1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کے مال میں برکت ڈالی تھی؟

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از Talha Salafi, ‏فروری 08، 2019۔

  1. ‏فروری 08، 2019 #1
    Talha Salafi

    Talha Salafi مبتدی
    جگہ:
    مرادآباد، یو پی، انڈیا،
    شمولیت:
    ‏ستمبر 19، 2018
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کے مال میں برکت ڈالی تھی؟
    ===================================
    تحقیق: طلحة السلفي
    ________________

    آئیے ہم بریلویوں کی پیش کردہ اس عقیدے سے متعلق دلیل کا جائزہ لیتے ہیں، چنانچہ امام أبو بكر البزار (المتوفى ٢٩٤ ھ ) نے کہا:

    حدثنا الفضل بن سهل ، ومحمد بن عبد الرحيم ، قالا : نا الحسن بن موسى قال : نا سعيد بن زيد ، عن عمرو بن دينار ، عن سالم ، عن أبيه ، عن عمر قال : غلا السعر بالمدينة فاشتد الجهد فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " اصبروا وأبشروا ، فإني قد باركت على صاعكم ومدكم ،

    "سیدنا عمر بن خطاب رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ سے ارشاد فرمایا: تم صبر سے کام لو اور خوش ہو جاؤ، کہ میں نے تمہارے صاع اور مد میں برکت ڈال دی ہے،
    _________________________________________
    (مسند البزار ۱/۲۴۰ حدیث ۱۲۷ سنده ضعيف )
    _________________________________________

    اِس روایت کا بُنیادی راوی جمہور محدثین کے نزدیک"ضعیف" ہے،
    __________________________________________

    عمرو بن دينار آل زبير

    1 أبو أحمد الحاكم ليس بالقوي عندهم
    2 أبو حاتم الرازي ضعيف، روى عن سالم أحاديث منكرة، ورواياته منكرة
    3 أبو حاتم بن حبان البستي كان ممن ينفرد بالموضوعات عن الأثبات، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب
    4 أبو دواد السجستاني ليس بشيء
    5 أبو زرعة الرازي واهي الحديث، ومرة: لم يكن عندي ممن يحفظ الحديث
    6 أبو عيسى الترمذي ليس بالقوي في الحديث وقد تفرد بأحاديث
    7 أحمد بن حنبل ضعيف، منكر الحديث
    8 أحمد بن شعيب النسائي ليس بثقة ومرة: ضعيف
    9 أحمد بن صالح الجيلي يكتب حديثه، وليس بالقوي
    10 إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني ضعيف
    11 إسماعيل بن علية لا يحفظ الحديث، ومرة: ضعيف الحديث
    12 ابن حجر العسقلاني ضعيف
    13 الدارقطني ضعيف قليل الضبط، ومرة: ضعيف الحديث لا يحتج به
    14 الذهبي ضعفوه
    15 زكريا بن يحيى الساجي ضعيف، يحدث عن سالم المناكير
    16 علي بن الجنيد الرازي شبه المتروك
    17 عمرو بن علي الفلاس ضعيف الحديث، روى عن سالم أحاديث منكرة
    18 محمد بن إسماعيل البخاري فيه نظر، ومرة: لا يتابع على حديثه
    19 محمد بن عمار الموصلي ضعيف
    20 يحيى بن معين ليس بشيء،
    ________________________________________
    اِس تحقیق سے معلوم ھوا کہ کے نبی کریم نے اہل مدینہ کے کسی مال میں برکت نہیں ڈالی تھی
    _________________________________________
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں