1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کسی اچھے شیخ کی بیعت ضروری ہے ۔۔۔۔

'صوفیا کے عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از ادریس احمد, ‏مارچ 05، 2014۔

  1. ‏مارچ 05، 2014 #1
    ادریس احمد

    ادریس احمد مبتدی
    جگہ:
    Vehari
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2014
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    کیا کسی اچھے شیخ کی بیعت ضروری ہے ۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 05، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    لنک

     
  3. ‏مارچ 21، 2014 #3
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    بیعت کی مختلف قسمیں ہیں۔
    شیخ سے بیعت اصلاح کی جاتی ہے یعنی اعمال و افعال کی بیعت۔ یہ حدیث میں موجود ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔
    اس سے صرف یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک صالح شخص کے ہاتھ پر توبہ اور وعدہ کرلیتا ہے اور بعد ازاں اپنی روحانی بیماریوں کا ان سے علاج معلوم کرتا ہے۔
    البتہ بعض اہل علم حضرات کا یہ دعوی ہے کہ انہوں نے اس سے علم میں رسوخ و تفقہ میں مدد پائی ہے۔
    واللہ اعلم
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏مئی 31، 2015 #4
    فلک شیر

    فلک شیر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2013
    پیغامات:
    185
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    رہنمائی کی درخواست ہے اہل علم سے اس ضمن میں۔
     
  5. ‏جون 02، 2015 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    کسی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے، جبکہ جس کے ہاتھ پر بیعت کی جارہی ہو وہ خلیفہ نہ ہو۔ جو لوگ بیعت کرتے ہیں وہ حضرت عمر کا قول پیش کرتے ہیں۔

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    صرف مسلمانوں کے خلیفہ اور امام کی بیعت کرناجائز ہے،اہل حل وعقد علماء،فضلاء اور ذمہ داران حکومت اس کی بیعت کریں گے۔ جس سے اس کی ولایت ثابت ہو جائیگی۔ عامۃ الناس کے لئے اس کی بیعت کرنا ضروری نہیں ہے۔ ان پر صرف اتنا لازم ہے کہ وہ اطاعت الہی میں اس کی فرمانبرداری کریں۔

    امام مارزی فرماتے ہیں:

    ’’يَكْفِي فِي بَيْعَةِ الإِمَامِ أَنْ يَقَع مِنْ أَهْل الْحَلِّ وَالْعَقْدِ وَلا يَجِب الاسْتِيعَاب , وَلا يَلْزَم كُلّ أَحَدٍ أَنْ يَحْضُرَ عِنْدَهُ وَيَضَع يَدَهُ فِي يَدِهِ , بَلْ يَكْفِي اِلْتِزَامُ طَاعَتِهِ وَالانْقِيَادُ لَهُ بِأَنْ لا يُخَالِفَهُ وَلا يَشُقَّ الْعَصَا عَلَيْهِ انتهى‘‘ (نقلاً من فتح الباري )
    امام کی بیعت میں اہل حل وعقد کی بیعت ہی کافی ہے۔ بیعت بالاستیعاب واجب نہیں ہے۔ ہر شخص پر ضروری نہیں ہے کہ وہ امام کے پاس حاضر ہو اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے۔ بلکہ اس پر اتنا ہی لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے،اور اس کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے۔

    امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں:

    ’’أَمَّا الْبَيْعَة : فَقَدْ اِتَّفَقَ الْعُلَمَاء عَلَى أَنَّهُ لا يُشْتَرَط لِصِحَّتِهَا مُبَايَعَة كُلّ النَّاس , وَلا كُلّ أَهْل الْحَلّ وَالْعِقْد , وَإِنَّمَا يُشْتَرَط مُبَايَعَة مَنْ تَيَسَّرَ إِجْمَاعهمْ مِنْ الْعُلَمَاء وَالرُّؤَسَاء وَوُجُوه النَّاس , . . . وَلا يَجِب عَلَى كُلّ وَاحِد أَنْ يَأْتِيَ إِلَى الأَمَام فَيَضَع يَده فِي يَده وَيُبَايِعهُ , وَإِنَّمَا يَلْزَمهُ الانْقِيَادُ لَهُ , وَأَلا يُظْهِر خِلافًا , وَلا يَشُقّ الْعَصَا انتهى.‘‘
    اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بیعت کی صحت کے لئےتمام لوگوں یا تمام اہل حل وعقدکا بیعت کرنا شرط نہیں ہے۔اس میں صرف اتنی شرط ہے کہ جو علماء سردار اور ذمہ داران آسانی سے دستیاب ہو سکتے ہوں وہ بیعت پر اجماع کرلیں تو بیعت واقع ہو جائے گی۔ ہر شخص پر ضروری نہیں ہے کہ وہ امام کے پاس حاضر ہو اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے۔ بلکہ اس پر اتنا ہی لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے،اور اس کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے۔

    اور بیعت کے حوالے وارد تمام احادیث سے امام کی بیعت مراد ہے۔ دیگر افراد یا جماعتوں کی بیعت مراد نہیں ہے۔شیخ صالح الفوزان ایسی بیعتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

    " البيعة لا تكون إلا لولي أمر المسلمين ، وهذه البيعات المتعددة مبتدعة ، وهي من إفرازات الاختلاف ، والواجب على المسلمين الذين هم في بلد واحد وفي مملكة واحدة أن تكون بيعتهم واحدة لإمام واحد ، ولا يجوز المبايعات المتعددة[ المنتقى من فتاوى الشيخ صالح الفوزان 1/367]
    صرف مسلمانوں کے خلیفہ اور امام کی بیعت کرناجائز ہے،اور یہ متعدد بیعتیں بدعت ہیں،اور اختلافات کا ذریعہ ہیں۔مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ایک ملک میں صرف ایک ہی امام کی بیعت کریں(اگر واقعی کوئی امام موجود ہو)اور متعدد بیعتیں کرنا جائز نہیں ہے۔

    هذا ما عندي والله اعلم بالصواب
    محدث فتوی
     
    • پسند پسند x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 04، 2015 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    خلیفہ یا امام کی بیعت بیعت ولایت ہوتی ہے اور شیخ سے بیعت بیعت اصلاح ہوتی ہے۔ دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 05، 2015 #7
    فلک شیر

    فلک شیر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2013
    پیغامات:
    185
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    تو پھر ثانی المذکور سے متعلق کچھ رہنمائی فرمائیے
     
  8. ‏جون 06، 2015 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کونسی بیعت کیا کرتےتھے؟
     
  9. ‏جون 06، 2015 #9
    ابو امامہ

    ابو امامہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 04، 2015
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    میری ناقص رائے میں تو ضروری نہیں ہے ۔والسلام
     
  10. ‏جون 09، 2015 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ضروری نہیں ہے۔ فقط برکت کے لیے کی جاتی ہے۔ ضروری اپنی اصلاح کرنا ہے اور اس کا آسان ترین اور نافع ترین طریقہ اصلاح شدہ افراد کی صحبت میں رہنا اور ان کی رہنمائی حاصل کرنا ہے۔

    صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے دونوں قسم کی بیعت کرتے تھے۔ بیعت عقبہ بیعت اطاعت تھی۔ اور احادیث میں دیگر اعمال پر بیعت کا بھی ذکر ہے جیسے کسی سے کبھی کچھ نہ مانگنے پر بیعت کرنا۔ یہ دوسری قسم کی بیعت تھی کیوں کہ یہ سب صحابہ سے نہیں لی گئی بلکہ بعض صحابہ سے لی گئی۔ اور اس کے بعد خلفاء راشدین کے دور میں بھی بیعت اطاعت یا ولایت کا تو بہت واضح ثبوت ملتا ہے جیسے سقیفہ بنی سعد میں لیکن اس کا اتنا عام ثبوت نہیں ملتا۔ واللہ اعلم بالصواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں