1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جادو ہوا تھا ؟

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 11، 2019۔

  1. ‏جولائی 11، 2019 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,952
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    FB_IMG_1562865774665.jpg


    کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جادو ہوا تھا ؟


    ...پہلا حصہ ....

    ازقلم ابوبکر قدوسی

    ...
    اپنے ان بھائیوں کی لیے جو اس حوالے سے" مشکوک " ہیں یہ مضمون لازمی share کیجئے
    ...

    حیرت اس امر کی ہے کہ حدیث کے انکار کے شوق میں یہ دھڑا دھڑ قرآن کا انکار کرتے ہیں ، اور اس پر ان کا شعور اور فہم اس قدر کوتاہ قامت ہے کہ اس انکار کا ادراک بھی نہیں - ایک طبقہ ہے کہ جو جادو کا سرے سے انکار کرتا ہے ، دوسرا وہ طبقہ ہے کہ جو جادو کو تو تسلیم کرتا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کے صدور کو نہیں مانتا - ان کا خیال ہے کہ یہ شان نبوت کے خلاف ہے -

    اس کے یہ لوگ علاوہ ایک نکتہ شدو مد سے بیان کرتے ہیں کہ :
    " جب نبی کریم پر جادو ہو گیا تو وحی کا کیا اعتبار رہا ؟ "


    ان کے یہ اعتراضات تارعنکبوت سے بھی نازک ہیں - اور اگر ذرا غور کر لیا جائے اور خود ان کے اعتراضات کو جب گہری نظر سے دیکھیں تو اکثر قران پر جا وارد ہوتے ہیں -

    اس سے پہلے کہ ہم ان کے اعتراضات کا جواب دیں ، ہمارے بھی کچھ سوال ہیں -

    دیکھئے آپ کا بنیادی نکتہ یہی ہے نا کہ اگر جادو کے سبب نبی کریم کی ذہنی حالت میں فرق پڑا تو کیسے ممکن ہے کہ آپ سے وحی کے نقل میں غلطی نہ ہوئی ہو -

    چلئے جادو کے انکار میں کچھ دیر کے لیے ہم بھی آپ کے ہم نوا ہو جاتے ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پھر وحی محفوظ تصور کی جائے گی ؟

    کیا آپ میں سے کسی نے جبرائیل کو آسمان سے اترتے دیکھا ؟

    کیا ان کے ہاتھ میں کوئی کتاب تھی ، کچھ الواح ، کوئی اوراق ؟

    اب یہ نہ کہیے گا کہ قران میں اللہ نے خود قران کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے ، کیونکہ دنیا بھر کا قاعدہ ہے کہ فرد کی گواہی فرد کے حق میں قبول نہیں ہوتی .... میں کہوں کہ جی میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ، یا مجھ سے غلطی کا صدور ممکن نہیں تو آپ میری بات مان لیں گے ؟

    بھلے آپ لاکھ ضد کریں ، بات ان افراد کی امانت و دیانت پر ہی آ کر ٹہرے گی کہ جن نے نبی کریم سے قرآن سنا ، سینوں میں ، الواح پر . ہڈیوں اور چمڑوں پر لکھا اور محفوظ کیا .....

    اللہ نے قران میں جو حفاظت کا وعدہ کیا اسے انہی انسانوں کے ہاتھوں ممکن بنایا کہ جن کی جادو کی روایات کو آپ نہیں مانتے -
    اب آتے ہیں اس کہ جادو جو ہو اس کی صورت کیا تھی ؟

    نبی کریم پر جادو کی محض ایک صورت اثر انداز ہوئی کہ آپ کو کبھی کبھی اشتباہ ہو جاتا تھا کہ آپ فلاں کام کر چکے ہیں حالانکہ نہیں کیا ہوتا تھا -

    حدیث میں الفاظ ہیں :

    ((حتی انہ لیخیل الیہ انہ فعل الشئی وما فعلہ))

    ’’یعنی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوتا کہ میں نے فلاں کام کر لیا ہے اور درحقیقت کیا نہ ہوتا۔‘‘

    کیا کوئی انصاف کرنے والا ان الفاظ کو عقل کی کمی یا عقل و فہم پر اثرات پر محمول کر سکتا ہے .... اگر کوئی ایسا کرنے پر بضد ہو گا تو ہم بھی حق بجانب ہوں گے کہ اس کے دماغی علاج کا مطالبہ کر سکیں -

    یہ الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس جادو کا محض حافظے پر اثر پڑا تھا - یہ محض بھول چوک کا معاملہ تھا ، جس سے آپ متاثر ہوتے تھے ، یقینا الجھن بھی محسوس کرتے تھے ، ورنہ علاج کی کیا ضرورت پڑتی ؟ -

    اور یہاں بھول چوک کی وضاحت بھی کرتے جائیں کہ یہ ایک خالص انسانی وصف ہے ، اور نبی کریم کی بشریت پر دلالت کرتا ہے - جیسے چند واقعات میں آپ کی بھول کا ذکر ہے ،

    مثلاً نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ رکعت بھول گئے تو فرمایا :

    ’’ انسیٰ کما تنسون‘‘

    یعنی جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔‘‘

    جادو میں محض یہ ہوا کہ یہ خالص انسانی وصف ترقی کر کے بیماری کی صورت اختیار کر گیا - بیماری چونکہ روحانی تھی سو علاج بھی روحانی نازل ہوا -

    اب ذرا یھاں رک کے اس جادو کی مفصل کیفیت اور علاج کا تذکرہ بھی پڑھ لیجئے

    بخاری کی حدیث ہے :

    ''عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بنی زریق کے ایک شخص (یہودی )لبید بن الاعصم نے نبی کریم ﷺ پر جادو کردیا آپ ﷺکا یہ حال ہوگیا کہ آپ ﷺ کو خیال ہوتا جیسے ایک کام کررہے ہیں حالانکہ وہ کام آپ ﷺنے نہیں کیا ہوتاایک دن یا ایک رات ایسا ہوا کہ آپ ﷺ میرے پاس تھے مگر میری طرف متوجہ نہ تھے بس دعا کررہے تھے اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا عائشہ میں اللہ تعالیٰ سے جو بات دریافت کررہا تھا وہ اس نے (اپنے فضل سے ) مجھ کو بتلادی میرے پاس دوفرشتے آئے(جبریل اور میکائیل) ایک تو میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے قدموں کے پاس اب ایک دوسرے سے پوچھنے لگا یہ تو کہو ان صاحب ( محمد ﷺ) کوکیا بیماری ہوگئی اس نے جواب دیا ان پر جادو ہوا ہے پہلے فرشتے نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے دوسرے نے کہا لبیدبن الاعصم نے۔۔۔۔۔۔۔۔''۔

    فتح الباری میں اس جادو کی کیفیت مزید کھول کے بیان کی گئی ہے۔

    ((قد قال بعض الناس ان المراد بالحدیث انہ کان صلی اللہ علیہ وسلم یخیل انہ وطئی زوجاتہ ولم یکن وطۂن وہذا کثیراً یا یقع یخیلہ فی الانسان فی المنام فلا یبعدان یخیل الیہ فی الیقظۃ قلت وہذا قل ورد صریحاً فی روایۃ ابن عیینۃ فی الباب الذی یلی ہذا ولفظہ حتی کان یری انہ یاتی النسآء ولا یاتیہن وفی روایۃ الحمیدی انہ یاتی اہلہ ولا یاتیہم ۔)) ( فتح الباری باب الجزء ۲۴ ،ص۴۳۵)

    ’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ حدیث میں مراد یہ ہے کہ آپ کو اپنی بیویوں کے پاس جانے کا خیال آتا مگر آئے نہ ہوتے اور ایسا خیال خواب میں بہت آتا ہے پس بیداری میں بھی کوئی بعید نہیں میں( صاحب فتح الباری ابن ہجر ) کہتا ہوں کہ جو کچھ بعض نے حدیث کی مراد بیان کی ہے یہ بعض روایتوں میں صریحاً آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کے پاس آنے کا خیال آتا مگر آئے نہ ہوتے۔‘‘

    اور فتح الباری کے اسی صفحہ میں ہے!

    (( وفی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما عند ابن سعد مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم واخذ عن النساء والطعام والشراب فہبط علیہ ملکان)) ( الحدیث)

    ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور عورتوں اور کھانے پینے سے روکے گئے پس آپ پر دو فرشتے اترے( جنہوں نے جادو کرنے والے کا نام اور جن اشیاء میں جادو کیا اور جہاں ان کو دفن کیا سب بتلا دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اشیاء کو نکلوایا خدا نے شفاد ے دی۔)

    اسلام کی تاریخ میں معتزلہ وہ پہلا گروہ تھا جس نے جادو کا انکار کیا اور بنا کسی اصول کے ان احادیث کو ماننے سے انکار کر دیا .... لیکن نہیں ایسے نہیں ، ان کا انکار کا ایک اصول تھا اور وہ اصول ان کی عقل تھا ..جی ہاں عقل کے ان غلاموں کی عقل کا بیڑا تب بھی غرق ہوا تھا جب یہ قران کو مخلوق کہنے پر اس درجہ مصر ہووے کہ ظلم و ستم کی تاریخ رقم کر دی - لیکن عیار عقل سو بھیس بھی بدل لے ، مقدر میں پاپوش نگر کی سیر ہی ہوتی ہے ، سو آج ان کا مقام ان کی عقل سمیت تاریخ کے قبرستان کا حصہ ہے جہاں قبر پر تختی بھی نہیں لگی ہوئی -

    ان کے بعد اب ایک جدید گروہ اس انکار کو لے کر اٹھا ہے ، اس کی دلیل بھی وہی عقل کی غلامی ہے ، دلیل سے بے گانے ان افراد کی جگہ بھی آپ دیکھئے گا تاریخ کا وہی قبرستان ہے جسے آپ سہولت کے لیے "گورا قبرستان " بھی کہہ سکتے ہیں - اس لیے کہ ان کی سوچ و فکر کے سوتے گورے محقیقن کے دم قدم سے آباد ہیں -

    حدیث کو چھوڑیے قران جابجا ان کے اس عقیدے کا انکار کرتا ہے ....
    موسی علیہ السلام فرعون کے دربار میں جاتے ہیں مقابلہ جادوگروں سے ہے ، وہ رسیاں پھینکتے ہیں ، جو جادو کے شبدوں کے زیر اثر سانپ بن کے ادھر ادھر حرکت کرنے لگتی ہیں ....

    اب یہں دو احتمال ہیں :

    1- ممکن ہے کہ سانپ بنی ہی نہ ہوں اور رسیوں کی شکل میں ہی بھاگی دوڑی پھر رہی ہوں

    2- یا ممکن ہے سانپ بن گئی ہوں


    دونوں صورتوں میں بندہ خوف زدہ ہو جاتا ہے ، سو موسی علیہ السلام بھی خوف زدہ ہو گئے ، جب موسٰی علیہ السلام اور جادوگروں کا مقابلہ ہوا تو موسٰی علیہ السلام نے فرمایا :

    قَالَ بَلْ أَلْقُوْا فَإِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ إِلَیْْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ أَنَّہَا تَسْعٰیoفَأَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہِ خِیْفَۃً مُّوسَی (طہ66-67/20)

    ''موسٰی نے کہا کہ تم ہی ڈالو پھر ان کے سحر کے اثر سے موسٰی علیہ السلام کو خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں یکدم دوڑنے لگ گئیں ،پس موسٰی علیہ السلام نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا''۔

    اب سوال ہے کہ :
    کیا موسی نبی نہ تھے ؟

    کیا قران کے ان الفاظ کا اس کے علاوہ بھی کوئی مطلب ہے کہ موسی پر ان کا جادو چل گیا اور خوف زدہ ہو گئے ؟

    انہی حاضر معتزلیوں کے لیے اللہ نے دوسرے مقام پر فرمایا "

    فَلَمَّآ أَلْقَوْا سَحَرُوْٓا أَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوہُمْ (اعراف116/7)

    ''پھر جب انہوں نے رسیاں پھینکی تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر سحر کیا اورانہیں خوف زدہ کردیا ۔۔۔۔''

    بات بہت صاف ہے کوئی نہ مانے تو بھلے نہ مانے اور قران کا انکار کرے ..بات یوں صاف ہے کہ جادو ہوا ، اور آنکھوں پر ہوا اور ایسا خوفناک تھا کہ نبی تک دہشت زدہ ہو گئے -

    لیجئے قران کا ایک اور مقام دیکھئے :

    وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ( 102 ) بقرہ - الآية 102

    اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے

    ان آیات سے جادو تو جو ثابت ہوتا ہے سو ہوتا ہی ہے ، یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ محض الفاظ کے زور سے بندے کے دل اور دماغ پر کس درجہ قابو پایا جا سکتا ہے -

    .......جاری ہے
     
    Last edited: ‏جولائی 12، 2019
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 23، 2019 at 12:28 PM #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,319
    موصول شکریہ جات:
    708
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    دوسری قسط !
     
  3. ‏جولائی 23، 2019 at 2:55 PM #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,952
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسلسلہ :کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا


    (دوسرا حصہ )

    کیا آپ ، رجل مسحور تھے ؟

    ..ازقلم ، ابوبکر قدوسی
    .........
    منکرین حدیث کا ایک وار یہ ہوتا ہے کہ اگر نبی کریم پر جادو تسلیم کر لیا جائے تو یہ خلاف قرآن ہی نہیں بلکہ کفار جو ان پر طنز بو تشنیع کرتے تھے اس کو ایک مضبوط جواز مل جائے گا - یہ محض دھوکا ہے جو یہ احباب دیتے ہیں ...اور اپنی اس دھوکہ دہی کا ان کو بھی معلوم ہوتا ہے لیکن ان کا مقصد نبی کریم کی ذات پر لگنے والے کسی الزام کی تطہیر نہیں ہوتی بخاری کا مذاق بنانا ہوتا ہے ..سو بار بار گرتے ہیں , منہ کی کھاتے ہیں لیکن ایسے "مستقل مزاج ہیں کہ
    "بے مزہ نہیں ہوتے "-

    مکے کے کفار کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت توحید دی تو ان کو حیرت بھی ہوئی اور اپنے معبودان باطلہ کی تکذیب کا دکھ بھی - سو اس دکھ میں اور آپ کے دلائل کا جواب نہ پتے ہووے انہوں نے آپ کو مسحور کہنا شروع کر دیا یعنی آپ پر کسی نے جادو کیا ہوا ہے ، کبھی آپ کو مجنوں کہتے اور کبھی یہ کہ نبی ہوتے تو ہماری طرح عام انسان ہی ہوتے - اس کی نفی میں اللہ نے قران کی آیات نازل فرمائیں -سورہ بنی اسرائیل میں ہے :

    نَّحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٓ ٖ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَاِذْ هُـمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (47)

    ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں جب یہ لوگ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جس وقت آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم محض ایسے شخص کا ساتھ دیتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

    کفار مکہ کے حوالے سے بیان کردہ اس موقف میں اللہ رب العزت ان کی نفی کر رہے ہیں ، لیکن اس سے یہ بات تو صاف ہو جاتی ہے کہ جو دعوت توحید آپ دیتے تھے وہ کسی سحر کے زیر اثر نہ تھی لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوجاتا ہے کہ ایسا کبھی ہو بھی نہیں سکتا تھا - اگر ایسا ہوتا تو اللہ کو یہ کہنا کیا مشکل تھا کہ نبی پر جادو کا صدور ممکن ہی نہیں ...اگر قران میں ایسا لکھا جاتا تو خود قران میں تضاد پیدا ہو جانا تھا ..جو ہم پیچھے لکھ آئے ہیں - تضاد یہ ہوتا کہ جب ایک جلیل القدر نبی موسی علیہ السلام پر جادو ہو سکتا ہے گو لمحے بھر کےلیے ہی کیوں نہ ہو ، تو نبی کریم پر کیوں ممکن نہیں ؟

    سو اللہ نے اس بات کی تو نفی فرمائی کہ آپ "نبی مسحور " تھے لیکن یہ نہ کہا کہ ایسا کبھی مستقبل میں بھی ممکن نہیں -

    کفار مکہ نے جب آپ کو مجنون اور مسحور کہا تو آپ کو اس بات کا غم تھا ، خود اللہ تعالی کو اس بات پر ایسا غصہ آیا کہ آسمان سے نداء آ گئی

    "وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ " اور یہ صفائی پیش بھی اس سورہ میں کی گئی جس میں اللہ کا غضب اور جلال اپنے عروج پر ہے ، اپ قران اٹھا لیجئے ایسا انداز اور غضب آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا ..لیکن اس مجنون اور مسحور کے الزام میں ایسے غضب کے اظھار کے باوجود اللہ نے اس بات کی نفی نہیں کی کہ ایسا ہونا ممکن نہیں -

    مع5+مولی سا غور کیجئے تو اندازہ ہو جایے گا کہ اس امکان کے باقی رہنے کا سبب محض یہ ہے کہ جادو صرف ایک بیماری ہے اور بس .... سو جو انسان ہوتا ہے وہ بیمار ہو سکتا ہے ..فرض صرف یہی ہے کہ یہ بیماری کسی نہ کسی کی دشمنی کے سبب ہوتی ہے - رہے اس بیماری کے اثرات تو وہ بس اتنے تھے کہ آپ کے معمولات زندگی متاثر ہووے ...جہاں تک دینی امور کا تعلق ہے کہ تو اسس کی حفاظت اللہ کے ذمے تھی ، سو ان معاملات میں ایسی کوئی خرابی نہ آئی - اور یہی بات تمام کتب حدیث اور تفاسیر میں مذکور ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں