ شخص کرایے پر زکوۃ دے گا یا گھر کی قیمت پر... مزید یہ کہ خالی پلاٹ پر زکوۃ کا کیا حکم ھے.
    جزاک اللہ خیرا

    Sent from my ZUK Z1 using Tapatalk
     
  8. ‏جون 19، 2016 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,220
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کرائے کے مکان پر زکوۃ اس کی قیمت پر نہیں بلکہ اس سے حاصل کردہ آمدن پر ہوتی ہے ،بشرطیکہ وہ رقم نصاب کو پہنچ جائے اور اسے استعمال میں لائے بغیر اس پر ایک سال گزر جائے۔
    یہ پلاٹ اگر تجارتی مقصد سے خرید رکھا ہے اور اس کی مارکیٹ قیمت زکوۃ کے نصاب تک پہنچ جاتی ہے تو ہر سال اس کی متوقع قیمت کے حساب سے اڑھائی فیصد زکوۃ دینا ہو گی۔ اور اگر رہنے کے لئے خریدا ہے تو پر اس پر کوئی زکوۃ نہیں ہے۔ کیونکہ شریعت میں گھر پر زکوۃ نہیں ہے۔
    کرائے کے مکان کی زکاۃ
    مزید تفصیل یہاں دیکھیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں